Ada e Ishq hn – Episode 12 13 & 14 Season 02
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_12
#Season_2
وہ ساکت بیٹھی اپنے سامنے رکھے اس پیپر کو دیکھ رہی تھی جس کے مطابق وہ پریگننٹ تھی، اسے خوش ہونا چاہئے ؟؟ یا پھر اسے رونا چاہئے ؟؟ اسے خود کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا بس ذہن بھاری ہو رہا تھا، کیسے ہو گیا یہ سب ؟؟ جب وہ شخص ہی لاتعلق ہے تو کیسے ؟؟
تابعہ، بوا کے ساتھ کھانا لے کے اس کے پاس آئی تھی، اپنی بیٹی کو اس حالت میں دیکھ کے، انہیں بےحد دکھ ہو رہا تھا، لیکن وہ مائزہ کا درد کم کرنے میں ناکام ہی رہی، وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ٹوٹ رہی ہے، بکھر رہی ہے اور تابعہ اسے جوڑنے کی کوشش میں سرگرداں ہے، وہ تو تعلق کا سوچ رہی تھی ان دونوں کے، لیکن مائزہ پریگننٹ ہے، یہ بات انہیں پریشان کر رہا تھا۔
” مائزہ ، آؤ بیٹا کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے ”
مائزہ چونک کے اپنی ماں کو دیکھنے لگی جو اس کے لئے کھانا نکال رہی تھی۔ وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی جبکہ تابعہ کھانا کھاتے ہوئے، وقفے وقفے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” مائزہ اگر تم نہیں چاہتی تو میں ڈاکٹر سے بات کرتی ہوں، وہ ایبارشن کر دے گی ”
مائزہ نے بےحد چونک کے اپنی ماں کو دیکھا تھا۔
” میں کیسے کر سکتی ہوں ایسا؟؟ وہ تو بہت چھوٹا سا ہے ، آپ نے دیکھا اس پیپر کو”
مائزہ کی بات پہ تابعہ نظریں چرا گئی، مائزہ نے اب شاید رونا ہی چھوڑ دیا تھا، اتنا رو چکی تھی وہ، کہ اب رونا بھی نہیں آتا تھا اسے، بس ہمیشہ بےتاثر چہرہ رہنے لگا تھا اس کا۔
” ایم سوری بیٹا ، میرا مطلب یہ نہیں تھا ”
” مجھے گھر جانا ہے مما ”
اب کے چونکنے کی باری تابعہ کی تھی۔
” کیا مطلب ؟؟”
” مطلب یہ کہ، میرا یہاں دم گھٹتا ہے، وقت نہیں گزرتا، مجھے گھر جانا ہے ”
مائزہ بےدلی سے کہنے لگی ۔
” تو تم پھر اس درندے کے پاس جانا چاہتی ہو مائزہ ؟؟ بھول گئی کیا سب ؟؟”
تابعہ کو غصہ آیا تھا جبکہ مائزہ اسے دیکھنے لگی۔
” اپنے گھر جا رہی ہوں مما، وہاں کا نہیں کہا میں نے، مجھے اپنے روم کی یاد آ رہی ہے بہت اور۔۔۔۔ ”
وہ خاموش ہو کے نظریں جھکا گئی ۔
” میں چاہتی ہوں کہ میرے یہ تمام لمحے، اس گھر اور کمرے میں گزرے جہاں میں بڑی ہوئی ہوں”
تابعہ اداس نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھے گئی ۔
” وہاں اس شخص سے سامنا ہوگا، تنگ کرے گا وہ تمہیں، ٹارچر کرے گا ذہنی طور پہ”
” کچھ نہیں ہوگا، اب میں مضبوط مائزہ بن چکی ہوں، مجھے اب کوئی نہیں توڑ سکتا ”
مائزہ کا لہجہ مضبوط تھا، تابعہ گہرا سانس لے کے رہ گئی ۔ ۔
” ٹھیک ہے، لنچ کے بعد چلتے ہیں ”
” ہمم ”
آہستگی سے سر اثبات میں ہلا کے وہ پھر سے کھانے کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اروشے کو اپنے کلینک میں دیکھ کے، پریشے پل بھر کے لئے حیران ہوئی تھی۔ جبکہ اروشے مسکرانے کی کوشش کرتی اس کی ٹیبل کے قریب آ رکی تھی۔
” میں بیٹھ سکتی ہوں یہاں؟”
” ہممم بیٹھو ”
اس کے کہنے پہ اروشے کرسی پہ بیٹھ کے، اس کے کمرے کا جائزہ لینے لگی جبکہ پریشے اچھنبے سے اسے دیکھ رہی تھی، اس کا یوں انا کس لئے تھا اتنے عرصے بعد ۔ وہ اب مسکرا کے پریشے کو دیکھ رہی تھی۔
” کتنی عجیب بات ہے ناں پریشے، ہم جب طاقتور ہوتے ہیں اور ہمارے پاس جب کوئی اختیار ہوتا تو ہم اس کا غلط استعمال کر کے کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بلکل نہیں چوکتے اور پھر جب منہ کے بل زمین پہ گرتے ہیں، تب اٹھ کے پھر سے چلنا تو شروع کر دیتے ہیں لیکن گرنے سے جو ہمارا چہرہ کیچر زدہ ہو چکا ہے اسے صاف نہیں کر پاتے، کیونکہ وہ کیچر نہ صرف چہرے پہ،بلکہ ہمارے پورے وجود پہ لگ چکا ہوتا ہے ”
اس کی آنکھیں بھر آئی تھی یہ سب کہتے ہوئے،جبکہ پریشے سپاٹ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” اور میں اس قدر کیچر زدہ ہوں پریشے، کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے صاف کروں اپنے وجود پہ لگے اس کیچر کو ”
پریشے بنا کچھ کہے اسے دیکھ رہی تھی۔
” تمہارے پاس آئی ہوں پریشے، میری مدد کر دو، مجھے اس کیچر سے نکالنے میں میری مدد کردو پلیز ”
پریشے کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا بات کرے اروشے سے؟ کیا کہے اور کیا پوچھے؟
” عاھل خان۔۔۔۔ ”
یہ کہہ کے وہ خاموش ہوئی تھی جبکہ پریشے اچھنبے سے اسے دیکھنے لگی ۔
” کو تم سے چھین تو لیا میں نے، لیکن اسے کھبی اپنا نہ بنا سکی میں، میں اس کے لئے ہمیشہ ایک بیکارہ اور فالتو ذات ہی رہی کیونکہ وہ تمہاری جگہ مجھے نہیں دے پا رہا تھا اور نہ کھبی دیا اس نے، میں نے مانگا بھی تو انکار ہی سننے کو ملا ۔ کیونکہ زبردستی کے رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں،میں سمجھی تھی کہ میں اپنی خوبصورتی اور چالاکی سے، اسے اپنا بنا دوں گی لیکن جھوٹ اور دھوکے کی بنیاد پہ بنے رشتے، کھبی پائیدار نہیں ہوتے، مجھے یہ سمجھنے میں، بہت وقت لگا، بہت زیادہ وقت ”
” ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں اروشے، اگر تم یہ سب کہنے آئی ہو تو میرے پاس ان سب کا کوئی جواب نہیں ”
پریشے نے جزبز ہوتے کہا تھا کہ اس کے زخم تازہ ہو رہے تھے جبکہ اروشے ہنسنے لگی ۔
” عاھل خان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے پریشے، یہ جاننا ضروری ہے تمہارے لئے”
پریشے لب بھینچے اسے دیکھنے لگی ۔
” اس کا اپنا باپ اسے دھمکی دے چکا تھا کہ اگر عاھل مجھ سے شادی نہیں کرے گا تو وہ اس کی ماں کو تعلق دے دے گا کوئی بھی گھٹیا الزام لگا کے”
اروشے نے تلخی سے کہا تھا جبکہ پریشے حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
” اولاد کے لئے یہ دھمکی بہت خطرناک ہوتی ہے جب مقابل بھی ماں ہو، وہ ماں جس کی حرمت اولاد کے لئے اولیت ہوتی ہے اور پھر اسے مجبور کیا گیا کہ وہ مجھ سے شادی کرے”
پریشے کی آنکھیں نم ہوئی تھی اپنی چچی کا سوچ کے، جو اس دنیا سے جا چکی تھی اب۔
” اور ۔۔۔ ”
وہ کہتے کہتے سر جھکا گئی تھی۔
” عاھل خان کو اپنے قریب لانے کے لئے، اسے نشہ کروایا تھا میں نے، تا کہ اسے ۔۔۔۔۔ ”
خاموش ہو کے وہ لب کاٹنے لگی جبکہ پریشے تاسف بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی، کتنا گر چکی تھی وہ، اس قدر کہ پریشے کے پاس الفاظ ختم تھے، اروشے کی شان میں کچھ کہنے کے لئے ۔ ۔
” اب میں بیمار رہنے لگی ہوں، میرا دماغ ناقص ہو چکا ہے، بہت بوجھ ہے اس دل پہ، سکون کہیں نہیں ہے، ایسے لگتا ہے کہ میں خودکشی کر لوں، خود کو ختم کر دوں، شاید دو انسانوں کی بددعا لگی ہے مجھے، پریشے مجھے معاف کر دو، پلیز مجھے معاف کر دو، تا کہ کچھ تو سکون ہو، تم سے الگ کرنے کے لئے، میں نے عاھل خان کے قریب جانے کے لئے ، ہر غلط راستہ اپنایا، سرتوڑ کوششیں کی لیکن وہ نہ میرا تھا اور نہ میرا ہو سکا، اور نہ کھبی میرے قریب انا چاہا، مجھے معاف کر دو پریشے پلیز ”
وہ رو رہی تھی، پھوٹ پھوٹ کے روتی، وہ پریشے کے قدموں میں بیٹھ گئی تھی جبکہ پریشے نے جلدی سے اپنے پاؤں پیچھے کر کے، اسے اٹھایا اور صوفے پہ لے جا کے بٹھایا۔
” میں تمہیں معاف کر چکی ہوں اروشے، پلیز ایسے نہیں کرو اور رونا بند کرو ”
سدا کی نرم دل پریشے اسے معاف کر چکی تھی جبکہ اروشے شرمندگی سے ، اس کی طرف دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی ۔ اگر وہ ہوتی تو شاید کھبی نہ معاف کرتی لیکن پریشے اسے معاف کر چکی تھی، وہ شرمندہ ہو رہی تھی کہ کیسے دو انسانوں کی زندگی برباد کر دی اس نے اور اب رنج و غم اس سے الگ ہی نہیں ہو پا رہے ۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” میں آفس تک جا رہا ہوں تو تمہیں کچھ چاہئے تو نہیں؟”
کمرے میں آتی سماہر نے بےحد حیرت سے اس شخص کو دیکھا تھا جو صبح سے اس کو پریشان ہی کر رہا تھا اپنی حرکتوں سے، پہلے ناشتے کی ٹیبل پہ اور اب یہاں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ان کے بیچ اور وہ سالوں سے بےحد محبت سے رہتے آ رہے ہو ایکدوسرے کے ساتھ۔
تبھی لب بھینچے نظریں پھیر گئی تھی، میران نے چونک کے اسے دیکھا تھا، رات کو تو وہ اسقدر قریب آئی تھی میران کے اور اب ؟؟
تو کیا اتنی نیند میں تھی کہ کچھ یاد ہی نہیں سماہر کو ؟؟
وہ سوچنے لگا۔
” اگر کچھ چاہیئے تو پلیز کال کر دینا”
اس نے پھر سے کہا تھا جبکہ سماہر اسے گھور کے دیکھنے لگی۔ ۔
” مسئلہ کیا ہے ؟؟ صبح سے پریشان کیوں کر رہے ہیں مجھے ؟؟”
” میں نے کب پریشان کیا ؟؟ میں تو تمہاری پریشانی کم کر رہا ہوں ”
میران ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔ ۔
” پورے چار دن بعد آپ کو خیال آیا کہ آپ کو میری پریشانی کم کرنی چاہئے ”
سماہر کا لہجہ طنزیہ بھی تھا اور شکایتی بھی۔
” تو تم کال کر لیتی اگر میں نہیں آیا تھا ”
میران نے بلکل اچانک کہا تھا جبکہ سماہر کی آنکھیں پھیلی تھی۔
” میں؟؟ میں کیوں کال کرتی مسٹر میران ملک ؟؟ ”
” کیونکہ آپ مسز میران ملک جو ہے”
میران نے بھی اسی کے انداز میں کہا تھا جبکہ سماہر نے گہرا سانس لے کے، اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کی تھی۔
” کیونکہ آپ بےحد تنہائی پسند ہے تو سوچا آپ کی تنہائی میں باعث خلل نہ ہوں ”
” لیکن میری تنہائی میں تو تم بھی میرے پاس ہوتی ہو سماہر ”
اچانک سے گھمبیر لہجے میں کہتا وہ سماہر کی طرف قدم بڑھا چکا تھا جبکہ سماہر بوکھلا کے پیچھے قدم رکھ چکی تھی۔
” سب جھوٹ اور فریب ”
اپنی آواز کو نارمل کرتی وہ بولی تھی۔
” لیکن تمہیں تو میرا اعتراف محبت زیادہ پسند آیا تھا ۔ ”
وہ اب بھی قدم آگے بڑھا رہا تھا جبکہ سماہر پیچھے کی طرف قدم رکھتی، اسے دیکھ رہی تھی۔
” جھوٹے الفاظ زیادہ اٹریکٹو ہوتے ہیں، شاید اس لئے ”
” تو کیا میں فریب ہوں؟؟”
سماہر کی پشت دیوار سے لگی تھی، اب مزید راہ فرار نہیں تھا،جبکہ میران ایک ہاتھ دیوار پہ رکھ کے، اس کے قریب ہوا تھا کہ اس کی سانسیں سماہر کے چہرے کو جھلسا رہی تھی جبکہ اس نزدیکی پہ، سماہر کا دل جیسے پسلیوں سے باہر آ رہا تھا۔
” بولو ناں ؟؟ کیا میں فریب ہوں؟؟”
وہ پھر سے بوجھل لہجے میں پوچھ رہا تھا جبکہ سماہر کا دل چاہا کہ کہہ دے کہ نہیں تم عشق ہو، تم جان سماہر ہو، تم میرے میران ہو،
لیکن وہ خاموش ہی رہی۔
” کیا ہوا؟ میں قریب آیا تو تم خاموش ہی ہو گئی ۔۔ کچھ کہو گی نہیں؟؟ ”
سماہر کے لئے ان آنکھوں سے نظریں پھیرنا مشکل امر لگ رہا تھا، کس قدر خوبصورت آنکھیں تھی اس شخص کی، بےحد مغرور آنکھیں، جن میں سماہر کا عکس تھا، جن میں عشق کا غزل پنہاں تھا۔
” مجھے کچھ نہیں کہنا ۔ ”
اتنا ہی کہہ کے، وہ نظریں پھیر گئی جبکہ آگے بڑھ کے میران نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے، گہرا سانس لیا تھا۔ سماہر نے اس لمس کو اپنے مکمل وجود میں حفظ کیا تھا۔ وہ اب سماہر کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
” مجھے الفاظ کی بازی کھیلنا نہیں آتا سماہر، احساسات کو خوبصورت لفظوں میں پرونا نہیں جانتا میں، میں تمہارے جیسا خوبصورت انسان نہیں ہوں کہ میں عشق کو لفظوں میں ادا کر سکوں۔۔۔ لیکن ”
وہ خاموش ہوا تھا پل بھر کے لئے، جبکہ سماہر کی تمام حسیات بیدار ہوئی تھی اسے سننے کے لئے۔
” مجھے عشق کا سلیقہ تم سے آیا سماہر، سلیقہء عشق تم سے سیکھا میں نے، روح میں اتر کے ، عشق کرنا تم سے سیکھا میں نے سماہر، تم سماہر میران ملک ہو، جانتی ہو مجھ جیسے ادھورے انسان کو مکمل کرنے کے لئے یہی ایک جملہ کافی ہے میرے لئے، کہ میں سماہر کی زندگی کے اس کتاب میں، جس میں سماہر کے تمام احساسات، خیالات، اور چاہتیں لکھی ہوئی ہے، اس کتاب کا پہلا ورق صرف میں ہوں۔۔۔ میں گنہگار ہوں، برا ہوں، غلط ہوں، لیکن پھر بھی دنیا میں ایک واحد انسان موجود ہے جو ان سب کے باوجود مجھے اولیت قرار دیتی ہے، وہ تم ہو سماہر، مجھے میرا غرور بخشنے کے لئے بہت شکریہ ”
سماہر گنگ اسے دیکھ رہی تھی، سن رہی تھی، اس شخص کو آج کیا ہوا تھا ؟؟ کیا کہہ رہا تھا وہ شخص؟؟ وہ بولتا بھی ہے، اتنا زیادہ کیسے بول گیا وہ آج؟؟ کیا کچھ سوچ رہی تھی وہ ۔ اس کی ناراضگی اب بھی برقرار تھی لیکن وہ اس شخص کو دھکا دے کے، خود سے دور کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی، کیونکہ وہ عشق کرتی تھی اس شخص، اس کا محبوب تھا وہ، اس کا محرم۔
میران نے ہاتھ اس کے گال پہ رکھے تھے، اس کے ہاتھ کا گرم لمس محسوس کر کے سماہر آنکھیں موند گئی جبکہ میران اس کے لبوں پہ جھکا تھا۔ نرمی سے ان لبوں پہ بوسہ دے کے، وہ پیچھے ہوا تھا۔
” ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا سماہر ”
مبہم سرگوشی پہ اس نے آنکھیں کھولی تھی، سانس روکے وہ میران کو دیکھ رہی تھی جبکہ میران پھر سے ان لبوں کو چھو کے، اپنی سانسیں مہکانا چاہتا تھا لیکن وہ پیچھے ہوا تھا۔ قدم قدم پیچھے رکھتا وہ سماہر سے دور ہو رہا تھا، چہرے پہ دلفریب سی مسکراہٹ تھی ، سماہر اسے ہی دیکھ رہی تھی بنا پلکیں جھپکائے، وہ کمرے سے نکلا تو سماہر نے رکی سانس بحال کی تھی، اپنے لبوں پہ ہاتھ رکھ کے، اس نے وہ لمس اپنی روح میں اترتا محسوس کیا تھا، لب ہلکا سا مسکرائے تھے۔
” بھول جائیے میران ارتضی ملک، کہ میں اتنی جلدی مان جاؤں گی ”
آنکھیں مسکرانے لگی تھی، وہ تیزی سے کھڑکی کے پاس گئی تھی اور ہلکا سا پردہ ہٹا کے، وہ میران کو دیکھنے لگی جو گاڑی میں بیٹھ رہا تھا،لب دانتوں تلے دبا کے، وہ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ چکی تھی کہ اس شخص کی ہر خطا معاف تھی ۔
وہ ایک شخص بھی کتنا عجیب سا ہے
کہ اس کی ہر خطا معاف ہے ۔۔
وہ اتنا منفرد سا ہے۔۔
وہ اتنا دلکش سا ہے
کہ۔۔
اس کی ہر خطا معاف کرنے کو دل چاہتا ہے ۔۔ !!!
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_13
#Season_2
کمرے میں قدم رکھتے ہی، اس نے گہرا سانس لیا تھا جیسے برسوں کی تھکن اتاری ہو اس نے۔ بیگ صوفے پہ رکھ کے، وہ تھکے تھکے انداز میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ رکی تھی، خود کو خالی نظروں سے مرر میں دیکھا تھا، خالی آنکھوں میں ویرانیوں کا بسیرا تھا بس، اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھی چیزوں پہ گئی تو بےوجہ ہاتھ بڑھا کے، وہ ان چیزوں کو ٹھیک کرنے لگی لیکن سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کرنا کیا چاہ رہی ہے، تبھی سب چھوڑ کے وہ اپنے رائٹنگ ٹیبل کو دیکھنے لگی، تیزی سے آگے بڑھ کے، اس نے کتابیں ٹھیک سے سائیڈ پہ رکھی تھی اور پھر باقی چیزیں سمیٹنے لگی لیکن کچھ بھی اپنی جگہ پہ نہیں رکھا جا رہا تھا، اس کے ہاتھ کانپے تھے، اپنے آنسوؤں کا راستہ روکنے کی کوشش کرتی، وہ بلاوجہ ان کتابوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی اور اچانک وہ سب جھٹک کے، وہیں بیٹھ کے رونے لگی ، دل کا غبار تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، اروشے کی باتوں نے آج مکمل توڑ دیا تھا، وہ جب اس شخص کو بھولنے کی کوشش کر رہی ہے تو پھر سے کیوں سب یاد آنے لگ جاتا ہے، پچھلے چار سال سے وہ کچھ نہیں کر پا رہی سوائے خود سے لڑنے کے، سوائے اس شخص کو بھولنے کے، لیکن اس کا عکس تو ایسے ذہن کے پردوں پہ جاگزیں ہوا ہے کہ دھندلاہٹ تک نہیں آتی ۔۔
” کیوں؟؟ کیوں؟؟ اے اللہ کیوں ؟؟ میرے ساتھ ہی کیوں؟؟ کیوں نہیں بھول پاتی میں اسے ؟؟ کیوں آج۔۔۔ آج بہت درد سا پھیلا ہے میرے ہر طرف، مجھ سے ناراض ہے کیا آپ؟؟ میرے مولا کیا آپ مجھ سے ناراض ہے؟؟ میرا کوئی عمل آپ کے غصے کا سبب بنی ہے کیا ؟؟ جو ۔۔۔ جو میرے وجود میں بےسکونی ہے، کیوں؟؟ کیوں سکون نہیں ہے ؟؟ میری مدد فرمائیں پلیز ”
وہ رو رہی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی،
” تھک گئی ہوں بہت، آج تو بہت تھکن ہے، روح تک میں تھکن ہے میرے، بہت تھکن ہے ”
تھکی تھکی سی وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی، ادھر ادھر کمرے میں نظریں دوڑانے لگی، وہ جو انسانوں کا علاج کیا کرتی تھی، انہیں ذہنی اذیت سے نجات دلاتی تھی، آج وہ خود اس ذہنی اذیت کا شکار تھی، اور وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیسے خود کو اس اذیت سے باہر نکالے۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
کھڑکی سے ٹیک لگائے بیٹھے مائزہ کو تین گھنٹے ہو گئے تھے لیکن ازمائر ابھی تک گھر نہیں آیا تھا کہ وہ ایک نظر اس دشمن جاں کو دیکھ سکے، وہ ننھی جان جو اس کے وجود میں پنپ رہا تھا، جو ازمائر کی درندگی کا نتیجہ تھا، لیکن وہ اس ننھی جان کو اپنے وجود سے الگ بھی نہیں کر سکتی تھی ۔ سر جھٹک کے وہ اپنی کمر سیدھی کرتی پھر سے باہر دیکھنے لگی۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، اب تو موسم بھی بدل گیا تھا، خزاں کے اداس موسم نے اس کے دل کو بھی اداس کر دیا تھا لیکن خزاں کے اس اداس شام میں، اس کی آنکھیں اس سنگدل شخص کی منتظر تھی، جو کھبی اس کا دوست ہوا کرتا تھا، جو اس کی بہت عزت کرتا تھا، اس کی مدد کرتا اس کی پڑھائی میں اور آج۔۔۔۔ وہ بدلے اور انتقام کی آگ میں جل کے، اس قدر اندھا ہو گیا تھا کہ ۔۔۔۔ وہ مائزہ سے اپنا رشتہ تک بھول گیا تھا۔ گاڑی جھٹکے سے پورچ میں آ رکی تھی اور ازمائر گاڑی کا دروازہ کھولتا نیچے اترا تھا، مائزہ سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی، جو ماتھے پہ بل ڈالے، لب بھینچے لان کی طرف آ رہا تھا، مائزہ گھبرا کے مزید پردے کی اوٹ میں ہو گئی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ ازمائر کو بھنک بھی پڑے کہ وہ یہاں ہے، لیکن اسے کون سا فرق پڑ جانا ۔اس نے تلخی سے سوچا تھا۔ اپنی کنپٹی سہلاتا وہ لان میں ٹہلنے لگا، جب کچھ نہ بن پایا اس سے بھی تو پھر سے رکا تھا، سماہر وہیں آ رہی تھی شاید وہ مائزہ سے ہی ملنے آ رہی تھی، مائزہ انہیں ہی دیکھ رہی تھی جب ازمائر نے بےبسی سے اسے آواز دی تھی ۔
” سماہر ۔۔”
وہ رک گئی تھی اور سپاٹ نظروں سے اس شخص کو دیکھنے لگی جو بےحد تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
“کیا ہے اس میں؟ جو مجھ میں نہیں؟؟”
سماہر نے لب بھینچ لیے تھے، کیا بن گیا تھا یہ شخص؟ کس قدر سوبر ہوا کرتا تھا، کس قدر اچھائی سے بات کرتا تھا سب سے اور اب ۔۔۔ کیا یہ صرف انتقام کی جنگ ہے ؟
” ازمائر اپ میرے بہنوئی ہے، یہ کھبی بھی مت بھولیے ”
اس کا لہجہ بےحد سپاٹ تھا۔
” بہت تھکن ہے سماہر، پلیز ایسے مت کریں، میں پاگل ہو رہا ہوں ”
کتنی بےبسی تھی اس کے انداز میں، سماہر استہزائیہ انداز میں ہنسی تھی ۔
” تو آپ کو کیا لگتا ہے ازمائر ؟؟ کہ آپ کو کھبی بد دعا نہیں لگتی ؟؟ کسی معصوم کی جان اور عزت سے کھیلے گیں آپ اور پھر بھی اپ سکون سے رہے گیں؟؟ کسی پہ تہمت لگائے گیں تو آپ سکون سے رہیں گے ؟؟ ایک معصوم انسان پہ زندگی تنگ کر دے گیں تو آپ سکون سے رہے گیں؟؟ مائزہ کو اپنے انتقام کے لئے، ڈھال بنا کے آپ یہ سوچ رہے تھے کہ آپ کچھ بھی کر لیں گے اور آپ سکون سے رہے گیں؟؟ نفرت، ضد، دشمنی اور انتقام نے آپ کو اس قدر معذور کر دیا ہے ازمائر، کہ آپ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اندھے ہو چکے ہیں، آپ کو اپنے رشتے نظر نہیں آتے، آپ کو محبت نظر نہیں اتی، کچھ نہیں دیکھ پا رہے آپ، مائزہ کو موت کے منہ میں ڈال کے، آپ کو کھبی سکون نہیں ملے گا، افسوس ہوتا ہے مجھے یہ سوچ کے، کہ یہ وہی ازمائر ارتضی ملک ہے جو مائزہ کا کھبی دوست ہوا کرتا تھا ۔ ”
اپنی بات کہہ کے، ایک سرد نظر اس پہ ڈال کے، سماہر آگے بڑھی تھی۔
” نفرت کرتی ہو مجھ سے سماہر ؟؟”
اس کا سوال ان سنی کرتی وہ چلتی گئی، جبکہ ازمائر میں ہمت تک نہ تھی آگے بڑھنے کی، سماہر اسے آئینہ دکھا چکی تھی اور وہ اس آئینے میں خود سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔ مائزہ ؟؟ ہاں اتنے دنوں سے وہ کہیں نہیں ہے، وہ غائب ہے اور اس نے یہ بھی سوچنا ضروری نہیں سمجھا کہ وہ زندہ ہے یا مر چکی ہے، اس کے دیے ہوئے زخم سے۔ وہ سماہر کو جاتا دیکھ رہا تھا لیکن وہ اسے پکار تک نہیں سکتا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا، لان سے پورچ کی طرف گیا تھا، اپنی گاڑی میں بیٹھ کے، وہ گاڑی جھٹکے سے گیٹ سے باہر لے گیا تھا جبکہ مائزہ نم آنکھوں سے اس شخص کو جاتا دیکھ رہی تھی۔ جب اپنے کندھے پہ کسی لمس کا احساس ہوا، نم پلکیں اٹھا کے، وہ سماہر کو دیکھنے لگی جو اس کے قریب بیٹھ کے، اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ چکی تھی۔
” سب ٹھیک ہو جائے گا ”
سماہر نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔
” وہ کیوں نہیں سمجھتا ؟؟ سماہر وہ کیوں نہیں سمجھتا؟؟ ”
مائزہ رونے لگی تھی جبکہ سماہر اس سے الگ ہو کے اس کا چہرہ دیکھنے لگی ۔
” تم رو کیوں رہی ہو ؟؟ اس شخص کے لئے، جو بےوقوف بنا پھر رہا ہے؟ وہ بےوقوف ہے مائزہ، جو اسے تم اور تمہاری محبت نظر نہیں آتی لیکن مائزہ تک اب بچی نہیں ہو اور نہ تم کوئی عام عورت ہو، تم ماں بننے جا رہی ہو مائزہ ، ماں، اور ماں کی ذات کتنی اسٹرونگ ہوتی ہے، کیا تم جانتی ہو ؟؟ ایک چھوٹا سا، ننھا سا وجود ہے اب تم میں، جو تمہارا ہے، تمہارے وجود کا حصہ ہے، جسے تمہاری ضرورت ہے، اس ننھی جان کو بڑھنے میں، صحت مند بنانے میں تم ہی سب کرو گی، تمہیں اسٹرونگ ہونا ہے، اس ننھی جان کے لئے، ”
مائزہ آنسو روک کے سماہر کو دیکھنے لگی۔
” اگر ازمائر نہیں ہے، تم خود ہو اپنے لئے، اس بےبی کے لئے، ضروری تو نہیں ہوتا کہ زندگی کا ہر لمحہ ہماری مرضی اور خواہش کے مطابق آگے بڑھے لیکن مائزہ ہم خود بھی تو اپنی زندگی کو خوبصورت بنا سکتے، اگر اس میں ہماری مرضی شامل نہ بھی ہو، پھر بھی ہم خود کے لئے اسٹینڈ لے سکتے ہیں، خود کو مضبوط بننے میں، خود کی مدد کرتے ہیں، یہ تمہارا بےحد اسپیشل ٹائم ہے مائزہ، اس ٹائم کو جیو، وہ شخص اگر تمہارے لئے بہترین ہے، تو اللہ خود اسے تمہیں لوٹا دے گا اور اگر نہیں ہے تو اللہ خود تمہیں صبر عطا فرمائے گیں، وہ بہک گیا ہے، رشتوں کا احترام، ان کی پہچان بھول گیا ہے، تم پریگننٹ ہو مائزہ، تم اپنے رب سے اس کی ہدایت مانگو، تم اس کا ہاتھ تھام کے، اسے ہدایت کے راستے پہ تو نہیں لا سکتی، تو پھر رونے سے کیا ہوگا ؟؟ کیا یہ بہترین نہیں ہے کہ تم اللہ تعالٰی سے اس کی ہدایت مانگو، اللہ تعالٰی خود اس کا ہاتھ تھام کے، اسے سیدھے راستے پہ لے ائے، یہ مانگو تم، ”
وہ خاموش ہو کے مائزہ کے بال سنوارنے لگی۔
” اس سے چھپ کے مت بیٹھو، تم مضبوط ہو مائزہ، مضبوط بن کے دکھاؤ، تم کسی سے خوفزدہ نہیں ہو، حالات کا ڈٹ کے مقابلہ کرنا آتا ہے تمہیں، میں جس مائزہ کو جانتی ہوں وہ تو میرا دل بھی کھبی کھبی توڑ دیا کرتی تھی تو وہ مائزہ کہاں ہے اب ؟؟ اس مائزہ کو باہر لاؤ، اسے دفن مت کرو، اس کا گلا مت گھونٹو، اس مائزہ کو جینے دو، ”
سماہر نے اس کے بکھرے بال سمیٹ کے جوڑے میں باندھے تھے، اس کے چہرے سے آنسو کے نشان صاف کیے تھے، اس کی شرٹ کا کالر ٹھیک کیا تھا ۔
” خود سے پرامس کرو کہ کل صبح جب تمہاری آنکھ کھلے گی تو تم اسٹرونگ مائزہ بن کے، سب کا سامنا کرو گی ۔ ”
اور واقع جب انسان کو یہ تسلی ہو کہ اس کے رشتے، کسی بھی طرح کے حالات میں اس کے ساتھ ہے تو اس کو مضبوط اور نڈر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، کل تک وہ کمزور تھی کیونکہ اس کے رشتے منہ موڑ چکے تھے، نہ ماں تھی اور نہ بہن ، اور آج اس کے دو مضبوط رشتے اس کے ساتھ ہیں، تابعہ اور سماہر ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” آپ بات کر لیں، میں دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے ۔۔ ”
کال بند کر کے، وہ موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، اپنی کنپٹی سہلانے لگا، آج وہ بےحد تھکا ہوا لگا تھا سماہر کو، تبھی کمرے کے دروازے تک آ کے بھی ، وہ پھر سے مڑی تھی، اس کا رخ کچن کی طرف تھا۔ ہاتھ میں موجود موبائل سائیڈ پہ رکھ کے، وہ کافی میکر میں میران کے لئے، کافی بنانے کا سوچنے لگی۔ اپنی دھن میں گم وہ کافی میکر آن کر کے، ریفریجریٹر سے دودھ نکالنے کے لئے مڑی ہی تھی، جب دل پہ ہاتھ رکھ کے اسے رکنا پڑا جبکہ میران زیر لب مسکراتا اسے دیکھ رہا تھا ۔
” میں تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈ رہا تھا ۔ ”
لمحہ بھر کے لئے سماہر کی دھڑکنوں نے بیٹ مس کی تھی اور پھر اس نے نظریں چرا کے منہ بنایا تھا ۔
” کیوں؟”
آگے بڑھ کے ریفریجریٹر سے دودھ نکال کے وہ پھر سے مڑ کے، کیبنٹ کی طرف آئی تھی۔
” تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ مجھے اس وقت کافی کی طلب ہو رہی ہے ۔ ”
اپنی پشت پہ، میران کی آواز سن کے، لب دانتوں تلے دبا کے ہلکا سا مسکراتی کندھے اچکا گئی ۔
” اچھا ؟؟ تم نے بھی کافی پینی ہے ؟”
اس کے انداز پہ میران زیر لب مسکرانے لگا، وہ دیکھ چکا تھا کہ ٹیبل پہ دو کافی کے مگز رکھے ہوئے ہیں، تبھی اس کے سامنے آ کے وہ وہیں ٹیک لگا کے کھڑا ہوا تھا۔
” اگر اپنی ان خوبصورت ہاتھوں سے پلا دیں، تو ضرور پینا چاہوں گا ”
سماہر نے ایک ابرو اچکا کے اسے دیکھا تھا۔
” ایسی باتیں بھی کر لیتے ہیں آپ، واؤ ”
” آپ سے سیکھی ہے محترمہ ”
اس کے چہرے پہ آئی آوارہ لٹ کو ، شہادت کی انگلی میں لپیٹتا وہ کہنے لگا جبکہ سماہر نظریں پھیر گئی تھی۔
” اچھا اب بھی ناراض ہو ؟؟”
وہ نظر بھر کے، سماہر کے چہرے کو دیکھتا پوچھ رہا تھا ۔
” صبح اتنے رومینٹک موڈ میں، تمہیں منا کے گیا تو تھا”
سماہر خاموش ہی رہی ۔
” میں اب بھی اسی موڈ میں ہوں ”
اس کے گھمبیر لہجے پہ، سماہر نے چونک کے اسے دیکھا تھا جو زیر لب مسکرا رہا تھا۔
” ک ۔۔۔ کافی میں شوگر کتنی لو گیں؟؟”
وہ پھر سے نظریں چرا کے، اب کافی مگز میں کافی انڈیلنے لگی جبکہ میران کی نظریں، اس کی نازک گردن کا طواف کر رہی تھی، جہاں کیچر سے، اس کے بال نکل کے، آوارگی کر رہے تھے ، تبھی تھوڑا جھکا تھا کہ اس کی سانسیں سماہر کی گردن چھونے لگی۔
” تمہارے لبوں کی مٹھاس کافی ہے، ”
اپنی سانسیں اس کی گردن پہ چھوڑتا میران پیچھے ہوا تھا جبکہ سماہر کے لئے سانس لینا تک محال لگا تھا اسے، میران اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتا مڑا تھا اور کچن سے نکلتا چلا گیا جبکہ سماہر لب بھینچے اسے جاتا دیکھنے لگی کہ وہ کل سے، سماہر کو پریشان کر رہا تھا اور وہ پریشان ہو بھی رہی تھی میران کے اس نئے انداز سے ۔ جب اس کے موبائل پہ میسج کی بپ ہوئی تو سر جھٹک کے اپنا موبائل کھول کے دیکھنے لگی، اس نے حیران نظریں اٹھا کے سامنے دیکھا تھا جہاں میران کمرے میں جا چکا تھا اور پھر سے موبائل اسکرین دیکھنے لگی ۔
” میران کا ماضی ”
بس اتنا ہی لکھا ہوا تھا اور ساتھ میں ایک تصویر بھی تھی، میران اور ماریہ کی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
لب بھینچے وہ کب سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا، یہ شہر سے دور، سڑک کنارے جنگل نما ایک جگہ تھی، جہاں بےحد خاموشی سی تھی اور وہ اپنی سوچوں میں گم ایک ہی نقطے کو گھور رہا تھا۔ سماہر کی باتوں نے آج اسے جھنجھلا کے رکھ دیا تھا۔
” نفرت کرتی ہو مجھ سے سماہر ؟؟”
اسے اپنا سوال یاد آیا تھا جب اس نے سماہر سے پوچھی تھی اور سماہر بنا جواب دئیے آگے چلتی گئی ۔
” اے ازمائر چل ناں ”
اسے مائزہ کی آواز سنائی دی تھی۔
” یہ کون سی ٹون ہے اب ؟؟”
ازمائر نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جبکہ وہ ہنسنے لگی ۔
” سوچا یہ جو میرا ایک عدد بیسٹی ہے ۔۔۔ اسے اس ٹون میں بلا کے دیکھ لوں ”
وہ لب بھینچ گیا ۔ کسی فلم کی طرح چل رہی تھی اس کی زندگی، اس کی آنکھوں کے سامنے۔ وہ کیا تھا اور کیا بن گیا تھا، وہ کیا کچھ کر چکا تھا اب تک، صرف ایک انتقام کے لئے، وہ کیا کچھ کر چکا تھا، وہ زنا کی حد تک جا چکا تھا، وہ شراب کو پی چکا تھا جسے شراب سے نفرت تھی، غلط رستے پہ نکلنے کے لئے، بس ایک لمحہ لگتا ہے اور آپ نکل پڑتے ہیں اور چلتے جاتے ہیں لیکن اس راستے سے واپس آنے کے لئے، بار بار لہولہان ہونا پڑتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں کو سامنے کر کے دیکھنے لگا، کتنا برا اور گھٹیا بن چکا تھا وہ، کس قدر گھٹیا۔۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے بالوں میں پھنسا کے، وہ سر اپنے ہاتھوں پہ گرا گیا تھا۔ سماہر سے محبت اس کی ضد بن گئی تھی اور وہ قابل نفرت انسان بن کے، سب کو اپنی نفرت سے بھسم کرتا آیا تھا ابھی تک اور پھر بھی خالی ہاتھ تھا، پھر بھی بےسکونی تھی، وہ بےسکون تھا، بےحد بےسکون تھا، وہ کیا سے کیا بن گیا تھا، اس نے اپنی حالت دیکھی، اس کی شرٹ آلودہ ہو چکی تھی جو دو دن سے وہ پہنے ہوا تھا، اس نے کھبی ایک شرٹ ایک دن سے زیادہ نہیں پہنی تھی، بالوں پہ گرد کی تہہ جم چکی تھی، شیو بڑھی ہوئی، آنکھوں میں رتجگوں کی سرخی، اس کا پورا جسم بدبودار ہو چکا تھا، وہ جو کھبی پرفیومز کا دیوانہ تھا، آج اس کے جسم پہ بدبو کے سوا کچھ نہ تھا، اسے خود سے گھن آئی تھی، وہ جو خود کو ہر ناپاکی سے دور رکھتا، آج وہ اس قدر آلودہ اور ناپاک ہو چکا تھا کہ شاید اپنی پاکی پانے کے لئے، اسے پانی کم پڑ جائے، وہ کس قدر گناہوں میں دھنس چکا تھا، وہ خود کو گناہوں کے دلدل میں غرق کر چکا تھا اور پھر بھی بےسکونی تھی۔ وہ اچانک سے چلایا تھا، آسمان کی طرف چہرہ کر کے، وہ چیخا تھا۔ کہ درد اور گھٹن اسقدر بڑھ چکے تھے کہ کوئی راہ سجھائی نہ دے رہی تھی۔ وہ پھر سے چیخا تھا اور اس بار اس چیخ میں اس کے اندر کا درد اور غم بھی ساتھ میں چلائے تھے۔ صبح کے پانچ بج رہے تھے جب اس کی گاڑی پورچ میں داخل ہوئی تھی، تھکا تھکا سا سرخ آنکھیں لیے، وہ گاڑی سے نیچے اترا تھا، بھاری ہوتے سر کو سنبھالتا، وہ من من ہوتے ٹانگوں کو کھینچتا لان کی طرف آ رہا تھا کہ کچھ دیر وہاں بیٹھ کے، اس کا ارادہ اپنے کمرے میں جانے کا تھا جب اس کی نظر سامنے اٹھی تھی، لان کے دوسری طرف مائزہ اپنی سوچوں میں مگن ٹہل رہی تھی، اس کے پاؤں سلیپر کی قید سے آزاد تھے، وہ اس کے نازک پاؤں کو دیکھے گیا جو گھاس پہ بےحد آہستگی سے اٹھ رہے تھے۔
‘ میں جب پریشان ہوتی ہوں تو ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا مجھے سکون دیتا ہے، ‘
” اور تم پریشان کیوں ہوتی ہو؟؟’
ازمائر نے پوچھا تھا۔
‘ کھبی کھبی پریشان ہو جاتی ہوں، سر میں درد ہونے لگتا ہے اور لگتا ہے کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا، تب یوں ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا سکون دیتا ہے مجھے ‘
مائزہ نے جواب دیا تھا۔
‘ نفرت، ضد، دشمنی اور انتقام نے آپ کو اس قدر معذور کر دیا ہے ازمائر، کہ آپ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اندھے ہو چکے ہیں، آپ کو اپنے رشتے نظر نہیں آتے، آپ کو محبت نظر نہیں اتی، کچھ نہیں دیکھ پا رہے آپ، مائزہ کو موت کے منہ میں ڈال کے، آپ کو کھبی سکون نہیں ملے گا، افسوس ہوتا ہے مجھے یہ سوچ کے، کہ یہ وہی ازمائر ارتضی ملک ہے جو مائزہ کا کھبی دوست ہوا کرتا تھا ۔ ‘
اس نے لب بھینچ لیے تھے، اسے سماہر کے کہے الفاظ یاد آئے تھے۔
‘ میری اولاد کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کر کے، اس کی عزت نفس کو کچلنے سے پہلے یہ تو سوچ لیا ہوتا کہ وہ تمہاری چچازاد ہے، اس گھر کی عزت، اس خاندان کی بیٹی، جس کے ساتھ اس گھر میں تم اکھٹا بڑے ہوئے ہو، ایٹ لیسٹ ایک بار تو سوچ لیتے کہ وہ تم سب کی چہیتی مائزہ ہی تھی جسے تم سب نے مل کے زندہ لاش بنا دیا، جس کی عزت کو تم نے روند دیا، میرے پاس سے تو وہ ایسے نہیں آئی تھی تمہارے پاس ، ایسے تھوڑی سونپا گیا تھا تمہیں، وہ تو بہت زندہ دل لڑکی تھی، کیا بنا دیا تم نے میری مائزہ کو، اپنی ہی کزن، اپنی ہی دوست کو تم نے کیا بنا دیا ‘
اسے تابعہ کی باتیں یاد آئی تھی اور وہ لب کاٹ کے رہ گیا۔
‘ مائزہ تو دوست تھی تمہاری، یہ دوستی نبھائی ہے ‘
مائزہ کی نظر بھی اس پہ رک گئی تھی، چہرے کا رنگ زرد پڑا تھا، وجود بےجان ہوا تھا آج اسے یوں سامنے دیکھ کے، ازمائر اس کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھ چکا تھا، خود میں ہمت مجتمع کرتی وہ مڑ کے تیزی سے گھر کی طرف گئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_14
#Season_2
آج بہت مہینوں بعد وہ چاروں اکھٹا ہوئی تھی، وہ بھی تابعہ کی کوشش سے ممکن ہوا تھا، لان میں سماہر، مائزہ، میرب اور آبگینے کسی بات پہ ہنس رہی تھی، ان کے ہنسی کی کھلکھلاہٹ بہت عرصے بعد، اس لان کے درودیوار میں گونج رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ان دو بنگلوں اور ان سے منسلک لان کے درودیوار جی اٹھے ہو، ان میں زندگی جاگی ہو۔
” کتنا ٹائم ہو گیا ہے یوں ایک ساتھ بیٹھ کے ہنسے ہوئے ”
میرب مسکرا کے ان تینوں کو دیکھتی کہہ رہی تھی۔
” ہاں تم تینوں کو ایک ایک عدد شوہر جو ملا ہے، بس مجھ کنواری کا خیال نہیں کسی کو”
آبگینے افسوس بھرے انداز میں کہنے لگی ۔
” ویسے ایم سرپرائز، مائزہ کو زیادہ جلدی تھی بےبی لانے کی ”
آبگینے کی چھیڑ خوانی پہ، وہ دونوں ہنسنے لگی جبکہ مائزہ جھینپی تھی جب نظریں اوپر اٹھی تھی، اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا ازمائر اسے ہی دیکھ رہا تھا،اس نے اچھنبے سے ازمائر کو دیکھا تھا جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے یا سماہر کو، لیکن وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا، اس کے کان کی لویں تک سرخ ہوئی تھی، دل پہ گھبراہٹ سی طاری ہوئی تھی لیکن لمحہ بھر لگا تھا اسے پھر سے سنبھلنے میں، کیونکہ وہ اکیلی نہیں تھی کہ اسے خوف محسوس ہوتا ازمائر سے، اس کے پاس سماہر اور تابعہ تھیں، اور وہ اب مضبوط تھی، کیونکہ وہ ماں بن رہی تھی، اسے اب ازمائر کچھ نہیں کر سکتا، وہ نہیں ڈرتی اب ازمائر سے ۔ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی وہ ، نظریں پھیر کے، پھر سے ان تینوں کو دیکھنے لگی جو کسی بات کو لے کے بحث میں مصروف تھی، وہ بھی سننے کی کوشش کرنے لگی انہیں، لیکن حسیات ابھی تک وہیں تھی، جہاں ازمائر کھڑا تھا۔
” میں مما کے پاس جا رہی ہوں”
اچانک میرب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور قدم اپنے گھر کی طرف بڑھائے تھے۔ مائزہ کی نظریں پھر سے بالکونی پہ گئی تو وہاں ازمائر نہیں تھا اب ۔ گہرا سانس لیتی وہ اب اپنے ہاتھوں کی ناخنوں کو دیکھنے لگی۔ میرب گھر کے اندر داخل ہو کے آگے بڑھنے لگی جب اس کا سامنا ازمائر سے ہوا تھا، وہ شاید باہر کی طرف جا رہا تھا، میرب رک گئی تھی اور اسے مضطرب نگاہوں سے دیکھنے لگی، ازمائر جتنا بدل گیا تھا، میرب اس سے اتنا ہی دور ہو گئی تھی کیونکہ وہ ڈرنے لگی تھی اب ازمائر سے۔ لیکن ازمائر ہلکا سا مسکرایا تھا۔
” کیسی ہو میرب ؟”
بےحد نرم لہجہ تھا، پہلے ازمائر کے جیسا۔ جوابا میرب بھی مسکرانے لگی۔
” میں ٹھیک ہوں ازمائر بھائی، آپ کیسے ہیں؟”
بہنیں بھی کتنی نرم دل ہوتی ہیں، ذرا سی توجہ اور محبت بھائی کی طرف سے ملے تو کھل اٹھتی ہے۔
” ٹھیک ہوں میں بھی ۔۔ ”
میرب اثبات میں سر ہلاتی ادھر ادھر دیکھنے لگی جیسے کچھ کہنے کو ہو ہی نہیں اس کے پاس اور پھر اچانک کھل کے مسکرانے لگی۔
” مبارک ہو آپ کو ازمائر بھائی، آپ بابا بننے والے ہیں اور میں ایک عدد پھوپھو، ”
ازمائر حیرت سے اسے دیکھنے لگا جبکہ خوشی میرب کے چہرے پہ پھوٹ رہی تھی جیسے۔
” جب سے مجھے پتہ چلا ہے میں بےحد خوش ہوں، مائزہ تو آپ کی دوست تھی، پھر بیوی اور اب آپ دونوں کی فیملی کمپلیٹ ہو رہی ہے ۔۔ ایم سو ایکسائیٹیڈ ”
وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ ازمائر حیرت زدہ سا کچھ کہنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔
” میں مما کے پاس جا رہی ہوں ”
میرب کہہ کے آگے بڑھ گئی جبکہ ازمائر میں ہلنے کی بھی سکت نہ تھی، وہ تو بہت گنہگار تھا، اس نے تو بہت سے گناہ کیے ہیں، ابھی تو اس نے اپنے گناہوں کی بخشش بھی نہیں مانگی اور اللہ تعالٰی اسے نواز گیا، اس کی آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہونے لگا تھا اور وہ تیزی سے اپنے کمرے میں جا کے بند ہو گیا، اپنا سر تھامے وہ بیڈ پہ بیٹھا، شاید رو رہا تھا۔ کسی کی آنکھیں کھولنے کے لئے، بس ایک ہی بار کہنا کافی ہوتا ہے، وہ مائزہ کا گنہگار تھا، وہ اپنے رب کا گنہگار تھا، وہ کیا تھا اور کیا بن گیا تھا۔ وہ خود کو ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں دیکھنے لگا۔ اس میں پہلے والے ازمائر کی کوئی شباہت نہیں تھی، اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ چکا تھا، اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن چکے تھے، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کی شرٹ جو وہ تین دن سے پہنے ہوئے تھا، وہ ازمائر تو کہیں تھا ہی نہیں، جس کے بال ہمیشہ سلیقے سے بنے ہوتے، جو آفس سے آتے ہی چینج کرتا، کیونکہ اسے عادت نہیں تھی کہ وہ ایک ہی شرٹ پینٹ سارا دن پہنے رکھے، اس کی رنگت صاف اور کھلی ہوئی تھی، ہلکی ہلکی شیو بڑھ گئی تھی اب، اسے خود سے گھن آئی تھی، خود سے نفرت محسوس ہوئی تھی اور وہ جلدی سے اٹھ کے واشروم میں جا کے بند ہو گیا تھا، شاور کے نیچے وہ دیر تک کھڑا رہا، شاور سے آتا گرم پانی اسے سکون بخش رہا تھا اور بلکل اچانک سے وہ اپنے ہاتھوں سے، اپنے جسم کو رگڑنے لگا، جیسے اپنے وجود کی میل اتار رہا ہو، خود کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہو لیکن دل مطمئن نہیں ہو پا رہا اور اچانک سے وہ چلایا تھا، اتنی شدت سے چلایا تھا کہ اس کے گردن کی رگیں لمحہ بھر کو تن گئی تھی، وہ رو رہا تھا، ازمائر ارتضی ملک آج اپنے گناہوں کو یاد کر کے رو رہا تھا، اپنے رب سے بخشش مانگ رہا تھا۔
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ(25)
ترجمہ:
اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” میں تمہیں نہیں جانتا”
کال ڈسکنیکٹ کر کے، وہ لب بھینچے مڑا تھا جب اپنے پیچھے کھڑی سماہر پہ اس کی نظر پڑی جو نہ جانے کب سے وہاں کھڑی تھی، کال پہ جب بات کر رہا تھا وہ، شاید تب سے؟ سماہر کے چہرے سے وہ کچھ اخذ نہیں کر پایا تھا تبھی نظریں پھیر کے وہ صوفے کی طرف بڑھا تھا، اپنا کوٹ اٹھا کے وہ پہننے لگا جبکہ سماہر سر جھٹک کے، اپنے گیلے بالوں میں برش پھیرنے لگی۔ میران نے ایک نظر اس پہ ڈالی تھی، اور پھر سر جھٹک کے، وہ بنا کوئی تاثر دیے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ سماہر برش رکھ کے، خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔ ذہن خالی تھا لیکن کچھ لمحوں کے لئے اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو چکا تھا۔
گہرا سانس لیتا وہ گاڑی تک پہنچ کے رکا تھا، ڈرائیور اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولے کھڑا تھا، لب بھینچے اس نے مڑ کے، اپنے کمرے کی بالکونی کی طرف دیکھا تھا، جہاں سماہر کو وہ چھوڑ آیا تھا بنا کچھ کہے۔ بنا اسے دیکھے۔ وہ مڑ کے لمبے ڈگ بھرتا گھر کی طرف بڑھنے لگا، سیڑھیاں چڑھتا وہ جلد سے جلد سماہر کے پاس پہنچنا چاہتا تھا، دل بےچین سا ہوا پڑا تھا اور بےسکونی پھیل رہی تھی اس کے وجود میں، تبھی کمرے کا دروازہ کھول کے، اندر آتا وہ تیزی سے سماہر کے قریب گیا تھا، وہ ابھی تک ڈریسنگ ٹیبل کے سام ئے کھڑی تھی، اسے کمر سے تھام کے، ٹرن دیتا، اسے دیوار سے لگا کے، خود اس کے لبوں پہ جھکا تھا، سماہر اس نئی افتاد پہ بوکھلائی سی، اپنی سانس روک گئی جبکہ میران اس کی پیشانی پہ اپنی پیشانی ٹکا کے، کچھ دیر کھڑا رہا۔
” میران ؟؟”
سماہر پریشان نظروں سے دیکھنے لگی جبکہ وہ سماہر کو بانہوں میں بھر چکا تھا، اس کے گیلے بالوں سے آتی شیمپو کی مبہم خوشبو کو محسوس کرتا، وہ سماہر کے گیلے بالوں میں، اپنا چہرہ چھپا گیا۔
” کچھ کہو سماہر، ”
مدھم بوجھل سرگوشی کی تھی اس نے ۔ جبکہ سماہر حیران تھی کہ کیا کہے ۔ کیا ہوگیا ہے اچانک سے میران کو ۔
” کیا کہوں؟؟”
” کچھ بھی ؟؟ سماہر کچھ بھی کہہ دو، کوئی لفظ، کچھ بھی، مجھے سننا ہے تمہیں ”
بےچین آواز تھی اس کی، جبکہ سماہر پریشان سی کھڑی سوچنے لگی کہ کیا کہے وہ ۔ میران خود اس سے الگ ہو کے، اس کی حیران آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے بھر کے، وہ بےچین آنکھوں میں محبت لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
” کیا ہوا ہے میران ؟؟”
سماہر کی سوئی اب بھی وہی اٹکی ہوئی تھی۔
“تم سے عشق ۔ ”
میران نے بوجھل سرگوشی کی تھی۔ سماہر اسے دیکھے گئی۔ عجیب شخص ہے یہ بھی۔
” افس جا رہا تھا تم سے ملے بنا، ایسے لگا جیسے جسم بےجان ہو گئی ہے میری، روح یہیں کہیں رہ گئی ہو میری ۔”
سماہر کی آنکھیں حیران ہوئی تھی، ایسی باتیں بھی کر لیتا ہے یہ شخص۔
” کچھ کہنا چاہتا ہوں سماہر، بتانا چاہتا ہوں لیکن ۔۔۔ ”
وہ خاموش ہو کے لب بھینچ گیا تھا ۔
” لیکن یہ سب کہنے کے لئے، ہمت نہیں ہے مجھ میں، کیا ایسا ممکن ہے کہ میرے سب کہہ دینے تک، اس وقت تک میرا انتظار کرو، کسی سے کچھ مت سنو ؟”
سماہر اثبات میں سر ہلانے لگی۔ میران نے جھک کے، اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” مجھ پہ یقین تو ہے ناں تمہیں؟؟”
وہ پھر سے پوچھ رہا تھا۔
سماہر بنا کچھ کہے، پلکیں جھپکتی، سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔ میران نے ان آنکھوں پہ اپنے لب رکھے تھے۔
” ٹوٹنے نہیں دوں گا کھبی اس یقین کو ۔۔ آئی پرامس ”
سماہر اب بھی خاموش تھی، میران نے جھک کے اس کے لبوں کے کنارے پہ، اپنے لب رکھے تھے اور پھر دو قدم پیچھے ہو کے، اس نے نظر بھر کے سماہر کو دیکھا تھا اور پھر سر جھٹک کے، وہ دروازے کی طرف بڑھا تھا، کس قدر ٹوٹا ہوا سا لگا تھا آج یہ شخص اسے، آنکھیں کس قدر بےچین تھی اس شخص کی اج، چلتے ہوئے بھی کس قدر بوجھل لگے تھے اس شخص کے قدم آج سماہر کو، لمحہ بھر کی تاخیر کیے بنا، وہ آگے بڑھی تھی اور میران کی پشت سے لگی، اس کے سینے کے گرد اپنے دونوں بازو لپیٹے تھے، میران کا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پہ رہ گیا تھا، وہ رکا تھا، وہ گداز نرم بانہیں، کس قدر سکون بخش تھی۔ اس نے نرمی سے دونوں ہاتھ ، اس کے بازوؤں پہ رکھے تھے۔ نرمی سے اسے ٹرن دیتا، اپنے سامنے لایا تھا جبکہ سماہر دھڑکتے دل کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ شخص اسے اتنا عزیز کیوں تھا، اس قدر عشق کیوں تھا اس شخص سے اسے، محبت کیوں تھی اس شخص سے، یہ شخص سراپا عشق کیوں تھا اس کے لئے، وہ سوچے گئی۔ ہاتھ کی پشت سے، میران کا چہرہ چھوا تھا اس نے۔
” میران، یقین کامل ہو تم میرے لئے ۔ ”
کس قدر نرم لہجہ، محبت سے بھری سرگوشی، اور یہ آنکھیں کس قدر پاک تھی جو میران کا عکس لیے، اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اپنی شہادت کی انگلی نرمی سے، اس کے لبوں پہ پھیرتی، وہ اس کے قریب ہوئی تھی کہ اس کے لب، میران کے لبوں کے بےحد قریب تھے۔
” اگر بتانا ہے تو اپنے دل کی باتیں بتاؤ، دھڑکنوں کی تال پہ مدھم رقص کرتی دل کی باتیں، بوجھل سانسوں تلے مبہم عشق کی داستان سننی ہے مجھے تم سے ، میران ارتضی ملک۔۔۔ بس اور کچھ نہیں ”
وہ میران کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی، جہاں بےچینیوں کا بسیرا تھا اور اب سکون سا پھیل رہا تھا،
سماہر دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔
” شام کو جلدی آنا ”
میران پہلے حیران ہوا تھا اور پھر ہنسنے لگا۔ کتنی دلکش تھی وہ۔
” میری ناراضگی ابھی بھی برقرار ہے مسٹر میران ارتضی ملک ۔۔ یاد رہے ”
اپنی بات کہہ کے، وہ پیچھے ہوئی تھی اور دروازے کھول کے جانے کا اشارہ کیا تھا اسے، جبکہ میران کچھ دیر پہلے والی سماہر اور ابھی کی سماہر میں الجھ گیا تھا، تبھی زیر لب مسکرانے لگا۔
” آپ کہے تو میں ابھی ناراضگی دور کر دیتا ہوں ”
وہ سماہر کے قریب آ کے، اس کی کمر پہ ہاتھ رکھ کے، اسے خود سے قریب کرتا کہنے لگا جبکہ سماہر نے اپنی شہادت کی انگلی اس کے لبوں پہ رکھ کے، اسے روکا تھا۔
” میری ناراضگی آپ کی جلد بازی سے تو کھبی بھی دور نہیں ہونگی ”
میران نظر بھر کے، اسے دیکھتا، اس کے نم بالوں کو ہاتھ کی انگلیوں سے سنوارنے لگا۔
” میں جلد بازی کا قائل بھی نہیں ہوں ”
سماہر کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھی۔
” مجھے روح میں اتر کے، ناراضگی دور کرنی ہے اپنے بیگم کی ”
اس سرگوشی پہ، سماہر کی پلکیں لرز کے جھکی تھی جبکہ میران گہری نگاہوں سے، اس کے دہکتے گلابی ہوتے گالوں کو دیکھنے لگا۔
” شام کو جلدی آؤں گا ”
اس کے کان کی لو پہ اپنے لب رکھ کے اس نے سرگوشی کی تھی، سماہر ہلکا سا جھینپی تھی، اس کے کندھے پہ اپنے دہکتے لب رکھ کے، اس کے لبوں نے گردن تک اپنا سفر کیا تھا،
” منتظر رہنا ۔ ”
وہ سرگوشی کرتا پیچھے ہوا تھا، ایک گہری نظر اس پہ ڈال کے، وہ کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ سماہر اپنی بکھرتی سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش کرتی، لمحہ بھر میں سرخ پڑ گئی تھی۔ اسے لمحے بھر میں بکھیر کے رکھ دیتا ہمیشہ، میران اپنے دہکتے لمس سے۔ اس کے لب ہلکا سا مسکرائے تھے، لب دانتوں تلے دبائے، اس نے بالکونی کی طرف دیکھا تھا، تیزی سے آگے بڑھ کے وہ بالکونی میں آئی تھی، جہاں میران ارتضی ملک اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا اور سماہر بس یہی سوچے گئی۔ اس شخص سے کیونکر اتنا عشق کر بیٹھی ہے وہ۔
میران نظر اٹھا کے اسے دیکھا تھا اور زیر لب مسکراتا گاڑی میں بیٹھ چکا تھا جبکہ سماہر مسکان لبوں پہ سجائے، اس کی گاڑی پورچ سے ہو کے، گیٹ سے باہر نکلتا دیکھتی رہی، جب تک کہ وہ گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہوئی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” ہیلو مسٹر میران ارتضی ملک ۔۔ ”
وہ جیسے ہی اپنے آفس میں داخل ہوا تھا، سامنے ہی اسے ماریہ کھڑی نظر آئی تھی جو بانہیں پھیلائے اسے خوش آمدید کہہ رہی تھی، ماڈرن کٹ ساڑھی میں ملبوس، جس سے اس کا جسم عریاں ہو رہا تھا، ڈیپ ریڈ لپ اسٹک لگے لب مسکرا رہے تھے جبکہ اسموکی آنکھوں میں، پسندیدگی لیے کھڑی تھی۔ میران پل بھر کو رکا تھا، اس کے لب بھینچ گئے تھے، اعصاب تن گئے تھے، اج بہت عرصے بعد وہ اس عورت کے یوں روبرو ہوا تھا۔ ابرو اچکا کے، وہ ماریہ کے قریب سے ہو کے گزرتا، اپنی سیٹ کی طرف بڑھا تھا، وہ اب کئی سال پہلے کا میران نہیں تھا جو اپنے غصے کا اظہار کرتا یا اس سے نفرت کرتا، وہ ایک بزنس مین تھا اب، کامیاب پولیٹیشن تھا، پرسکون انداز میں اپنی سیٹ پہ بیٹھ کے، وہ اب ماریہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ ماریہ لب بھینچے اسے دیکھ رہی تھی۔
” برسوں بعد مل رہے ہیں ہم ، مجھے لگا کہ میرے گلے لگو گیں یا مجھے اپنی بانہوں میں بھر لو گیں ”
میران اب بھی خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ کندھے اچکا کے ہنسنے لگی ۔
” صبح کال پہ تم نے کہا کہ تم مجھے نہیں جانتے، تو سوچا آفس آ کے تمہیں سرپرائز کر دوں ”
” میں سرپرائز ہو گیا ہوں، اب تم جا سکتی ہو ”
پرسکون انداز میں جواب آیا تھا ماریہ نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا۔
” مجھ سے کب ملو گیں میران ؟؟ میں انتظار کر رہی ہوں پل پل، کتنے ڈیشنگ ہو گئے ہو تم مزید، کس قدر چینجز آ گئی ہے تم میں، بہت اٹریکٹو ہو گئے ہو، میں خود کو روک نہیں پائی تم سے ملنے سے ،”
وہ ٹیبل پہ دونوں ہاتھ رکھ کے، اس کی طرف جھکی ہوئی تھی کہ اس کی رعنائیاں عریاں ہو رہی تھی، میران سپاٹ نظروں سے، اسے دیکھ رہا تھا، وہی بےتاثر ، بےنیاز چہرہ۔
” ہم کب مل رہے ہیں میران ؟”
ہاتھ بڑھا کے اس نے انٹرکام پہ اپنی سیکریٹری کو اندر بلایا تھا۔
” آفس میں آئیے آپ میرے ”
” یس سر”
دو سیکنڈ بھی نہیں لگے تھے وہ آفس میں تھی جبکہ میران اب سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
” میرے آفس میں کیا کر رہی ہے یہ خاتون ؟؟”
سعدیہ نے بےحد حیرت سے ماریہ کو دیکھا تھا اور پھر میران کو دیکھنے لگی۔
” سر میں نے ان کو منع کیا تھا، مجھے نہیں معلوم یہ کیسے آئی ہے ”
وہ گھبرا گئی تھی کہ کہیں اس کا باس اسے جاب سے نہ نکال دے۔
” عرفان سے کہے کہ فوٹیج چیک کریں یہاں کی ”
لہجہ اب بھی سنجیدہ اور سرد تھا ۔۔
” اوکے سر ۔۔ ”
سعدیہ نے جلدی سے جواب دیا تھا جبکہ ماریہ جو کب سے میران کو دیکھ رہی تھی لیکن میران نے ایک بار بھی اسے مزید نہیں دیکھا تھا ۔
” ڈسگسٹنگ ”
اس نے دانت پیسے تھے اور کھٹ کھٹ کرتی آفس سے باہر گئی تھی۔
” ایم سوری سر ۔۔ مجھے بلکل بھی ۔۔۔ ”
سعدیہ نے پھر سے کہنا چاہا جبکہ میران نے ہاتھ اٹھا کے اسے روکا تھا۔
” عرفان سے کہے کہ میرا آفس چیک کریں۔”
” اوکے سر ”
سعدیہ بھی آفس سے باہر گئی تھی جبکہ میران نے گہرا سانس لیا تھا۔
‘میران ، تمہیں کیسا محسوس ہو رہا ہے؟؟ میرا قریب آنا۔۔ یہاں کوئی نہیں ہیں ہمارے سوا، مجھے بانہوں بھر لو، میں سلگنا چاہتی ہوں ‘
میران نے لب بھینچ لیے تھے کہ وہ منظر آنکھوں کے سامنے گھوما تھا اور اس کے اعصاب تن گئے تھے۔
‘ تم میرا یقین کامل ہو میران ‘
سماہر کی آواز گونجی تھی جو بےحد پرسکون کر گئی تھی اسے ۔۔
” اور اگر؟؟ وہ چھوڑ گئی مجھے ؟؟ اگر یقین ٹوٹ گیا اس کا تو ؟؟”
دل رکنے لگا تھا اس لمحے۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
اس کی نظر اپنے رائٹنگ ٹیبل پہ رکھے کتابوں پہ گئی، تو دل کی دنیا پہ یاسیت سی چھا گئی تھی۔ وہ کتابیں، وہ نوٹ بکس، اس کے پین، لیپ ٹاپ، سب وہیں موجود تھے اور وہ اتنے مہینے کس قدر ادھوری اور نامکمل رہی تھی ان سب کے بنا۔ وہ آگے بڑھ کے ان کتابوں پہ ہاتھ پھیرنے لگی، نظر کھڑکی سے باہر گئی، ہلکے ہلکے بادلوں نے بسیرا کر رکھا تھا اس نیلے آسمان کو، کچھ سوچتی وہ اہمی کتابیں اور نوٹ بکس سنبھالتی کمرے سے باہر نکلی تھی، اس کا ارادہ لان کے ایک کونے میں بیٹھ کے پڑھنے کا تھا۔ ان کتابوں میں اس کی یادیں بکھری پڑی تھی، اس نے اپنی نوٹ بک کھولی تھی لیکن اس کے پہلے صفحے پہ اس کی آنکھیں ساکت ہو گئی تھی ۔
” میں مائزہ کا ہینڈسم کزن اور دوست ہوں، پلیز میری مائزہ کو تنگ مت کیا کریں ”
Note to all classmates of Maiza ..
یہ ایک بار ازمائر نے لکھا تھا اور مائزہ ہنس رہی تھی اور ابھی ؟؟ اس لکھائی پہ اپنا ہاتھ آہستگی سے پھیرتی، اس نے اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ کس قدر بدل گیا تھا سب، وہ اب دوست نہیں رہا تھا، وہ اب کچھ نہیں رہا تھا، سوائے ایک خوف کے، ایک دھوکے کے، تاریک ماضی میں لیے گئے غلط فیصلے کے سوا وہ کچھ نہ تھا۔
کیا واقع ؟؟ وہ کچھ نہیں تھا اب ؟؟ اس نے لب بھینچ لیے تھے۔ اپنے آنسو روکنے کے لئے، اس نے سر اٹھایا تھا لیکن اپنے بلکل سامنے ازمائر کو دیکھ کے، اس کا رنگ لمحہ بھر کے لئے سفید پڑ گیا تھا، سانس روکے وہ ازمائر کو دیکھنے لگی جو گرے ٹی شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر میں ملبوس، ہلکی شیو کے ساتھ، پہلے جیسا ازمائر لگ رہا تھا ۔ نظریں چرا کے وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی، وہ مڑ کے گھر کی طرف جانے لگی تھی، نہ جانے کیوں اتنا سماہر کے سمجھانے کے بعد بھی، وہ ازمائر سے خوفزدہ تھی اب بھی۔ اس سے پہلے وہ آگے بڑھتی، ازمائر نے وہ چار قدم کا فاصلہ طے کر کے، اس کی کلائی کو تھاما تھا۔
” مائزہ ۔۔۔ ”
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
Forced Marriage Novels
کیا لگتا ہے ؟؟ کیا ہونے والا ہے اب ؟؟؟ 🤔
ہمیشہ کی طرح اپنا بھرپور ریسپانس دیں پوسٹ پہ۔ 💯😍
لائک، کمنٹ، اور شئیر کر کے😉😉
ازمائر کے فینز کون کون ہیں؟؟؟ کمنٹس میں اپنا تعارف کرائیں جلدی جلدی 😍😍😜😜😜😜
سو کیسا لگا میرا سرپرائز؟؟؟
سرپرائز بھی اور لانگ بھی اور سسپنس سے بھرا بھی 😉😉😉 اب آپ بھی مجھے اپنے بہترین ریسپانس سے سرپرائز کر دیں۔۔۔ لائکس ۔۔۔ کمنٹس اور شئیر کیجئے پوسٹ کو ۔۔۔ 😍😍
خوش رہیں ❤
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕