Ada e Ishq hn – Episode 10 & 11 Season 02
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_10
#Season_2
دروازہ کھول کے دشاب ملک آفس میں داخل ہوئے تھے، لیپ ٹاپ کو گھورتا میران ارتضی ملک اچھنبے سے انہیں دیکھنے لگا،جو اس کی ٹیبل کے قریب آ رکے تھے اور لب بھینچے اسے دیکھ رہے تھے۔
” گھر کیوں نہیں آ رہے تم ؟؟”
” میری مرضی ”
وہ کندھے اچکا کے جواب دیتا، سیٹ کی پشت پہ ٹیک لگاتا، آرام دہ انداز میں انہیں دیکھنے لگا۔
” کس سے منہ چھپا رہے ہو؟؟ کس سے چھپ رہے ہو تم ؟؟ تم اب کوئی لاابالی لڑکے نہیں ہو، شوہر ہو تم کسی کے، بیوی ہے تمہاری ایک عدد ”
وہ تیز انداز میں کہہ رہے تھے جبکہ میران ابرو اچکا کے، ان کے انداز کو دیکھنے لگا ، چہرے کا تاثر ایسا تھا جیسے اس پہ کوئی اثر نہیں ہونے والا ان کی باتوں کا۔
” کیوں آئے ہیں آپ میرے آفس؟؟ دشاب ملک ؟”
انہیں ان کی حیثیت یاد دلانا ضروری سمجھی میران نے ، لیکن اس بار شاید دشاب ملک پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا اس کے الفاظ کا تبھی سر جھٹکتے، وہ ٹیبل پہ ہاتھ رکھ کے اس کی طرف جھکے تھے اور اسی کے انداز میں بات کرنے کا تہیہ بھی کر لیا ۔
” سماہر تمہاری بیوی ہے اور اتنے بےغیرت تو ہونگے نہیں تم کہ اپنی بیوی کو، اپنے ہی دشمنوں کے بیچ اکیلا چھوڑ کے، روپوش ہو جاؤ، میری بات سمجھ گئے ہونگے بیٹے جی ”
وہ میران کی آنکھوں میں، آنکھیں ڈال کے طنزیہ انداز میں بات کر رہے تھے جبکہ میران کے لب بھنچ گئے تھے۔
” گھر آؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ رہو، لگتا ہے تمہاری دوستی ہو گئی ہے ازمائر سے یا پھر تم یہ قبول کر چکے ہو کہ ازمائر اس پہ اپنا حق جتانا شروع کر دے بیٹا جی ”
ان کے انداز میں بےحد طنز تھا اور تبھی میران یکبارگی اپنی جگہ سے طیش کے عالم میں اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
” بس ۔۔۔ ”
وہ زور سے دھاڑا تھا جبکہ دشاب ملک مطمئن انداز میں سیدھے ہوئے تھے اور اب اپنے بیٹے کے غضبناک چہرے کو سرخ پڑتا دیکھ رہے تھے۔
” اللہ حافظ ”
الوداعی کلمات کہہ کے، وہ مڑے تھے اور کمرے سے باہر نکلے تھے جبکہ میران نے غصے سے مٹھی میز پہ ماری تھی، یہاں آنے سے پہلے دشاب، منان سے بات کر چکے تھے اور منان کے مطابق، میران کسی بھی طرح نہیں مان رہا واپس گھر جانے کے لئے، تبھی انہیں یہ انداز اپنانا پڑا، کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میران سماہر سے دور رہے اور اس بات کا فائدہ ازمائر یا ماریہ اٹھا سکے۔ میران کے حق میں، وہ ماضی میں جتنا برا کر چکے تھے اب ازالے کے وقت تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ سماہر اور میران کی زندگیاں برباد ہو۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
سماہر اپنے سامنے بیٹھی مائزہ کو دیکھ رہی تھی۔ وہ کتنا بدل گئی تھی، اس کے چہرے کی رنگت میں زردی گھل گئی تھی، آنکھیں ویران اور سیاہ حلقے پڑے ہوئے تھے، جبکہ آنسوؤں کو جیسے ہر دو گھنٹے بعد باہر نکلنے کا موقع مل جانا چاہئے تھا، سچ ہی تو ہے نکاح کے بعد عورت کی خوش قسمتی اور بدقسمتی کا تعلق شوہر سے ہی ہوتا ہے اور وہ ہی لٹیرا نکلے تو۔
” تم کیسے خاموش رہی اس کے مقابل مائزہ ؟؟؟کیسے ؟؟ مائزہ جیسی بہادر لڑکی کیسے خاموش رہ سکتی ہے ایک ظالم کے مقابل ”
سماہر اپنی بہن کی حالت دیکھ کے، بےحد غصے میں تھی جبکہ مائزہ زخمی ہنسی ہنس دی تھی۔
” یہ محبت جو ہے ناں سماہر، یہ انسان کو بےزبان ہی کر دیتی ہے میری بہن، میں بھی بہک گئی تھی محبت کے نام پہ، غلط راستے پہ چل نکلی تھی اس بےمعنی محبت کے نام پہ ”
سماہر اداس نظروں سے اسے دیکھتی، اب چاروں طرف دیکھنے لگی، یہ فلیٹ کا لاؤنج تھا جہاں وہ دونوں بیٹھی ہوئی تھیں، اوپن کچن سے بوا ان کے لئے چائے بناتی نظر آ رہی تھی۔
” کب سے ہو یہاں؟؟”
” ایک ہفتہ ہو چکا ہے ۔ ”
مائزہ نے جواب دیا تھا جبکہ سماہر اس کے دونوں ہاتھ تھام کے نرمی سے سہلانے لگی جبکہ مائزہ غور سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” میران کیسے ہیں؟؟”
سماہر چونک کے اسے دیکھنے لگی جبکہ مائزہ مسکرانے لگی جیسے اسے کچھ یاد آیا ہو۔
” پتہ ہے جب تم بیمار تھی تو میران تو ڈریکولا بن گیا تھا، کوئی تمہاری طرف بری نظر سے بھی دیکھ لیتا تو اس سے لڑ پڑتا، ازمائر سے تو کافی بار لڑ چکا تھا، ایون مارا بھی تھا اسے ”
” کیوں؟؟”
سماہر حیرانگی سے پوچھنے لگی ۔
” وہ تمہیں میران کے خلاف کرنے کی کوشش کرتا اور تمہیں اکثر دورے پڑ جاتے، ڈاکٹر نے ان سب سے ، بےحد سختی سے منع کیا تھا لیکن وہ ازمائر ہی کیا جو منع ہو”
بات بات کرتے اس کی آنکھیں پھر سے اداس ہو گئی تھی اور پھر سر جھٹک کے، مسکراتی آنکھوں سے سماہر کو دیکھنے لگی۔
” میران بھی غصے میں اس کی حالت خراب کر دیتا ۔ عجیب ہی محبت ہے میران کی بھی، تم بےحد لکی ہو سماہر ”
سماہر ہلکا سا مسکرا دی تھی جبکہ آنکھیں کچھ سوچ رہی تھی، جب اتنی محبت کرتا ہے، اتنا خیال رکھتا ہے تو پھر یہ بےاعتنائی کیوں اب ؟؟
” کیا سوچ رہی ہو ؟؟”
مائزہ نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تھی جبکہ وہ سر جھٹک کے مسکرا دی تھی۔
” بس سوچ رہی ہوں کہ اپنا بوریا بستر میں بھی یہیں لا دوں، بہت خوبصورت جگہ ہے یہ ”
مائزہ ہنسنے لگی۔
” کب تک یہاں رہنے کا ارادہ ہے تمہارا ؟؟”
سماہر پھر سے پوچھنے لگی جبکہ وہ ادھر ادھر بیزار نظروں سے دیکھنے لگی ۔
” ڈاکٹر کے مطابق، ابھی میری ٹریٹمنٹ چل رہی ہے، زخم ابھی گہرے ہیں ”
یہ کہتے اس کی نظریں جھک گئی تھی اور خاموش ہو کے لب کاٹنے لگی جبکہ سماہر نے اذیت بھری نگاہوں سے اپنی بہن کو دیکھا تھا۔ وہ کس قدر تکلیف میں تھی، کس قدر بدسلوکی ہوئی تھی اس کے ساتھ، اسکا دل کٹ کے رہ گیا تھا جب بوا چائے کی ٹرالی لیے وہیں آئی تھی۔
” میری بچیوں کے لئے چائے بھی بن گئی اور سموسے بھی۔ ”
” تھینک یو بوا ۔۔۔ یو آڑ گریٹ ”
سماہر کھلکھلائی تھی جبکہ مائزہ نے نظر بھر کے اپنی بہن کی ہنسی کو دیکھا تھا۔ میران کے سنگ وہ کتنی خوش تھی، مائزہ کو رشک آیا تھا لیکن اس سے نظریں چراتی سماہر کا دل، اندر سے جو جل رہا تھا، اس جلن سے مائزہ بےخبر ہی تھی ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” بابا جان، آپ میرے لئے بےحد محترم ہے اور بلکل ویسے ہی آپ کا ہر فیصلہ میرے لئے محترم ہے ”
نظریں جھکائے بیٹھی پریشے، شاہ نواز خان سے کہہ رہی تھی۔
” لیکن بابا جان ۔۔ ”
وہ پلکیں اٹھا کے اب انہیں دیکھنے لگی آنکھیں بھیگی ہوئی تھی، شاہ نواز خان تڑپ سے گئے تھے اپنی بیٹی کے لئے۔
” پلیز بابا جان، ایسا کوئی فیصلہ نہ کریں کہ آپ کی بیٹی پھر سے ٹوٹ کے بکھر جائے، بہت مشکل سے خود کو سنبھالا ہے، اب اٹھ کے کھڑی ہو چکی ہوں اپنے پاؤں پہ، لیکن بابا ایک اور کاری ضرب لگے گی اور میں پھر سے گر جاؤں گی، ”
” پریشے بچے، ایسی باتیں نہیں کرو، تمہارا یہ باپ اتنا مضبوط دل کا انسان نہیں ہے میرے بچے”
شاہ نواز خان کی آواز میں درد پنہاں تھا، پریشے پلکیں جھکا گئی۔
” مجھے لگا کہ میں تمہارے لئے اچھا فیصلہ کرنے جا رہا ہوں کیونکہ میری بچے کو بھی خوشیوں پہ حق ہے، سب تمہاری خوشی کے لئے تھا، اگر تم نہیں چاہتی تو میں کچھ نہیں کر رہا، میرے لئے تمہاری خوشی مقدم ہے”
” میرے لئے خوشی کا باعث میرے اپنے یہ رشتے ہیں، جو میرے دل کے بےحد قریب ہے، جو میرے اپنے ہیں، مجھے باہر کی محبت نہیں چاہیئے، بابا جان میں خوش ہوں اور سکون ہے میری زندگی میں، آپ کو خوشی نہیں ہوتی دیکھ کے کیا ؟؟ کہ آپ کی بیٹی آگے بڑھ رہی ہے اپنی فیلڈ میں اور پرسکون ہے ”
پریشے کی سوالیہ نظریں ان پہ تھی جبکہ شاہ نواز خان اثبات میں سر ہلاتے مسکرانے لگے۔
” بلکل بچے،میں خوش ہوں کہ میری بیٹی ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کر رہی ہے”
” تو بس آپ کچھ مت سوچے، آپ بس مسکرائے، ہمارے لئے دعا مانگا کریں، اپنا خیال رکھیں، یہی ہم تینوں کے لئے کافی ہے بابا جان اور مجھے ان لوگوں سے دور رکھے پلیز بابا جان۔”
وہ نرمی سے کہہ رہی تھی جبکہ شاہ نواز خان نے مسکرا کے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا۔
” خوش رہو میری بچی ۔ اللہ نصیب اچھے کریں ”
ان کی بات پہ،پریشے ہلکا سا مسکرا دی تھی لیکن دل اندر سے کانپ رہا تھا، کچھ انہونی نہ ہو جائے کا خیال اسے پریشان کر رہا تھا اور وہ خوفزدہ ہو رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” تابعہ کب تک رہے گی مائزہ وہاں ؟؟ مجھے تو اس کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے ”
عارفین ڈنر کرتے ہوئے تابعہ سے پوچھ رہی تھی، آج عارفین اور سماہر وہیں آئی تھیں ڈنر کرنے۔
” اس کی فکر یہاں ہے ہی کس کو؟ تم ہی ہو جو مائزہ کا پوچھ رہی ہو”
تابعہ کا دل کٹ سا گیا تھا جبکہ عارفین نے نرمی نگاہوں سے انہیں دیکھا تھا۔
” ایسے نہیں کہتے تابعہ، ہماری بچی ہے مائزہ ”
” تبھی دشاب اور ازمائر نے مل کے اس گھر کی بچی کو، ذہنی مریض بنا دیا ”
تابعہ کی بات پہ عارفین لب کاٹ کے رہ گئی جبکہ سماہر خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی، اس کا ذہن الجھا ہوا تھا۔
” خیر، مائزہ یہاں سے دور رہے تو اس کے لئے بہتر ہے ورنہ وہ ازمائر مائزہ کو پھر سے کوئی نقصان نہ پہنچا دے ۔ ”
تابعہ اپنی بات کہہ کے اب سماہر کو دیکھنے لگی۔
” تم بھی یہیں رہو سماہر، وہ گھر تمہارے لئے بلکل مناسب نہیں ہے ”
سماہر نے آنکھوں کے اشارے سے، انہیں عارفین کی موجودگی کا احساس دلایا تھا جبکہ عارفین کہنے لگی ۔
” ایسا کیوں کہہ رہی ہو تابعہ، میں نے سماہر کو ملکہ کہ طرح رکھا ہے اس گھر میں اور میران سماہر سے بےحد محبت کرتا ہے، آج تک کوئی غلط بات سنی ہے کیا تم نے ہمارے بارے میں؟؟”
عارفین کا لہجہ بےحد دکھی تھی جبکہ تابعہ کو شرمندگی ہوئی تھی ۔
” ارے نہیں عارفین، معذرت چاہتی ہوں میرا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا، اللہ کا شکر ہے کہ میری ایک بیٹی تو خوش ہے، سکون سے ہے، بس میں ازمائر کی وجہ سے کہہ رہی تھی ”
‘ ہونہہ، مسٹر پولیٹیشن ایک بار آ کے مجھے پوچھتا نہیں ہے، چار دن سے مجھے دیکھا تک نہیں ہے اور مجھ سے محبت کرتا ہے ؟’
منہ بنا کے اس نے تلخی سے سوچا تھا، کھانے سے دل ہی بھر گیا اس ہرجائی کا خیال آتے ہی، تبھی ہاتھ روک لیا تھا۔
” مجھے مائزہ کی بہت فکر ہو رہی ہے سماہر، وہ ٹھیک تو ہے ناں؟؟ تم مل کے آئی ہو اس سے ”
ڈنر کے بعد گھر کی طرف جاتے ہوئے، وہ دونوں لان سے گزر رہی تھی جب عارفین نے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور وہ سر اثبات میں ہلانے لگی۔
” جی چچی ماں، اب بہت بہتر ہے ”
” چلو شکر ہے ۔۔ ”
انہوں نے سکون کا سانس لیا تھا لیکن سامنے دیکھ کے، سماہر کے قدم وہیں جم گئے تھے، دل یکبارگی زور سے دھڑکا تھا اور وہ لمحہ بھر کے لئے، سانس روک گئی تھی۔
جیوں میں ذرا
مجھے دے تو دل میں جگہ
ملے مجھ کو دھوپ میں۔۔
سایہ تیرا ۔۔۔
تیرے بن نہیں
سکون زندگی میں کہیں۔۔
دیکھو دل ہے بنجر میرا
اندھیرے میرے گہرے
ستاروں سے بھی بہرے
میرے غم کی رات میں
ہے تو کہکشاں۔۔۔۔
میران اسے پورے چار دن بعد دیکھ رہا تھا، اس کے ہلکے مسکراتے لب میران کو دیکھتے ہی سکڑ گئے تھے، میران نے نظر بھر کے، اس کی اس ادا کو دیکھا تھا، دل کی دھڑکنیں منتشر ہو رہی تھی لیکن خود ساکت کھڑا، سماہر کو اپنی آنکھوں میں حفظ کر رہا تھا ۔
” ارے میران ۔۔۔ ”
عارفین اپنے بیٹے کو دیکھ کے، مسکراتی ہوئی آگے بڑھی تھی جبکہ سماہر وہیں کھڑی رہی، اس کے قدم بھاری ہو رہے تھے، وہ آگے بڑھنے کا سوچ تو رہی تھی لیکن وہ قدم اٹھا نہیں پا رہی تھی۔ عارفین اپنے بیٹے سے مل رہی تھی لیکن میران کی نظریں اب بھی سماہر تھی، آنکھوں میں گہرے سوال تھے، خوف تھا، ڈر تھا جبکہ مقابل کی آنکھوں میں شکایتوں کا جال بچھا ہوا تھا، اپنی گستاخ آنکھوں کو ڈپٹتی، سماہر سر جھٹک کے آگے بڑھی تھی، میران سانس روکے اسے اپنی طرف آتا دیکھ رہا تھا، دل میں خوش فہمیوں نے جنم لیا تھا، وہ میران کے قریب آ رہی ہے، وہ ناراض نہیں ہے، وہ ملنے آ رہی ہے، اسے خوش آمدید کہنے آ رہی ہے، ساری ناراضگی دور کرنے آ رہی ہے، لیکن خوش فہمیاں بھی دور ہو گئی، جب وہ ان کے قریب سے ہوتی، گھر کی طرف جانے لگی، میران لب بھینچے اسے جاتا دیکھتا رہا، وہ جا رہی تھی پلٹ کے دیکھے بنا، اور میران ارتضی ملک اس کی پشت کو دیکھ رہا تھا جبکہ عارفین خاموش رہی، سماہر اس سے ناراض تھی، اور اسے ناراض ہونا بھی چاہئے ان کے بیٹے سے۔ سماہر خاموش سے اندر آ کے سیڑھیاں چڑھنے لگی، قدم من من بھاری ہو رہے تھے، بمشکل وہ اپنے کمرے تک پہنچی تھی، موبائل سائیڈ ٹیبل پہ رکھا ہی تھا جب کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور میران کمرے میں داخل ہوا تھا، سماہر چونکی تھی لیکن میران کو مڑ کے دیکھنے کی کوشش بلکل بھی نہیں کی اس نے، میران اس کی پشت پہ بکھرے بالوں کو دیکھتا، کمرے کا دروازہ بند کر گیا لیکن آگے بڑھ کے، اس سے مخاطب ہونے کے ہمت نہیں تھی اس میں، تبھی وہیں کھڑا سماہر کی پشت دیکھنے لگا۔
‘ تم سے دوری میری مجبوری تھی سماہر’
وہ بس سوچ ہی سکا، سوچ کو الفاظ کا پیراہن نہیں دے پایا۔
‘ پلٹ کے دیکھا تک نہیں، آگے بڑھ کے روکا تک نہیں، حال پوچھنے نہیں ائے’
سماہر نے بس سوچا تھا اور آگے بڑھ کے وہ بیڈ پہ جا کے لیٹی تھی، کمفرٹر خود پہ ٹھیک کرتی، وہ اپنی طرف کا لیمپ بند کر چکی تھی اور کمفرٹر بھی سر تک اوڑھ چکی تھی لیکن کمفرٹر کے نیچے لیٹی، وہ بےچین سی ہو رہی تھی کہ ان بےچینیوں میں اس کا دم گھٹ رہا تھا اور وہ دم سادھے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی، جبکہ میران کھڑا اس کے نازک وجود پہ موجود اس کمفرٹر کو گھور رہا تھا۔ اس کی چپ میران کو بےچین کر رہی تھی ، وہ کچھ کہہ کیوں نہیں رہی؟ جواب کیوں نہیں مانگ رہی؟؟ کیوں دیکھ نہیں رہی؟؟ کچھ تو کہے لیکن مقابل کی طرف سے خاموشی تھی اور وہ بھی لب بھینچے اگے بڑھ کے، بیڈ کے دوسری طرف آ کے لیٹا تھا، سماہر کمفرٹر کے نیچے سانس ہی روک گئی، اس شخص کے کلون کی مہک، سماہر کو اپنے حواسوں پہ چھاتی محسوس ہو رہی تھی، دل نے یکبارگی چاہا کہ اس شخص کو دھکا دے کے، بیڈ سے نیچے گرا دے جو اس کے حواسوں کو سلیب کر رہا ہے لیکن منتشر ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی وہ یونہی لیٹی رہی جبکہ میران اس کی طرف رخ کر چکا تھا اور بےبس آنکھوں سے وہ اس کمفرٹر کو دیکھنے لگا جس کے نیچے، اس کی راحت جاں موجود تھی لیکن ہاتھ آگے بڑھا کے، اسے چھونے سے بھی ڈر رہا تھا وہ، اتنے راتوں کو، وہ ٹھیک سے سویا بھی نہیں تھا، جاگ کے گزری تھی راتیں، بےچینیوں نے اس کے وجود کو کھوکھلا کر دیا تھا، اعصاب تھے ہوئے تھے اتنے دنوں اور راتوں سے، اور اب جیسے سکون پا رہا تھا، اعصاب ڈھیلے پڑ رہے تھے، وجود کی بےچینیاں ختم ہو رہی تھی ،اس کا وجود جیسے پرسکون ہو رہا تھا، تبھی نیند کا غلبہ بھی آنے لگا اور وہ کچھ ہی دیر میں آنکھیں بند کر کے سو گیا، اس کی گہری سانسوں کا شور سن کے، سماہر نے ہلکا سا کمفرٹر سے منہ باہر نکالا تھا، میران سو چکا تھا، یہ تسلی کر کے، اس نے کمفرٹر مکمل ہٹا کے، گہرا سانس لیا تھا ورنہ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے دم گھٹ رہا ہے ۔ نظریں بھٹک کے میران کے سوئے وجود پہ گئی تھی، جو بےخبر پرسکون نیند سو رہا تھا۔
” مجھے بےچینیاں دے کے، خود کتنے سکون سے سو رہا ہے، مغرور، بدتمیز، انا پرست، ہرجائی، ”
اس نے جل کے سوچا تھا اور پھر رخ اس کی طرف کے کے، وہ میران کو دیکھے گئی، دل میں خیال سا آیا تو ہاتھ آگے بڑھا کے، اس کا چہرہ چھونا چاہا لیکن ہاتھ وہیں روک دیا تھا اس نے۔
تجھے چاہنا
محبت سے ملنا تجھے
ابھی مجھ میں وہ لگن
باقی تو ہے ۔۔۔
یہ بےانتہا۔۔۔
تیرے بن سلگنا میرا
میری سانسوں میں اگن باقی تو ہے ۔۔۔
آنکھیں نم ہوئی تھی اور اس نے ہاتھ بڑھا کے، میران کے چہرے کو ہلکا سا چھوا تھا، اس کی بڑھی ہوئی شیو پہ، اپنے ہاتھ کی پشت پھیرتی، وہ ہلکا سا مسکرا رہی تھی۔
آج کتنے دنوں بعد وہ اس شخص کو دیکھ رہی تھی، دل نے یکبارگی باوجود بےحد غصے اور ناراضگی کے بھی، اس کی قربت چاہی تھی، اس کی خوشبو سے اپنی سانسوں کو مہکانے کی خواہش کی تھی، لب کاٹتی اس نے گہرا سانس لیا تھا، کمفرٹر اس کے اوپر ٹھیک کرتی، وہ پھر سے لیٹ چکی تھی اور نرم نگاہوں سے اس شخص کو دیکھنے لگی ۔
‘ میران تم سے پہلے کسی دوسری عورت کے ساتھ فیزیکل ریلیشن میں رہا ہے’
آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی، اس نے لب بھینچ لیے تھے، اور پھر گہرا سانس لیتی، وہ پھر سے اس شخص کو دیکھنے لگی جو اس کا محرم اور اس کا مکمل عشق تھا۔ وہ ناراض تھی، غصہ تھی لیکن اسے عشق بھی تو تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_11
#Season_2
وہ گہری نیند میں تھا، جب اچانک اسے محسوس ہوا کہ بار بار اس کا نام لیا جا رہا ہے کسی سرگوشی کی مانند۔ ذہن بیدار ہوا تھا تو اپنی گردن پہ گرم سانسوں کا لمس محسوس ہونے لگا اسے، بوجھل سرخ ہوتی آنکھوں سے، اس نے اپنے بےحد قریب دائیں طرف دیکھا، جہاں سماہر گہری نیند میں، اس کی بانہوں میں آنکھیں موندے ہوئی تھی، لب نیم وا تھے، ہلکی ہلکی سرگوشی تھی میران کے نام کی، ان خاموشیوں میں، اس کی سرگوشیاں کسی ساز کی طرح بج رہی تھی، وہ بےحد نزدیک سے، اسے دیکھے گیا، بنا اسے جواب دیے، بنا کسی آہٹ کے، اس کی آنکھیں طواف کر رہی تھی سماہر کے چہرے کا۔ جبکہ وہ نیند میں کچھ بڑبڑا رہی تھی۔
” آئی ہیٹ یو، میں ۔۔۔۔۔۔ ناراض ۔۔۔۔۔ ہوں ۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ مغ۔۔۔۔۔۔۔۔ رور ۔۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔۔۔میران ”
آنکھیں نم ہوئی تھی اور لب مسکرائے تھے، تو وہ ناراض ہے بس، وہ نفرت نہیں کرتی اس سے، تو کیا وہ کچھ نہیں جانتی؟؟ اسے کچھ نہیں معلوم ؟؟ کیسے بتاؤں میں؟؟ اپنا گناہ ؟؟ اہنی حقیقت کیسے ؟؟
وہ خاموشی سے سوچے جا رہا تھا۔
بارش کے بوندوں کی
ہوتی کہاں ہے زبان
سلگتے دلوں میں ہیں
خاموش اٹھتا دھواں۔۔۔
وہ مزید میران کے قریب ہوئی تھی کہ اس کے نازک وجود کا لمس، میران کو مدہوش کر رہا تھا اور اس کے سانسوں کی الجھی گرہیں، میران کی گردن سے ٹکراتی، اسے جھلسا رہی تھی، اس کا نازک مرمریں سا ہاتھ میران کے سینے پہ تھا، جو وہ میران کے گرد لپیٹنے لگی تھی۔ ایسا کیا ہوا تھا اچانک سے، کہ سماہر یوں کر رہی تھی، وہ حیرت کا بت بنا تھا لیکن یہ لمس بھی تو بےحد مدہوش کن تھا ان خاموش لمحوں میں۔
” میران ۔۔”
سماہر کی سرگوشی پہ وہ سماہر کی آنکھوں کو دیکھنے لگا، جو نیم وا آنکھوں سے اب اسے دیکھ رہی تھی۔ شہادت کی انگلی میران کے لبوں پہ پھیرتی، وہ ہلکا سا مسکرا رہی تھی، نیند سے بوجھل آنکھیں ہلکی ہلکی سرخی لیے ہوئے تھی،
” مجھ سے دور کیوں۔۔۔۔۔ بھاگتے ہو؟؟ مجھے چھوڑ کے کیوں۔۔۔۔ کیوں چلے جاتے ہو؟؟ میں۔۔۔۔ میں تمہاری سماہر ہوں نا، مجھے محبت کرنے کو دل نہیں کرتا تمہارا ؟؟ ”
میران سانس روکے اسے دیکھ رہا تھا، آج سماہر ویسے ہی لگ رہی تھی جیسے وہ پہلے ہوا کرتی تھی۔
” میری خاموشیوں کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے تم ۔۔۔ کیوں؟؟ ایسا کیوں میران ؟؟”
وہ بات کرتے کرتے، مزید میران کے قریب ہوئی تھی کہ اس کے لب ، میران کے لبوں کے بےحد قریب ہوئے تھے اور وہ اپنی مخمور آنکھوں سے، میران کی حیران آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ، جن میں حیرت کے ساتھ ساتھ، گھمبیر محبت کا عکس بھی تھا، نرمی سے سماہر کی کمر پہ اپنے دونوں بازو باندھے تھے۔
” بارش سے مجھے محبت ہے میران، کیونکہ وہی بارش تھی جب تم نے اعتراف کیا تھا۔۔۔ اعتراف محبت، تمہیں یاد ہے ؟؟ ”
وہ اب میران سے پوچھ رہی تھی اور میران کے چہرے پہ ، وہ لمحہ یاد کر کے مسکراہٹ بکھری تھی۔
” جب کسی سے محبت ہو، عشق ہو، اس کا ہی خیال ہو، بےدھیانی میں کی گئی گفتگو میں، الفاظ کا پیراہن ہو، اور جب وہی شخص اعتراف محبت کر لیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے ؟؟ مجھے بھی ویسا ہی محسوس ہوا تھا، اردگرد کا منظر گم ہو گیا تھا، جیسے میری سوچوں کا تسلسل ٹھہر گیا تھا، وقت ٹھہر گیا تھا، دھڑکنیں بڑھی تھی، سانسیں بمشکل آ رہی تھی، گال دہکنے لگے تھے تمہاری نظروں کے تسلسل سے اور میں۔۔۔۔ میران میں ”
وہ خاموش ہو کے، اب میران کو دیکھ رہی تھی۔ جبکہ میران اس کا جواب سننے کے منتظر تھا۔ اپنے ہاتھ کہ پشت سے، اس کے گال سہلاتا وہ سوالیہ نظروں میں محبت لیے اسے دیکھ رہا تھا۔
” اور تم ؟؟”
اس کی آنکھیں کھوئی ہوئی تھی اور کھوئے کھوئے انداز میں وہ میران کو دیکھ رہی تھی۔
” میں جیسے ہوا می تحلیل ہو رہی تھی”
کھوئی کھوئی سی سرگوشی کی تھی اس نے، آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
” میں نے ہر ان لمحوں میں تم سے عشق کیا ہے میران، جب اس گھر کا فرد فرد تم پہ انگلی اٹھائے کھڑا تھا”
آنسو گال پہ پھسل پڑا تھا، میران گنگ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” لیکن میں، سماہر میران ملک، پوری دنیا کے سامنے کھڑی ہو سکتی ہوں، پوری دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کھڑے ہونے کا حوصلہ ہے مجھ میں، تمہارا ہاتھ تھامے۔۔۔ کیونکہ ”
وہ اب میران کے چہرے پہ اپنے ہاتھ کی انگلیوں اس انداز میں پھیر رہی تھی کہ میران کے ماتھے سے ہو کے، اس کے لبوں تک آ رہے تھے۔
” عشق کرتی ہوں میں میران ارتضی ملک سے۔ ”
میران نے اپنے لبوں پہ چنے تھے اس کے آنسو، کس قدر دلکش انداز تھا اس کا، میران کو مغرور کر گئے تھے اس کے الفاظ، اس کا غرور بخش گیا تھا اسے، سماہر اپنے اعتراف محبت سے، وہ جو ڈر رہا تھا، خوفزدہ تھا، بھاگ رہا تھا سماہر سے، آج اسی سماہر نے اسے سرخرو کر دیا تھا اپنے الفاظ سے، میران ارتضی ملک کو معتبر کر دیا تھا۔ محبت اور عشق کے معنی سکھا دیے تھے اسے۔ تبھی بےاختیار ہو کے ، سماہر کو وہ بانہوں میں بھر گیا تھا، اس کی گردن پہ، اپنے لب رکھ کے، وہ اپنے آنسوؤں پہ اختیار کھو گیا تھا، اور تبھی وہ خاموش آنسو بہا رہا تھا، سماہر اس کے گرد اپنے نازک بازوؤں کا ہالہ بنا چکی تھی، میران کے آنسوؤں کا لمس وہ اپنی گردن پہ محسوس کر رہی تھی، سماہر کی طرح وہ الفاظ پرونا نہیں جانتا تھا، الفاظ کا خوبصورت چناؤ کرنا، ان الفاظ کو پرو پرو کے بیان کرنا نہیں جانتا تھا وہ، لیکن وہ جانتا تھا کہ سماہر سے عشق کرتا ہے وہ، بےحد اور بےحساب۔ سماہر کو کھونا نہیں چاہتا وہ، اس کے مکمل وجود پہ صرف سماہر تھی، سماہر کا فسوں، سماہر کی پرچھائیاں، سماہر کا عکس۔ لیکن اسے یہ سب الفاظ میں پرونا نہیں آتا تھا۔ اسے کھبی سکھایا نہیں گیا تھا لیکن وہ اب سماہر سے سیکھنے لگا تھا۔ ان خاموش لمحوں میں، دونوں کے دھڑکتے دل کی دھڑکنوں کا شور تھا۔ خاموشیوں کی زبان بھی کتنی دلکش ہوتی ہے، مدہوشی سا طاری کرتی ہے،
کھبی خاموشیوں کی زبان میں بولنا تو سیکھو
کھبی خاموشیوں کی زبان کو سننا تو سیکھو
کھبی ان خاموشیوں میں مجھے تو دیکھو
خاموش نگاہوں کی، پرفسون داستان تو کھبی سنو
خاموش لبوں کے، الفاظ تو کھبی سنو
داستاں تو بےحد لمبی ہے میرے درد و رنج کی
کھبی فرصت سے تصویری خاموشیوں کو سنو۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” مائزہ کہاں ہے ؟؟”
وقاص کے سوال پہ، ناشتہ کرتی تابعہ چونکی تھی اور بےحد حیرت سے انہیں دیکھنے لگی۔
” اوہ تو تمہیں یاد ہے مائزہ ”
” کیا مطلب ؟؟”
وقاص نے لب بھینچے انہیں دیکھا تھا۔
” میں تو سمجھی تھی کہ تم بھی فاتحہ پڑھ آئے ہو اپنی بیٹی کی قبر پہ جا کے”
تابعہ کے طنزیہ انداز پہ انہوں نے آبرو اچکا کے دیکھا تھا۔
” اسے تو مارا بھی تم نے ہی تھا تابعہ، مر چکی تھی تمہارے لئے”
” اور تم نے سچ میں اسے مرا ہوا سمجھ لیا تھا وقاص ؟؟ تبھی تو اپنی بیٹی کو ایک بار بھی پوچھنے نہیں گئے ؟؟ اسے دیکھنا لازمی نہیں سمجھا؟؟ ان سے بازپرس تک نہیں کی کہ مائزہ کے ساتھ کیسا رویہ ہے ازمائر کا ؟؟ ایک بار بھی ؟؟ لعنت ہے ایسے باپ پہ ”
تابعہ بپھری تھی جبکہ وقاص چلایا تھا۔
” تابعہ ۔۔۔ ”
” بس ۔۔۔ ”
تابعہ نے ہاتھ روک کے انہیں کچھ بھی کہنے سے روکا تھا، کیونکہ وہ اب ایک عورت نہیں تھی کہ کمزور پڑتی، وہ اب ایک ماں تھی، مضبوط ماں۔ وقاص حیرت سے انہیں دیکھنے لگے۔
” ایک لفظ بھی نہیں، مائزہ میری بیٹی ہے، صرف میری بیٹی، اس خاندان کے کسی بھی فرد کا اس پہ کوئی حق نہیں ہے، نہ تم نہ تمہارا بھائی اور نہ تمہارے اس بھتیجے کا، کوئی حق نہیں ہے، اور بہت جلد مائزہ کو طلاق بھی دلاؤں گی اس قماش، درندہ صفت انسان سے۔ is that clear Mr waqas Irtaza Malik ”
اپنی بات مضبوط انداز میں کہہ کے، تابعہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اور وہاں سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی جبکہ وقاص لب بھینچے، حیرت سے اس بدلی ہوئی تابعہ کو دیکھ رہا تھا،کس قدر بدل گئی تھی وہ، کس قدر مضبوط، کہ وقاص ملک کے الفاظ گڈمڈ ہوئے تھے اس لمحے اور وہ خاموش ہو گیا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
ناشتے کی ٹیبل پہ سب موجود تھے، سماہر بھی ان سب کے بیچ موجود تھی، جبکہ وہاں موجود ازمائر، بار بار کن انکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا جو ناشتہ کم اور سوچ زیادہ رہی تھی۔ اسے اپنے وجود پہ، اب بھی میران کی خوشبو محسوس ہو رہی تھی، اپنی نازک گردن پہ، وہ لمس اب بھی محسوس ہو رہا تھا اسے، صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ میران کی بانہوں میں تھی، دل ساکت ہوا تھا اس کا، خود کو اس کی گرفت سے آزاد کر کے، وہ تیزی سے بیڈ سے نیچے اتری تھی اور حیرت سے اس شخص کو دیکھنے لگی جو گہری نیند سو رہا تھا، چہرے پہ آنسوؤں کی لکیریں تھی شاید، یا اسے محسوس ہوا تھا، آہستگی سے اپنی گردن کو چھوا، اس کے وجود پہ میران کے وجود کی خوشبو بکھری پڑی تھی، وہ ڈریسنگ ٹیبل کے مرر میں خود کو دیکھنے لگی، اس کے گردن کی جلد سرخ پڑ رہی تھی، وہ پھر سے میران کو دیکھنے لگی، کیا ہوا تھا؟؟ اسے کچھ یاد کیوں نہیں؟؟ یاد کیوں نہیں کچھ ؟؟
” سماہر ناشتہ ٹھیک سے کرو ”
ازمائر کی اواز پہ وہ چونکی تھی، سب اسے ہی دیکھنے لگے تھے جبکہ ازمائر نرم نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا،
” ناشتہ نہیں کر رہی تم ”
وہ پھر سے بولا تھا، لب بھینچے اس نے بمشکل اپنے غصے کو پیا تھا، اور نظریں پھیری تھی جب نظریں سیڑھیاں اترتے میران پہ رک گئی، تو آنکھیں خود بخود گنگنانے لگی تھی اور اس منظر کو ازمائر نے بھی دیکھا تھا، تبھی میران کو یہاں دیکھ کے اور سماہر کی آنکھوں کے بدلتے رنگ کو بےحد حیرت سے دیکھا تھا اس نے، جیسے پوری دنیا اس پہ الٹ دی گئی ہو۔
” ارے میران اٹھ گئے بیٹا ”
عارفین کی آواز پہ وہ چونک کے، اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہوئی تھی، دل بےہنگم ہوا تھا، خود کو سرزنش کرتی، وہ لب بھینچ گئی، وہ ناراض ہے اس شخص سے، بھولنا نہیں چاہئے اسے یہ بات۔ میران اس کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ چکا تھا اور سماہر کی تمام حسیات اپنے پہلو میں بیٹھے میران کی طرف تھی۔
” کیسے ہو میران ؟”
دشاب کے سوال پہ، اس نے لب بھینچے انہیں دیکھا تھا اور جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔
” مجھے خوشی ہے بیٹا کہ تم اپنے گھر واپس آئے ہو ۔ ”
وہ پھر سے کہہ رہے تھے جبکہ ازمائر کڑی نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکھنے لگا، آنکھوں میں شعلے بھڑکے تھے، اس کی خوشیوں کے دشمن جو تھے ۔
” آملیٹ آگے کرنا پلیز سماہر”
سماہر جس کی ساری حسیات میران کی طرف تھی، چونک کے اسے دیکھے بنا ، آملیٹ اس کی طرف بڑھائی تھی۔
” تھینک یو ”
کہتا وہ لے چکا تھا۔
” سالٹ بھی پلیز، ”
‘ اکھڑو، مغرور ‘
سالٹ اس کے سامنے رکھتے اس نے سوچا تھا، ازمائر شعلہ بار نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ جب میران، سماہر کے پلیٹ میں آملیٹ رکھ کے کہنے لگا ۔
” تم نے ٹھیک سے ناشتہ نہیں کیا ۔ ”
وہ خاموش ہی رہی، عارفین نے بےحد محبت سے دونوں کو دیکھا تھا جبکہ ازمائر جھٹکے سے اپنا جگہ سے اٹھ کے جا چکا تھا، میران دل ہی دل میں مسکرانے لگا، وہ باور کر چکا تھا اسے اچھی طرح سے، کہ سماہر ہمیشہ سماہر میران ملک ہی رہے گی چاہے وہ جتنا بھی جتن کر لے۔ سماہر نے کن انکھیوں سے اسے دیکھنے کی کوشش کی تھی، جس کا چہرہ پرسکون سا تھا، اسی لمحے میران نے بھی نظر بھر کے اسے دیکھا تھا اور سماہر چونک کے نظریں چرا گئی۔
‘ یہ کوئی نیا میران تو نہیں؟؟’
یہ خیال آتے ہی وہ پھر سے بےاختیار کو دیکھنے لگی جبکہ وہ سماہر کی طرف جھکا تھا۔
” تمہارا ہی میران ہوں ”
ہلکی سرگوشی کرتا، وہ پھر سے سیدھا ہوا تھا جبکہ سماہر کی دھڑکنیں پل بھر کو تھمی تھی، گال دہک گئے تھے اور لرزتی پلکوں کے ساتھ، وہ اپنے ناشتے کی طرف جھکی تھی۔
” سن کیسے لیتا ہے یہ شخص ”
وہ بس سوچ کے رہ گئی اور مزید کچھ سوچنے کا ارادہ ترک کر کے، وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی، کہ کہیں پھر سے اس کی سوچ پڑھ کے، مزید کوئی گوہرافشانی نہ کر بیٹھے۔
باہر نکل کے ازمائر نے زور سے دیوار پہ اپنی بھاری بوٹ ماری تھی کہ اس کا غصہ اور اشتعال بڑھ رہا تھا، اس کا سارا پلان اور سارا مقصد ادھورا رہ گیا تھا، میران ملک کب آیا اس گھر میں، یہ اسے بلکل معلوم نہ تھی اور اب اسے یہ صبح سماہر کے ساتھ التفات کرتے دیکھ کے، وہ شاکڈ ہوا تھا تو مطلب میران کے خلاف جو باتیں اس نے سماہر کو کی تھی، وہ ان سنی کر چکی ہے۔ غصے سے اپنی گاڑی کے قریب پہنچ کے اس نے گاڑی کا دروا،ہ کھولا تھا جب دشاب کا باڈی گارڈ اس کے قریب آیا تھا،
” آپ کے ساتھ ایک ڈرائیور جائے گا سر”
” وہاٹ ناں سینس”
وہ غصے سے بھڑکا تھا جبکہ گارڈ نے نظریں چرائی تھی ۔
” دشاب سر کے آرڈرز ہیں ”
” گو ٹو ہیل ”
اسے دھکا دے کے، ازمائر گاڑی میں بیٹھ کے، جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھا دی تھی۔
” سر، ازمائر اکیلے ہی چلے گئے”
اس نے کان میں لگے آلے سے دشاب ملک کو اطلاع دیا۔
” فالو ہم ”
دشاب کی بات پہ وہ تیزی سے ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
Forced Marriage Novels
یہ جو شاعری کے کچھ لائنز لکھ کے جو میں نے شاعری کی ٹانگیں توڑی ہے 😜😜 یہ میری اپنی لکھی ہوئی لائنز ہیں 📚 کیسی لکھی ہے بتائیے گا ضرور 🙂🙂
ہمیشہ کی طرح پوسٹ کو لائک کریں، کمنٹ کریں اور شئیر کریں ۔۔۔ اب تو روزانہ ایپسود پوسٹ ہوتی ہے تو آپ بھی روزانہ زیادہ ریسپانس دیں میری پوسٹ پہ ۔۔۔ پلیز 🥰🥰 مجھے خوشی ہوگی ۔۔۔ رومینس کیسا ہے، یہ بھی بتانا ہے 🥰🥰😜😜
خوش رہیں ❤
Do like … do comment and do share the post …
پوسٹ پہ اپنا ریسپانس دے دیا کریں، اپ کی رائٹر خوشی سے جھوم ہی جائے گی بس 🤭🤭🤭
خوش رہیں 🖤
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕