Ada e Ishq hn – Episode 08 & 09 Season 02
#malayeka_rafi_novels
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_8
#Season_2
” میران ۔۔۔”
ہوش آنے پہ، اس کی زبان سے ادا ہونے والا پہلا لفظ یہی تھا جبکہ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا میران چونک کے اسے دیکھنے لگا۔ وہ نیند سے چیخ کے اٹھ بیٹھی تھی میران پریشانی سے اس کے قریب ہو کے، اس کے دونوں کندھے تھام چکا تھا۔
” سماہر ۔۔۔ ”
اپنے نام کی سرگوشی پہ وہ پلٹی تھی اور میران کے سینے سے لگی تھی۔
” میران آپ ٹھیک ہے ناں؟؟ کیا ہوا تھا ؟؟ ک ۔۔۔ کون تھے وہ لوگ ؟؟ وہ میران وہ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کے گرے تھے آپ پہ، اپ ٹھیک تو ہے ناں؟؟”
روہانسی انداز میں کہتی وہ اپنی بھیگی آنکھوں سے میران کو دیکھنے لگی جبکہ میران حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” سماہر ہشششششش ریلیکس ۔۔۔ سب ٹھیک ہے کچھ نہیں ہوا ”
” آپ ٹھیک ہے ناں میران ”
وہ میران کے چہرے کو چھوتے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ وہ کچھ بول نہیں پا رہا تھا بس دھڑکتے دل کے ساتھ، وہ سماہر کو دیکھ رہا تھا، جو بےحد مختلف لگ رہی تھی ابھی، وہ ابھی اس رات کا حوالہ دے رہی تھی جس کے بعد اس کی یادداشت چلی گئی تھی ، اس کا مطلب جو بھی تھا، میران کی دھڑکنیں رکنے کے لئے کافی تھی۔
‘ سماہر کے ہوش میں آتے ہی، میں تمہارے حقیقت بتا دوں گا اسے اور پھر سماہر میری ہوگی ۔’
ازمائر کے الفاظ اس کے کان میں گونجے تھے۔
” مجھے ابھی گھر جانا ہے، ایسے لگ رہا ہے جیسے عرصے سے میں نے کسی کو نہیں دیکھا، مجھے کیا ہوا تھا میران ؟؟ مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آ رہا ؟”
وہ کہہ رہی تھی لیکن میران سن کہاں رہا تھا، وہ گنگ ہو گیا تھا مکمل، سماہر ٹھیک ہو گئی ہے، اسے خوش ہونا چاہیے تھا لیکن خوف نے اس کے پورے وجود کو اپنی جکڑ میں لے لیا تھا۔ وہ کچھ بولنے کے قابل بلکل بھی نہیں تھا۔
” میران مجھے کیا ہوا تھا ؟؟ مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آ رہا ”
وہ پھر بھی خاموش رہا تھا اور پھر اچانک جھٹکے سے اپنا ہاتھ، اس کے ہاتھ گرفت سے چھڑا کے وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا کہ گھٹن بڑھتی جا رہی تھی اور وہ سانس لینے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔ وہ کوریڈور سے ہوتا، تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا اور پھر لاؤنج کے پیچھے سے ہوتا وہ ایک کمرے میں جا کے، دروازہ لاک کر گیا ، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، جنہیں وہ دھندلائی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، اپنا سینہ مسلتے، اس نے کمرے کے چاروں اطراف میں نظر دوڑائی تھی۔ اسے اپنے سینے پہ ، نرم ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا، اور پھر ان سرخ لبوں کا لمس اسے اپنی گردن اور سینے پہ محسوس ہونے لگا۔ تبھی چلا کے وہ پیچھے ہوا تھا اور دیوار سے جالگا تھا۔
” وہ میں نہیں تھا، میں نہیں تھا وہ ”
وہ چیخا تھا اچانک سے۔
” سماہر کو تمہاری حقیقت بتاؤں گا ۔۔۔۔ سماہر میری ہوجائے گی ۔۔۔ چھین لوں گا اسے تم سے “۔
اواز پھر سے آ رہی تھی ازمائر کی اور وہ پھر سے چلایا تھا۔
” وہ میں نہیں تھا۔ ”
” مجھے بچا لو میران، مجھے تھام لو میران ”
وہ بدک کے پھر سے، اس جگہ سے دور ہوا تھا۔
” وہ میں نہیں تھا، سماہر پلیز سنو وہ میں نہیں تھا ، مجھے چھوڑ کے مت جاؤ پلیز سماہر ”
عجیب کیفیت ہو رہی تھی اس وقت اس کی، ڈر اور خوف نے اسے وحشت زدہ بنا دیا تھا۔ وہ خود میں تھا ہی نہیں اس وقت جبکہ لاؤنج میں کھڑی سماہر، پریشان نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی، سب کچھ اپنی جگہ پہ تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، میران بھی کہیں نہیں تھا تو ؟؟ اسے کیا ہوا تھا ؟؟ یہ سوچ اسے پریشان کیے جا رہی تھی۔ اسے اپنے بدن پہ موجود ساڑھی کا احساس ہوا تو مزید پریشانی اور شرمندگی محسوس ہوئی تھی اسے، وہ اس شدید سلک کی ساڑھی نیم عریاں تھی، وہ ایسے کپڑے کھبی نہیں پہنتی تو یہ کب اور کیسے ؟؟
” میران کہاں چلے گئے آپ؟”
پریشان نظریں اب بھی لاؤنج کے گرد گھوم رہی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
وہ جو ابھی ابھی کمرے سے نکلا تھا، زیادہ دیر تک سوتے رہنے کی وجہ سے، دماغ ابھی بھی بھاری بھاری سا تھا، جب اچانک اسے کھینچ کے، زور کا تھپڑ پڑا تھا، لب بھینچ کے وہ کڑے تیوروں کے ساتھ سیدھا ہوا تھا لیکن سامنے تابعہ کو دیکھ وہ بس لب بھینچ کے رہ گیا، ماتھے پہ ابھی بھی بل پڑے ہوئے تھے، جبکہ تابعہ نے اس کا کالر سختی سے جکڑ کے، اسے پیچھے دھکا دیا تھا کہ وہ دیوار سے جا لگا تھا۔
” کیا کر رہی ہے آپ چچی جان، دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا ؟”
وہ بےحد بدلحاظ اور بدتمیز ہو گیا تھا، اس کا اندازہ تابعہ کو اچھی طرح سے ہو رہا تھا۔
” مائزہ اس خاندان کی بیٹی ہے، یہ یاد دلانا تھا تمہیں ”
تابعہ کی سرد آواز پہ اس نے لب بھینچ کے سر جھٹکا تھا۔
” اوہ ۔۔۔ اسے تو آپ مار چکی تھی اپنے لئے ”
” میں نے تو بس لفظوں کی مار ماری تھی لیکن تم نے تو اسے زندہ درگور کر دیا”
تابعہ کی بات پہ وہ نظریں چرا گیا۔
” بن ماں باپ کا سمجھ کے، اسے زندہ لاش بنا دیا تم نے تو ازمائر، کس بات کا بدلہ لے رہے ہو تم میری معصوم بچی سے ؟؟ میں ماں ہوں اس کی ازمائر، اولاد ہے وہ میری، تڑپ سمجھ سکتے ہو ایک ماں کی ؟؟ اپنی اولاد کے لئے؟؟ میری اولاد کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کر کے، اس کی عزت نفس کو کچلنے سے پہلے یہ تو سوچ لیا ہوتا کہ وہ تمہاری چچازاد ہے، اس گھر کی عزت، اس خاندان کی بیٹی، جس کے ساتھ اس گھر میں تم اکھٹا بڑے ہوئے ہو، ایٹ لیسٹ ایک بار تو سوچ لیتے کہ وہ تم سب کی چہیتی مائزہ ہی تھی جسے تم سب نے مل کے زندہ لاش بنا دیا، جس کی عزت کو تم نے روند دیا، میرے پاس سے تو وہ ایسے نہیں آئی تھی تمہارے پاس ، اہسے تھوڑی سونپا گیا تھا تمہیں، وہ تو بہت زندہ دل لڑکی تھی، کیا بنا دیا تم نے میری مائزہ کو، اپنی ہی کزن، اپنی ہی دوست کو تم نے کیا بنا دیا ”
کہتے کہتے آخر میں وہ چیخ پڑی تھی کہ عظمی بھی وہیں پینچ گئی اور سیڑھیاں اترتے دشاب بھی وہیں آئے تھے ۔
” تابعہ کیا ہوا ہے ؟؟ سب ٹھیک تو ہے ”
وہ پوچھنے لگے لیکن تابعہ نے جن نظروں سے انہیں دیکھا تھا وہ نظریں چرا گئے۔
” کیا ہوا ہے ؟؟ یہ آپ پوچھ رہے ہیں مجھ سے کہ کیا ہوا ہے ؟؟ کچھ نہیں ہوا، سب ٹھیک ہے ، بلکل ٹھیک، بس اس خاندان میں ایک اور تابعہ بننے جا رہی ہے، وہ بھی اپنوں کی مار کھا کے، اپنوں کے ہی ستم سہہ کے۔ ”
دشاب نے ایک ملامت بھری نظر ازمائر پہ ڈالی تھی لیکن تابعہ نے سر جھٹکا تھا۔
” اسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ دشاب؟؟ یہ بھی تو آپ کا ہی بیٹا ہے، اسی خاندان کا بیٹا اور مرد، جہاں کے بزرگ مرد حضرات ایک ایک عدد بیویوں کے ہوتے ہوئے بھی، باہر کی عورتوں کو منہ لگاتے پھرتے ہیں، بیٹا بھی تو اسی راہ چلے گا۔ لیکن مردانگی اس میں دکھاتے آپ لوگ ، کہ اپنی بیٹی کو بیٹی بنا کے رکھتے، اپنی بیٹی کو سمیٹ لیتے، مائزہ آپ کی ہی بیٹی تھی نا دشاب ؟؟ کیا کہا تھا آپ نے مجھ سے ؟؟ کہ مائزہ اور سماہر آپ کی ہی بچیاں ہیں۔۔۔ ”
وہ کہتے کہتے رو پڑی تھی لیکن جلدی سے خود کو سنبھال بھی لیا کہ وہ ماں تھی اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔
” یہ سلوک کرتے ہیں اپنی بچیوں سے؟؟ اس کا زرد چہرہ یہاں کوئی نہ دیکھ پایا ؟؟؟ وہ درندہ کہتی ہے اپنے ہی شوہر کو، کوئی ایسی درندگی دکھاتا ہے اپنی بیوی کو ازمائر ؟؟ چلو بیوی نہ سہی، وہ دوست تھی تمہاری ازمائر، مائزہ دوست تھی تمہاری، لاج ہی رکھ لیتے اس رشتے کا”
ازمائر لب بھینچ کے نظریں چرا گیا۔
” تم۔سب کو حساب دینا ہوگا، ایک ایک کو حساب دینا ہوگا ، میری بیٹی کے آنسوؤں کا حساب، اس کے ساتھ درندوں جیسا برتاؤ کرنے کا حساب، اس کی عزت نفس کو روندنے کا حساب۔۔۔ تم سب کو دینا ہے اب، مائزہ خی صورت دیکھنے کو ترسو گے تم ازمائر، اللہ کی ذات ہے اوپر، ایسا حساب لے گی تم سے کہ ترسو گے تم، پچھتاؤں میں گر کے، گڑگڑاو گیں لیکن اب سے مائزہ کی صورت دیکھنے کو ترسو گے۔ ”
ازمائر خاموش رہا تھا لیکن دشاب تڑپ کے آگے بڑھے تھے ۔
” تابعہ پلیز ۔۔۔ ”
” بس ۔۔”
تابعہ ہاتھ اٹھا کے انہیں کچھ بھی بولنے سے روک گئی تھی۔
” مائزہ سے تم سب کا تعلق ختم ہو چکا ہے ہمیشہ کے لئے ۔ ”
یہ کہہ کے تابعہ وہاں سے جا رہی تھی جبکہ دشاب نے ایک ملامت بھری نظر دونوں ماں بیٹا پہ ڈالی تھی۔
” عاق کر چکا ہوں تمہیں میں ازمائر، خود سے، اپنی زندگی سے، اپنے ہر تعلق سے۔۔۔ عاق ہو تم میرے لئے ”
ان کا لہجہ بےحد سخت تھا جبکہ عظمی جزبز ہو کے آگے بڑھی تھی۔
” دشاب یہ آپ۔۔۔۔ ”
” شٹ اپ ۔۔۔ ”
پرطیش انداز میں اسے دیکھتے وہ باہر کی طرف بڑھ گئے تھے۔ عظمی نے آگے بڑھ کے ازمائر کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا ۔
“تم پریشان مت ہو بیٹا، تمہارے لئے لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہے ”
ازمائر نے بیزاری سے اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکا تھا اور بنا کچھ کہے اپنے کمرے میں جا کے بند ہو گیا تھا جبکہ اوپر کھڑی عارفین کا دل جیسے کوئی اپنی مٹھی میں دبوچ چکا تھا۔ یہ گھر اور اس گھر کے مکین ، سب ایکدوسرے کے دشمن بن رہے تھے۔ سب ٹوٹ رہا تھا، رشتے ناطے، سب ۔۔۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” میرے ٹھیک ہو جانے کی خوشی نہیں ہے تمہیں میران ؟؟”
شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے جب میران کمرے سے باہر آیا تھا، لاؤنج میں بیٹھی سماہر نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا تھا، وہ چونکا تھا اسے شاید سماہر کے لاؤنج میں ہونے کی خبر نہیں تھی۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے سماہر کو دیکھنے لگا اور پھر گہرا سانس لیتا وہ بھی وہیں صوفے پہ آ کے بیٹھ گیا تھا۔
” مجھے بھی خوشی نہیں ہوئی، میں ویسے ہی ٹھیک تھی ایٹ لیسٹ تم مجھ سے بات کر لیا کرتے تھے اور ابھی تو میں چھ گھنٹوں سے یہاں بیٹھی اپنے قصور کے بارے میں سوچ رہی ہوں ۔”
میران کو بےحد شرمندگی ہوئی تھی، وہ نطر اٹھا کے سماہر کو دیکھنے لگا۔
” تم نے کچھ نہیں کھایا صبح سے ، میں کھانے کا کہہ کے آتا ہوں ”
وہ اٹھنے لگا ۔
” مجھے بھوک نہیں ہے ”
وہ رک کے سماہر کو دیکھنے لگا ۔
” مجھ سے بھاگنے کی ضرورت بھی نہیں ہے، میں کچھ نہیں پوچھوں گی تم سے۔ بس مجھے گھر جانا ہے، ڈرائیور سے کہو کہ مجھے ڈراپ کر دیں ”
سماہر کے ان الفاظ نے اسے مزید شرمندہ کر دیا تھا تبھی وہ سماہر کے قریب آ بیٹھا تھا لیکن جیسے ہی اس نے سماہر کو اپنی بانہوں میں لینے کے لئے، آگے ہوا تو اسی لمحے سماہر صوفے سے اٹھ کے، دو قدم پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی ۔
” ڈرائیور سے کہے کہ مجھے گھر ڈراپ کردیں”
آواز اور لہجہ بےتاثر اور روکھا سا تھا۔
” سماہر پلیز ایم سوری ۔۔۔۔ ”
وہ اٹھ کے سماہر کے قریب ہوا تھا لیکن وہ ہاتھ اٹھا کے اسے روک گئی۔
” پلیز ۔۔۔۔ ”
” سماہر دیکھو ۔۔۔ ”
وہ بےبسی سے اسے پکار بیٹھا لیکن وہ لب بھینچ کے منہ موڑ گئی ۔۔
” میں خود ہی چلی جاتی ہوں ”
” سماہر رکو ۔۔۔”
میران نے اسے پیچھے سے ہگ کرنا چاہا لیکن سماہر بدک کے، اس سے الگ ہو کے پیچھے ہوئی تھی اور ساتھ ہی اس کے منہ تھپڑ بھی مار دیا لیکن میران کی حیران آنکھوں سے نظریں چرا گئی وہ ۔
” شوق سے اس گھر کے ہر کمرے میں خود کو لاک لگا کے بند کر لیں اب، کیونکہ اب کوئی سماہر نہیں ہے”
تیز آواز میں کہتی، وہ رخ موڑ کے، تیز تیز قدم اٹھاتی دروازے کی طرف بڑھ گئی کہ اسے جلد سے جلد یہاں سے جانا تھا، میران نے موبائل پہ نمبر ڈائل کر کے کان سے لگایا تھا۔
” منان کاکا، سماہر کو گھر ڈراپ کر دیں ”
یہ کہہ کے وہ کال ڈسکنیکٹ کر چکا تھا، صوفے پہ گرنے والے انداز میں بیٹھتا، وہ اپنا سر صوفے کی پشت پہ رکھتا انکھیں موند چکا تھا اور انے والے کل کے بارے میں سوچنے لگا ۔ انے والا کل اس کی زندگی میں کیا نیا موڑ لانے والا تھا یہ تو وقت بتائے گا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_9
#Season_2
سماہر کے ٹھیک ہونے کی جہاں پہ خوشی تھی سب کو، وہیں سب میران کے غائب ہونے پہ حیران بھی تھے کہ دو دن گزر جانے کے باوجود بھی، میران گھر نہیں آیا تھا، اس کا موبائل بھی بند تھا اور وہ خود بھی کہیں نہیں تھا۔ سماہر کے چہرے پہ پھیلی سنجیدگی کو دیکھ کے، کوئی اس سے پوچھنے کی جسارت بھی نہیں کر پا رہا تھا کہ کہیں پھر سے اس کی طبیعت خراب نہ ہو، اس ڈر سے سب احتیاط برت رہے تھے۔ رات کی خاموشی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی اور نیند جیسے ان آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ اپنے گھر نہیں گئی تھی، وہ یہیں آئی تھی، میران کے گھر، اپنے اور میران کے بیڈ روم میں۔ گہرا سانس لیتی وہ بیڈ پہ اٹھ بیٹھی تھی، دل پہ بھاری بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ خالی بیڈ اس کا منہ چڑا رہا تھا اور وہ جھنجھلا کے بیڈ سے نیچے اتر گئی۔ یونہی چلتی وہ بالکونی کے دروازے تک آئی تھی، باہر ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی، اور اسے بارش سے عشق تھا، کیونکہ ایسی ہی بارش میں میران نے اس سے اعتراف محبت کیا تھا، سر جھٹک کے وہ کمرے سے باہر نکلی تھی، یہاں گھٹن کا احساس بڑھتا جا رہا تھا اور اسے کھلی ہوا میں سانس لینا تھا۔
کتنی عجیب بات تھی کہ میران اس کے پاس آیا ہی نہیں، نہ اس کا پوچھا اور نہ کسی خوشی کا اظہار کیا، یہ خیال آتے ہی اس کا غصے بڑھ گیا اور لب بھینچے وہ بارش میں ٹہلنے لگی۔ اس کا دل سچ میں توڑ گیا تھا میران اپنے اس عمل سے، تبھی دل ہی دل میں وہ طے کر چکی تھی کہ میران سے اس نے کھبی کوئی بات نہیں کرنی۔
” سماہر ۔۔۔ ”
آواز پہ وہ مڑی تھی جہاں ازمائر کھڑا اسے ہی محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا جبکہ سماہر نے نظریں پھیری تھی۔
” آپ یہاں کیا کر رہے ؟؟”
ازمائر کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔
” جب سے تم آئی ہو تم سے ٹھیک سے مل بھی نہیں پایا میں، ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں پایا میں ”
بوجھل آواز میں آہستگی سے کہتا ،وہ سماہر کے غصے کو ہوا دے گیا تھا، تبھی وہ ماتھے پہ بل ڈال کے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ گڑبڑا کے سنبھلا تھا۔
” میرا مطلب ہے کہ تمہارے ٹھیک ہونے کے بعد، بات نہیں ہوئی، مجھے خوشی ہے کہ تم ٹھیک ہو چکی ہو اب ۔ ”
” ہمممم ”
سماہر نے بس اسی پہ اکتفا کیا ۔
” بارش میں چلنا تمہیں اب بھی پسند ہے سماہر ”
وہ پھر سے بولا تھا جبکہ سماہر نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
” مائزہ نہیں نظر آئی مجھے، جب سے میں آئی ہوں، نہ ہی کسی نے کچھ بتایا مجھے ”
سماہر کے پوچھنے پہ، ازمائر نے نظریں چرائی تھی۔
” میران نہیں آیا؟؟”
اس نے اچانک سے سوال کیا تھا تاکہ سماہر کا ذہن مائزہ سے ہٹ جائے لیکن وہ خاموش رہی اور درخت کے پتوں کو ہاتھ سے چھونے لگی جن پہ بارش کی ننھی بوندیں ٹھنڈک کا احساس دلا رہی تھی۔
” شاید اس لیے نہیں آیا کہ پھر سے وہیں گیا ہوگا، اسی عورت کے پاس، جس کے پاس ہمیشہ سے جاتا رہا ہے ”
ازمائر نے بنا تمہید کے، تیز نشانے پہ چلانے کی کوشش کی تھی جبکہ سماہر رک کے اسے دیکھنے لگی لیکن خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا ۔
” تمہیں نہیں معلوم سماہر ؟؟ معلوم بھی کیسے ہوگا تم اتنے ٹائم سے بیمار جو رہی ہو ”
وہ پھر سے کہنے لگا ۔
” کہنا کیا چاہتے ہیں آپ ازمائر ؟؟”
دھڑکتے دل کے ساتھ اسے سوال کرنا ہی پڑا جبکہ ازمائر دل ہی دل میں مسکرانے لگا۔
” تم سے پہلے میران، ایک عورت کے ساتھ فیزیکل ریلیشن میں رہا ہے اور وہ تم سے یہ بات چھپاتا رہا ہے، وہ عورت میران کے ساتھ ایک گھر میں رہتی رہی ہے کافی عرصے تک ۔”
وہ رک کے، سماہر کا ردعمل دیکھنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وہ خاموشی سے نظریں پھیر کے، درخت کے پتوں کو ہاتھ سے چھونے لگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور نہ اس نے کچھ سنا ہو۔
” میں سمجھ سکتا ہوں سماہر کہ تمہارے دل پہ کیا بیت رہی ہوگی لیکن مجھے برا لگ رہا ہے جب سے میرے علم میں یہ بات آئی ہے اور میں چاہتا تھا کہ تمہیں بھی بتا دوں اور تبھی ۔۔۔ لیکن تم پریشان مت ہو سماہر، میں اس معاملے میں اور ہر معاملے، ہر قدم پہ تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ ”
سماہر اسے دیکھنے لگی لیکن وہ بےحد خاموش کیوں تھی، یہ بات ازمائر کو کھٹک رہی تھی ۔
” you can trust me Samahir ”
وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا جبکہ سماہر اثبات میں سر ہلاتی آگے بڑھ گئی تھی، اس کے قدم گھر کے اندر کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ دل پہ بوجھ سا آ پڑا تھا اور قدم من من بھاری ہو رہے تھے۔ تو بچھڑنا ایسے ہی لکھی تھی قسمت میں شاید، یا پھر یہی جدائی نصیب بن چکی تھی اس کی اب ۔ وہ کمرے میں آ چکی تھی، جس کمرے میں اسے گھٹن محسوس ہو رہی تھی اب وہی کمرہ اس کے لئے جیسے پناہ گاہ بن گیا تھا۔
” کاش میں باہر نہ جاتی ”
زیر لب دہراتی وہ بیڈ پہ ڈھے سی گئی اور سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں خود کو خالی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
وہ ملا کیوں تھا
اگر اس سے بچھڑنا تھا
تمنا کیوں تھی جینے کی
اگر وہ ہی میرا نہ تھا
کوئی ایسا درد دیں
نکل جائے جاں ۔۔۔ !!!
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
برستی بارش کو بےبسی سے دیکھتا، وہ لب کاٹ رہا تھا، نہ جانے کب سے وہ لان میں کھڑا، بارش میں بھیگ رہی تھی لیکن دل کی آگ بڑھتی جا رہی تھی، وجود جیسے الاؤ میں دہک رہا تھا۔ سماہر کا وہ انداز اس کے کئی ٹکڑے کر رہا تھا لیکن وہ کیسے سامنا کرے اس کا، اب تک تو ازمائر سب بتا چکا ہوگا، وہ جان چکی ہوگی میری حقیقت، وہ اب کہاں سنے گی میران کو، کیسے جائے وہ سماہر کے پاس؟؟ کیسے سامنا کرے اس کا؟؟ کیسے ؟؟
اسے سو دفعہ پکارا ہے دل نے
مگر ۔۔
میرے دل کی بات وہ سن نہ سکا
جو
آنکھوں میں تھی میرے آنسوؤں کی طرح
بکھری
وہ خواہشیں چن نہ سکا ۔۔۔
اکیلے چلتے چلتے ۔۔
ہو سائے جیسے ڈھلتے
رہے کیوں ئے فاصلے
سدا درمیان ۔۔۔۔
” آپ جاتے کیوں نہیں سائیں؟؟”
منان کی آواز پہ، اس نے بند آنکھیں کھول کے اسے دیکھا تھا، سرخ ہوتی آنکھوں میں بےحد اذیت تھی۔
” کیسے جاؤں منان کاکا ؟؟ کیسے ؟؟”
” سائیں جب آپ بےقصور ہے،جب آپ کا کوئی قصور ہی نہیں ہے تو حقیقت بتانے میں کیا حرج ہے ؟”
منان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ زخمی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹک گیا۔
” وہ مجھے چھوڑ کے جا چکی ہے منان کاکا، وہ نہیں سنے گئے مجھے، وہ بدگمان ہو گئی ہے مجھ سے ”
منان خاموش ہی رہا اور اداس نظروں سے میران کو دیکھنے لگا ۔
” آج کے کانفرنس میں نہیں جا رہے آپ سائیں؟؟”
” ہمممم جانا ہے ، میں چینج کر کے آتا ہوں، اپ گاڑی تیار کریں ”
یہ کہہ کے وہ آگے بڑھ گیا جبکہ منان اداس نظروں سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” کیا کر رہی تھی تم وہاں؟؟”
دشاب نے اسے بازو سے جکڑ کے دھکا دیا تھا اور دانت پیستے اسے قہر آلود نظروں سے دیکھنے لگا جبکہ وہ ہنس رہی تھی۔
” ڈر رہے ہو ؟؟”
” بکواس بند کرو تم، کیا کر رہی تھی تم وہاں؟؟ اگر میں نہ دیکھتا تو تم گھر کے اندر بھی آ چکی تھی ”
دشاب نے پھر سے دانت پیسے تھے ۔
” دیکھنے آئی تھی کہ ایسا کیا ہے میران کی بیوی میں کہ وہ مجھ سے منہ موڑ ہوا ہے ”
ماریہ کی آنکھوں میں عجیب ویرانیاں در آئی تھی جبکہ دشاب نے اس کی گردن اپنے ہاتھ سے دبوچی تھی ۔
” بکواس بند کرو، اپنی اور میران کی عمر کا خیال کر لو، اور تھوڑی شرم بھی کر لو ”
ماریہ نے انہیں دھکا دے کے خود سے دور کیا تھا ۔
” مجھے اپنے بستر پہ لے جاتے، شرم کی تھی کیا آپ نے ؟؟ تب تو مجھے شرم پہ لیکچر نہیں دیا تھا ”
وہ تلخی سے گویا ہوئی ۔
” تم اور تمہارا بیٹا مجھ سے کئی بار کھیل چکے ہو، اب میری باری ہے، میں کھیلوں گی، مجھے سماہر کو دیکھنا ہے اور پوچھنا ہے اس سے،کہ کیا ہے اس میں جو مجھ میں نہیں ہے ”
دشاب نے اسے تھپڑ مار کے، اس کے بال کھینچے تھے۔
” میران اور سماہر سے دور رہو، ماضی میں جو بھی ہوا اس میں قصور میران کا کھبی نہیں رہا، سب قصور تمہارا اپنا ہے، اس سے دور رہو ”
ماریہ ہنسنے لگی، آنکھوں عجب وحشت تھی ۔ دشاب نے اس کے بال چھوڑ دیے تھے اور رخ موڑ کے جانے لگے ۔
” پاگل عورت ۔۔ ”
” ہاں میں پاگل ہوں، میں میران کے لئے پاگل ہوں، میں میران کی دیوانی ہوں، مجھے میران دے دو، میں کچھ نہیں کروں گی ”
وہ چلا چلا کے کہہ رہی تھی جبکہ لب بھینچے دشاب اس کے گھر سے، لمبے ڈگ بھرتے باہر نکل رہے تھے کہ اس پاگل عورت سے کچھ بعید نہ تھا کہ مزید کیا گوہر افشانی کرے لیکن ان کا دماغ بھاری ہو چکا تھا، وہ پاگل عورت ان کے گھر تک پہنچ گئی تھی، کچھ بعید نہ تھا کہ وہ گھر کے اندر بھی داخل ہو جائے، انہیں گھر کی سیکیورٹی بڑھانی تھی اب ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” جب وہ شادی ہی نہیں کرنا چاہتی تو کیوں آپ سب اس کے پیچھے پڑ گئے ہو؟ مجھے اس بات کی سمجھ بلکل بھی نہیں آتی ”
میرب ارتسام سے کہتی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔
” میرب یار بحث نہیں کرو ”
وہ جھنجھلایا تھا، ایک تو تھکا ہارا ہاسپٹل سے آیا تھا اور آتے ہی امامہ کی بات پہ اس کا موڈ خراب ہوا تھا کہ کچھ بھی ہو پریشے کو شادی کے لئے رضامند کیا جائے اور اب میرب ۔
” میں بحث کر رہی ہوں؟؟ اور تمہارا موڈ میری وجہ سے خراب ہو رہا ہے؟؟ بہت اچھی بات ہے یہ تو ”
غصے سے اسے کہتی، وہ منہ بنا کے پلٹی تھی لیکن ارتسام نے اسے کمر سے تھام کے اپنے قریب کیا تھا۔
” میرب میری جان ، ایم سوری ”
میرب کہاں اس سے ناراض رہ سکتی تھی، تبھی اس کے کندھے پہ سر ٹکا کے گہرا سانس لیتی مسکرائی تھی۔
” تم بھی تو میرب کی جان ہو ”
ارتسام مسکرا دیا تھا ۔
” یار میں بہت تھکا ہوا ہوں اور آتے ہی مجھے مما نے یہ بات بتا کے میرا موڈ خراب کر دیا اور تم بھی، نہ کافی کا پوچھا نہ چائے کا،کچھ بھی نہیں اور شروع ہو گئی ۔۔۔ یار ایسے کون کرتا ہے ”
ارتسام کی بات پہ وہ شرمندہ سی رخ موڑ کے اسے دیکھنے لگی۔
” ایم سوری، یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں ، میں پریشے کے لئے پریشان ہو گئی تھی۔۔ افف میں ابھی کافی بنا کے لاتی ہوں ”
وہ کہہ کے جانے لگی جب ارتسام نے اس کا ہاتھ تھام کے اسے روکا، وہ رک کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔ ۔
” تھینک یو سویٹ ہارٹ، بٹ پلیز نیچے کسی سے اس بارے میں بات مت کرنا”
” سب سو رہے ہیں ارتسام، وہ تو بس مما جاگ رہی تھی تم سے یہ بات کرنے کے لیے۔۔ میں آتی ہوں، تم بیٹھو یہیں ”
وہ کندھے اچکا کے کہتی دروازے کی طرف بڑھی تھی جبکہ ارتسام تھکا تھکا سا،اپنی کنپٹی سہلاتا بیڈ پہ ڈھے گیا تھا کہ تھکاوٹ بےحد تھی اور اسے آرام کی ضرورت تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
موبائل کی بپ پہ اس نے چونک کے،موبائل کی طرف دیکھا تھا جو بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پہ اس نے رکھا تھا، دل یکبارگی دھڑکا تھا کیونکہ یہ ٹون اس نے اس لئے سیٹ کر رکھا تھا کہ جب بھی میران کا کوئی انٹرویو ہو، تو اسے نوٹیفکیشن ملے۔ دھڑکتے دل کو سنبھالتی، وہ موبائل اٹھا کے دیکھنے لگی۔ گہرا سانس لے کے، اس نے آنکھیں بند کی تھی جیسے خود کو آمادہ کر رہی ہو اور پھر آنکھیں کھول کے، وہ لنک پہ کلک کر چکی تھی، اور دل کی دھڑکن پل بھر کو معدوم ہو کے ابھری تھی، سانس کو ہموار کرنے میں وقت زیادہ لگا تھا اسے، آنکھوں کی دھند کو پلکیں جھپکا جھپکا کے، صاف کیا تھا کہ میران کو دیکھنے میں اسے مشکل پیش آ رہی تھی۔ عجیب ہی تھا نہ اسے دیکھے بنا قرار تھا اور نہ اس سے ناراضگی ختم کرنے کا عہد کر چکی تھی وہ خود سے۔
بڑھی ہوئی شیو اور اداس آنکھوں کے ساتھ، کس قدر وہ ڈیشنگ لگ رہا تھا، سماہر اسے دیکھے گئی۔
” تم سے پہلے وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ، فزیکل ریلیشن میں رہا ہے ”
ان الفاظ کے ساتھ اس کا دل ڈوب گیا تھا ، ہاتھ میں موجود موبائل کانپا تھا، دنیا تاریک ہوئی تھی اس کی، لیکن پھر بھی ، پھر بھی میران ارتضی ملک سے وہ عشق کرتی ہے،
” تم سے پوچھ کے، عشق نہیں کیا میں نے میران ارتضی ملک، لیکن ۔۔۔۔ لیکن ”
الفاظ ادھورے چھوڑ دیے اس نے اور خاموشی سے لب کاٹتی، وہ میران کو دیکھے گئی جو ہر سوال کا جواب دے رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
Forced Marriage Novels
Do Like… do comment and do share the post …
Aj ki episode kesi Lago zarur bataye GA.. .
Or
jinho ne Mera YouTube channel subscribe nhi kiya or woh Mera novel #Khusoof read krna chahty hn toh plz do subscribe my channel … ta k ap ko videos ki notification milti rhy …. channel link 👇
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
One thought on “Ada e Ishq hn – Episode 08 & 09 Season 02”