Miyan e Qahr o Mehr Novel21025
Miyan e Qahr o Mehr Novel21025
Childhood Nikah | Childhood Marriage | Haveli Based | Shah Hero | Village Heroine | Family Drama | Arranged Marriage | After Nikah | Hidden Identity | Misunderstanding | Emotional Romance | Husband Wife | Desi Romance | Contemporary Urdu Novel

Miyan-e Qahr-o Mehr Sohrab Shah aur Anaiza ke childhood nikah, haveli romance aur emotional relationship par mabni Urdu novel hai.
جس رشتے میں تم اٹھارہ سال پہلے بندہ گئے ہو۔وقت آگیا ہے اب اس رشتے کو آگے بڑھانے کا
جس رشتے میں تم اٹھارہ سال پہلے بندہ گئے ہو۔وقت آگیا ہے اب اس رشتے کو آگے بڑھانے کا۔داخی کے لہجے میں ایک ٹھہراؤ تھا اور انکی بات کا مطلب کیا تھا یہ سہراب شاہ سمجھ رہا تھا۔۔ سہراب میں چاہتا ہوں کے اب تمہاری اور عنائزہ کی رخصت کردی جائے۔کیونکہ یہ اب سہی وقت ہے۔تم دونوں ہی بڑے ہوگئے ہو اور اب اس رشتے کو اچھے سے سمجھتے ہو تو میرا نہیں خیال کے رخصتی میں تاخیر کرنی چاہیئے۔داجی نے صاف لفظوں میں کہا تو سہراب شاہ کا چہرہ سپاٹ ہوگیا۔۔ سوری داجی مگر میں یہ رخصتی نہیں کرنا چاہتا۔سہراب کھڑے ہوتے سرد و سپاٹ لہجے میں بولا تو داجی کے ماتھے پہ بل پڑے۔۔ کیوں کیا کسی اور کو پسند کرتے ہو۔داجی نے اسے شکی نظروں سے دیکھا۔۔ نہیں مگر میں عنائزہ سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔سہراب نے صاف انکار کیا۔۔ برخودار اٹھارہ سال پہلے شادی ہو چکی ہے بس اب رخصتی کی رسم ادا کرنی ہے۔داجی نے اسے ایک بار پھر یاد دہانی کروانی۔۔ جانتا ہوں داجی کہ نکاح ہو چکا ہے مگر میں اب اس نکاح کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔میں گاؤں میں رہنے والی گھریلو لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔میں ایک ایسی لڑکی کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا جسے میں نے اٹھارہ سال تک دیکھا بھی نہیں ہے جس کے بارے میں میں کچھ جانتا بھی نہیں ہو۔میں ایک ایسی لڑکی سے شادی کروں گا جو میری پسند ہوگی جو میرے کندھے سے کندھا ملا کے چلے گی۔ سہراب کی آواز نیچی تھی مگر الفاظ بہت سخت تھے۔۔ سہراب شاہ جانتے بھی ہو تم کیا کہہ رہے ہو۔ داجی ایک دم غصے سے دھاڑے انہیں لگا نہیں تھا کہ انکا لائک فائک پوتا یوں انکے منہ پہ انکار کرنے کی جرت کر سکتا ہے۔۔ ریلکس داجی اس میں اتنا غصہ کرنے والی بات نہیں ہے یہ ایک عام سی بات ہے اور یقین کریں عنائزہ بھی میرے ساتھ اس رشتے کو آگے نہیں بڑھانا چاہے گی۔جب ہمارا نکاح ہوا تھا تب ہم بجے تھے وہ محض پانچ سال کی تھی اور پھر نکاح کے فوراً بعد ہی میں باہر چلا گیا تھا۔تو آپ ہی بتائیں ہم نے اس وقت میں ایک دوسرے کو کتنا سمجھا ہے اور مجھے پتہ ہے جیسے میرے دل و دماغ میں اس رشتے کو لے کے کچھ نہیں ہے یقیناً اس کے دل و دماغ میں بھی کچھ نہیں ہوگا۔سہراب شاہ نے اپنی طرف سے بڑے پتہ کی بات کہی تھی مگر داجی کا غصے سے بڑا حال تھا۔۔ سہراب شاہ تم صرف اپنی بات کرو۔میں اپنی نواسی کو بہت اچھے سے جانتا ہوں۔پچھلے اٹھارہ سالوں سے اسنے صرف تمہارا انتظار کیا ہے اور اب تم آکے کہ رہے ہو کے تم اس رشتے کو ختم کرنا چاہتے ہوں تو ایسا ممکن نہیں ہے۔داخی نے سختی سے کہا۔۔ مجھے معاف کر دیجیئے گا داجی مگر میں عنائزہ کے ساتھ بہت جلد یہ رشتہ ختم کردوں گا۔۔سہراب شاہ اپنا فیصلہ سناتا تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا تو داجی بستر پہ ڈھ سے گئے۔ انہوں نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو رہا تھا۔انہیں تو لگا تھا سہراب کے آتے ہی ہو عنائزہ اور سہراب کی رخصت کر دیں گے۔مگر یہاں تو سہراب نے عنائزہ کو دیکھے بغیر ہی انکار کردیا تھا اور یہ بات داجی کو غم سے دو چار کرگئی تھی۔
———
گہرے کش لگاتا وہ دھواں فضا میں چھوڑتا سوئمنگ پول کی جانب آیا جہاں اسے درخت کے پیچھے سبز آنچل نظر آیا۔۔اس وقت یہاں کون ہو سکتا ہے۔ وہ ہمکلام ہوتا سیگریٹ زمین پہ پھینک کے پاؤں سے مسلتا اس آنچل کی جانب بڑھا۔۔وہ قریب پہنچا تو اسکی نظر اس معصوم سے چہرے پہ ٹک سی گئیں۔۔سفید رنگت میں ہلکی سی سرخی کھلی ہوئی تھی۔۔باریک لب نیم وا تھے۔۔گھول گھول آنکھیں جو بند تھی مگر اسکی نظریں ٹھہری تو اسکی گھنی بھیگی پلکوں پہ۔۔اسنے آج سے پہلے اتنا معصوم چہرہ نہیں دیکھا تھا۔۔۔ہر طرح کے میک اپ سے پاک وہ شفاف چہرہ ایک دم اسکے دل کی دھڑکنیں بڑھا گیا تھا۔۔۔سنو۔اسنے ہلکی آواز میں پکارہ تاکہ وہ ڈر نا جائے۔۔۔ ہیئے اٹھو۔اس بار اسنے زرا تیز آواز میں پکارہ تو عنائزہ جو روتے روتے وہیں سوگئی تھی آواز پہ ایک دم چونک کے آنکھیں کھول گئی۔۔یہاں اسکا آنکھیں کھولنا تھا کہ سہراب کا دل دھڑکنا بھول گیا۔۔شہد رنگ آنکھیں اسے خوف سے تک رہیں تھیں۔۔۔عنائزہ نے اسے یوں اپنے سامنے دیکھا تو فورا کھڑی ہوئی مگر دوپٹہ پیر میں آنے کی وجہ سے ایک دم سائڈ میں گری تو سہراب جیسے ہوش میں آیا۔۔۔تم ٹھیک ہو۔۔سہراب شاہ نے بڑی مشکل سے اسے چھونے سے خود کو روکا۔۔عنائزہ بغیر کچھ کہے گھبرا کے جلدی سے کھڑی ہوئی۔۔۔کون ہو تم۔۔سہراب نے اسکا گھبرایا چہرہ دیکھتے استفامیہ کیا۔۔۔میں۔۔۔ کوئی۔۔۔ نہیں۔اسنے تو اسے پہچانا ہی نہیں تھا تو پھر وہ کیوں اپنی پہچان کرواتی اس لیئے اٹک اٹک کے جواب دیتی فورا حویلی کی جانب بھاگ گئی۔۔اسکے بھاگنے سے اسکا دوپٹہ اسکے سر سے اتر گیا تھا جس وجہ سے اسکی کمر پہ جھولتی چوٹی سہراب شاہ کی نظروں میں قید ہو کے رہ گئی۔۔۔کون تھی یہ۔کیا کوئی ملازمہ۔مگر کل سے تو میں نے اسے دیکھا ہی نہیں تھا تو کہیں یہ۔۔۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Skip to PDF content
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕