Nikah e Taqdeer By Sadz Hassan Novel20429
Nikah e Taqdeer By Sadz Hassan
Rude hero | Forced Marriage | Romantic Novel | Complete Novel
ابا جان اب مجھ پر حکم کریں بتائیں میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں آج تک اپ نے مجھ سے اس طرح سے کوئی بات نہیں کی تو پھر آپ آج کیوں مجھ سے اجازت لے رہے ہیں تب علی کے والد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں تم میری بھانجی حیا سے نکاح کر لو تاکہ میری بہن کو سکون مل جائے اور ان لوگوں کی عزت بھی بچ جائے جو کام ان لوگوں کے ساتھ نوید نے کیا ہے وہ بہت عجیب و غریب ہے اگر آج ہے کہ رخصتی نہ ہوئی تو میری بہن ٹوٹ کر بکھر جائے گی میں اس کا بھائی ہوں اور کسی بھی صورت اپنی بہن کو ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا میں چاہتا ہوں کہ تم ابھی اسی وقت میری بھانجی کے ساتھ نکاح کر لو جیسے ہی علی نے اپنے والد کے منہ سے یہ سب کچھ سنا تو وہ وہیں جم کر رہ گیا اس کو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے الفاظ ختم ہو چکے ہیں خاموشی کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا لیکن اس کی آنکھیں نم ہو چکی تھی وہ اپنے والد کو حقیقت بتانا چاہتا تھا لیکن اب اس کے پاس والد کے ہاں میں ہاں ملانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا وہ چاہتا تھا کہ اپنے والد کو اپنی محبوبہ کے بارے میں بتائے جس سے وہ بے انتہا محبت کرتا ہے لیکن وہ کچھ نہ کر سکا شدید غصے میں تھا کیونکہ یہ سب کچھ حیا کی وجہ سے ہو رہا تھا علی اس سب کا ذمہ دار حیا کو سمجھتا تھا لیکن حیا نے کچھ بھی نہ کیا تھا اس کے برعکس جب حیا کی والدہ نے اس کو علی کے ساتھ ہونے والے نکاح کی خبر دی تو وہ چونک گئی یہاں تک کہ اس کی آنکھیں نم ہو گئی اس کی ماں اس کو یہ خبر دے کر چلی گئی لیکن حیا وہیں کی وہیں رہ گئی وہ سوچنے لگی کہ میں علی کے ساتھ اپنی ساری زندگی کیسے گزاروں گی میں تو اس کو اپنا بڑا بھائی سمجھتی تھی وہ شخص جو پورے خاندان پر رعب جھاڑتا ہے اور کسی سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا ایسے انسان کے ساتھ تو میں اپنا وقت کیسے گزاروں گی نہ جانے علی میرے ساتھ کیا کرے گا کہ میں جانتی ہوں کہ یہ شادی زبردستی ہو رہی ہے علی امریکہ سے آیا ہے اور وہاں کا ماحول بھی میں اچھی طرح جانتی ہوں وہ کبھی بھی مجھے قبول نہیں کرے گا میرے والدین نے یہ سب کچھ کیوں مانا حالانکہ علی کو چاہے وہ انکار کر دے میں ایک عام سی لڑکی ہوں اور وہ امریکہ سے پڑھا ہوا لڑکا ہے نہ جانے اس کے وہاں پر کتنی دوستیں ہوں گی اور کن کن لڑکیوں کے ساتھ اس کے تعلقات ہوں گے تو پھر وہ مجھ سے شادی کیسے کر سکتا ہے حیا دلہن بنی یہی سب کچھ سوچ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ علی بہت سخت مزاج ہے شادی سے پہلے بھی وہ حیا پر پردہ کرنے کے پابندی کرتا رہتا تھا اور کئی قسم کی پابندیاں لگاتا تھا ابھی حیا یہی سب کچھ سوچ رہی تھی کہ اچانک نکاح خواں آگیا اور اس نے پوچھا کہ حیا احمد بنت احمد منظور کیا آپ کو ایک لاکھ حق مہر میں علی سلیم بنت سلیم فاروق سے نکاح قبول ہے حیا بالکل خاموش تھی مولوی صاحب نے دوسری بار جب یہی پوچھا کیا تو ہے کہ حیا کی ماں آگے بڑھ کر کہنے لگی کہ بیٹا گھبرانے کی ضرورت نہیں یہ سب کچھ تمہارے مامو نے ہی کیا ہے آج علی نے ہماری عزت کو خاک میں ملنے سے بچا لیا ہے جلدی تم ہاں بول دو تاکہ یہ سب کچھ بہت جلدی ہو جائے حیا بہت مجبور ہو چکی تھی ہاں کرنے کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا اپنے والدین کو جب اس نے پریشانی کے عالم میں دیکھا تو اس نے فورا ہاں بول دی اس طرح ان دونوں کا نکاح ہو گیا حیا نے نکاح تو قبول کر لیا تھا لیکن وہ ایک گہری سوچ میں گم ہو چکی تھی اور وہ یہ سوچ رہی تھی کہ نہ جانے میرے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے کیا علی مجھے سچے دل سے قبول کرے گا یا پھر مجھے عبرت کا نشانہ بنا دے گا کیونکہ میں جانتی ہوں کہ علی کبھی بھی ان چیزوں کی قدر نہیں کرتا جو اس پر زبردستی مسلط کی گئی ہوں علی کی نظر میں زبردستی کی چیزوں کی اہمیت نہ ہوتی تھی اور زبردستی کے رشتوں کی ذرا قدر نہ ہوتی تھی اور میں بھی اب علی کی زندگی میں زبردستی شامل کی گئی تھی شاید اس حادثے نے مامو جان کو ہم پر ترس کھانے پر مجبور کر دیا ورنہ میں کئی عرصہ سے ان کی نظر میں تھی وہ چاہتے تو میرا رشتہ مانگ سکتے تھے اور اپنے بیٹے سے میرا نکاح کر سکتے تھے آج تک انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی میں جانتی تھی کہ وہ مجھ سے بے انتہا محبت کرتے تھے مجھے اپنی بیٹی کہہ کر بلاتے تھے اور اماں جان کی بھی بہت قدر کرتے تھے لیکن آج تک انہوں نے مجھے بہو بنانے کے بارے میں کبھی بھی کوئی بات نہ کی تھی کیونکہ علی امریکہ میں پڑھتا تھا اور یقینا وہ وہاں پر جس ماحول میں ہے کسی کو پسند ضرور کرتا ہوگا شاید اسی لیے میرے مامو اس پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن آج وقت اور ماحول نے ان کو مجبور کر دیا تھا اور رخصتی کا وقت آگیا رخصتی کے وقت مجھے بہت رونا آیا کیونکہ میں ڈر چکی تھی علی کے خوف اور رب نے میرے دل کے اندر کئی وہم پیدا کر دیے تھے

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕