Mehkoom e Ishq Novel21024
Mehkoom e Ishq Novel21024
Romantic Urdu Novels | Forced Marriage | Revenge Marriage | Haveli Based | Shah Hero | Innocent Heroine | Rich Hero Poor Heroine | Family Drama | After Marriage | Suspense

Mehkoom e Ishq Haider Shah aur Mehral ki forced nikah, revenge aur haveli based emotional Urdu story hai.
جس جرم کا مہرال نے سوچا تک نہیں تھا۔۔۔اسی کی سزا اسے حیدر شاہ کی بیوی بن کر بھگتنی تھی!
حیدر نے سب کے سامنے کہا: “اسے چادر اڑھاؤ۔۔۔میں اسے اپنے نکاح میں لوں گا۔ اپنے کیے کی قیمت اب یہ خود ادا کرے گی!”
وہ تہہ خانے میں خوف سے روتی ایک اندھیرے کونے میں بیٹھی اپنی موت کی دعا کر رہی تھی کیونکہ جانتی تھی اس کے ساتھ بد ترین سلوک کیا جائے گا۔ وہ شاہ حویلی میں ملازمہ لگی تھی اور اسے حیدر شاہ کی منگیتر کی خدمت کے لیے رکھا گیا تھا پر شادی سے پہلے ہی حیدر شاہ کی منگیتر بھاگ گئی تھی اور الزام اس معصوم پر آیا تھا۔ جب اچانک تہہ خانے کا دروازہ کھلا اور اس کے منہ پر تیز روشنی پڑی۔ ” صاحب یہی لڑکی ہے جس نے دلہن بی بی کو بھگایا ہے۔ ” ملازمہ کے کہنے پر وہ خوف سے روتے نفی میں سر ہلانے لگی۔ ” پلیز! میرا یقین کریں، میں نے کسی کو نہیں بھگایا۔ ” وہ گڑگڑائی پر کچھ دیر بعد ہی دلہن کی چادر اس کے سر پر ڈالی گئی اور۔۔۔
وہ نڈھال سی تہہ خانے کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے اس گناہ کی اتنی بڑی سزا کیوں دی گئی جو اس نے کیا بھی نہیں تھا۔۔جس حویلی میں وہ ملازمہ تھی اسی حویلی کے اکلوتے چشم و چراغ حیدر شاہ کی ہونے والی دلہن ثمرینہ کو بھگانے کا الزام لگا تھا اس پر۔وہ سخت حیران تھی ثمرینہ تو بہت خوش تھی پھر ناجانے کیوں وہ راتوں رات خاموشی سے چلی گئی اور الزام اس پر آ گیا کہ اسی نے حیدر شاہ کے خلاف بھڑکا کر اسے بھگایا ہے جبکہ ایسا کرنا تو دور ایسی کوئی سوچ بھی اس کے وہم و گمان میں نہیں تھی۔اس کا بس یہی قصور تھا کہ اسے ثمرینہ کی خدمت پر مامور کیا گیا تھا۔ثمرینہ کے بھاگنے کے بعد یہ الزام ثروت شاہ نے اس پر لگایا تھا جو حیدر شاہ کی چچی تھیں ناجانے وہ اس سے اتنی پرخاش کیوں رکھتی تھیں یہ بات اسے سمجھ نہیں آتی تھی۔۔دوپہر سے شام اور شام سے رات ہو گئی۔۔۔ لیکن تہہ خانے کے نیم اندھیرے میں اسے وقت کا کوئی اندازہ نہیں تھا بس یوں لگ رہا تھا صدیاں بیت گئی ہوں پیاس سے حلق سوکھ گیا تھا۔فرش پر بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گئی تھی بڑی مشکل سے اکڑے ہوئے وجود کو سبھالتے وہ ٹھنڈے فرش پر لیٹ گئی تھی۔آنکھیں جو رو رو کر خشک ہو چکی تھیں۔ایک بار پھر سے برسنے لگیں۔۔اسی وقت تہہ کا دروازہ کھلا اور روشنی کی لکیر اندر آئی۔۔اس نے لیٹے لیٹے ہی دیکھنے کی کوشش کی کیونکہ اٹھنے کی ہمت نہیں تھی۔ٹارچ کی روشنی میں اندر آنے والی زبیدہ تھی جس کے ہاتھوں میں کھانے کی ٹرے اور کندھے پر پرانا کھیس تھا۔ٹرے اور کھیس اس نے اس کے قریب پھینکا اور کرخت لہجے میں کھانے کا کہتے ٹرے وہیں رکھتے تہہ خانے سے نکل گئی۔وہ بمشکل اٹھی ٹرے میں رکھا پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک ہی سانس میں پی گئی۔۔۔۔۔پانی پینے کے بعد وہ وہیں گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگی۔
قاسم شاہ کی حویلی میں ماتم کا سا منظر تھا۔ کچھ روز قبل یہاں ڈھول کی تھاپ پر خوشی کے شادیانے بج رہے تھے حویلی دلہن کی طرح سجی ہوئی تھی۔در و دیوار پھولوں کی خوشبو سے مہک رہے تھے۔مگر آج حویلی کا منظر ہی بدلا ہوا تھا۔۔۔وجہ تھی حویلی کے اکلوتے وارث حیدر شاہ کی ہونے والی دلہن کا شادی سے ایک دن قبل راتوں رات حویلی سے فرار ہو جانا۔حویلی کے تمام مکین اس وقت ہال میں جمع تھے۔سب کے چہروں پر غم و غصے کے تاثرات تھے مگر حیدر شاہ کا چہرہ یوں سرد و سپاٹ تھا جیسے کوئی طوفان اپنے اندر دبائے کھڑا ہوا۔البتہ بھوری مغرور آنکھوں میں عجیب سی آگ دہکتی نظر آ رہی تھی۔قاسم شاہ جو اس کے دادا تھے سب سے زیادہ غم و غصہ ان کے چہرے پر تھا۔۔تایا سلمان شاہ کے چہرے پر بھی غصے اور افسوس کے ملے جلے تاثرات تھے مگر تائی ثروت شاہ کے چہرے پر چھائے دکھ کے تاثرات مصنوعی معلوم ہو رہے تھے۔آنکھوں میں ایسا سکون ایسی طمانیت جھلک رہی تھی گویا انہیں اس سب سے خوشی ملی ہو۔حیدر شاہ ان کی دلی کیفیت سے اچھی طرح واقف تھا مگر وہ اس بات سے بے خبر تھیں۔سب کی نظریں ہال کے کونے میں کھڑی مہرال پر تھیں جو اس حویلی کے خاص ملازم مختار احمد کی بیٹی تھی۔اٹھارہ سالہ مہرال کا معصومیت بھرا دلکش چہرہ رو رو کر سرخ ہو رہا تھا۔خوبصورت بڑی بڑی آنکھوں میں بے بسی کے ساتھ خوف بھی تھا۔نازک وجود کپکپاہٹ کا شکار تھا۔جبکہ ساتھ کھڑا اس کا ادھیڑ عمر باپ مختار احمد فق چہرے کے ساتھ شدید پریشان نظر آ رہا تھا۔
“حیدر شاہ ہم نے تمہیں کہا بھی تھا دیکھ بھال کر لڑکی چننا۔۔۔۔خاندان میں کتنی ہی اچھی لڑکیاں موجود تھیں مگر تم نے ہماری بات کو نظر انداز کر کے شہر کی لڑکی کو چنا اور دیکھا کیا کر گئی وہ۔۔خاندان بھر میں بلکہ پورے گاؤں کے سامنے ہماری عزت خاک میں ملا گئی”سفید کلف لگے سوٹ اور پگڑی پہنے کرسی پر بیٹھے ستر پچھتر سالہ قاسم شاہ نے برہمی سے حیدر شاہ سے کہا تو وہ شرمندہ نظر آنے لگا۔۔۔۔
“دادا جان مجھے کیا پتہ تھا وہ ایسا کرے گی اور اس کا اس میں کوئی زیادہ قصور نہیں سارا قصور اس کا ہے جس نے اسے میرے خلاف غلط باتیں بول کر بدظن کیا ورنہ ثمرینہ ایسی لڑکی نہیں تھی جو خوامخواہ میں مجھے دھوکہ دے کر بھاگ جاتی”حیدر شاہ نے شرمندہ سے لہجے میں وضاحت دی۔۔۔
“ارے اسے اگر تمہارے بارے میں غلط باتیں بول کر بدظن کیا گیا تھا تو یوں راتوں رات بھاگنے کے بجائے ہمارے پاس آتی ہم سے پوچھتی ہم اس کی غلط فہمی دور کرتے “
قاسم شاہ کو سخت رنج تھا۔اس کے اکلوتے پوتے کی دلہن بھاگی تھی آخر۔۔۔
حیدر شاہ خاموش رہا۔۔۔
قاسم شاہ نے آگ برساتی نظروں سے مختار احمد کی بیٹی مہرال کی طرف دیکھا۔۔۔۔
“اے لڑکی تم نے ایسا کیوں کیا۔۔؟؟کیوں نمک حرامی کی کون سا بدلہ لیا ہم سے؟”قاسم شاہ کے گرجتے لہجے میں کیے گئے سوال پر مہرال تو سہم کر خوفزدہ نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی البتہ مختار احمد حیدر شاہ کے سامنے ہاتھ جوڑ گیا کیونکہ اگر ان کی بیٹی کو کوئی سزا سے بچا سکتا تھا تو وہ صرف حیدر شاہ ہی تھا قاسم شاہ اور سلمان شاہ سے اسے رحم کی کوئی امید نہیں تھی۔۔۔مگر اسے نہیں معلوم تھا آج تو حیدر شاہ بھی ہرگز رحم نہیں کرنے والا تھا۔۔۔
“چھوٹے شاہ صاحب میری بیٹی معصوم ہے نا سمجھ ہے وہ ایسی حرکت نہیں کر سکتی اس پر لگایا گیا الزام غلط ہے”مختار احمد نے کوئی دسویں بار کا کہا گیا اپنا جملہ بے بسی بھرے لہجے میں پھر سے دہرایا۔۔
“جھوٹ بول رہا ہے یہ آدمی حیدر۔ اسی لڑکی نے ہی دلہن کو تمہارے خلاف بھڑکا کر بھگا دیا ہے۔میں نے تمہیں کچھ دن پہلے بتایا تھا نا یہ ثمرینہ کو تمہارے بارے میں غلط باتیں بول رہی تھی تب میں نے موقعے پر اسے رنگ ہاتھوں پکڑا تو معافی مانگ کر یہ بچ گئی تھی۔مجھے لگا تھا پھر ایسی حرکت نہیں کرے گی مگر اس نے کر دکھایا اب اسی کی وجہ سے حویلی کی عزت خراب ہوئی ہے یہ لڑکی سزا کی مستحق ہے”ثروت شاہ نے دونوں باپ بیٹی کو سخت نظروں سے گھورتے ہوئے حیدر شاہ سے کہا تو اس نے کونے میں کھڑی ہچکیوں کے ساتھ روتی مہرال کی طرف سرخ نگاہوں سے دیکھا اور لمحوں میں فیصلہ کیا۔۔۔۔
“سزا تو اسے ملے گی تائی جان”ثروت شاہ سے کہنے کے بعد اس نے مختار احمد کی طرف دیکھا۔۔۔
“مختار احمد تمہاری بیٹی نے ہی میری ہونے والی بیوی کو بھگایا ہے۔اسے چادر اڑھاؤ میں اسے اپنے نکاح میں لوں گا۔اپنے کیے کی قیمت اب یہ خود ادا کرے گی”حیدر شاہ کے الفاظ پر وہاں کھڑا ہر شخص ساکت رہ گیا تھا۔۔۔
“یہ کیا کہہ رہے ہو حیدر تم اس معمولی ملازم کی بیٹی سے شادی کرو گے”سب سے پہلے ثروت شاہ شاک سے نکل کر بولیں تھیں۔ان کی آواز چیخ سے مشابہ تھی۔۔
“تائی جان اس لڑکی نے جو کیا ہے وہ کوئی معمولی حرکت نہیں حیدر شاہ کی ہونے والی بیوی بھاگی ہے اس کی وجہ سے۔۔اب اسکی جگہ سزا تو یہ بھگتے گی”
“وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔۔۔
“حیدر بیٹا سزا تو اور طریقوں سے بھی دی جا سکتی ہے اس کیلئے اس لڑکی سے نکاح کرنا ضروری نہیں ہے”سلمان شاہ کو بھی اس کا فیصلہ ناگوار گزرا تھا۔۔۔
“ہاں بیٹا یہ ہماری حویلی کے ملازم کی بیٹی ہے کسی طور بھی ہماری حیثیت کی نہیں۔ہم نے ساری زندگی مخمل میں ٹاٹ کا پیوند کبھی نہیں لگنے دیا لہذا تم اس لڑکی کو بغیر نکاح کیے سزا دو بیشک اپنے کمرے میں رکھ کر رکھیل کی حیثیت سے”
قاسم شاہ کو بھی حیدر کا فیصلہ پسند نہیں آیا مگر منع کرتے ہوئے جو بات انہوں نے کہی اس بات نے مختار احمد اور اس کی بیٹی کو ہی نہیں خود حیدر شاہ کو بھی ششدر کر گئی۔۔۔
“نہیں نہیں میری معصوم بچی کے ساتھ ایسا ظلم مت کریں بڑے شاہ صاحب”مختار احمد قاسم شاہ کے قدموں میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر روتے التجاء کرنے لگا تو قاسم شاہ تنفر اور حقارت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔۔۔حیدر شاہ نے بمشکل اس منظر سے نگاہ چرائی اور خود پر ضبط کرتے ہوئے بولا۔۔۔
“دادا جان تایا جان دیکھئیے اس لڑکی نے کوئی معمولی غلطی نہیں کی جو میں اسے کچھ ٹائم کی سزا دے کر چھوڑ دوں یہ غلطی بہت بڑی ہے اور اس کی سزا یہ ساری زندگی کاٹے گی اور نکاح اس لئیے کر رہا ہوں کیونکہ ہم سیاست میں ہیں کل کلاں کو اگر بات باہر نکلے تو کوئی مسئلہ نا بنے کہ ہماری حویلی میں ملازم کی بیٹی پر ظلم کیا جا رہا۔۔آپ کو پتہ ہے نا سوشل میڈیا کا دور ہے ایسی کوئی خبر لیک ہو جائے تو جنگل میں آگ کی طرح بھڑکتی ہے یہ نکاح حفاظتی اقدام ہے جس میں رہ کر یہ اپنی سزا کاٹے گی۔۔کوئی اصل بیوی کا درجہ نہیں دوں گا”اس نے تفصیل سے کہتے سمجھایا تو قاسم شاہ اور سلمان شاہ سوچ میں پڑ گئے۔۔۔
“کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو۔سلمان شاہ تمہارا کیا خیال ہے؟”قاسم شاہ نے چند پل سوچنے کے بعد حیدر کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے سلمان شاہ سے پوچھا۔۔۔
“جی ابا جان حیدر صحیح کہہ رہا ہے۔بغیر کسی جائز رشتے کے اگر یہ لڑکی کو اپنے پاس رکھ کر سزا دے گا تو کل کلاں کو کسی طرح بات باہر نکلنے پر ہمارے لئیے بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔۔کیونکہ دو تین مہینوں بعد الیکشنز بھی آنے والے ہیں حیدر نے ہی ایم پی کی سیٹ پر کھڑا ہونا ہے ایسے میں اگر خبر لیک ہو جاتی ہے تو ہماری ساری محنت پر پانی پھر جائے گا۔۔نکاح ہوگا تو کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا
زبیدہ جا کر منشی سے کہو مولوی اور گواہوں کا بندوبست کرے”سلمان شاہ نے پوری طرح اتفاق کرتے ہوئے آخر میں ملازمہ کو حکم دیا تو جہاں حیدر شاہ کے اندر ڈھیروں اطمینان اترا وہاں ثروت شاہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔۔
انہیں یوں لگا جیسے بازی پلٹ رہی ہو۔۔۔
زمین تو مہرال اور اس کے باپ کے پیروں سے بھی سرکی تھی مگر ان باپ بیٹی کی سننے والا کون تھا بھلا۔۔۔
“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں حیدر تو بچہ ہے اسے سمجھانے کے بجائے اس کا ساتھ دے رہے۔۔حویلی کے ملازم کی بیٹی سے نکاح پر ہم کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے۔۔سزا ہی دینی ہے نا تو تہہ خانے میں ڈلوا دیں نکاح کیوں کرنا”ثروت شاہ کے لہجے میں گھبراہٹ اور غصے کا ملا جلا عنصر تھا۔کھیل کا رزلٹ توقع کے برعکس ہوتا دیکھ کر ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔۔
حیدر نے کوئی جواب نا دیا البتہ سلمان شاہ نے بیوی کو سخت نظروں سے دیکھا۔۔۔
“ثروت شاہ آپ چپ رہیے حیدر نے جو فیصلہ کیا ہے ٹھیک کیا ہے صرف کاغذی نکاح ہو گا یہ حیثت اس لڑکی کی ملازمہ والی ہی ہوگی اور اب بس فیصلہ ہو چکا ہے”ان کا لہجہ قطعیت بھرا تھا۔۔۔
“نن نہیں چھوٹے شاہ ایسا مت کریں میری بچی معصوم ہے اسے معاف کر دیں”مختار شاہ جو قاسم شاہ کے قدموں میں بیٹھا رو رہا تھا تیزی سے اٹھ کر حیدر شاہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑانے لگا۔۔۔۔
“تمہاری بیٹی نے غلطی کی ہے مختار احمد اور تم جانتے ہو ہم سزا دیے بنا نہیں چھوڑتے اگر حیدر نے نکاح کے بندھن میں باندھ کر اس لڑکی کو سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے تو ایسا ہو کر ہی رہے گا”حیدر شاہ کی جگہ سلمان شاہ نے سخت لہجے میں مختار احمد کو جواب دیا۔قاسم شاہ کی اس بات سے مہرال اور مختار احمد کے ساتھ ساتھ ثروت شاہ کا رنگ بھی فق ہو گیا تھا۔اس نے کھا جانے والی نظروں سے ہال کے دروازے پر کھڑی اپنی اکلوتی بیٹی نائلہ کی طرف دیکھا جو یوں نارمل تاثرات کے ساتھ کھڑی تھی جیسے کسی بات سے کوئی فرق ہی نا پڑتا ہو۔کیا تھا جو یہ لڑکی ان کی کہی گئی باتوں پر عمل کر لیتی تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا ثروت شاہ کو اپنی اکلوتی بیٹی پر شدید غصہ آ رہا تھا ساتھ ہی شوہر اور سسر پر بھی جو اس غلط فیصلے میں حیدر کا ساتھ دے رہے تھے۔مگر وہ خود کو مکمل بے بس محسوس کر رہی تھیں۔۔۔۔۔اسی وقت ایک ملازمہ نے آ کر سفید پڑتے چہرے کے ساتھ ساکت کھڑی مہرال کو چادر اوڑھا دی گئی تھی اور۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Skip to PDF contentMehkoom e Ishq Complete Novel, Haider Shah Mehral Novel, Haider Shah Novel, Forced Marriage Urdu Novel, Forced Nikah Urdu Novel, Revenge Marriage Urdu Novel, Revenge Based Urdu Novel, Haveli Based Urdu Novel, Shah Hero Urdu Novel, Innocent Heroine Urdu Novel, Rich Hero Poor Heroine Novel, Class Difference Urdu Novel, Family Drama Urdu Novel, Political Family Urdu Novel, Misunderstanding Urdu Novel, After Marriage Urdu Novel, Emotional Urdu Novel, Suspense Urdu Novel, Romantic Urdu Novel, Complete Urdu Novel, Pakistani Urdu Novel
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕