Childhood trauma, Contemporary Fiction, Emotional Fiction, Family Drama, Murder Mystery, Social Engineering, Social issues Based

Tukazebaan by Samiya Rani Novel20836

ایک بھائی اور بہن کی ہلکی پھلکی نوک جھونک نے برسوں پرانے رشتے کی مٹھاس پھر سے تازہ کر دی۔ "شیطان بھی دستخط تم سے ہی کرواتا ہوگا..." دونوں کی مسکراہٹوں میں چھپی اپنائیت ہر لفظ سے جھلک رہی تھی۔ کچھ رشتوں کی جگہ کبھی کوئی نہیں لے سکتا، چاہے وقت کتنا ہی گزر جائے۔
Continue reading
Talabgar E Mohabbat by Misha Hayat mein Zarkhan aur Hooram ka suspense se bharpoor manzar
Dark Secrets, Love Triangle, mafia base, Revenge Based Novels, Romantic Fiction, Rude Hero Based

Talabgar E Mohabbat By Misha Hayat Novel 20802 | Complete Urdu Novel

حورم نے جب پہلی بار اسے دیکھا تو وقت جیسے تھم گیا۔ وہ کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ نیلی آنکھیں، پُروقار شخصیت اور سرد لہجہ... اس کی موجودگی نے حورم کو خوف اور حیرت کے عجیب احساس میں مبتلا کر دیا۔ "مجھے بچا لیں... پلیز... وہ لوگ مجھے پکڑ لیں گے۔" حورم کی آنکھوں میں خوف، آنسو اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی، جبکہ زرخان کی نظریں اس کے معصوم چہرے پر ٹھہر گئی تھیں۔ چند لمحے پہلے تک وہ اسے ایک اجنبی سمجھ رہا تھا، مگر اب اس کی بے بسی اس کے دل کے بند دروازوں پر دستک دے رہی تھی۔ جب حورم نے لرزتی آواز میں اپنے اغوا، اپنی دوست کے قتل اور ایک پراسرار "ڈیول" کا ذکر کیا تو زرخان کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ معاملہ صرف ایک لڑکی کو بچانے کا نہیں، بلکہ ایک ایسے خطرناک راز کا ہے جو کئی زندگیاں بدل سکتا ہے۔ کیا زرخان حورم کو اس خوفناک جال سے نکال پائے گا، یا وہ بھی اسی اندھیرے کا شکار بن جائے گا؟
Continue reading
Mah E Doran by Sajal Saeed mein Raid Sultan aur Mah Doran ka emotional mystery scene
Crime Fiction, Crime Thriller, Murder Mystery, Romantic Urdu Novel, Suspense Thriller

Mah E Doran By Sajal Saeed Novel20793

ایک تلخ حقیقت نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ "ریم مر چکی ہے..." رائد کے سرد، بے جان اور نفرت سے بھرے الفاظ سن کر ماہ دوراں کی دنیا جیسے ایک لمحے میں بکھر گئی۔ وہ یقین کرنے کو تیار نہیں تھی کہ ریم اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ لیکن رائد کی آنکھوں میں چھپا درد کسی بھی جھوٹ کی گنجائش نہیں چھوڑ رہا تھا۔ اس نے لرزتی آواز میں بتایا کہ ریم صرف قتل نہیں ہوئی، بلکہ اس کی عزت، معصومیت اور زندگی سب کچھ بے دردی سے چھین لیا گیا۔ رائد کا ہر لفظ ماہ دوراں کے دل پر خنجر کی طرح اتر رہا تھا۔ اسے سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی کہ جس وقت اسے اپنے قریبی لوگوں کی ضرورت تھی، وہ خود کو تنہا محسوس کرتا رہا۔ "میں... رائد سلطان... تم سے نفرت کرتا ہوں۔" یہ الفاظ کہہ کر رائد ہمیشہ کے لیے وہاں سے چلا گیا، جبکہ ماہ دوراں ٹوٹے ہوئے دل، بہتے آنسوؤں اور بے بسی کے ساتھ زمین پر گر پڑی۔ ایک ہی رات نے کئی زندگیاں اجاڑ دی تھیں اور ایسے راز چھوڑ دیے تھے جنہوں نے ہر رشتے کو شک، درد اور نفرت میں بدل دیا۔ آخر ریم کا اصل قاتل کون تھا؟ کیا رائد کو انصاف ملے گا، یا یہ راز ہمیشہ اندھیرے میں دفن رہے گا؟
Continue reading