Ada e Ishq hon – Episode 04 Season 02
#Novel_By_Malayeka_Rafi
#ادائے_عشق_ہوں
#ایپسوڈ_4
#Season_2
دھڑام کی آواز پہ ، اپنے کمرے میں سوتی عظمی کی آنکھ کھلی تھی، عجیب بھاری اواز بھی آئی تھی، جیسے بھاری اواز میں گالی دی گئی ہو ۔
” لو آ گیا اس گھر کا شرابی قماش بیٹا ”
منہ بنا کے کہتی وہ بیڈ پہ اٹھ بیٹھی تھی۔
” شادی بھی ہو گئی اس کی،بیوی تو عقل سے ہی پیدل ہو گئی ہے بیچاری اور اب بھی یہ قماش شراب پیتا، آدھی رات کو گھر آتا ہے، افف نہ سکون ہے اس گھر میں نہ نیند ”
بڑبڑاتی وہ بیڈ سے نیچے اتر کے دروازے تک گئی تھی تا کہ میران ارتضی ملک کی اچھی طرح سے لے سکے اور عارفین کی طرف بھی تین چار طنز کے نشتر چلائے لیکن کمرے سے باہر آنے پہ جو منظر اسے دیکھنے کو ملا اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی اور دل دھک سے رہ گیا۔ اس کا اپنا بیٹا ازمائر ارتضی ملک نشے میں دھت زمین پہ پڑا گالیاں دے رہا تھا جبکہ مائزہ اسے سہارا دینے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔
” ازمائر پلیز خاموش ہو جاؤ ، سب سو رہے ہیں ”
اپنے کمرے کے دروازے پہ کھڑے دشاب بھی حیران آنکھوں سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے جبکہ ازمائر اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے مائزہ کو غصے میں دیکھ رہا تھا۔
” تو میں کیا کروں اگر سب سو رہے ہیں، مجھے بھی سونا ہے ”
وہ وہیں لیٹنے لگا جبکہ مائزہ روہانسی ہو رہی تھی، بھیگی نظریں اوپر گئی جہاں میران لب بھینچے کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا، شرمندگی سے اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا، اسے اپنے کہے الفاظ یاد آئے تھے ۔
‘ اس شرابی کو کوئی نہیں پوچھتا، آدھی رات کو نشے میں کہاں سے آ رہا ہے ‘
اور میران کی سرخ ہوتی وہ آنکھیں، جب اس نے مائزہ کے الفاظ سنے تھے اور ابھی ، وہ شرمندگی سے نظریں چرا گئی اور اسی لمحے عارفین تیزی سے سیڑھیاں اتر کے نیچے آئی تھی، میران نے لب بھینچے اپنی ماں کو دیکھا تھا جنہیں ہر حالت میں اپنی مدد پہنچانے کا بےحد شوق رہتا تھا، سر جھٹک کے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
” ازمائر بیٹا، اٹھو بیٹا، روم میں چلتے ہیں ”
عارفین نے ازمائر کا بازو تھامتے کہا تھا، نظریں بھٹک کے اس کی سفید شرٹ کے کالر اور اس کی گردن پہ گئی جہاں لپ اسٹک کے نشان تھا، دل ڈوب سا گیا تھا ان کا، لیکن نظریں چرا کے وہ مائزہ کو دیکھنے لگی جو ازمائر خو دوسری طرف سے تھامے ہوئی تھی اور چہرے خفت سے حد درجہ سرخ ہو رہا تھا، دشاب سر جھٹک کے تیزی سے آگے بڑھے تھے اور ان کی مدد کرتے ازمائر کو کمرے میں لے جانے لگے۔
” ہائے مجھ بدبخت ماں کو یہ دن بھی دیکھنا تھا”
عظمی کا بین بجانے شروع ہو گیا تھا اچانک سے ۔ وہ تینوں ایکدوسرے کو دیکھ کے رہ گئے
” یہ سب اس چڑیل کی وجہ سے ہوا ہے جو میرا بیٹا یوں آدھی رات کو شراب میں دھت گھر آیا ۔ ”
ازمائر کو بیڈ پہ لٹاتے عارفین نے تاسف سے اس کی بات سنی تھی اور پھر دشاب کے ساتھ کمرے سے باہر نکلی تھی۔
” نکال باہر کرو اس لڑکی کو، تمہاری بھتیجی کا کیا دھرا ہے سب ”
عظمی دشاب کو دیکھتی کہنے لگی ۔
” بکواس بند کرو اور اپنے کمرے میں دفع ہو جاؤ ”
دشاب نے اسے آنکھیں دکھاتے، سخت لہجے میں کہا تھا لیکن وہ عظمی ہی کیا جس پہ اثر کرے، سر جھٹک کے نخوت سے اپنے کمرے میں جا کے دروازہ بند کیا تھا جبکہ دشاب عارفین کی طرف دیکھنے لگے جو سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔
” عارفین ”
انہوں نے تیزی سے انہیں اواز دی تھی وہ رک کے دشاب کو دیکھنے لگی۔
” تھینک یو ”
مسکرانے کی کوشش کرتے وہ کہنے لگے، انہیں یاد تھا کہ میران یہاں کتنی بار نشے میں دھت گرا تھا لیکن انہوں نے ایک باپ بن کے، کھبی آگے بڑھ کے میران کو سہارا نہیں دیا تھا اور آج عارفین نے ، وہ سوچ کے رہ گئے بس۔
” کوئی بات نہیں ”
عارفین اپنی بات کہہ کے سیڑھیاں چڑھ گئی تھی جبکہ دشاب وہیں صوفے پہ بیٹھ کے، دیر تک ایک ہی نقطے کو گھورتے رہے، ان کا گھر شاید برباد ہو رہا تھا، میران تو اب بھی ان سے کھنچا کھنچا سا رہتا تھا جبکہ ازمائر نے ان سے بات کرنا ہی بند کر دیا تھا اور اب وہ یوں شراب بھی پینے لگا تھا۔ انہوں نے اپنی کنپٹی سہلائی تھی کہ نیند اڑ چکی تھی اب۔ سوچوں کا تسلسل سا بنتا جا رہا تھا جو ان کے دماغ کو جکڑ رہا تھا۔ وہ بس آہ بھر کے رہ گئے ۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
یونیورسٹی جانے کے لئے تیار ہوتی آبگینے ہاتھ روک کے اپنا موبائل دیکھنے لگی جہاں شازم کا میسج چمک رہا تھا، گہرا سانس لیتی وہ واٹس ایپ اس کا میسج کھول چکی تھی لیکن لمحہ بھر میں اس کی آنکھیں ساکت رہ گئی تھی ۔
‘ مجھے لگا کہ شاید اب تمہارا پوائنٹ آف ویو میرے بارے میں بدل گیا ہوگا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، میری خوش فہمی ہی رہی بس کہ کھبی تو تم بھی یہ confess کرو گی کہ تم بھی میرا ساتھ چاہتی ہو، خیر تم خوش رہو بس، یہی میرے لئے کافی ہے، میں جا رہا واپس کینیڈا، at least وہاں روز تمہیں دیکھ کے ہرٹ ہونے سے تو بچ جاؤں گا’
لب بھینچ کے اس نے کھڑکی سے نظر آتے اس بنگلے کو گھور کے دیکھا تھا۔
” بدتمیز انسان ”
دانت کچکچاتی وہ اپنا بیگ سنبھالتی جانے کے لئے مڑی تھی کہ اسے جلد سے جلد اس سرپھرے انسان سے ملنا تھا تبھی ناشتے کے ٹیبل کی طرف دیکھے بنا ہی آگے بڑھ گئی ۔
” آبگینے ناشتہ تو کرو ”
امامہ اسے دیکھتے پکار بیٹھی ۔
” بعد میں مما ”
آبگینے جواب دیتی تیزی سے گھر سے نکل گئی تھی جبکہ امامہ نے اس بند دروازے کو تاسف سے دیکھا تھا ۔
” عجیب خبطی لڑکی ہے ”
منہ ہی منہ بڑبڑاتی وہ گھڑی کو دیکھنے لگی جب شاہ نواز خان کی آواز پہ چونک پڑی تھی۔
” کون خبطی ہے بھئی ”
” آپ کی صاحبزادی، ناشتہ کیے بنا ہی جا رہی ہے”
امامہ نے منہ بنایا تھا جبکہ شاہ نواز خان اپنی کرسی سنبھال چکے تھے، میرب چائے لیے وہاں آئی تھی۔
” صبح بخیر بابا جان ”
” ارے صبح بخیر بیٹا ”
وہ بھی مسکرائے تھے جبکہ میرب ان دونوں کے لئے چائے بنانے لگی ۔
” آپ انسٹیٹیوٹ نہیں گئی ابھی تک ”
شاہ نواز خان پوچھنے لگے جبکہ میرب بھی اپنی کرسی سنبھالتی مسکرائی تھی۔
” جاؤں گی، آپ دونوں کے ساتھ مل کے ناشتہ تو کروں ”
” دیکھ رہے ہیں آپ، ماشاءاللہ کتنی پیاری بچی ہے ہماری میرب، اور ایک آپ کی صاحبزادی ہے، سنتی ہی کہاں ہے وہ کسی کی ”
امامہ اب بھی تاسف سے سر ہلا رہی تھی جبکہ شاہ نواز خان مسکرائے تھے۔
” عادتیں ہر ایک کی مختلف ہوتی ہے امامہ بیگم، بھوک ہوتی اسے تو ناشتہ کر کے جاتی ”
” گڈ مارننگ ”
پریشے بھی بیگ کندھے سے اتار کے، صوفے پہ رکھتی وہیں آئی تھی۔
” گڈ مارننگ ”
تینوں نے ایک ساتھ جواب دیا تھا جبکہ پریشے اپنے لئے ناشتہ بنانے لگی، امامہ نے ایک آہ بھر کے اپنی جوان بیٹی کو دیکھا تھا، جس کے نصیب میں نہ جانے کیا تھا کہ ہر رشتہ اس کے لئے رد ہو جاتا۔ خوبصورت بھی تھی، ڈاکٹر بھی تھی، پھر بھی کیا وجہ تھی کہ اس کا نصیب جیسے سو سا گیا تھا، گہرا سانس لیتی امامہ چائے کا کپ لبوں سے لگا گئی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” اے بدتمیز پولیٹیشن ”
اتنے ہجوم کے بیچ میں بھی شازم نے اس کی آواز سن لی تھی اور تبھی رک کے حیرت سے پیچھے مڑ کے دیکھا تھا جہاں آبگینے کڑے تیور لیے کھڑی اسے گھور رہی تھی۔ حیرت اب خوشگواریت میں تبدیل ہو رہی تھی اور تبھی ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔
” بہت شوق ہے ناں، ایموشنل میسج لکھ کے بلیک میل کرنے کا ”
وہ پھر سے تیز آواز میں بولی ، جبکہ ارد گرد چلتے پھرتے لوگ رک کے، ایک نظر اسے دیکھ کے آگے بڑھ جاتے اور شازم زیر لب مسکراتا اسے دیکھنے لگا۔
” میں کینیڈا جا رہا ہوں ”
اس کی کاپی کرتی اس لمحے وہ شازم کو بےحد کیوٹ لگی تھی۔
” جانا ہے ناں کینیڈا؟؟ تو جاؤ، منہ پھاڑ کے کہنے کی کیا تک بنتی ہے بھئی ؟؟ ہاں تو تماشا لگانا ہے، ہے نا، تا کہ میں آؤں تمہیں جانے سے روکنے کے لئے منتیں کروں اور تم احسان کر کے رک جاؤ، ہے نا ؟”
شازم بنا کچھ کہے مسکراتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” لیکن میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی، تم جاؤ اور شوق سے جاؤ، میں تمہیں اللہ حافظ کہنے آئی تھی، اب بائے ”
اپنی چھوٹی سے ناک چڑھا کے کہتی وہ جانے کے لئے مڑی تھی۔
“ایسے کون سی آف کرتا ہے ؟”
وہ جو آبگینے کی طرف سے کسی نرمی کا منتظر بھی نہیں تھا،کیونکہ وہ جانتا تھا آبگینے کو۔ آبگینے مڑ کے اسے دیکھنے لگی۔
” تو کیا لگتا ہے تمہیں؟؟ بلیک میل کرو گے اور میں آ کے تمہیں ستر توپوں کی سلامی دوں گی ”
شازم بےاختیار ہنس پڑا تھا اور پھر قدم اٹھاتا آبگینے کے قریب آ کے، اس کے سامنے رکا تھا۔
” اگر رکنے کو کہو گی تو رک جاؤں گا، اس بات کی گارنٹی دیتا ہوں میں ”
آنکھوں میں شوق الفت لیے وہ آبگینے کو دیکھ رہا تھا اور آبگینے نظریں چرا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
” مجھے کوئی شوق نہیں تمہیں روکنے کا، جلدی سے جاؤ ہم سب کو سکون کی تلاش ہے ”
” سکون تو میں ہوں تمہارا ”
گھمبیر لہجے میں کہتا وہ شاید خود کو کسی فلم کا ہیرو سمجھ رہا تھا، آبگینے نے گھور کے اسے دیکھا تھا اور ساتھ ہی اس کی کندھے پہ ایک گھونسا بھی پڑا تھا آبگینے کا، جبکہ شازم اپنے کندھا سہلانے لگا۔
” پاگل واگل تو نہیں ہو گئی تم، کندھا توڑ دیا میرا ”
” ابھی کہاں، زیادہ ڈائیلاگ مارو گیں تو گردن بھی توڑ دوں گی، جاؤ اب”
گھوریاں عروج پہ تھی، شازم نے اپنا کندھا جھٹکا تھا۔
” چلو جا رہا ہوں میں، اپنا خیال رکھنا اور میرے آنے تک خود کو سنبھال کے رکھنا میرے لئے، تمہیں امانت سونپ رہا ہوں میں آبگینے کو ”
آواز میں بوجھل پن تھا، آبگینے اسے دیکھے گئی ، شازم ہلکا سا مسکرایا تھا، اور ہاتھ الوداعی انداز میں اٹھا کے وہ قدم قدم پیچھے جانے لگا۔ ابگینے کو اس لمحے لگا جیسے دل ڈوبنے لگا ہو اس کا، شازم جا رہا تھا اور اب روز ملاقات بھی نہیں ہو پائے گی، نہ روز شازم اسے تنگ کرے گا ۔ وہ دیکھ رہی تھی، شازم مڑا تھا آگے بڑھنے کے لئے اور تبھی اس کی پشت کو دیکھتی آبگینے چلائی تھی۔
” شازم ”
وہ رکا تھا اور آبگینے کو دیکھنے لگا، جبکہ آبگینے نے الوداعی انداز میں ہاتھ ہلایا تھا،
” اپنا خیال رکھنا اور وہاں کی لڑکیوں سے 10 فٹ کا فاصلہ رکھنا، ورنہ گردن توڑ دوں گی تمہارا ”
شازم ہنسا تھا جبکہ آبگینے بھی مسکرانے لگی، وہ اب مڑ کے جا رہا تھا اور آبگینے اسے جاتا دیکھتی رہی، جب تک کہ وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہوا۔ گہرا سانس لیتی وہ بھی ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھی تھی۔
” بورنگ لائف شروع ہو چکی ہے آبگینے بہن، اپنے کام پہ لگو اب”
خود سے ہمکلام ہوتی وہ منہ بسور کے ایئرپورٹ سے باہر نکلی تھی۔
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
” عیشل تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟”
وہ جو لان میں صبح صبح تازہ ہوا لینے آئی تھی جب اس کی نظر عیشل پہ پڑی جو پودوں کے بیچ چھپنے کی کوشش کر رہی تھی، سماہر کی آواز پہ وہ تقریبا چیخ ہی پڑی تھی۔
” کیا ہوا ہے ؟؟”
سماہر اس کی حالت پہ پریشان ہوتی پھر سے پوچھنے لگی جبکہ وہ پودوں کے بیچ سے نکل کے سماہر کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی، ایک سہمی نظر اس نے لان کے دوسری طرف موجود بنگلے پہ ڈالی تھی اور نظریں پھیر کے پھر سے سماہر کو دیکھنے لگی۔
” آ ۔۔۔۔ پی، آپ کہاں تھی؟”
ڈرتے ڈرتے سوال کرتی وہ سماہر کو بےحد خوفزدہ نظر آ رہی تھی۔
” ارے سماہر تم یہاں، واؤ ”
ازمائر کی خوشگوار آواز ابھری تھی اور وہ دونوں ازمائر کو دیکھنے لگے جبکہ ازمائر مسکراتا اس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا اور نظر بھر کے سماہر کے دلکش چہرے کو دیکھنے لگا۔
” بہت پیاری لگ رہی ہو ”
سماہر نظریں چرا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی جب ازمائر نے ہاتھ بڑھا کے اس کے چہرے کو چھوا تھا اور وہ بدک کے پیچھے ہوئی تھی، آنکھوں میں اب کے اجنبیت تھی، اس کی سوالیہ نظروں کے جواب میں ازمائر مسکرایا تھا۔
” تمہیں یاد ہے سماہر، جب تم نے مجھ سے یہ اعتراف کیا تھا کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو ؟؟”
سماہر کی آنکھوں میں اب کے حیرت ابھری تھی۔
” تمہیں کچھ نہیں یاد ؟؟ جب میں نے تم سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اور تم سے شادی کرنا چاہا تھا، تب تم نے بھی مجھ سے اعتراف محبت کیا تھا اور سماہر، ہم نے بےحد خوبصورت لمحے ساتھ میں گزارے ہیں، لیکن وہ سب یادیں بن کے رہ گئی جب میران نے زبردستی تم سے شادی کر کے، تمہیں مجھ سے ہمیشہ کے لئے چھین لیا”
بات کرتے ازمائر کی آنکھوں میں میران کا سوچ کے ہی نفرت ابھری تھی لیکن وہ سر جھٹک کے لب بھینچ سماہر کو دیکھنے لگا۔
” تمہیں کچھ تو یاد ہوگا ہمارے بارے میں سماہر؟”
بےحد آہستگی سے اس کا ہاتھ تھام کے، ازمائر اس کی آنکھوں میں دیکھتا سوال کرنے لگا جبکہ وہ الجھی نظروں سے ازمائر کو دیکھ رہی تھی لیکن اس کا ذہن مکمل خالی تھا، جہاں کوئی تصویر نہیں تھی، کوئی عکس نہیں تھا۔
” مجھے کچھ یاد نہیں ہے ”
” تمہیں یہ یاد ہے کہ تم میران کی گولی کا نشانہ بن کے نیچے گری تھی ”
سماہر کے لب حیرت سے نیم وا ہوئے تھے جبکہ ازمائر کو لگا کہ تیر نشانے پہ لگا ہے، تبھی دل ہی دل میں مسکرایا تھا وہ۔
” تمہیں کچھ یاد نہیں ہے سماہر، نہ میں، نہ ہماری محبت، نہ ہمارے promises، نہ ہمارے بیچ گزرے وہ لمحے، جب ہم ایکدوسرے کے قریب تھے اور نہ یہ کہ ۔۔۔۔ ”
وہ لب بھینچ کے رکا تھا جبکہ سماہر نم آنکھوں سے لب کاٹتی اسے دیکھ رہی تھی۔
” یہاں سب مونسٹرز ہیں، سب نے مل کے تمہیں مجھ سے الگ کر دیا”
” سماہر ۔۔۔ ”
میران کی خوفزدہ اواز پہ سماہر نے مڑ کے دیکھا تھا جبکہ آنکھیں بند کر کے ازمائر نے لب بھینچ کے اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کی تھی۔
” تم یہاں کب آئی؟؟”
وہ سماہر کے قریب آ چکا تھا اور اس کا ہاتھ تھام کے،اسے خود سے لگاتا، وہ ایک سخت نظر سر سے پاؤں تک ازمائر پہ ڈالی تھی جو کندھے اچکا کے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ میران سماہر کو لیے اندر کی طرف بڑھا تھا جبکہ سماہر نے پیچھے مڑ کے ازمائر کو دیکھا تھا جو اسے ہی مسکرا کے دیکھ رہا تھا اور پھر مڑ کے، اپنے ساتھ چلتے میران کو دیکھنے لگی، دماغ سن تھا، ذہن خالی، کون ہے اس کے ساتھ چلنے والا یہ شخص، پیچھے کھڑا وہ شخص کون ہے ؟؟ اور وہ ؟؟ وہ خود کون ہے ؟؟
وہ اچانک بدک کے الگ ہوئی تھی میران سے۔
” م۔۔۔ میں خود چل سکتی ہوں ”
نظریں چرا کے جواب دیتی وہ آگے بڑھی تھی جب اس کے سامنے وقاص ملک آ رکے تھے۔
” سماہر، کیسی ہو بیٹا؟”
انہوں نے آگے بڑھ کے سماہر کے سر پہ ہاتھ رکھنا چاہا لیکن وہ بدک کے پیچھے ہوئی تھی، اس کے آگے تارے سے ناچ رہے تھے، سب گڈمڈ ہو رہا تھا، خالی ذہن جیسے اسے نوچ رہا تھا، یہ کون سی جگہ ہے ؟ وہ خود کون ہے ؟ اس کے گرد موجود انسان کون ہیں؟؟ بھیڑیے؟؟ یا پھر اس کے دشمن؟؟
” سماہر ”
میران تیزی سے آگے بڑھا تھا اسے تھامنے کے لئے، لیکن وہ میران سے دور ہوئی تھی، پورا گھر گھوم رہا تھا جبکہ وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
” یہ ۔۔۔ یہ سب کون ہیں؟؟ یہ ۔۔۔ یہ جگہ ؟؟؟ ”
” سماہر پلیز لسن”
میران نے کہنے کی کوشش کی اور ساتھ میں اسے تھامنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب سماہر نے اس کے ہاتھ جھٹک دئیے ۔
” کون ہو تم ؟؟”
وہ حلق کے بل چلائی تھی۔
” ک ۔۔۔ کون ؟؟”
ازمائر بھی ان کے قریب آیا تھا، سماہر اسے دیکھنے لگی۔
” میران تم پہ گولیاں چلا چکا ہے ”
اسے ازمائر کے کہے الفاظ یاد آئے تھے ۔
” یہاں سب مونسٹر ہیں ”
وہ تیزی سے بھاگی تھی، لیکن لاؤنج میں پہنچ کے وہ چاروں طرف اجنبی نظروں سے دیکھنے لگی۔ سب دھندلا رہا تھا۔
” م ۔۔۔ میں ک ۔۔۔ کہاں ہوں؟؟ م ۔۔۔ میرا گھر ک ۔۔۔ کہاں ہے ؟؟ م ۔۔۔ م ۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ میں ”
وہ جیسے رونے لگی تھی۔
” سماہر ۔۔۔ ”
میران نے پھر سے اسے بلانے کی کوشش کی لیکن وہ اجنبی آنکھیں، میران کا دل کٹ سا گیا تھا۔
” م ۔۔۔ مونسٹر ۔۔ ”
ازمائر زیر لب مسکرایا تھا کیونکہ سماہر میران کو مونسٹر کہہ رہی تھی اور پھر وہ سیڑھیوں کی طرف بھاگی تھی، لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ بالکونی میں جا کے خود خو بند کر گئی تھی۔
” سماہر ”
میران چلایا تھا لیکن سماہر بند دروازے کے ساتھ لگ کے بیٹھی نیچے دیکھ رہی تھی اور یہاں میران کا دل کانپ رہا تھا کہ کہیں وہ خود کو نیچے نہ پھینک دے۔
” میری بیٹی کو کیا ہو گیا ہے”
وقاص اپنا سر پکڑ کے بیٹھ گئے تھے، ازمائر لب بھینچے شیشے کے پار اس نازک وجود کو دیکھ رہا تھا جبکہ میران کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا
🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤🖤
Forced Marriage Novels
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕