Tag Archives: Cousin Marriage Novel
𝐏𝐞𝐡𝐥𝐢 𝐞𝐢d by Rashida Riffat Novel20892
ایک ہی چہرہ... ایک ہی خون... مگر دلوں میں برسوں پرانی دشمنی۔ جڑواں بہنیں ہونے کے باوجود دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو بہن مانا ہی نہیں۔ بچپن کی معمولی ضدیں وقت کے ساتھ ایسی نفرت میں بدل گئیں کہ شادی کے بعد بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ قسمت نے ایسا پلٹا کھایا کہ انہی دونوں کی اولاد ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئی اور رشتہ بھی طے ہو گیا۔ سب نے سمجھا کہ شاید اب برسوں کی دوریاں ختم ہو جائیں گی... مگر اصل جنگ تو شادی کے بعد شروع ہوئی۔ پہلی عید آئی تو دونوں ماؤں کی انا پھر آمنے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ ایک بضد تھی کہ بہو پہلی عید سسرال میں منائے گی، دوسری نے قسم کھا لی کہ بیٹی پہلی عید میکے ہی آئے گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک رسم نے ضد کی شکل اختیار کر لی، ضد نے انا کا روپ دھار لیا، اور انا نے دو محبت کرنے والوں کی نئی نئی ازدواجی زندگی کو داؤ پر لگا دیا۔ آخر جیت کس کی ہوگی... محبت کی یا برسوں پرانی دشمنی کی؟
Gulab Rastay Badal Liye Hain Novel By Rahat Jabeen Novel20905
شادی سے صرف ایک رات پہلے ارمغان خاموشی سے حنا کے کمرے میں آتا ہے اور نہایت سنجیدہ لہجے میں کہتا ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی بچانا چاہتی ہے تو ابھی اسی وقت اس شادی سے انکار کر دے، کیونکہ وہ اسے کبھی خوش نہیں رکھ سکے گا۔ مگر حنا بتاتی ہے کہ وہ پہلے ہی انکار کر چکی تھی، لیکن بزرگوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ اب دونوں ایک ایسے رشتے کی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں خواہش کسی کی نہیں، فیصلہ کسی اور کا ہے۔
Khugar E Sitam By Sajal Saeed Novel20791
کبھی ایک غلط فہمی صرف ایک رشتہ نہیں توڑتی، بلکہ پوری زندگی بدل دیتی ہے۔
"مجھے معاف کر دیں، ابراہیم... خدا کے لیے مجھے طلاق مت دیجیے۔"
اس کی التجائیں، آنسو اور کانپتی ہوئی آواز بھی ابراہیم کے دل کی برف نہ پگھلا سکیں۔ جس عورت نے کبھی اس کی دنیا بسائی تھی، آج وہی اس کے سامنے معافی کی بھیک مانگ رہی تھی، مگر ابراہیم کے دل میں صرف تلخ یادیں اور ٹوٹا ہوا اعتماد باقی رہ گیا تھا۔
دو سال گزر چکے تھے، مگر وہ ایک حادثہ آج بھی اس کے وجود پر سایہ کیے ہوئے تھا۔ باہر سے کامیاب، باوقار اور مضبوط نظر آنے والا ابراہیم اندر ہی اندر اپنی ماضی کی یادوں سے لڑ رہا تھا۔ دفتر کی مصروفیات بھی اس کے دل کی بے چینی کم نہ کر سکیں، کیونکہ کچھ زخم وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور بھی گہرے ہو جاتے ہیں۔
کیا ابراہیم کبھی اپنی غلط فہمی کی حقیقت جان پائے گا، یا ایک فیصلہ ہمیشہ کے لیے دو محبت کرنے والے دلوں کو جدا کر دے گا؟
Mohabbat Ki Qaid By HS Novel20786
شاہ حویلی کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے صرف شان و شوکت ہی نہیں، بلکہ ظلم، خاموشی اور بے بسی کی ایک دردناک داستان بھی چھپی ہوئی تھی۔
ہر صبح کی طرح حبا کو پھر ایک نیا حکم ملا۔ وہ ناشتے کی ٹرے لے کر حاشر کے کمرے میں پہنچی، مگر چند لمحوں بعد وہ آنکھوں میں آنسو اور دل میں خوف لیے واپس بھاگ رہی تھی۔ حاشر کی بدتمیزی اور ہراسانی اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی، لیکن ہر بار اس کی خاموشی مزید گہری ہوتی جا رہی تھی۔
اس گھر میں کسی کو اس کی تکلیف دکھائی نہیں دیتی تھی، سوائے قاسم شاہ کے، جو ہمیشہ اس کی عزت کرتا اور خاموشی سے اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ مگر قسمت کو شاید یہ بھی منظور نہ تھا۔
جب قاسم کے زخمی ہاتھ پر حبا نے صرف پٹی باندھنے کی کوشش کی تو ایک معمولی سا منظر بھی اس کے لیے نئی آزمائش بن گیا۔ تائی امی نے بغیر حقیقت جانے اس پر سنگین الزام لگا دیا اور غصے میں جلتے ہوئے کانٹے سے اس کے ہاتھ اور گلے کو داغ دیا۔
چیخیں پوری حویلی میں گونجتی رہیں، مگر کسی نے اس کی حفاظت کے لیے قدم نہ بڑھایا۔
کیا حبا کی یہ خاموش اذیت کبھی ختم ہوگی، یا محبت اسے اسی قید سے آزادی دلائے گی جس میں وہ برسوں سے جکڑی ہوئی ہے؟