#Novel_By_Malayeka_Rafi

#ادائے_عشق_ہوں

#ایپسوڈ_6
#Season_2

” کیوں آئے ہیں آپ یہاں؟؟”
وہ ماورا تھی جو خفگی سے اپنے سامنے کھڑے وقاص ملک کو دیکھ رہی تھی جبکہ وہ مسکرا کے آگے بڑھے تھے، کہ ماورا کو بانہوں میں بھر سکے لیکن وہ اچانک بدک کے پیچھے ہوئی تھی اور آنکھوں میں غصہ اور حیرت لیے انہیں دیکھنے لگی جبکہ وقاص ملک کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے ۔
” آپ دوسری عورت کی خوشبو اپنے وجود پہ اوڑھ کے میرے پاس کیوں آئے ہیں؟؟”
اس کی آواز میں غصہ تھا جبکہ وقاص ملک چونکے تھے۔
” یہ کیا بکواس ہے ماورا ”
ان کا لہجہ بھی سخت تھا لیکن ماورا پہ ان کے غصے کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا تبھی پھر سے آگے بڑھے تھے لیکن ماورا تیزی سے پیچھے ہوئی تھی۔
” میں ایک عورت ہوں اور بیوی ہوں میں آپ کی، اپنے مرد کے ہر انداز سے واقف ہوں، میرے قریب مت آئیے اور جائیے یہاں سے ۔۔ ”
” ماورا بکواس نہیں کرو، مجھے تمہاری ضرورت ہے ابھی ”
وقاص ملک نے لب بھینچے تھے ۔
” اپنی ضرورت آپ پوری کر آئے ہیں وقاص سائیں، میرے پاس آپ بن کے آتے ہیں، اس کی خوشبو تو اوڑھ کے نہ آتے ”
ماورا کی آنکھوں میں شکایت تھی لیکن وہ شکایت، شکایت ہی رہی کیونکہ وقاص ملک زبردستی اپنی من مانی کر چکے تھے اور آج!!!
مائزہ کمرے کے کونے میں، نیم برہنہ بیٹھی شکایتی نگاہوں سے، بیڈ پہ سوئے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو اپنی درندگی کا مظاہرہ دکھا کے، اب سکون سے سو رہا تھا۔ خود کو کوسنے کے علاؤہ، اس کے پاس اور کوئی چارہ بھی نہ تھا کہ وہ خود اپنے لئے یہ زندگی اور اس بٹے ہوئے شخص کو چن چکی تھی، سب جانتے ہوئے بھی وہ خود کو اس بٹے ہوئے شخص کے سپرد کر چکی تھی اور اب اسے اس گندگی کو سہنا ہی تھا۔
” دوسری عورت کی خوشبو اپنے وجود پہ اوڑھ کے تم میرے قریب نہیں آ سکتے ازمائر ”
وہ چلائی تھی لیکن ازمائر نے اسے تھپڑ مار کے، بیڈ پہ دھکا دیا تھا۔
” تم میری ضرورت ہو بس، بدلہ ہو تم ”
دانت پیس کے کہتا، وہ مائزہ پہ جھک کے، اس کے سارے فرار کے راستے مسدود کر گیا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

اسے سو دفعہ پکارا ہے
دل نے مگر ۔۔۔
میرے دل کی بات وہ سن نہ سکا
جو آنکھوں میں تھی۔۔
میرے آنسوؤں کی طرح
بکھری وہ خواہشیں چن نہ سکا ۔۔۔!!

اپنے خیالوں میں گم ، وہ سامنے برستی بارش کو دیکھ رہی تھی جبکہ میران وہیں درخت کے پاس رک کے، بےحد محویت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ شام کے سائے پھیل کے رات میں تبدیل ہو رہے تھے، کھبی لگتا وہ سب جانتی ہے اور کھبی لگتا کہ جیسے وہ سب بھول گئی ہے ۔ ہاتھ بڑھا کے، اہن6ے نازک ہاتھ کی ہتھیلی پہ ، وہ بارش کے ننھے قطروں کو چننے لگی اور میران کے دل میں خواہش سی جاگنے لگی کہ آگے بڑھ کے، اسے اپنے بےحد قریب کر لے اور اس نازک ہاتھ کی ہتھیلی پہ، اپنے لب رکھ کے، ان قطروں کو، لبوں سے چن لے۔ اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھی، وہ اتنے فاصلے سے بھی اپنا عکس ان آنکھوں میں دیکھ پا رہا تھا، وہ تھوڑا آگے ہوئی تھی، آنکھیں بند کر کے، وہ بارش کی ان بوندوں کو اپنے چہرے پہ محسوس کر رہی تھی اور میران کو اپنا دل سنبھالنا اس لمحے مشکل امر لگ رہا تھا، دل بار بار سر پھرا سا، نافرمانی کرنے پہ تلا ہوا تھا، سماہر اس سے بےحد محبت کرتی ہے، اسے یاد ہے کہ وہ میران ارتضی ملک سے بےحد محبت کا مرتکب ہوئی ہے، وہ کسی کی نہیں سنتی میران کے معاملے میں، اس قدر یقین اور اگر ۔۔۔۔ اس نے لب بھینچ لیے تھے، چہرے پہ بےبسی پھیلی تھی، نظریں اب بھی سماہر پہ رکی ہوئی تھی اور اس کا وجود جذبات کی رو میں بہنے لگا تھا اور تبھی وہ اپنے دل کی خواہش پہ لبیک کہتا آگے بڑھا تھا، آہستہ روی سے چلتا، وہ سماہر کے قریب جا رکا تھا جو نظریں اٹھا کے، اب میران کو دیکھ رہی تھی، لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ آ ٹھہری تھی، آنکھوں میں شناسائی اور محبت کی رمق تھی، ایسی ہی ایک بارش تھی کہ جب میران نے اس کی ہتھیلی پہ لکھے الفاظ پڑھے تھے اور اعتراف محبت کیا تھا، اسے یاد تھا، اسے اس لمحے سب یاد تھا۔۔ اور شاید میران کو بھی اس لمحے وہ پل یاد آیا تھا تبھی تو جھک کے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے، ان مسکراتی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔۔۔
” ہاں یہی محبت ہے ”
سماہر کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی اور پھر وہ مسکرائی تھی، میران نرمی سے اس کا ہاتھ تھام چکا تھا اور سماہر اٹھ کے، اس کے مقابل، اس کے بےحد قریب ان آنکھوں کو دیکھ رہی تھی، جن میں خواہشوں کی لو جل رہی تھی۔
” ان آنکھوں میں کیا محسوس ہوتا ہے تمہیں سماہر ؟؟”
مبہم سرگوشی تھی۔
” میں۔۔۔ ”
سماہر کچھ دیر ان آنکھوں میں دیکھتی رہی اور پھر اس کے لب نیم وا ہوئے تھے اور وہ ہلکا سا مسکرایا تھا، بارش میں اس کے بال بھیگنے لگے تھے اور بارش کے ننھے قطروں نے اس کے سفید چہرے کو تر کر دیا تھا۔ دل میں اٹھتے خواہشوں پہ ضبط کے پل باندھنے کی کوشش میں وہ بےبس سا ہو رہا تھا، دھڑکنوں میں تڑپ سی ابھر رہی تھی، ان نم لبوں کو چھونے کی خواہش مچل رہی تھی، سماہر آہستگی سے مزید اس کے قریب ہوئی تھی، اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھے پہ رکھ کے، تیز دھڑکنوں کے تسلسل سے نظریں نہیں چرا پا رہی تھی، آج کتنے عرصے بعد، وہ میران کے بےحد قریب ہوئی تھی کہ اس قربت کی آگ سے، اس کے گال دہکنے لگے تھے، ان گالوں پہ گلابی پن اتر آیا تھا اور بےحد اچانک بادل گرجے تھے اور سماہر بوکھلا کے، اس کے سینے سے جا لگی تھی کہ اس کے لب ، میران کی گردن کو چھونے لگے تھے، جب اس کا نازک وجود، میران کے مضبوط سینے سے لگا کانپ رہا تھا۔ لمحہ لگا تھا میران کو بےاختیار ہونے میں، اور تبھی سماہر کی پشت پہ، اس کے مضبوط ہاتھ کی گرفت مضبوط ہوئی تھی اور میران نے جھک کے ان لبوں کو بےحد نرمی سے، اپنے سلگتے لبوں میں قید کیا تھا۔ سماہر کے لبوں سے سسکی سی ابھری تھی اور پھر میران نے اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں الجھانے میں لمحہ بھی نہ لگایا، کتنا سکون تھا اس لمس میں، کتنی پرکیف تھی اس کے سانسوں کی مہک، اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ رہے تھے، اس کا وجود جیسے سکون پا رہا تھا، اس کے لبوں کو چھوڑ کے، اس نے نرمی سے سماہر کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے، آنکھیں موندی تھی، بارش میں دونوں کے وجود بھیگ رہے تھے لیکن ان کا وجود، ان کہے جذبوں کی تپش میں جھلس رہے تھے، لرزتی پلکیں اٹھ کے پھر سے جھکی تھی اور میران نہ چاہتے ہوئے بھی، اس سے الگ ہو کے پیچھے قدم رکھ کے، اس سے دور ہوا تھا، سماہر نے حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا اور بےاختیار اپنا نازک ہاتھ اٹھا کے، اس کی طرف بڑھایا تھا، لب بھینچے میران اس کی اس ادا کو دیکھ رہا تھا، وہ بنا کچھ کہے، میران کو روک رہی تھی، خود سے دور جانے سے وہ میران کو روک رہی تھی۔
” سماہر پلیز ۔۔۔ تمہاری طبیعت ۔۔۔۔ ”
میران نے کہنا چاہا تھا لیکن وہ رک گیا تھا، دو قدم آگے ہو کے، وہ سماہر کا نازک ہاتھ تھام چکا تھا، سماہر بھی دو قدم آگے بڑھ کے، میران کے قریب آئی تھی، اتنے قریب کہ دونوں کے سانسوں کی تپش سے، دونوں کے چہرے جھلس رہے تھے، آنکھوں میں مدہوشی سی اتر آئی تھی، میران کے ہاتھ، اس کے گیلے بالوں سے ہوتے، اس کی گردن، کندھے کو چھوتے، اس کے پہلو سے ہوتے، اس کی کمر پہ آ رکے تھے، سماہر اس لمس کی تپش سے پگھلنے لگی تھی، میران نے اپنی پیشانی اس کی پیشانی پہ ٹکائی تھی۔
” مت کرو سماہر پلیز ۔۔ ”
بےبس سی، بوجھل سانسوں کے ساتھ مبہم سرگوشی تھی جبکہ سماہر کی پلکیں لرز کے جھکی تھی۔
” ہشششششش ”
ان لبوں کو اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے چھوتی اس نے کہا تھا،
” سب ٹھیک نہیں ہے تمہارے لئے سماہر، تم ۔۔۔ ”
وہ پھر سے بوجھل سرگوشی کر رہا تھا لیکن سماہر نے پھر سے اس کے لبوں پہ، اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کا دباؤ ڈال کے اسے خاموش کرایا تھا۔
” ہشششششش۔۔ ”
میران آنکھیں کھول کے اسے دیکھنے لگا، ان آنکھوں کی مبہم مدہوشی نے اسے بےاختیار کر دیا اور تبھی اس نے پھر سے اپنے تشنہ لب، سماہر کے لبوں سے الجھائے تھے اور اب کے وہ مکمل سیراب ہونے کا ارادہ رکھتا تھا، تبھی وقفے وقفے سے، اس کے عمل میں شدت آ رہی تھی، سماہر کو خود میں بھینچے وہ پرسکون ہو رہا تھا، سماہر کو کچھ لمحوں میں لگا کہ اس کی سانسیں بند ہونے لگی ہے اور تبھی وہ میران کے سینے پہ ہاتھ مارنے لگی، میران تیزی سے اس کے لبوں کو چھوڑ کے، اسے دیکھنے لگا، جس کا چہرہ سفید پڑ رہا تھا۔
” سماہر۔۔۔ ”
وہ سانس بحال کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی،
” ڈیم اٹ ۔۔ میں ان ہیلر لے کے آتا ہوں ”
وہ گھبرا گیا تھا لیکن اس کی شرٹ اپنی مٹھی میں بھینچ کے، وہ میران کو جانے سے روک چکی تھی، سانس لینے کی کوشش میں ہلکان ہوتی، وہ میران کو خود سے دور جانے سے، منع کر رہی تھی اور وہیں میران پھر سے اس کے لبوں کو قید کرتا، اسے سانس ان ہیل کرنے لگا۔
” ان ہیل کرنے کی کوشش کرو سماہر ۔۔ ”
سماہر آنکھیں موند چکی تھی اور میران نے پھر سے وہی عمل دہرایا اور سماہر ان ہیل کرنے کی کوشش کرتی، اس کے گلے لگ چکی تھی، اس کے کندھے پہ اپنی ٹھوڑی ٹکا کے وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔
” م ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ”
میران نے اسے بازوؤں کے گھیرے میں بھر کے،سکون کا سانس لیا تھا۔
” میرا تھوڑا سا ستم سہنے کی ہمت نہیں تم میں اور قریب آنے کی بات کرتی ہو۔ ”
وہ کہہ رہا تھا اور سماہر اب بھی مسکرا رہی تھی۔

” تمہیں چاہنا۔۔
محبت سے ملنا تمہیں۔۔۔
اب مجھ میں وہ لگن باقی تو ہے
یہ بےانتہا ۔۔
تیرے بن سلگنا میرا ۔۔
میری سانسوں میں اگن باقی تو ہے ”

وہ ہلکا سا گنگنائی تھی، میران اس سے الگ ہو کے اسے دیکھنے لگا۔
” میری سانسیں اگر رکنے لگے تو تم ہو میری سانسیں، میں اگر بھول جاؤں تو تم ہو میری یادداشت، میری جان نکلنے لگے تو تم ہو میرے جینے کی وجہ، میران ارتضی ملک، میں اگر محبت ہوں تو تم عشق ہو میرے، میں جسم ہوں تو تم روح ہو، تمہیں ہر لمحے میں، محسوس کرنے کی خواہش ہے میری میران ارتضی ملک ”
وہ جذب کے عالم میں کہہ رہی تھی اور میران اسے سن رہا تھا۔ اس لمحے وہ سب بھول گیا تھا، اپنا ماضی، اپنی حقیقت، سب۔۔۔ وہ بس اس لمحے کو سماہر کے سنگ جینا چاہتا تھا۔
” کہیں چلتے ہیں، ”
” کہاں؟؟”
میران کھوئے کھوئے انداز میں پوچھنے لگا۔
” کہیں بھی، جہاں کوئی آواز نہ ہو، سوائے ہماری سانسوں کے، جہاں کوئی نہ ہو سوائے ہم دونوں کے وجود کے، جہاں بس ہم ہو، ہماری آنکھیں ہو، ہماری سانسوں کا شور ہو اور مدھم رقص کرتا ساز ہو، جہاں ہمارے وجود محو رقص ہو ایکدوسرے کی قربت میں۔۔ ”
کس قدر واضح، کس قدر خوبصورت گنگناہٹ تھی ان الفاظ میں۔
” مجھے برباد کرنے کا ارادہ رکھتی ہو آج کیا تم ؟؟”
بوجھل لہجے میں کہتا وہ زیر لب مسکرا رہا تھا۔ سماہر کو خود نہیں معلوم تھا کہ آج، اس لمحے اسے کیا ہوا ہے؟ کچھ تو ہوا ہے، وہ اتنی پاگل سی کیوں ہو رہی ہے؟ بےاختیار سی کیوں ہو رہی ہے؟ لیکن وہ خود نہیں جانتی تھی؟؟
” خوبصورت یادیں بنانا چاہتی ہوں ہمارے ان لمحوں کو میں ”
اس کی آنکھوں میں ہلکی سی سرخی اتر آئی تھی۔
” اپنے بےحد قریب کر لو میران مجھے کہ میں، میں نہ رہوں، میری سانسیں میری نہ رہے، ”
وہ میران کے قریب سے قریب تر ہو رہی تھی اور میران بہک رہا تھا اس کی اداؤں میں۔ تبھی بےخودی میں اس کی نازک گردن پہ، لب رکھ کے، اپنی بےچینیاں رقم کرنے لگا۔
” ہشششششش ”
سسکتی سانسوں کے بیچ ، سماہر نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی ۔
” کہیں اور لے چلو ناں میران ”
اور میران نے اسے بانہوں میں اٹھایا تھا کہ اب واقع میں سماہر سے دوری، اس کے لیے ناممکنات میں سے ہو رہا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

#Novel_By_Malayeka_Rafi

#ادائے_عشق_ہوں

#ایپسوڈ_7
#Season_2

برستی بارش کو دیکھتی، وہ بالکونی میں بیٹھی اپنے ہی سوچوں میں گم تھی کہ اسے اپنے پیچھے آتے ارتسام کی بھی خبر نہ ہوئی، وہ آہستگی سے، میرب کے قریب بیٹھ کے، اس کا چہرہ دیکھنے لگا جہاں سوچوں کا جال بچھا ہوا تھا لیکن وہ شاید کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی، ارتسام نے ہاتھ بڑھا کے، اس کے چہرے پہ آئے بال، اس کے کان کے پیچھے اڑسائے تھے اور وہ چونک کے ارتسام کو دیکھنے لگی جو مسکرا رہا تھا۔
” میری بیوی کن سوچوں میں گم ہے کہ میرے آنے کی بھی خبر نہیں جناب کو؟”
اسکے شرارتی انداز پہ میرب نے سر جھٹکا تھا۔
” وہ دیکھ رہے ہو ؟”
اپنے بنگلے کے لان کی طرف اشارہ کرتی، وہ اب دلکشی سے مسکرا رہی تھی لیکن اس مسکراہٹ میں اداسی سی محسوس ہو رہی تھی ارتسام کو۔
” وہیں پہ میران بھائی نے سماہر کے کندھے پہ، اپنی شال اوڑھ کے، اپنی محبت کا اعتراف کیا تھا اور تب میں بےحد خوش تھی کہ سماہر میری بھابی بنے گی ۔ ”
وہ خاموش ہو کے، ہاتھ ریلنگ پہ رکھ چکی تھی لیکن نظریں اب بھی اسی طرف تھی ۔
” وہاں بہت یادیں بکھری پڑی ہے میری ، میں، سماہر، مائزہ اور آبگینے کی یادیں، ہم بہت شرارت کیا کرتے تھے۔”
” تو اب بھی کر لیا کرو ”
ارتسام نے اس کے چہرے پہ چھائی اداسی کو محویت سے دیکھا تھا۔ میرب منہ بنا کے ارتسام کو دیکھنے لگی ۔
” ابھی کوئی نہیں ہے یہاں، سب جیسے بھول گئے ہیں خود کو، سب جیسے گم ہو گئے ہیں زندگی کے اس میلے میں۔۔۔ سماہر کی یادداشت جا چکی ہے، مائزہ کو ازمائر سے فرصت نہیں اور آبگینے کو بھی فرصت نہیں ”
” اور میرب کو ارتسام سے فرصت نہیں ”
مسکرا کے کہتا وہ میرب کو کھینچ کے اپنی گود میں بٹھا چکا تھا جبکہ میرب بوکھلا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
” کیا کر رہے ہو،کوئی دیکھ لے گا ”
” کوئی نہیں دیکھتا، اس آدھی رات کو سب سو رہے ہیں ”
اس کے انداز پہ میرب مسکرانے لگی ۔
” بس میری بیوی کو اپنی یادیں ستا رہی ہے اور ادھر اپنے شوہر کی کوئی پرواہ ہی نہیں میری مسز کو ”
ارتسام کو مزید شہ ملی تھی شاید اس کی مسکراہٹ سے لیکن اب کے میرب اسے گھورنے لگی۔
” تم سے کچھ شئیر ہی نہیں کرنا اب مجھے ”
” ارے ۔۔۔ میں نے کیا کیا ہے اب ؟؟ ایک ہی تو بیوی ہو میری، وہ ہی میرا دکھ سکھ نہ سمجھے تو ساتھ والے گھر کی سمیرا میرا خیال کرے گی ”
ارتسام کا لہجہ افسوس بھرا تھا۔
” یہ سمیرا کون ہے ؟؟”
میرب کے سوال پہ، ارتسام مصنوعی حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
” پورے جملے میں، تمہیں بس یہی نظر آیا ”
” سمیرا کون ہے ؟؟ ”
اب کے دانت پیستے پوچھا گیا تھا جبکہ ارتسام کندھے اچکا کے، اسے پھر سے سیٹ پہ بیٹھنے میں مدد دی تھی جبکہ میرب لب بھینچے اس کی کاروائی دیکھ رہی تھی ۔
” مجھے سو جانا چاہئے اب ”
آرام سے اپنی بات کہہ کے، وہ بنا کوئی آہٹ کیے، آہستگی سے اٹھ کے، ایسے جانے کے لئے پر تولنے لگا کہ جیسے ہوا ہی نہیں ہو لیکن میرب نے اس کی ٹانگ سے اپنی ٹانگ الجھا کے اسے روکا تھا، اور وہ لڑکھڑا کے میرب پہ گرا تھا یا پھر ایکٹنگ کی تھی گرنے کی، میرب کراہ کے رہ گئی ۔
” بدتمیز ۔۔۔ ہائے میرا منہ توڑ دیا، پاگل پٹھان ”
” پاگل پٹھان مت کہو، بارش میں بھگو دوں گا ”
ارتسام کا واویلا اس سے بھی زیادہ تھا۔
” اٹھو ارتسام ۔۔۔ ”
اس کا بھاری جسم میرب دھکا دیتی، خودپر سے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ وہ اٹھ کے پھر سے جھکا تھا اور میرب کو بازوؤں میں بھر کے کھڑا ہو چکا تھا
” اے پاگل پٹھان اتارو مجھے ”
” بلکل نہیں ”
اسے لیے وہ اندر کمرے کی طرف بڑھا تھا جبکہ میرب نے اس کی شرٹ کو مضبوطی سے تھاما ہوا تھا کہ کہیں ارتسام اسے گرا نہ دے اور اس کی ہڈیاں چٹخ جائے ۔ کمرے میں آ کے، اسے بیڈ پہ لٹا کے، ارتسام بھی اس کے قریب ہی لیٹ چکا تھا۔ میرب کا سر اپنے بازو پہ رکھتے وہ مسکرانے لگا
” میرے قریب رہا کرو میرب،یہ بندہ ہاتھ سے نکل گیا پھر شکایت مت کرنا ”
” کیا مطلب ؟”
میرب جو ابھی اس کے قریب ہونے پہ سکون پا رہی تھی جب اچانک چونکی تھی جبکہ ارتسام زیر لب مسکرانے لگا۔
” مرد ہوں یار، کھبی بھی بہک سکتا ہوں ”
مئرب نے زور سے، اسے دھپ رسید کی تھی، وہ پھر سے کراہ کے رہ گیا ۔
” پاگلیٹ یہ کیا بدتمیزی ہے ”
” ابھی صرف بدتمیزی کی ہے، زیادہ فضول بکواس کی تو اٹھا کے بیڈ سے نیچے گرا دوں گی ”
میرب کا غصے سے بڑا حال تھا جبکہ ارتسام کی ہنسی بےساختہ تھی۔
” میں کھینچ کے تمہیں خود پہ گرا دوں گا ”
میرب خاموش ہی رہی ۔ ارتسام بےخودی میں اسے دیکھے گیا،
” بارش مجھ پہ بہت ستم ڈھا رہی ہے آج ”
بوجھل آواز پہ، میرب چونک کے اسے دیکھنے لگی ۔
” ایک تو یہ مستانی کالی رات، اوپر سے یہ بارش اور پھر تم جیسی حسن آتش میرے بےحد قریب، خود کو روک نہ پاؤں اور نہ قریب آ پاؤں، عجیب دوراہے پہ آ کھڑا ہوا ہوں آج میں۔ ”
میرب اسے دیکھنے لگی ۔
” جانتا ہوں، مجھے اپنا پرامس یاد ہے، تم ٹینشن نہیں لو، چلو سوتے ہیں ”
وہ اہنی بات کہہ کے، سیدھا ہو کے آنکھیں بند کر گیا ایسے ہی وہ اپنے بےلگام ہوتے جذبات پہ لگام لگا سکتا تھا جبکہ میرب خاموشی سے اسے دیکھے گئی، کتنا خیال تھا اسے میرب کا اور اپنے وعدے کا پاس بھی تھا،
وہ خوش نصیب تھی یقینا جو ارتسام اس کا نصیب بنا تھا۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

اسے انتظار کرنے کا کہہ کے، نہ جانے سماہر ڈریسنگ روم میں کیا کر رہی تھی، ایک دو بار وہ دروازے پہ دستک دے کے پوچھ بھی چکا تھا لیکن سماہر نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور تبھی وہ خاموشی سے بیٹھا اس کے باہر آنے کا منتظر تھا۔ کچھ دیر بعد ڈریسنگ روم کا دروازہ کلک کی آواز سے کھل چکا تھا اور سماہر ہلکا سا کمرے میں جھانک کے، اندر آ چکی تھی اور پل بھر کے لئے، میران ارتضی ملک مبہوت سا رہ گیا تھا سماہر کو دیکھ کے، سفید رنگ کی سلک ساڑھی میں،اس کی رنگت کھل رہی تھی، کھلی زلفوں کے ہالے میں، اس کی دودھیا رنگت دمک رہی تھی، نازک مخملی بدن پہ ہاف بلاؤز سے، اس کی نظر آتی دودھیا نازک کمر، میران کا ایمان ڈگمگانے پہ تلی ہوئی تھی۔
” میران ”
اس کے یوں متواتر دیکھنے سے، سماہر کنفیوز ہوتی اسے پکار بیٹھی جبکہ میران اب بھی مبہوت سا، اسکی طرف قدم بڑھا رہا تھا اور سماہر کی دھڑکنیں منتشر ہوتی، اسے بوکھلائے دے رہی تھی۔ خود کو میران کے لئے سنوارتے، اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یوں اس کا سامنا کرنا، سماہر کے لئے مشکل ہو جائے گا، سانس رکتی محسوس ہوگی، جاں نکلتی محسوس ہوگی۔ وہ جوں جوں قدم اس کی طرف بڑھا رہا تھا، سماہر کو پل پل اپنا وجود بھاری ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔ اسے آج کیا ہوا ہے ؟؟ وہ پاگل کیوں ہو رہی ہے میران کی قربت کے لئے، یہ وہ نہیں جانتی تھی۔ میران اس کے مقابل کھڑا، اسے بوجھل آنکھوں سے دیکھ رہا تھا جبکہ سماہر نے بےاختیار اپنے لب دانتوں تلے دبا کے کاٹے تھے اور میران کو لگا وہ اپنا اختیار کھو چکا ہے خود پہ ۔
” ڈیم اٹ یار ”
اس کی نازک کمر پہ اپنے ہاتھ رکھ کے، اسے خود میں بھینچ کے، میران ان لبوں کی نرماہٹ کو محسوس کرتا، ان سانسوں کی مہک کو گھونٹ گھونٹ پینے لگا، سماہر جسے آسان سمجھ رہی تھی، اب بھاری ہوتی سانسوں کو خود کے لئے سنبھالنا مشکل لگا تھا اسے، نازک گردن پہ، ان سلگتے لبوں کے سفر کو سہتی، وہ میران کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچ گئی تھی، بیک لیس بلاؤز ہونے کی وجہ سے، میران کے بےباک انگلیوں کا لمس، اسے اپنی پیٹھ پہ رینگتی محسوس ہو رہی تھی، تبھی سسکی بھرتی، وہ میران کے سینے سے جا لگی تھی،
” تمہاری سانسوں کا شور کس قدر خوبصورت ہے سماہر، جیسے کوئی مدھم گنگناہٹ سی ہو”
بوجھل سرگوشی پہ پگھلتی، وہ رخ موڑ کے ، اس سے دور ہوئی تھی، مدہوش آنکھوں میں التجا سی تھی، لیکن وہ خود اس آگ کو بھڑکا کے، اب پیچھے ہٹ رہی تھی جو ناممکن سا امر تھا میران ارتضی ملک کے لئے ۔ قدم قدم پیچھے جاتی وہ دیوار سے جا لگی تھی، جبکہ میران زیر لب مسکراتا، اس کے مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔ اپنے ہاتھ کی پشت اس کی گردن سے، اس کے دل کے مقام تک کو چھوتا، وہ سماہر پہ سحر سا طاری کر رہا تھا۔ آنکھیں موندے، وہ میران کے ہر لمس پہ پگھل رہی تھی۔ اسے بانہوں میں بھر کے، میران بیڈ پہ لایا تھا ، اس کی کمر پہ اپنے سلگتے لمس بکھیرتا، وہ سماہر کے حواس سلب کر رہا تھا۔ ان لمحوں کا سحر تب ٹوٹا جب میران کے موبائل پہ کال آنے لگی جسے وہ اگنور کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن کال پھر سے آنے لگی تو اسے اٹھ کے کال ریسیو کرنی پڑی۔
” اوکے میں آتا ہوں ”
سماہر نے بےاختیار اٹھ کے، اس کا ہاتھ تھاما تھا جیسے اسے روکنا چاہ رہی ہو، میران نے رک کے، اس کے بال سنوارے تھے اور پھر اس کے لبوں پہ، اپنے لب رکھ کے، اس کے لمس کو خود میں حفظ کیا تھا ۔
” انتظار کرو، میں اتا ہوں ”
کہہ کے، وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ سماہر بےبسی سے لب کاٹتی بند دروازے کو دیکھتی رہی، گہرا سانس لے کے خود کو، اس حصار کے سحر سے باہر نکالنےکی کوشش کی تھی کہ اچانک گولیاں چلنے کی آواز آئی تھی اور بےاختیار سماہر کی چیخیں اس کمرے میں گونجنے لگی تھی، کچھ دھندلے لمحے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے ، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کے گرے تھے، اور پھر وہ گری تھی، میران بھی اس کے قریب ہی تھا، اور ابھی ۔۔۔
” میران ۔۔۔ ”
وہ چلائی تھی اور بیڈ سے اتر کے وہ دروازے کی طرف بڑھی تھی کوئی شاید ختم کر گیا تھا اس کے میران کی سانسوں کو۔ دروازہ کھول کے اپنی ناہموار ہوتی سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش کرتی وہ آگے بڑھی تھی لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے، وہ کسی سے ٹکرائی تھی اور بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اسی کے بازوؤں میں جھول کے گری تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤
مائزہ نے آج بہت عرصے بعد اس گھر کی دہلیز پہ قدم رکھا تھا، جہاں سے وہ منہ موڑ گئی تھی اور جہاں کے مکینوں کے لئے وہ مر چکی تھی۔ آنسو خود بخود آنکھوں میں جمع ہونے لگے تھے، پورے لاؤنج پہ اس نے ایک دھندلائی سی نظر ڈالی تھی، یہ وہی جگہ تھی جہاں اکثر وہ سماہر کے ساتھ بیٹھ کے، تابعہ کو تنگ کیا کرتی تھی اور آج وہاں کس قدر خاموشی کا عالم تھا، چھوٹے لڑکھڑاتے قدم رکھتی وہ آگے بڑھ رہی تھی جب اس کی نظر ڈائیننگ ٹیبل کے پاس کھڑی تابعہ پہ نظر پڑی تو وہیں رک گئی، تابعہ وہاں برتن سمیٹ رہی تھی، صبح کا ناشتہ شاید ہو چکا تھا، عیشل بیگ سنبھالتی وہیں آئی تھی۔
” خدا حافظ بڑی مما ”
تابعہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔ وہ بدل گئی تھی عیشل کے مقابلے میں، اس چھوٹی بچی سے ضد کرنا چھوڑ دیا تھا، شاید عارفین کی باتوں کا اثر تھا، اس سب میں اس معصوم بچی کا کیا قصور تھا، قصوروار تو اس خاندان کے مرد تھے، جو اپنی عیاشی میں، اپنا دین، ایمان، گھر سب بھول چکے تھے۔
” مائزہ اپی ”
عیشل کی آواز پہ، تابعہ کے ہاتھ رکے تھے اور وہ مڑ کے پیچھے دیکھنے لگی جہاں ٹوٹی، بکھری سی مائزہ کھڑی تھی، جس میں ان کے اپنے مائزہ کی کوئی جھلک ہی نہ تھی، تابعہ کے یوں دیکھنے پہ، مائزہ کی آنکھیں برسنے لگی، ہچکیاں سی بندھ گئی، شاید ماں ہستی ہی ایسی ہے کہ بنا کچھ کہے بھی، اولاد سب کہہ جاتی ہے اور وہ ماں سمجھ بھی جاتی ہے، چاہے وہ جتنی بھی سخت مزاج عورت ہی کیوں نہ ہو۔
” عیشل جاؤ، اسکول کو لیٹ ہو رہی ہو ”
تابعہ نے عیشل کی طرف رخ کر کے کہا تو وہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگی تھی جبکہ تابعہ پھر سے مائزہ کو دیکھنے لگی، بیٹی کی یہ حالت دیکھ کے، دل جیسے گہری کھائی میں گرا تھا لیکن وہ خاموش کھڑی رہی، مائزہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان کے قریب آئی تھی اور ان کے مقابل وہ بکھری بکھری سی نیچے گر کے بیٹھی تھی، ان کے پاؤں پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھ کے وہ بلک پڑی تھی۔
” مجھے بچا لیں مما ۔۔۔ مجھے بچا لیں ”
وہ ماں تھی، وقاص ملک کی کوتاہیوں اور بیوفائی سے وہ جتنی سخت طبیعت کی بنی تھی، لیکن پھر بھی وہ وقاص ملک کی ہی نہیں بلکہ اس کی بھی تو اولاد تھی، اس کی کوکھ سے جنم لینے والی بچی۔ تابعہ تڑپ کے نیچے بیٹھی تھی اور اپنی بیٹی کو گلے سے لگایا تھا جبکہ مائزہ کے رونے میں شدت آئی تھی کہ اس نے رو رو کے پورا گھر جیسے سر پہ اٹھا لیا تھا، کتنی فریاد تھی اس کی آواز میں، کتنا درد پنہاں تھا اس کے رونے میں، تابعہ سمجھ رہی تھی، پڑھ رہی تھی اس کی فریاد کو، سن رہی تھی اس کی آہ کو۔
” مما ۔۔۔۔۔ مما ۔۔۔۔ ”
روتے ہوئے وہ بار بار یہی کہہ رہی تھی جبکہ تابعہ خود پہ ضبط کرتی، اسے خود سے الگ کر کے، اس کے دونوں ہاتھ تھام کے، اسے دیکھنے لگی ۔ وہ کس قدر بدل گئی تھی، اس کی متورم آنکھیں ویران پڑ چکی تھی، اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ چکے تھے اور اس کی رنگت زرد پڑ چکی تھی، تابعہ تڑپ ہی گئی۔
” کس نے یہ حالت کی ہے تمہاری میری بچی ؟”
” اس خاندان کے سارے مرد ایک جیسے ہیں مما، میں ہی دھوکا کھا گئی، ازمائر کی باتوں میں آ کے، میں نے سب برباد کر دیا، وہ درندہ ہے مما، مجھے ڈر لگتا ہے اس سے، مجھے بچا لیں اس سے مما، میری عزت بچا لیں مما، اپنی اس نافرمان بیٹی کو بچا لیں مما پلیز ”
تابعہ نے اسے خود سے لگایا تھا، کس قدر آنکھیں بند تھی اس ماں کی، کہ اپنی بیٹی کی حالت سے باخبر نہ ہو سکی اور کتنے سنگدل اور پتھر انسان تھے اس گھر کے، کہ اس خاندان کی بیٹی کے لئے ڈھال نہ بن سکے لیکن اب انہیں خود ماں بننا تھا، خود کو مضبوط کرنا تھا، اپنی بیٹی کے لئے ڈھال بننا تھا۔ ڈاکٹر صدف نے یہی کہا تھا ان سے کہ خود سے شروع کرنا چاہیئے ایک عورت کو، اپنی عزت نفس کے لئے احترام کی قائل ہونی چاہئے ایک عورت کو، ایک ناکام مرد کھبی عورت کو اس کا مقام نہیں دلاتا، نہ وہ عورت کو اپنا حق لینے کی اجازت دیتا یے، عورت خود اپنا حق چھینے، اسے خود اپنے حقوق کے لئے مضبوط بننا چاہیے اگر ماں ہے تو اپنی بیٹیوں کے لئے ایک ڈھال بننا چاہئے، عورت کو مضبوط بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، جب تک کہ وہ خود اپنے لئے مانع نہ ہو۔ وہ مضبوط نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی، وہ کھبی اپنی بیٹی کو دوسری تابعہ نہیں بننے دے گی، وہ کھبی مائزہ کو کمزور نہیں ہونے دے گی وہ مائزہ کو مضبوط بنائے گی لیکن انہیں ابھی اس خاندان کے ہر فرد سے حساب بھی لینا تھا۔ مائزہ اس خاندان کی سگی بیٹی تھی اور اس سگی بیٹی سے، خاندان کے بزرگوں نے کیا سلوک کیا تو پھر چھوٹوں سے کیا گلہ۔
” تم میری بیٹی ہو، تمہیں میں کھبی دوسری تابعہ نہیں بننے دوں گی۔۔۔ ”
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤

Forced Marriage Novels

رومینس تھوڑا زیادہ ہو گیا آج کے ایپسوڈ میں، ۔۔۔ 👀
بس ایویں دل کر رہا تھا 🤭🤭😜😜😉😉
کیسا لگا ایپسوڈ؟؟؟ ضرور بتائیے گا 😊😊
تبصرہ کر دیا کریں۔۔۔ مجھے خوشی ہوتی ہے اور شکریہ ادا کرنا چاہوں گی اپنے ان ریڈرز کا، جو ہمیشہ میرے ساتھ رہتے آ رہے ہیں، ہر طرح کے سیچویشن میں میرا ساتھ دیتے رہے ہیں۔۔۔۔ چاہے میں نے ناول پوسٹ کیا یا نہیں، پھر بھی وہ الگ نہیں ہوئے کھبی مجھ سے۔۔
خوش رہیں ❤

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

One thought on “Ada e Ishq hn – Episode 06 & 07 Season 02

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *