Ada e Ishq hn – Episode 15 16 & 17 Season 02
#Samahir_Meeran_Special 🖤
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_15
#Season_2
#Malayeka_Rafi_Novels
” مائزہ پلیز لسن ٹو می ”
ازمائر نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی جبکہ مائزہ اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی ۔
” لیو می ۔۔ ہاتھ چھوڑو میرا ”
” مائزہ یار بات سنو پلیز ”
ازمائر اس کا ہاتھ چھوڑنے پہ راضی نہ تھا جبکہ مائزہ ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ شاید تابعہ یا سماہر میں سے کوئی اسے نظر آ جائے لیکن وہاں کوئی نہیں تھا، تبھی ناگواری سے وہ ازمائر کو دیکھنے لگی ۔۔
” مجھے تمہیں نہیں سننا، اس لئے ہاتھ چھوڑو میرا تم”
ناگواری سے کہتی وہ اپنا ہاتھ ازمائر کی مضبوط گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ ازمائر نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا ۔
” یار بات سنو، میں اتنے آرام سے کہہ تو رہا ہوں، سمجھ نہیں آتی تمہیں ” ۔
مائزہ اس کے سینے سے تکرائی تھی اور پھر سنبھل کے اس سے دور بھی ہوئی تھی ۔
” یہ آرام سے کہنا ہوتا ہے کیا ؟؟”
اس نے لب بھینچے ازمائر کو دیکھا تھا۔ ۔
” تو تم بھاگ بھی تو ایسے رہی ہو جیسے میں کھا جاؤں گا تمہیں ”
ازمائر جھنجھلایا تھا، مائزہ رک کے اسے دیکھنے لگی، اپنا ہاتھ چھڑانے کا ارادہ وہ ترک کر چکی تھی۔
” ایک درندے سے درندگی کے سوا اور کیا توقع کی جا سکتی ہے ”
ازمائر نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا جو براہ راست ازمائر کی آنکھوں میں اپنی سپاٹ آنکھیں گاڑے کھڑی تھی۔
” مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کرنا اب ازمائر ارتضی ملک ۔ ”
اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑایا تھا۔
” شرمندہ ہوں میں اپنے ہر اس احساس، اس تعلق اور اس رشتے پہ، جو تم سے وابستہ تھی۔ ”
وہ دانت پیستی کہنے لگی جبکہ ازمائر خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اچانک سے بھاری ہوتے سر کو سنبھالتی، وہ سر جھٹک کے آگے بڑھی تھی لیکن ابھی دو قدم ہی چل پائی تھی جب اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھایا تھا اور وہ گرنے ہی والی تھی جب ازمائر نے اسے آگے بڑھ کے تھام لیا۔
” مائزہ ؟؟ مائزہ ؟؟”
وہ ازمائر کی بانہوں میں ہی جھول گئی تھی جب ازمائر نے لب بھینچے اسے بازوؤں میں اٹھایا تھا اور تیزی سے گھر کی طرف بڑھ گیا، اپنے کمرے کی طرف جاتے، اس نے سامنے سے آتی عظمی کو بھی نظر انداز کر دیا جو اچھنبے سے مائزہ کو ، اس کے بازوؤں میں دیکھتی اس کے پیچھے پیچھے ہی، اس کے کمرے تک آئی تھی۔ مائزہ کو آرام سے بیڈ پہ لٹا کے وہ سیدھا ہوا تھا۔
” کیا ہوا ہے اسے ؟”
عظمی کے سوال پہ اس کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے۔
” جائیے یہاں سے آپ ”
اپنی ماں کو بنا دیکھے وہ بولا ۔ عظمی کچھ دیر اسے دیکھتی رہی جو مائزہ پہ کمفرٹر ٹھیک کرتا، اب موبائل پہ کسی کو کال کر رہا تھا اور پھر کمرے سے باہر نکلی تھی۔ ازمائر نے ڈاکٹر کو کال کر کے یہاں بلایا تھا اور اب موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، وہ وہیں مائزہ کے قریب بیٹھ کے، اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ لے چکا تھا، جبکہ نظریں مائزہ کے چہرے پہ تھی، جو اس وقت زرد پڑ رہی تھی اور آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھی۔ وہ کتنا بدل گئی تھی، اس کے چہرے پہ شرارتی مسکراہٹ کی جگہ، تھکاوٹ نے لے لی تھی، گلابی رنگت اب زردی مائل ہو گئی تھی اور آنکھیں کتنی ویران اور متورم تھی۔
” میں درندہ ہی تو ہوں جو ہمارے رشتے کو برباد کر دیا میں نے اپنی ضد اور انا میں ۔”
وہ زیر لب بڑبڑایا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
شام کے سات بج رہے تھے، اج کافی لیٹ ہوئی تھی وہ، تبھی اپنا بیگ اور موبائل سنبھالتی، وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی تھی تاکہ جلد سے جلد کلینک سے نکل کے وہ گھر کی طرف روانہ ہو، اچانک دروازہ کھلا تھا اور اندر آتے شخص کو دیکھ کے، وہ لمحہ بھر کو ٹھٹھک گئی تھی، آنکھیں حیران ہوئی تھی جبکہ لب نیم وا ہوئے تھے۔ یہ شخص یوں اچانک کیسے سامنے آ گیا اس کے، کیوں آیا تھا آج وہ یوں اس کے رو برو۔
” کیسی ہو پریشے؟”
وہی مدھم لہجہ اور مسکراتی آنکھیں، لیکن کتنا بدل گیا تھا وہ، شاید اس لئے کہ اب وہ سپر اسٹار بن چکا تھا لیکن اواز، لہجہ اور آنکھیں بلکل وہی تھی، جیسے وہ پریشے کے ذہن میں ثبت ہوا پڑا تھا ۔ ٹانگیں بےجان ہوتی محسوس ہوئی تو سہارے کے لیے اس نے ٹیبل پہ اپنے ہاتھ کا دباؤ ڈالا تھا۔
” میں اسلام آباد آیا تھا، یہاں میری میٹنگ تھی تو سوچا تم سے بھی مل لوں۔ ”
وہ پھر سے کہہ رہا تھا جبکہ پریشے نے گہرا سانس لیتے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی۔
” کافی ٹائم بعد پاکستان آیا ہوں تو کوئی دوست ایسا مائنڈ میں آیا نہیں کہ مل لوں اس سے، تو تم سے ملنے آیا ”
پریشے آنکھیں پھیرتی اب خود کو نارمل کرنے چکی تھی۔ کتنا فارمل انداز تھا اس کا، کس قدر پرتکلف انداز میں بات کر رہا تھا وہ، پہلے جیسا کچھ تھا ہی نہیں اس میں تو،
” ہمممم ۔۔۔ ”
” تم آئی تھنک جا رہی تھی گھر ؟؟ ”
وہ پھر سے سوال کر رہا تھا جبکہ پریشے نے اثبات میں سر ہلایا تھا وہ کہہ بھی نہ سکی کہ کیوں آئے ہو یہاں؟؟ مجھ سے ملنے کیوں آئے ہو ؟؟ کس لیے آئے ہو؟؟ گنگ ہو گئی تھی اسے یوں سامنے دیکھ کے، جبکہ وہ بولے جا رہا تھا، کیسے بول لیتا ہے وہ اتنی زیادہ،؟ پریشے سوچ کے رہ گئی ۔
” اف یو ڈونٹ مائنڈ، ہم ڈنر ساتھ میں کر لیتے ہیں، کہیں باہر جا کے، ”
” کہاں؟؟”
پریشے نے اچانک پوچھا تھا جبکہ وہ ہلکا سا اس کی طرف جھکا تھا۔
” تمہاری فیورٹ جگہ ۔۔ ”
وہ مسکرا رہا تھا جبکہ پریشے کی آنکھوں میں حیرانی در آئی تھی اور پھر اس نے نظریں چرائی تھی جبکہ زیر لب مسکراتا عاھل خان سیدھا ہوا تھا۔ نظریں اب بھی پریشے لے سراپے پہ تھی۔ سادہ سے حلیے میں بھی، ہمیشہ کی طرح منفرد اور خوبصورت لگ رہی تھی وہ آج بھی۔
” چلیں پریشے؟؟”
پریشے کا دل لمحہ بھر کو ڈوب کے ابھرا تھا، ایک نظر عاھل خان کو دیکھ کے، وہ سر جھکائے آگے بڑھی تھی جہاں عاھل خان اس کے لئے پہلے سے ہی دروازہ کھول چکا تھا۔ پریشے کے باہر جاتے ہی، وہ بھی آگے بڑھ کے، اس کے پہلو میں چلنے لگا۔ کتنا دلفریب احساس تھا یوں اس کے پہلو میں چلنا، پریشے اس لمحے ہر ڈر، خوف اور ہر منفی سوچ کو پس پشت ڈال چکی تھی، بنا کچھ سوچے وہ عاھل خان کے ساتھ قدم بہ قدم آگے بڑھ رہی تھی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” قیمت بتاؤ اپنی ۔ ”
دشاب کی بات پہ وہ ہنسنے لگی، اپنے کھلے بالوں کو ہاتھوں سے سہلاتی، وہ دشاب کو دیکھنے لگی ۔
” عجیب سیاست دانوں جیسی بات کر رہے ہیں آپ بھی دشاب ”
دشاب نے لب بھینچ لیے تھے جبکہ ہاتھ کی مٹھی بنائے تھی اپنا غصہ کم کرنے کے لئے۔
” کتنا ؟؟ ہمممم دس کروڑ، پچاس کروڑ، اسی کروڑ یا اس سے زیادہ؟؟ کتنی قیمت لگاؤں اپنی میں؟؟”
ماریہ ٹیبل پہ دونوں ٹانگیں رکھ کے، صوفے پہ آرام دہ انداز میں بیٹھی تھی۔
” میران کے آفس کیوں گئی تھی تم ؟؟ کہا تھا ناں کہ اس سے دور رہو ”
دشاب نے سرد لہجے استفسار کیا جبکہ وہ سرد آہ بھر کے رہ گئی ۔
” اتنے سالوں بعد اس سے ملنے گئی، آپ سے یہ بھی نہیں دیکھا جا رہا اب ”
دشاب نے لب بھینچ لیے تھے۔
” کتنا پیسہ چاہئے تمہیں؟” ۔
ماریہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور نزاکت سے چلتی وہ دشاب کے قریب آ کے، اس کے کندھے پہ اپنا ہاتھ رکھ کے، ہلکا سا جھکی تھی۔
” مجھے میران چاہئے بس ”
” ڈیم اٹ ”
دشاب نے اسے دھکا دیا تھا وہ دیوار سے جا لگی تھی جبکہ دشاب غصے میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔
” میران کی اپنی بیوی ہے، وہ میرڈ ہے، وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے ”
وہ چلائے تھے۔ ۔
” اور میں میران سے محبت کرتی ہوں ”
ماریہ اپنی بات کہہ کے، اب اپنے بال سنوارنے لگی۔
” میران ارتضی ملک سے میں بےحد اور بےحساب محبت کرتی ہوں اور کرتی رہوں گی، اسے میری دام تک آپ پہنچائیں گیں دشاب ملک ”
” میں کیوں کروں گا ایسا ”
دشاب ملک بگڑے تھے جبکہ وہ پھر سے دشاب کے قریب آ کھڑی ہوئی تھی۔
” آپ ہی کرے گیں، ورنہ ، چلیں چھوڑیے میں اب آپ کو بلیک میل کرتی اچھی لگوں گی ؟ آپ خود سمجھدار ہے، آپ بتائیے ناں کہ میں کیا کچھ کر سکتی ہوں ”
اس کی مسکراتی آنکھوں طنز پنہاں تھا جبکہ دشاب نے آبرو اچکا کے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا تھا۔
” ارے نہیں نہیں، آپ کی میری ملاقاتیں تو پرائیوٹ ہی ہے، میں ان حسین ملاقاتوں کو کہاں وائرل کر سکتی ہوں صاحب، میں تو بس کہہ رہی تھی کہ زبیر شاہ کے ساتھ بلیک منی کا کنٹریکٹ سائن ہوا تھا آپ کا اور یہ کہ دبئی ایئرپورٹ سے ۔۔۔ ”
” شٹ اپ ”
دشاب نے چلا کے، اس کا منہ دبوچا تھا ۔ ۔
” ایک بھی بکواس مزید کی تو یہیں قتل کر دوں گا تمہیں کہ نام و نشاں بھی نہ ملے کئی دنوں تک تمہارا کسی کو ”
انہوں نے دانت پیسے تھے اور پھر اس کا منہ جھٹکے سے چھوڑ کے پیچھے ہوئے تھے۔
” آپ سیاستدانوں کا یہی تو کام ہے، عیاشی کر کے اسی عورت کو قتل کر دینا”
” تو تم جیسی عورتیں ہوتی ہی عیاشی کے لئے ہیں ”
دشاب ملک کا لہجہ تمسخر بھرا تھا۔ ماریہ خاموشی سے کچھ دیر انہیں دیکھتی رہی اور پھر دیکھتے دیکھتے اس نے اپنی گردن پہ اپنے لمبے ناخنوں سے کھینچ کے وار کیا تھا، دشاب ملک حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے لے جا کے، اپنے نیم عریاں کمر پہ ناخنوں سے لکیریں کھینچی تھی۔
” یہ کیا کر رہی ہو تم ”
دشاب ملک حیرت سے چلائے تھے جبکہ ایک ہی جھٹکے سے، اپنی ٹاپ کندھے سے کھینچ کے پھاڑی تھی اور ایک ہی جست میں وہ دشاب کے گلے لگ گئی۔
” بچاؤ۔۔۔ بچاؤ، مجھے بچاؤ، پلیز ہیلپ می ۔۔ ہیلپ مہ پلیز ۔ ۔۔ ”
وہ چلا رہی تھی جبکہ دشاب ملک بوکھلائے سے، اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ چپکے ہی چکی تھی جیسے دشاب سے اور پھر کچھ دیر بعد ہنستے ہوئے خود ہی، دشاب ملک سے الگ ہوئی تھی جبکہ لب بھینچے دشاب ملک خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔
” کیا ہوا دشاب ملک تو ڈر گئے ؟؟ ”
وہ کہہ کے ہنسنے لگی، ہنستے ہنستے وہ پھر سے دشاب ملک کے قریب آنے لگی جبکہ دشاب تیزی سے پیچھے ہوئے تھے۔ ۔
“پاگل عورت ۔ ”
وہ کہہ کے، تیزی سے دروازے کی طرف بڑھے تھے اور دروازہ کھول کے، اس کے فلیٹ سے باہر نکلے تھے کہ انہیں سچ میں خوف آیا تھا ماریہ سے، جبکہ ماریہ صوفے پہ بیٹھ کے ہنسنے لگی، گردن پہ لگے زخموں میں درد کی ٹیسیں اٹھی تو ہلکا سا انہیں سہلانے لگی، لیکن دشاب کا چہرہ یاد کر کے وہ ایک مرتبہ پھر سے ہنسنے لگی تھی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” یہ کون سا طریقہ ہے بن بتائے یوں آنے ۔۔۔۔۔ ”
اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی، وہ جو اپنے خاص آدمی منان کاکا کی زبان سے یہ سن کے جھنجھلایا تھا کہ سماہر ” میران مینشن ” آئی ہے اور وہ یہ سن کے پہلے حیران ہوا تھا اور پھر لب بھینچے آفس سے نکل کے، وہ گاڑی تیز رفتاری سے چلاتا یہاں آیا تھا لیکن سامنے کا منظر دیکھ کے، اس کی بات ہی ادھوری رہ گئی تھی اور زبان نے جیسے ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
سیاہ ساڑھی میں ملبوس، کھلے بالوں کو سائیڈ پہ ڈالے وہ رخ موڑے کھڑی نہ جانے کیا کر رہی تھی، سیاہ بلاؤز کے ڈیپ گلے سے، اس کی دودھیا پشت فاصلے سے ہی، مارش میلو کی طرح نرم و ملائم سی محسوس ہو رہی تھی۔ سماہر رخ موڑ کے اسے دیکھنے لگی ۔
” کچھ کہہ رہے تھے ؟؟”
ایک ادا سے، ہاتھ اٹھا کے، اپنے بال پیچھے کی طرف ڈالتی وہ سوالیہ نگاہوں سے، میران کو دیکھنے لگی، اس بات سے بےخبر کہ میران کے دل کی دنیا تو اسی ایک لمحے میں درہم برہم ہو چکی ہے، وہ کچھ کہنے کی حالت میں ہے ہی کب ۔ سماہر نظریں پھیر کے، ناراضگی کا اظہار کرتی جانے والی تھی، جب دو قدم کا فاصلہ طے کر کے، میران نے اس کی کلائی تھامی تھی، وہ اچھنبے سے میران کو ناراض آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
” ہاں میں کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔ ”
اسے اپنی بات ہی بھول گئی تھی شاید، تبھی مسمرائز سا وہ بات ادھوری چھوڑ کے، سماہر کو دیکھے جا رہا تھا۔
” کیا ؟؟”
” کیا ۔۔۔۔۔ ”
وہ کھوئے کھوئے انداز میں خود سے سوال کرنے لگا۔
” یہی کہ چرا لو ناں دل میرا ۔۔ ”
اسے خود سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا پے،سماہر نے ایک ابرو اچکا ، اسے دیکھا تھا، آج وہ جیسے مکمل میران کا انداز اپنائے ہوئے تھی جبکہ میران زیر لب مسکرا رہا تھا۔
” میں کافی بنا رہی تھی ”
اپنا ہاتھ نزاکت سے، اس کی گرفت سے چھڑاتی آگے بڑھی تھی جبکہ میران کی آنکھوں میں حیرت در آئی تھی، اپنی کنپٹی سہلاتا وہ سماہر کے پیچھے ہی کچن میں آیا تھا۔
” مجھے کافی کی طلب ویسے نہیں ہو رہی ”
وہ سماہر کے پیچھے ہی کھڑا تھا، سماہر جیسے ہی مڑی، اس کے سینے سے ٹکراتی بچی تھی۔ میران گہری نگاہوں سے اس کے سجے روپ کو دیکھ رہا تھا، سماہر نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور میران کے پہلو سے آگے بڑھی تھی۔
” میں کھانا تیار کرتی ہوں ”
میران مسکراتی آنکھوں سے، اسے دیکھتا مڑا تھا اور اس کا ڈھلکتا ساڑھی کا پہلو تھام کے، اس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے، اسے اپنی طرف کھینچا تھا کہ اس کی پشت، میران کے سینے سے لگی تھی۔
” مجھے بھوک بھی نہیں ہے ”
اس کی کھلی زلفوں میں، اپنا چہرہ دیے میران نے کہا تھا۔
” ارے کچن ہے یہ ۔ ”
وہ میران کے بازو کے گھیرے سے نکل کے آگے بڑھی تھی، میران اس کی اس ادا کو سمجھتا زیر لب مسکراتا، اسے دیکھنے لگا۔
” تو بیڈ روم بھی ہیں یہاں ویسے تین چار عدد”
” وہاں تو میں نے Mortien اسپرے کیا ہیں”
آنکھیں معصومیت سے جھپکاتی وہ اطلاع دینے لگی۔
” وہاٹ؟؟ کیوں؟؟”
میران صدمے سے چلایا تھا جبکہ سماہر ناراضگی بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔ میران کنپٹی سہلاتا اس کے قریب آیا تھا ۔
” آئی مین ، مجھے تو تمہاری طلب ہو رہی ہے اس وقت ”
اس کی نازک گردن پہ، شہادت کی انگلی پھیرتا وہ بولا تھا جبکہ سماہر دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔
” not available ”
اپنا جواب دے کے وہ کچن سے باہر نکلی تھی۔ میران بھی اس کے پیچھے ہی باہر آیا تھا۔
” کیوں؟؟”
وہ کندھے اچکا گئی ۔
” میرا موڈ نہیں ہے ”
” میں موڈ بنا دیتا ہوں ”
میران نے حاضر جوابی سے کام لیا تھا ۔ زیر لب مسکراتی سماہر رخ موڑے ہوئے تھی۔
” کیا کہا تم نے ؟؟ میں نے ٹھیک سے سنا نہیں ”
میران نے اس کے ساڑھی کے بلاؤز میں اپنی شہادت کی انگلی رکھ کے، اس کے نازک وجود کو اپنی طرف پھر سے کھینچا تھا۔
” پاس آؤ، تو شاید سن پاؤ ۔”
اس کے کان کی لو پہ سرگوشی کرتا، وہ اپنی سلگتی سانسیں سماہر کی گردن پہ بکھیر گیا، سماہر خود میں سمٹتی جھینپ سی گئی تھی، جب میران نے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا، میران کے سینے پہ دونوں ہاتھ رکھے، وہ مخمور نگاہوں سے میران کو دیکھنے لگی جبکہ میران کی مدہوش نگاہیں، اس کے دہکتے حسن میں الجھتی گئی۔
” تو کیا نہیں سن پا رہی آپ بیگم ؟”
گھمبیر لہجے میں سوال کرتا، وہ ہلکا سا اس کے لبوں پہ خم ہوا تھا، سماہر لب دانتوں تلے دباتی، اس کے سینے پہ دونوں ہاتھوں کا دباؤ ڈال کے پیچھے ہوئی تھی۔
” میری ناراضگی برقرار ہے ابھی بھی ۔۔ ”
مسکراتی آنکھوں سے میران کو دیکھتی، وہ رخ موڑ کے سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی،
” ارادے کیا ہیں جناب کے ؟”
میران پینٹ پاکٹس میں دونوں ہاتھ ڈالے کے، اس کے پیچھے ہی آنے لگا جبکہ وہ کندھے اچکا کے مسکرائی تھی، میران کو اپنی مخمور آنکھوں سے دیکھتی وہ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
” آپ کو برباد کر دینے کے ارادے ہیں میرے ”
میران ہلکا سا ہنسا تھا۔
” اور میں برباد ہونا چاہتا ہوں ”
آخری سیڑھی پہ پہنچ کے، آگے بڑھتے اسنے سماہر کی ساڑھی کا پہلو تھامنا چاہا تھا لیکن وہ مسکراتی بیڈ روم میں گئی تھی۔ میران بیڈ روم کا دروازہ بند کرتا، زیر لب مسکراتا اسے دیکھنے لگا۔
” ناراضگی ختم کرنے کا موقع کب دے رہی ہے آپ مجھے ؟”
سماہر کندھے اچکا گئی، جب میران نے آگے بڑھ کے، اسے کمر سے تھام کے، وارڈ روب سے لگایا تھا۔ ۔
” ان اداؤں سے مجھے قتل کرنے کا بندوبست اچھا کیا ہے آپ نے ویسے ، مسز سماہر میران ملک ”
سماہر اپنے لب دانتوں تلے دبا گئی۔
” مسٹر میران ملک، آپ کے قتل کے لئے، میری ایک نگاہ کافی ہے ”
میران دلفریبی سے ہنسا تھا اور ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھنے لگا ۔
” ایسا ہے کیا؟؟”
سماہر بھی اسی کے انداز میں ایک ابرو اچکا گئی۔
” ایسا ہی ہے ”
میران گہری نگاہوں سے، اس کا سجا حسن دیکھتا، اس کے بال سنوارنے لگا۔
” بہت خوبصورت ہو تم سماہر”
” اور اپ بےحد ہینڈسم ”
سماہر کے انداز پہ، وہ ایک بار پھر دلفریبی سے مسکرایا تھا۔
” اور یہ حسین خیال کیسے آیا میری سماہر کو ؟؟ یوں مجھے یہاں بلا کے، مجھے سرپرائز کرنے کا”
سماہر پلکیں جھکا کے، پھر سے اٹھا کے ، اسے دیکھنے لگی۔
” اتنی بھی جلدی ہی کیا سب جاننے کی ”
” اممم ارادے بھی بےحد خطرناک لگ رہے ہیں آپ کے تیور جیسے ہی”
میران اس کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارتا کہنے لگا، جب سماہر نے اس کی کالر کو نزاکت سے تھام کے، اپنی طرف کھینچا تھا، دونوں کے چہروں کے بیچ فاصلے نہ ہونے کے برابر تھے۔
” میرے حسین تیور سے بچنا بےحد مشکل ہے آج کی. ”
” میں شکار ہونا چاہتا ہوں آپ کے حسین تیوروں کا”
بوجھل لہجے میں، اس کے لبوں پہ سرگوشی کرتا، وہ ان لبوں کو اپنی دسترس میں کر چکا تھا کہ سماہر کے حسین تیور، اس کا صبر آخری حد تک آزما ہی چکے تھے، سانسیں تھمنے لگی، تو لبوں کا سفر گردن کی اور گیا تھا، سماہر سمٹتی، اسی کی بانہوں میں پگھلنے لگی ۔ وہ جو اب تک میران کے صبر کا امتحان لیتی، اسے پاگل بنا رہی تھی خود کے لئے، تو اب اس کی دیوانگی سہنا سماہر کے لئے مشکل ہی ہو رہا تھا۔ جھٹکے سے میران اسے کھینچ کے، اپنے بازو پہ گرا چکا تھا اور خود اس پہ جھکتا گیا، اس کے پگھلتے نرم و نازک وجود کو میران اپنی بانہوں میں سمیٹ گیا، اسے اپنے وجود سے لگائے، وہ مسحور سا ہو رہا تھا اس کی خوشبو سے۔
” بوند بوند کر کے تمہیں خود میں اتارنے کا ارادہ ہے میرا آج ”
وہ مبہم سرگوشی کر رہا تھا۔
” تمہاری روح میں اتر کے، تمہیں خود میں جذب کرنا ہے مجھے آج سماہر”
سماہر آنکھیں بند کر گئی تھی، میران اسے خود میں حفظ کر رہا تھا۔
سماہر اپنی سانس بحال کرتی آنکھیں کھول گئی تھی لیکن ایسے لگا جیسے منتشر ہوتی دھڑکنیں باولی ہو رہی ہو، دل کے نہاں خانوں میں سر پٹخ رہی ہو۔
” گستاخیوں کی اجازت ہے مجھے آج؟؟ ”
میران اس کی آنکھوں میں دیکھتا پوچھ رہا تھا، سماہر پلکیں موند گئی تھی، لبوں پہ شرمیلی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی، وہ جو ساڑھی کا پلو رکاوٹ بن رہا تھا ان کے بیچ، میران وہ رکاوٹ بھی دور کر گیا،ہلکی ہلکی سانسوں کے شور میں، وہ جو ایک داستان بن رہی تھی، ان کے عشق کی دلکش داستان، وہ تکمیل ہو رہے تھے، ایکدوسرے میں اتر کے، وہ تکمیل پا رہے تھے۔ بارش کی برستی ہلکی بوندیں بھی، اس حسین ملاپ، محو رقص تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_16
#Season_2
” بس یہیں اتار دیں ”
گاڑی ابھی اس کے گھر سے کافی فاصلے پہ تھی جب پریشے نے اسے یہیں گاڑی روکنے کو کہا،
” لیکن گھر سے کافی فاصلے پہ ہیں ہم ”
عاھل خان نے اچھنبے سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ نظریں چرا گئی۔
” یہیں ٹھیک ہے ”
عاھل خان نے خاموشی سے گاڑی وہیں روک دی تھی، پریشے بنا کچھ کہے گاڑی سے نیچے اتری تھی، عاھل بھی نیچے اترا تھا، ہلکی ہلکی بارش موسم کو خوشگوار بنا رہی تھی۔ لبوں پہ ہلکی مسکراہٹ آئی تھی اس کے، موسم کے حسین تیور اور ساتھ بھی ایک حسین ہستی کا۔
” اللہ حافظ ”
اچانک وہ چونکا تھا، پریشے نے آہستگی سے کہتے قدم آگے بڑھا دیے تھے، جب عاھل بھی گاڑی لاک کرتا، اس کے قریب آ کے، اس کے ساتھ چلنے لگا تو وہ حیرت سے عاھل کو دیکھنے لگی جبکہ وہ کندھے اچکا گیا۔
” اب اتنی رات کو، ایسے اکیلے تو نہیں جانے دے سکتا اتنی خوبصورت خاتون کو ”
پریشے کے گال ہلکے سے گلابی ہوئے تھے عاھل خان کی اس بات پہ، اور وہ سر جھٹک کے، نظریں چرا گئی، آہستہ روی سے دونوں سڑک کنارے چل رہے تھے، عاھل ایک ایک نظر اس پہ ڈال بھی لیتا تھا، چلتے ہوئے اس کے ہاتھ کی پشت، پریشے کے ہاتھ کی پشت سے ٹکرائی تھی اور وہ بےاختیار فاصلہ رکھ کے چلنے لگی، عاھل کو یہ بات محسوس بھی ہوئی تھی لیکن سر جھٹک گیا۔
” اسلام آباد کی بارشیں مجھے بہت یاد آئی تھی وہاں جا کے”
” کیوں وہاں بارشیں نہیں ہوتی ؟”
پریشے کے سوال پہ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔
” وہاں کی بارشوں میں تم نہیں ہوتی میرے ساتھ ”
پریشے نے رک کے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ بھی رک کے پریشے کو دیکھنے لگا۔
” مائنڈ تو نہیں کیا تم نے ؟”
عاھل نے جلدی سے پوچھا تھا جبکہ وہ لب بھینچ گئی اپنی کمزوری پہ، کہ وہ اس شخص کو کچھ کہہ کیوں نہیں رہی، کیوں خاموش ہے وہ ۔ سر جھٹک کے وہ آگے بڑھی تھی اور اب کے قدم تیز تیز اٹھ رہے تھے اس کے۔
” پریشے آرام سے چلتے ہیں پلیز ”
عاھل نے پھر سے اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے، چلتے ہوئے کہا تھا جبکہ پریشے مزید تیز چلنے لگی۔
” مجھے گھر جلدی پہنچنا ہے اور آپ میرے پیچھے مت آئیے، آغا جان دیکھ لیں گے تو انہیں دکھ ہوگا ”
عاھل کے قدم وہیں رک گئے تھے جبکہ پریشے چلتی گئی، دل بھر سا گیا تھا، اور آنکھیں دھندلانے لگی تھی اس ہلکی بارش میں، پلٹ کے دیکھنا چاہتی تھی وہ اس شخص کو، جو اب رک چکا تھا، نہ اس کے پیچھے آ رہا تھا اور نہ اس سے قدم ملانے کی تگ و دو کر رہا تھا، لیکن اب اسے نہیں مڑنا تھا، پلٹ کے نہیں دیکھنا تھا اسے، وہ جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی کیونکہ چہرے کا جھوٹ وہ کسی کو دکھانا نہیں چاہتی تھی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
صبح اس کی انکھ کھلی تو اسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا، کوئی بھاری ہاتھ اسے اپنے گھیرے میں لیے ہوا تھا، ذہن بیدار ہوا تو اسے اپنی گردن کی پشت پہ گہری سانسوں کا لمس محسوس ہوا اور لمحہ ضائع کیے بنے وہ تیزی سے اٹھ کے، بیڈ سے نیچے اتری تھی، پیٹ میں درد کا احساس ہوا تو کراہ کے رہ گئی، ازمائر جو چونک کے نیند سے اٹھا تھا، ابھی اس کا ذہن بھی بیدار نہیں ہوا تھا ٹھیک سے، تیزی سے بیڈ سے اتر کے، اس کے قریب آیا تھا اور ادے کندھوں سے تھاما تھا۔
” کیا ہوا ؟؟ تم ٹھیک تو ہو مائزہ ”
مائزہ نے جھٹکے سے، اس کے ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹائے تھے۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟”
وہ ناگواری سے بولی تو ازمائر نے کندھے اچکائے تھے۔
” میرا بیڈ روم ہے ”
” یہ میرا بیڈ روم ہے، نکلو یہاں سے تم ”
مائزہ نے دانت پیسے تھے، ازمائر نے چاروں اطراف آنکھیں دوڑائی تھی۔
” ہم دونوں کا بیڈ روم ہے ”
مائزہ اچانک سے ادھر ادھر دیکھنے لگی، واقع یہ تو اس کا بیڈ روم نہیں تھا، وہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟
” میں یہاں کیا کر رہی ہوں ”
وہ حیرانی سے خودکلامی کے انداز میں بولی تھی۔
” ویلکم ٹو ہمارا بیڈ روم مائی مسز ”
ازمائر زیر لب مسکراتا اسے چھیڑنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن مائزہ نے لب بھینچے اسے دیکھا تھا۔
” بیڈروم نہیں، جہنم ۔۔۔ میں جا رہی ہوں یہاں سے ”
غصے سے کہتی، وہ کمرے سے باہر نکلنے کے لئے دروازے کی طرف مڑی تھی، تیزی سے مڑنے پہ اسے پھر سے درد کا احساس ہوا تھا تبھی کراہ کے رہ گئی تھی۔ ازمائر اس کے قریب آ کے اسے بازوؤں سے تھام چکا تھا۔
” ارام سے یار ”
مائزہ نے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی،
” مائزہ کہا ناں آرام سے، اس کنڈیشن میں ایسے ری ایکٹ کرنا harmful ہے تم دونوں کے لئے ”
ازمائر نے نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
” ہم دونوں؟؟”
مائزہ نے پہلے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر ان آنکھوں میں غصہ در آیا تھا ۔
” اوہ تو پتہ چل گیا آپ کو بھی، اپنی درندگی کا نتیجہ ”
ازمائر کو برا لگا تھا تبھی لب بھینچ لیے تھے ۔
” مائزہ پلیز ایسے مت کہو، بہے چھوٹا سا ہے وہ ابھی ”
مائزہ نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” جب اس دنیا میں آ کے بڑا ہو جائے تو بتا دینا اسے بھی کہ اس کی ماں کیسے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا تھا تم نے ۔۔۔ چھوڑو مجھے ”
وہ اپنا آپ اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کرتی چلائی تھی۔
” مائزہ اسٹاپ اٹ، بار بار یہ لفظ استعمال کرنا بند کرو تم ”
ازمائر اسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا کہنے لگا جبکہ مائزہ سرد نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔
” کیوں؟؟ برا لگ رہا ہے ؟؟ بار بار سننا؟ تو سوچو کہ مجھے کتنا برا لگ رہا ہوگا، کس قدر گھن آتی ہوگی مجھے خود سے، اپنی اس حالت سے نفرت ہے مجھے، بےحد نفرت ”
وہ پھر سے دروازے کی طرف بڑھی تھی جب ازمائر نے آگے بڑھ کے، اس کی کلائی تھامی تھی۔
” جا کہاں رہی ہو تم اب ”
مائزہ نے مڑ کے اسے تھپڑ مارا تھا اور اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے چھڑا کے پیچھے ہوئی تھی۔
” نفرت ہے مجھے تم سے، اور تمہارے جہنم نما اس بیڈ روم سے۔ مجھے چھونے کی بھی کوشش مت کرنا اب کھبی ازمائر، میں نفرت کرتی ہوں تم سے، بےحد نفرت ”
پھولی ہوئی سانسوں کے بیچ اپنی بات کہہ کے، دروازہ کھول کے وہ باہر نکل گئی تھی، جبکہ ازمائر وہیں کھڑا رہا۔ تھپڑ صرف اس کے گال پہ نہیں پڑا تھا بلکہ اس کی روح پہ پڑا تھا۔ تیز تیز سانس لیتی وہ لاؤنج سے ہو کے، باہر کی طرف جا رہی تھی جب سامنے عظمی آ کے اسے ٹٹولتی نظروں سے دیکھنے لگی ۔
” ارے مائزہ تم جاگ گئی ”
مائزہ نے اس پہ ایک تیز نظر ڈالی تھی اور پھر سر جھٹک آگے بڑھی تھی، سانسیں پھولنے لگی تھی اس کی، قدم من من بھاری ہو رہے تھے، ہلکے ہلکے درد کا احساس بھی بڑھتا جا رہا تھا، وہیں لان میں وہ گھاس پہ بیٹھ گئی تھی کہ مزید اس سے چلا نہیں جا رہا تھا، لمبے لمبے سانس لینے کی کوشش کرتی، وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ ازمائر سے لاکھ محبت سہی، لیکن وہ اس کا دل ہی نہیں، اسے بھی مکمل توڑ چکا تھا، اس کی عزت نفس مجروح کر چکا تھا، اس کی روح کو چھلنی کر چکا تھا، وہ زندہ لاش ہی بن گئی تھی اس رات کے بعد سے، ازمائر کے اس حرکت کے بعد وہ ایسی ٹوٹی، کہ دل سے ازمائر کے لئے، ہر احساس مٹنے لگا تھا اور نفرت بڑھنے لگا اس کے وجود میں۔۔ لیکن ، اس نے لب بھینچ کے رونا شروع کر دیا تھا کہ آنسو متواتر اس کا چہرہ بھگونے لگے، لیکن ازمائر کی محبت سے وہ منہ نہیں موڑ پائی کھبی، چاہے جتنی بھی نفرت کیوں نہ ہو اس شخص سے۔
” مائزہ ۔۔ ”
نرم بھاری آواز پہ اس نے سر اٹھا کے دیکھا تھا، بھیگی آنکھوں سے وہ ازمائر کو دیکھ رہی تھی۔
” ت ۔۔۔ تم سے نفرت کرتی ہوں میں ازمائر ۔”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی، ازمائر جو اس کے پیچھے ہی باہر آیا تھا۔ لب بھینچے مائزہ کی بکھرتی حالت کو دیکھنے لگا۔
” تم دوست تھے، محبت تھے میری، سب ختم کر دیا تم نے، اب کچھ نہیں ہے ”
” مائزہ ۔۔۔ ”
ازمائر نے اسے کندھے سے تھام کے اٹھانا چاہا ۔۔
” اٹھو پلیز ۔۔ ”
مائزہ نے زور لگا کے دونوں ہاتھوں سے، اسے دھکا دے کے خود سے دور کیا تھا، وہ لڑکھڑا کے پیچھے ہوا تھا۔
” مت آؤ میرے قریب، نفرت کرتی ہوں تم سے ”
وہ چیخی تھی۔
” دور رہو مائزہ سے تم ”
تابعہ کی آواز پہ دونوں چونکے تھے۔
” کہا تھا تم سے کہ مائزہ سے دور رہو، اس کے قریب بھی نظر نہ آؤ مجھے، سمجھ نہیں آئی تھی تمہیں میری بات کی ”
تابعہ مائزہ کو اٹھنے میں مدد دیتی، تندی سے ازمائر کو
کہا تھا۔
” بیوی ہے میری مائزہ، ”
ازمائر نے لب بھینچے تابعہ کو دیکھا تھا ۔
” بہت جلد یہ تعلق بھی ختم ہو جائے گا”
تابعہ نے نفرت سے ازمائر کو دیکھتے کہا تھا۔
” ایسا کچھ نہیں ہونے والا، مائزہ پریگننٹ ہے، میرے بچے کی ماں بن رہی ہے، ”
ازمائر کا انداز سپاٹ تھا، تابعہ نے اسے تمسخر بھرے انداز میں دیکھا تھا۔
” طلاق کے پیپرز پہ مائزہ کے سائن ہو جائے تو تمہارے منہ پہ مارنے ضرور آؤں گی وہ پیپرز ”
ازمائر ٹھٹھک کے رکا تھا، بےیقین آنکھیں مائزہ کی طرف اٹھی، تو وہ جو ازمائر کو دیکھ رہی تھی، نظریں چرا کے اپنی ماں کو دیکھنے لگی، تابعہ اسے اپنے ساتھ لیے، اپنے پورشن کی طرف بڑھی تھی جبکہ ازمائر وہیں ساکت کھڑا رہا، وہ اپنے گناہوں کی تلافی کرنے نکلا تھا لیکن راستے میں ہی وہ شکست کھا کے گرا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” مارننگ مائی کوئین ”
وہ جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے گیلے بال برش کر رہی تھی جب پیچھے سے میران نے اسے بانہوں بھرا تھا، دھیمی مسکان چہرے پہ سجائے، وہ سامنے مرر میں میران کا عکس دیکھنے لگی۔
” مارننگ ۔ ”
آہستگی سے کہہ کے، برش رکھ چکی تھی جبکہ میران اس کے چہرے پہ، اپنی شدت بھری محبتیں بکھری پڑی دیکھ رہا تھا جبکہ سماہر پلکیں جھکا گئی کہ میران کی آنکھوں میں، محبت کا خمار سر چڑھ کے بول رہا تھا اس وقت۔
” کتنی حسین ہو تم سماہر، بےحد حسین ”
اس کے کندھے پہ لب رکھ کے، وہ سرگوشی کر رہا تھا جبکہ سماہر پلکیں جھکائے مسکرا رہی تھی۔
” ہئی یو ”
میران نے اس کا رخ اپنی طرف موڑا تھا، اس کے گیلے بال، میران کے چہرے کو تر کر گئے تھے۔
” ایسے تو میں پاگل ہو جاؤں گا مزید، تمہاری یہ ادا تو پہلی بار دیکھ رہا ہوں میں ”
سماہر نے پلکیں اٹھا کے اسے دیکھا تھا اور پھر جھکا گئی تھی جبکہ میران نے اسے مزید اپنے قریب کیا تھا۔
” اب بھی ناراضگی ہے تو بتا دیں مائی ڈئیر بیگم ”
سماہر نے چونک کے، حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ زیر لب مسکرا رہا تھا۔
” ان آنکھوں کی مستیاں تو بہت کچھ کہہ رہی ہے ”
سماہر بوکھلا کے نظریں چرا گئی۔
” ن۔۔۔ ناشتہ کرتے ہیں، رات سے بھوک لگی ہے مجھے ”
میران نے جھک کے، اس کے کان کی لو پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” مجھے بھی بہت بھوک لگی ہے ”
سماہر کے ماتھے پہ لب رکھ کے، وہ پیچھے ہوا تھا ۔
” میں فریش ہو جاؤں، پھر ناشتہ کرتے ہیں ”
سماہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔
” میں ویٹ کر رہی ہوں ”
میران نے پھر سے اس کا ہاتھ تھام کے، اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔
” تم کہو تو، میں جاتا ہی نہیں ہوں فریش ہونے، مجھے تمہیں انتظار کرانا اچھا نہیں لگتا ”
سماہر لب دانتوں تلے دبا گئی۔
” میران ، تنگ تو نہیں کرو اب ”
میران کھل کے ہنس تھا،
” ایک تو یہ قاتلانہ ادا تمہاری، کہ خود ہی دعوت عشق دیتی ہو اور پھر شکایت بھی کرتی ہو”
سماہر نے ناراضگی بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا تو وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہنسنے لگا۔
” اچھا میں اب کچھ نہیں کہتا، میں فریش ہو کے آتا ہوں ابھی ”
وہ واشروم کی طرف بڑھا تھا، جب سماہر کی نظر میران کے موبائل پہ گئی، جہاں میسج آ رہے تھے آگے پیچھے، ایک نظر واشروم کے بند دروازے کو دیکھتی ، وہ موبائل اٹھانے کا سوچتی، سر جھٹک گئی تھی لیکن اب کال آ رہی تھی تو جھک کے وہ موبائل اٹھا کے دیکھنے لگی، لیکن کال بند ہو چکی تھی، سر جھٹک کے وہ پھر سے موبائل ٹیبل پہ رکھ چکی تھی کہ جو بھی ہے میران خود دیکھ لے گا اور خود کمرے سے نکل گئی۔
لیکن اگلے ہی لمحے اس نے میران کو لب بھینچے سیڑھیاں اترتے دیکھا، جو اس کی طرف دیکھے بنا لمبے ڈگ بھرتا باہر کی طرف جا رہا تھا، چہرے پہ شدید غصہ تھا اور آنکھیں غم و غصے سے سرخ ہو رہی تھی، سماہر تیزی سے اس کے پیچھے آئی تھی۔
” میران ۔۔۔ ”
” منان کاکا کے ساتھ گھر جاؤ تم ”
مڑ کے اس نے بس اتنا ہی کہا اور پھر تیزی سے آگے بڑھ کے وہ گاڑی میں بیٹھ گیا، جھٹکے سے گاڑی گیٹ سے باہر نکلی تھی جبکہ سماہر نم ہوتی آنکھوں میں خوف لیے، اس آدھ کھلے گیٹ کو دیکھتی رہی، جہاں سے ابھی ابھی میران کی گاڑی باہر گئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
جس تیز رفتاری سے اس کی گاڑی روڈ پہ جا رہی تھی، جھٹکے سے شدت کے ساتھ وہ اس بلند منزلہ عمارت کے سامنے آ رکی تھی، اپنی نیم عریاں تصویریں اسے واٹس ایپ پہ بھیج کے، ماریہ اس کے شدید غصے کو ہوا دے چکی تھی، میران گاڑی کا دروازہ کھول کے، جبڑے بھینچے باہر نکلا تھا، دشاب جو اس کا ہی پیچھا کر رہے تھے، منان کاکا کے کال کے بعد، وہ بھی گھر سے عجلت میں باہر نکلے تھے، میران کے لئے بچھائے گئے، ماریہ کے جال سے وہ اچھی طرح واقف تھے اور میران ان کا بیٹا تھا، وہ کسی بھی صورت اپنے مفاد کے لئے، اپنے ہی بیٹے کو قربان نہیں کر سکتے تھے چاہے وہ میران ہو یا ازمائر، ان کی گاڑی بھی میران کی گاڑی کے پیچھے ہی رکی تھی، اس سے پہلے کہ میران عمارت کے اندر جاتا، دشاب تیزی سے گاڑی سے نکل کے، اس کے قریب آئے تھے اور اس کا بازو جکڑ کے اسے روکا تھا۔ میران نے سرخ ہوتی آنکھوں سے انہیں دیکھا تھا۔
” آپ کیا کر رہے ہیں یہاں؟”
سرد لہجے میں پوچھتا وہ اپنا بازو ان کی گرفت سے آزاد کرا چکا تھا۔
” چلو یہاں سے ابھی ”
دشاب نے پھر سے اس کا بازو جکڑا تھا جبکہ میران ناگواری سے انہیں دیکھنے لگا۔
” آپ کی محبوبہ کو اوقات یاد دلائے بنا کہیں نہیں جا رہا میں ”
” پاگل مت بنو، چلو یہاں سے ”
دشاب لب بھینچے اپنے ضدی بیٹے کو دیکھ رہے تھے۔
” میری بات مانو اور چلو یہاں سے میران، تمہیں جال میں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے وہ ۔۔ چلو یہاں سے ”
انہوں نے دانت پیستے، آہستگی سے کہنے کی کوشش کی تھی، میران سرد نظروں سے دشاب کو دیکھ رہا تھا۔
” سماہر کے لئے ”
دشاب نے اپنا آخری تیر چلایا تھا اور میران پہ اثر بھی کر گیا، تبھی اپنا بازو ان کی گرفت سے چھڑاتا، چلاتا وہاں سے ہٹ کے اپنی گاڑی کی طرف آیا تھا، دشاب بھی گہرا سانس لیتے اس کے پاس آئے تھے۔
” کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟؟”
میران اب انہیں ناگواری سے دیکھ رہا تھا۔
” بتاتا ہوں، گاڑی میں بیٹھو ”
دشاب نے اسے گاڑی کی طرف اشارہ کیا تھا لیکن وہ لب بھینچے دشاب کو دیکھ رہا تھا، اپنی جگہ سے حرکت بھی نہیں کی،
” بیٹھ بھی جاؤ میرے باپ ”
دشاب گاڑی کا دروازہ کھولتا اسے بیٹھنے کو کہنے لگا جبکہ خود بھی اسی کی گاڑی میں بیٹھ گئے اور ڈرائیور سے اپنی گاڑی لے جانے کو کہا۔ دشاب اپنے بیٹے کو ہی دیکھ رہے تھے جو غصے اور ضد میں واقع اس کا باپ تھا۔
” ماریہ کے چنگل میں تم خود چل کر جا رہے ہو، تم سے اس بیوقوفی کی توقع نہیں تھی مجھے”
میران نے لب بھینچے جتاتی نظروں سے انہیں دیکھا۔
” ہاتھ پکڑ کے، لے کے بھی آپ ہی گئے تھے اس کے چنگل میں مجھے ”
ماضی کی بات یاد دلائی تھی اس نے، دشاب اسے دیکھ کے رہ گئے۔
” اور ابھی کیا کر رہے ہو تم ؟”
” آپ کا ہی لگا کالک مٹانے جا رہا تھا میں، اپنا ماتھے پہ لگا داغ دھو بھی تو نہیں پا رہا میں ”
میران بپھرا تھا، دشاب خاموش ہی رہے۔
” کیوں آئے ہیں آپ یہاں؟؟ کس نے آپ سے کہا یہاں آنے کو ؟؟ ”
“باپ ہوں میں تمہارا میران”
دشاب اپنے بیٹے کو محبت سے دیکھنے لگے جبکہ میران ہنسنے لگا۔
” باپ؟؟ باپ ۔۔۔۔ مذاق اچھا ہے باپ کا ”
” تم انکار کرو یا اعتراف نہ کرو اس بات کا، لیکن میران حقیقت تو نہیں مٹ سکتی نا، کہ تم میرے بیٹے ہو”
دشاب کا لہجہ نرم تھا جبکہ میران طنزیہ نگاہوں سے انہیں دیکھ رہا تھا۔
” مت کریں دشاب ملک، مت کریں ایسی باتیں، جو آپ پہ جچتی نہ ہو ”
اپنی بات کہہ کے میران ونڈ سکرین سے باہر دیکھنے لگا جبکہ دشاب اسے دیکھ رہے تھے۔ کس قدر نفرت کرتا تھا وہ اپنے باپ سے، کہ آج تک اس نے باپ نہیں مانا تھا انہیں اور نہ کھبی اس رشتے سے بلایا تھا۔
” تم کھبی ماریہ کے پاس نہیں جاؤ گیں، چاہے وہ جو چال بھی چلانے کی کوشش کرے تمہیں وہاں بلانے کی ”
دشاب کے دو ٹوک انداز پہ، میران مڑ کے انہیں دیکھنے لگا۔
” وہ تمہیں حاصل کرنے کے لئے، کسی بھی حد تک جا سکتی ہے میران، تمہیں بدنام کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گی، تمہارا کیرئیر تباہ کر دے گی تم پہ کوئی بھی تہمت لگانے سے وہ نہیں چوکے گی۔ اس لئے میران تم کھبی نہیں جاؤ گیں اس کے پاس۔ ”
دشاب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
” اتنی فکر ہو رہی ہے آپ کو میری، کاش یہی فکر چند سال پہلے ہوئی ہوتی آپ کو، تو آج میں بھی ایک نارمل انسان ہی ہوتا”
میران کے لہجے میں تمسخر تھا جبکہ دشاب کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ میران کو کیسے سمجھائے۔ میران رخ موڑ کے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا، اسے مزید کوئی بات نہیں کرنی تھی اور دشاب نے بھی سکون کا سانس لیا تھا کہ کم از کم میران نے ان کی سنی تو، اور ماریہ کے فلیٹ نہیں گیا، ورنہ وہ جانتے تھے اس عورت کی پست فطرت، کہ وہ کس طرح سے میران کو استعمال کرتی اپنے مقصد کے لئے، میران کوئی بچہ تو نہیں تھا، مضبوط اور توانا مرد تھا لیکن اس دن کے بعد سے، وہ ماریہ سے ڈر گئے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ میران ایسی کسی مشکل میں پھنسے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_17
#Meeran_ki_Samaher
” یہ آپ کے لئے ہیں سماہر بیٹا ”
بوا ایک بڑا سا پیکٹ اور ساتھ میں پھولوں کا خوبصورت بولے لیے، اس کے روم میں آئی تھی، وہ جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی، اپنے بال برش کرتی، بےدھیانی میں میران کے رویے کے بارے میں سوچ رہی تھی، جب بوا نے کمرے میں آ کے بیڈ پہ وہ پیکٹ رکھا، سماہر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔ ۔
” کیا ہے یہ بوا ؟؟ ”
” منان دے گیا ہے بیٹیا، کہا کہ سماہر بی بی کو دینا ہے ”
سماہر اثبات میں سر ہلاتی اب حیران آنکھوں سے بیڈ پہ رکھے اس پیکٹ کو دیکھ رہی تھی جبکہ بوا کمرے سے باہر جا چکی تھی، برش ٹیبل پہ رکھ کے، اپنی جگہ سے اٹھ کے، وہ چھوٹے قدم اٹھاتی بیڈ تک آئی تھی اور نرمی سے ان پھولوں پہ ہاتھ پھیرا تھا، ساتھ ہی ایک چھوٹا سا کارڈ نظر آیا اسے، جسے کھولنے پہ لکھا ملا
” To My Love ”
اس کے لبوں پہ دھیمی مسکان بکھری تھی، ان پھولوں کا بولے ہاتھوں میں لے کے، ان کی مسحور کن خوشبو سانسوں میں اتاری تھی، بوکے کو سائیڈ پہ رکھ کے، وہ پیکٹ کھول کے دیکھنے لگی، جس میں بےحد خوبصورت ڈریس اس کا منتظر تھا، اس کی آنکھوں میں خوشگوار حیرت ابھری تھی، وہاں بھی ایک کارڈ رکھا ہوا ملا تھا اسے،
” انتظار کر رہا ہوں تمہارا ، جلدی آنا ”
لب دانتوں تلے دبا کے، وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔
” سرپرائز کرنا بھی سیکھ لیا اس نے ”
زیر لب بڑبڑاتی، وہ ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں خود کو دیکھتی، اب تیار ہونے کا سوچ رہی تھی کہ اس کا سرتاج، اس کا محبوب، اس کا منتظر تھا۔ وہ جلد سے جلد اس تک پہنچ جانا چاہتی تھی۔
Islamabad Marriot
کی پرکشش عمارت کے سامنے ان کی گاڑی رکی تھی، منان کاکا بھی فرنٹ سیٹ پہ موجود تھے ڈرائیور کے ساتھ، گاڑی کے رکتے ہی، ڈرائیور اور منان دونوں گاڑی سے اترے تھے، ان کے اترتے ہی دو گارڈز بھی ان کی گاڑی کے قریب آئے تھے اور ڈرائیور نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا تھا اور خود نہایت احترام کے ساتھ سائیڈ پہ کھڑا ہو چکا تھا، گاڑی سے اترتی سماہر نے پرشوق نظروں سے، سامنے کا منظر دیکھا تھا جو بےحد خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ اس کی آنکھیں میران کو دیکھنے کے لئے بیتاب ہو رہی تھی، وہ جلد سے جلد اس شخص کے پاس جانا چاہتی تھی۔ وہ جوں جوں آگے بڑھ رہی تھی، گارڈز اس کے دونوں اطراف میں کھڑے، اس سے دور قدم پیچھے ہو کے جا رہے تھے، اور جیسے ہی اس نے عمارت کے اندر قدم رکھا تھا، روشنیوں میں ڈوبے اس لاؤنج میں موجود لوگوں میں گڈمڈ شروع ہوئی تھی، کیمرے کلک کرنے لگے جبکہ نیوز رپورٹرز بھی اس کی طرف متوجہ ہو کے آئے تھے۔
” اوہ مائی گاڈ مسز میران ملک آئی ہے ”
سماہر بوکھلا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ کہیں سے میران اسے نظر آ جائے لیکن ان کے ہجوم میں وہ میران کا چہرہ ہی نہیں دیکھ پا رہی تھی، جب اچانک اس کی کمر پہ بےحد نرمی سے ہاتھ رکھا گیا تھا اور وہ چونک کے اپنے دائیں طرف دیکھنے لگی ۔ جہاں میران اس کے برابر میں کھڑا، اسے خود سے لگائے زیر لب مسکرا رہا تھا اور کیمرے کی روشنی میں، ان کی تصویریں بن رہی تھی اور ویڈیو بن رہے تھے، جبکہ نیوز رپورٹرز کوئی نہ کوئی سوال کر رہے تھے، سماہر اسے ہی دیکھ رہی تھی، جب میران بات کر رہا تھا اور جب سوال سماہر سے ہوا تو میران گھمبیر نگاہوں سے سماہر کو دیکھنے لگا جبکہ وہ مسکرا کے جواب دیتی، پھر سے میران کو دیکھنے لگی ۔ وہ دونوں اب قدرے پرسکون گوشے میں تھے۔ میران اسے مہمانوں سے ملاتا، اب قدرے پرسکون گوشے میں لے آیا تھا اسے ۔
” یہ سب کیا ہے میران ؟؟ ”
وہ حیرانی سے میران کو اپنی خوبصورت آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
” یہ سوری ہے میرے صبح کے رویے کے لئے ”
میران نے محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
” لیکن میں نے تو کوئی شکایت نہیں کی تم سے ”
” تمہاری دھڑکنیں بار بار یہی کہہ رہی تھی مجھ سے ”
میران زیر لب مسکراتا بولا جبکہ سماہر ہلکا سا مسکرائی تھی کہ یہ شخص بھی عجیب ہی ہے جس کے موڈ کا کچھ پتہ نہیں چلتا اسے۔
” ہیلو رومینٹک کپل ”
اواز پہ دونوں نے چونک کے دیکھا تھا، ماریہ مسکراتی ان کے قریب آئی تھی جبکہ میران کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے اسے یہاں دیکھ کے۔
” ہیلو سماہر ”
میران کو نظرانداز کیے، اس نے سماہر کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔
” آپ کون ؟؟”
سماہر سوالیہ نظروں سے ماریہ کو دیکھنے لگی جبکہ ماریہ نے نزاکت سے، ایک ہاتھ سے اپنے بال کندھے پہ سیٹ کیے تھے اور تھوڑا سا خم ہو کے، وہ سماہر کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” میران کی دیوانی ۔ ”
سماہر نے چونک کے میران کی طرف دیکھا تھا جو لب بھینچے پریشان نظروں سے سماہر کو ہی دیکھ رہا تھا۔
” میران کی محبوبہ، میران کو تم سے بہت جلد چھیننے والی، ماریہ ”
” انف ”
میران آہستہ آواز میں غرایا تھا جبکہ ماریہ مسکراتی آنکھوں سے میران کو دیکھنے لگی۔
” کہا تھا ناں کہ میرے پاس آؤ، نہیں آئے ناں، تو اب مجھے خود تمہاری بیوی کے سامنے آنا پڑا ہے ، کیا ہوا تمہیں؟؟ غصہ آ رہا ہے؟؟ تو چلاؤ، چلاؤ ناں ، اوہ تم نہیں چلا سکتے کیونکہ یہاں میڈیا ہے جو تمہاری ریپوٹیشن خاک میں ملا دے گی ”
میران صبر کے گھونٹ پیتا، سماہر کا ہاتھ تھام چکا تھا اور ساتھ ہی اپنے بندوں کو اشارہ کرتا، وہ سماہر کو لیے وہاں سے جا رہا تھا، اس کے دو گارڈز اس کے ساتھ تھے جو میران اور سماہر کے ساتھ ساتھ، ہوٹل کے خفیہ راستے سے جا رہے تھے، سماہر اس پورے راستے خاموش ہی رہی تھی، یہاں تک کہ وہ دونوں گاڑی میں بھی بیٹھ گئے لیکن سماہر خاموش ہی رہی، میران نے بھی اسے بلانے یا اس سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اور نہ سماہر کچھ کہہ رہی تھی، وہ بس خاموشی سے ونڈ اسکرین سے باہر ، روشنیوں میں ڈوبے اسلام آباد کو دیکھ رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ بلکل خاموش ہو چکی تھی، وہاں سے آنے کے بعد جیسے اسے چپ ہی لگ گئی تھی، نہ اس نے میران کی طرف دیکھا اور نہ ہی میران سے کوئی بات کی، میران جو سرپرائز اس کے لئے تیار کر رکھا تھا اور جو پلانز اس نے بنائے تھے آج رات کے حوالے سے، اپنے اور سماہر کے لئے، وہ سب جیسے ایک لمحے میں خاک میں مل چکا تھا۔ گہرا سانس لیتا وہ ایک نظر سماہر پہ ڈال چکا تھا لیکن وہ رخ موڑے بیڈ پہ آ کے لیٹ چکی تھی، اس کا چہرہ بےتاثر تھا، میران کوئی نتیجہ اخذ نہ کر سکا کہ وہ ناراض ہے یا غصہ ہے ۔۔ اس کے موبائل پہ کال آئی تھی جو منان کی تھی۔
” ہیلو ۔۔ ”
بھاری بوجھل آواز کمرے کے خاموش فضا میں گونجی تھی، وہ جو پچھلے ایک گھنٹے سے کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی تو اب عجیب سا محسوس ہوا تھا اس بھاری اواز کے گونجتے ۔
” میران سائیں، بارش ہو رہی ہے اور اپ کے بنائے ہوئے ۔۔۔ ”
” کوئی مشکل نہیں منان کاکا، اب ان سب کی ضرورت نہیں رہی ”
اس نے کہہ کے کال بند کر دیا ، نظر پھر سے سماہر کی طرف اٹھی تھی، جو بیڈ پہ رخ موڑے لیٹی ہوئی تھی۔ میران تھکا تھکا سا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا، بھاری ہوتے قدموں گھسیٹتا وہ بیڈ کی طرف آیا تھا، گنہگار نہ ہوتے ہوئے بھی وہ گنہگار تھا، قصور نہ ہوتے ہوئے بھی وہ قصوروار تھا، سامنے بیڈ پہ موجود وہ انسان تو اس کی کل زندگی تھی، اس کی سانسیں تھی، اس کی دھڑکنیں تھی، اس کا مکمل وجود تھی وہ، اور وہ ہی منہ موڑے ہوئے ہے، وہ ہی خاموش ہے، کچھ نہیں کہہ رہی ۔ وہ آہستگی سے سماہر کی پشت پہ آ لیٹا تھا، بےبس آنکھیں اداسی لیے اس کی پشت پہ بکھرے بالوں کو دیکھ رہی تھی۔ ہاتھ بڑھا کے وہ سماہر کو چھونا چاہتا تھا لیکن اس میں ہمت نہ تھی، اگر وہ دھتکار دیتی، اگر وہ نفرت کا اظہار کرتی، تو ؟؟ تو کیا ہوگا ؟؟ سوچ کے ہی، اس کا مضبوط وجود کانپ اٹھا۔ وہ لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا۔
” میں ماریہ کے پاس گیا تھا ۔۔۔۔ کیونکہ دشاب ملک نے مجھے اسے ایک ڈیل کے بدلے بیچا تھا ”
اس کی اواز قریب سے گونجی تھی، رخ موڑے سماہر نے اپنے لب کاٹے تھے جبکہ اس کی پشت پہ لیٹا میران اداس آنکھوں سے اس کی پشت دیکھ رہا تھا ۔
” لیکن میں اس کے ساتھ کھبی فزیکل نہیں ہوا سماہر۔ تم وہ پہلی عورت ہے میری زندگی میں سماہر، جو میرے وجود میں اتر کے، میرے وجود کا حصہ بنی ہو”
سماہر نے تکیے پہ اپنی انگلیاں مضبوطی سے پیوست کی تھی لیکن خاموش ہی رہی، کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا اس نے،
” اس رات دشاب ملک کے کہنے پہ، میں اس بلڈنگ میں گیا تھا، تب میں سترہ سال کا تھا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں وہاں کیوں بھیج دیا گیا ہوں، جب میں وہاں پہنچا تو وہ ایک فلیٹ تھا، میرے پاس کچھ فائلز تھی، جن پہ مجھے سائن کروانے تھے کیونکہ دشاب ملک نے مجھے یہ کہا تھا کہ بزنس ڈیل کی فائل ہے، سائن کروانے ہیں اور بس، جب میں وہاں پہنچا تھا تو وہاں ایک عورت تھی، وہ ماریہ تھی، ”
وہ رکا تھا شاید گہرا سانس لینے،
” میں اسے نہیں جانتا تھا، مجھے بس سائن ہی کروانے تھے، وہ بےحد نرمی سے ملی تھی مجھ سے، وہ مجھ سے بڑی تھی تو میں بھی عزت سے ملا تھا، پیپرز پہ سائن کے بعد، وہ کوئی کولڈ ڈرنک تھی، جو میں نے پیا تھا لیکن ۔۔۔۔۔ ”
وہ رکا تھا، سماہر کو لگا کہ جیسے اس کے سینے میں سانس اٹکنے لگی ہو جیسے بےحد بے چین سا ہوا ہو۔ لیکن سماہر خاموش رہی، وہ صرف اسے سن رہی تھی بنا کسی حرکت کے۔
” میں ساکت ہو چکا تھا، میں خود کو حرکت نہیں دے سکتا، میں بس سانس لے رہا تھا لیکن میری پوری باڈی جیسے پیرالائز ہو چکی تھی، میں صرف دیکھ سکتا تھا لیکن میں نہ اٹھ پا رہا تھا، نہ خود سے موو کر پا رہا تھا،
جبکہ ماریہ مسکرا رہی تھی۔”
اس کی آنکھوں کے سامنے وہ سب کسی فلم کی طرح چلنے لگا۔
ماضی:
” میران ۔۔۔ میران ۔۔۔ بس اس رات اور اس لمحے کی منتظر تھی میں ”
ماریہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے اسے دیکھ رہی تھی۔
” جانتے ہو تمہیں نشہ کیوں نہیں کروایا ؟؟ کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ میں تمہارے قریب، تمہارے نشے کی حالت میں آؤں کہ تمہیں کچھ یاد نہیں رہے، میں چاہتی ہوں کہ ہمارا گزرا لمحہ لمحہ تمہیں یاد رہے، بےحد خوبصورت یاد بن کے”
وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور اپنا گاؤن اتار کے، قدموں پہ پھینکا تھا جبکہ میران لب بھینچے اسے سرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
” دشاب چاہتا تھا کہ میں ان پیپرز پہ سائن کروں تو میں نے کر دیے ہیں اور بدلے میں تمہیں مانگا تھا میں نے اس سے، بہت بڑا سیاستدان ہے ، اپنے ہی بیٹے کو ڈیل کے بدلے قربانی کا بکرا بنا دیا ”
یہ کہہ کے وہ ہنسنے لگی جبکہ میران جس نے بچپن کی تمام کدورتیں اپنے باپ کے خلاف مٹا دی تھی، وہ سب کدورتیں پھر سے دل میں ابھرنے لگی، وہ جو بچپن کی ناراضگیاں اس نے ختم کی تھی، اس لمحے وہ سب نفرت کا روپ دھارنے لگے، وہ جو انہیں بابا کہتے نہ تھکتا، اس لمحے اس شخص کے لئے ہر احساس سرد پڑنے لگا تھا۔ ماریہ اس پہ جھکنے لگی تھی۔
” تم بےحد ہینڈسم ہو میران، جب سے تمہیں دیکھا ہے، ایک لمحے کے لئے بھی، میں تمہاری سوچ سے خود کو نکال نہیں پائی، تمہارا خیال مجھے مزید تمہارے لئے تڑپاتا ہے اور اب تم یہاں ہو میرے پاس، میرے بےحد قریب، میں حاصل کر لوں گی تمہیں آج، ”
اس کی شرٹ کے بٹن کھولتی، وہ مسکرا رہی تھی جبکہ میران اس لمحے یہی چاہ رہا تھا کہ کسی بھی طرح ہو وہ خود کو حرکت دے سکے، اس کی تمام کوششیں دم توڑ رہی تھی، ماریہ کی بےباکیاں بڑھنے لگی تھی جب اچانک دروازہ کھلا تھا اور وقاص ملک تیزی سے لاؤنج میں داخل ہو کے آئے تھے، میران نے شکر کا سانس لیا تھا جبکہ ماریہ خود کو ڈھانپتی غصے سے مڑی تھی۔
” آپ یہاں کیا کر رہے ہیں وقاص ملک ”
اس کی آواز میں غصہ اور نفرت دونوں تھے۔ وقاص ملک اسے نظر انداز کر کے، صوفے پہ پڑے میران کی طرف بڑھے تھے لیکن ماریہ ان کے سامنے آئی تھی۔
” جائیے یہاں سے وقاص ملک ”
” شٹ اپ یو بچ ”
وقاص ملک نے آگے ہاتھ سے پرے کیا تھا اور خود میران کے قریب آئے تھے اور اس کی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگے۔
” میں نہیں کرنے دوں گی آپ کو کچھ بھی، میران کو نہیں لے جا سکتے یہاں سے آپ ”
وہ زور چیخی تھی اور اس سے پہلے وقاص کے قریب آتی، وقاص کے الرٹ گارڈز اندر آئے تھے اور ماریہ کو اپنی گرفت میں لیا تھا ۔
” چھوڑو مجھے ”
وہ چلائی تھی ان دونوں گارڈز کو دیکھ کے،
” نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ میران کو نہیں لے جا سکتے یہاں سے، چھوڑو مجھے ”
وہ چیخ رہی تھی جب ایک گارڈ آگے آیا تھا اور اس کے منہ پہ ٹیپ لگا کے، اس کی آواز کا گلا گھونٹا تھا اور پھر وقاص ملک کے ساتھ میران کو اٹھانے میں مدد کی تھی۔
” اس عورت کو یہاں سے دور بھجوانے کا بندوبست کرو، ملک بدر کر دو کوئی بھی الزام لگا کے، کہ اس ملک کے اس عورت کا آنا مکمل بند ہو جائے ۔۔۔ یہ عورت کل تک مجھے یہاں نظر نہ آئے۔۔ از ڈیٹ کلیئر ”
سرد لہجے میں اپنی بات کہہ کے وہ میران کو لیے باہر نکلے تھے جبکہ ماریہ کچھ نہ کر سکی ۔۔۔
جب وقاص ملک کو دشاب کے ذریعے یہ پتہ چلا کہ وہ میران کو ایک ڈیل کے بدلے میں، تب انہیں نفرت ہوئی تھی اپنے بھائی کی اس حرکت سے، وہ اس گھر کا بیٹا تھا، کیسے کر سکتا ہے ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ، سیاست کی کرسی نے اس قدر ان کی آنکھوں پہ پٹی باندھ دی تھی کہ اپنے بیٹے کو بکاؤ کر دیا اور تب وہ یہاں آئے تھے میران کو بچانے اور یہی وجہ تھی کہ میران اس دن کے بعد سے، دشاب ملک کی بجائے وقاص ملک کے ساتھ رہنے لگے تھے، ان کو باپ کا درجہ ہی دے دیا تھا، اور وقاص ملک نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا، زندگی کے ہر موڑ پہ، انہوں نے میران کا ساتھ دیا، اس کو فوقیت دی اور تب سے دشاب ملک، میران کی بےحد نفرت کے حقدار بنے تھے کیونکہ وہ ایک بیٹے کے آگے، باپ کی حیثیت سے اپنا یقین اور اعتبار کھو چکے تھے۔
حال:
سب بتا کے وہ خاموش ہوا تھا۔ سماہر جو کب سے اسے سن رہی تھی، اس کا چہرہ خاموش آنسوؤں سے بھر چکا تھا، اس کا دل ڈوب رہا تھا، اس کا وجود بےجان ہو رہا تھا، دشاب ملک جیسے بھی سہی، لیکن وہ اتنا بھی بڑا نہیں سمجھتی تھی انہیں، اسے بس یہی لگتا کہ عارفین چچی کے حق میں، وہ ناانصافی کر چکے ہیں تبھی میران ان سے کھنچا سا رہتا ہے لیکن وہ تو، میران کی شخصیت سے گیم کھیل چکے تھے، میران کو بیچ آئے تھے، قیمت لگائی تھی میران کی، کھلونا بنا گئے تھے اپنے ہی بیٹے کو، اپنی ہی سگی اولاد کو۔ اس کے دل میں نفرت بھر گئی تھی دشاب ملک کے لئے، جو احترام اس کے دل میں تھا ان کے لئے، وہ سب ختم ہو گیا تھا ، اس کی جگہ نفرت نے لے لی تھی۔
میران کو گھٹن ہونے لگی، تبھی وہ اٹھنے لگا جب سماہر نے اس کی طرف رخ کیا تھا، وہ رو رہی تھی،میران پریشان سا اسے دیکھنے لگا۔ اس کی وجہ سے سماہر رو رہی ہے۔
” ایم سوری ۔۔۔۔۔ ”
” ہشششششش ”
سماہر نے بےاختیار قریب ہو کے، اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھے تھے، آنکھیں موند کے، ان پہ اپنی محبت کی مہر ثبت کی تھی اور پھر میران کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
” میں تم سے عشق کرتی تھی میران اور آج اگر عشق سے بھی کوئی بالاتر احساس ہے تو وہ احساس میرے دل میں تمہارے لئے ہیں میران۔ ”
میران حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ سماہر نے آگے بڑھ کے اس کی آنکھوں پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” جانتے ہو عشق کیا ہوتا ہے ؟؟ کسی سے عشق کرنا کیسے ہوتا ہے ؟؟ کسی کی روح میں اتر کے عشق کرنا کیسے ہوتا ہے میران ؟؟ میں نے تمہاری روح میں اتر کے تم سے عشق کیا ہے، محبت کی ہے، مجھے کسی کے کچھ بھی کہہ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ مجھے ماریہ کے وہ سب کہنے سے کچھ فرق پڑا تھا، میں اپنے میران کو جانتی ہوں اور اپنے میران سے عشق کرتی ہوں، بےحد عشق، بےپناہ عشق ۔ تمہارے اندر کا خوف جانتی تھی میں ہمیشہ سے، لیکن میں اس خوف کو تمہاری زبان سے سننا چاہتی تھی میران، کیونکہ اس خوف کا الفاظ کی زبان دے دینے کے بعد ہی تم جان سکتے تھے کہ تمہاری سماہر تم سے کس قدر محبت کرتی ہے، تم سماہر کے لئے کس قدر اہم ہو، میران ”
وہ میران کے چہرے پہ اپنا ہاتھ نرمی سے پھیر رہی تھی جبکہ میران نے آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اپنے سارے دکھ، اپنی ساری محرومیاں، اپنی ساری ان کہی خواہشیں، اپنے سارے احساسات میرے وجود کو سونپ دو، مجھے بانہوں میں لے کے، میرے وجود کے کسی کونے میں دفن کر دو، میں بنوں گی تمہارے ہر دکھ کے لئے سکھ، تمہاری ہر محرومی کے مرہم، تمہاری ہر ان کہی خواہش کی تکمیل، تمہارے ہر احساس کے لئے سراپا محبت۔ ”
اور وہ اچانک رو پڑا تھا، بلکل اچانک، وہ سماہر کو بانہوں میں بھر کے رو دیا تھا، وہ مضبوط مرد پھوٹ پھوٹ کے رو دیا تھا، سماہر نے نرمی سے اس کے گرد اپنے بانہوں کا گھیرا بنا دیا تھا جہاں میران ارتضی ملک رو رہا تھا، تڑپ رہا تھا اور سماہر اسے سکون بخش رہی تھی۔سماہر کتنے خوبصورت لفظوں میں اپنے احساسات کو بیان کیا کرتی تھی، میران کو الفاظ سے کھیلنے نہیں آتا تھا، احساسات کو الفاظ کا پیراہن پہنانا نہیں آتا تھا لیکن وہ بس رو رہا تھا، دل کا غبار آنسوؤں کی صورت بہا رہا تھا اور سماہر نے اسے سمیٹ لیا تھا اس ارادے کے ساتھ، کہ کل صبح کا سورج جب طلوع ہوگا تو وہ میران کے سارے غم دفن کر چکی ہوگی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
Forced Marriage Novels
کیسی لگی آج کی ایپسوڈ جو صرف میران اور سماہر کی تھی ۔۔۔ ضرور بتائیے گا 👀
لائکس ۔۔۔ کمنٹس ۔۔۔۔ شئیر کی منتظر 👀
آپ کی خوبصورت سی رائٹر 🥰
Yarrrrrr comments kya kro bhut saraaaaaaaa yaaarrrrr 😍😍😍
ایپسوڈ پہ اپنا تبصرہ ضرور کیا کریں۔۔ 👀 مجھے اچھا لگتا ہے جب آپ تبصرہ کرتے ہیں 🥰🥰
لائکس۔۔۔ کمنٹس اور شئیر کرنا مت بھولیے گا 🥰🥰
کیسی لگی آج کی اسپیشل ایپسوڈ؟؟؟ ضرور بتائیے گا 😉😉
خوش رہیں 🖤
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
One thought on “Ada e Ishq hn – Episode 15 16 & 17 Season 02”