Milkiyat E Zohaan Novel20661
Milkiyat E Zohaan Novel
Forced Marriage | Revenge Base | Rude Hero | Romantic Novel | Urdu Novel | Complete Novel
میں یہاں صرف آپ کی پوتی کو طلاق دینے آیا ہوں “۔زوہان شیرازی کے الفاظ کسی پگھلے ہوئے سیسے کی طرح بی جان کے کانوں میں اترے۔ وہ نم آنکھوں سے مقابل بیٹھے خوبرو وجیہہ مرد کو دیکھنے لگیں۔
وہ پورے دس سال بعد حویلی آیا تھا۔ اس نام و نہادر شتے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے۔ “بی جان یہ طلاق کے کاغذات ہیں ، میں دشمن کی بیٹی کو اپنے گھر اور دل دونوں میں کبھی جگہ نہیں دے سکتا”۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی فائل میز پر دھر دی۔ وہ ماضی میں ہوئے اُس حادثے کی سزا اُن کی بے قصور پوتی کو دینا چاہتا تھا جس سے وہ انجان تھی۔
زوہان کی آنکھوں میں جلتی انتقام کی آگ دیکھ کر وہ سمجھ گئیں تھیں کہ اب منت سماجت کا وقت گزر چکا ہے۔ انہوں نے اپنی نم آنکھیں پونچھیں اور سر اٹھا کر پہلی بار زوہان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔” تو پھر دیر کس بات کی زوہان شیرازی؟ “۔ بی جان کی آواز میں غیر معمولی ٹھہراؤ تھا۔ زوہان کی بھنویں تن گئیں۔
“جلدی طلاق دو۔۔۔ ابھی اور اسی وقت تاکہ میں اپنی پوتی کی شادی کسی ایسے اچھے لڑکے سے کروں جو میری عشال کی قدر کرے ، جو اسے وہ مقام دے سکے جس کی وہ حقدار ہے “۔لفظ کسی اور مرد نے زوہان کے اندر جیسے آگ لگا دی۔ اس کی آنکھیں غصے سے لال ہونے لگیں۔
بی جان کا جملہ زوہان کو اندر تک آگ لگا گیا۔ سرخ لباس میں ملبوس سولہ برس کی کم سن، دلکش لڑکی آہستہ قدموں سے کمرے میں داخل ہوئی۔ “بی جان دیکھیں ہم کیسے لگ رہے ہیں؟”۔ عشال، سرخ رنگ کی لمبی گھیر دار میکسی میں ملبوس اپنی ہی دھن میں مگن گول گول گھومتی ہوئی بی جان کو اپنی تیاری دکھا رہی تھی۔ اس کے کھلے بال کمر پر لہرا رہے تھے۔ وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی سرخ لباس میں۔وہ اپنی دوست کی برتھ ڈے پارٹی کے لیے تیار ہوئی تھی۔
زوہان شیرازی جو اسے طلاق دینے کے ارادے سے آیا تھا، اس کے معصوم اور دلکش سراپے کو دیکھ کر جیسے اپنی جگہ جم گیا۔ مگر اگلے ہی لمحے اسے یاد آیا کہ یہ اسی عورت کی بیٹی ہے جس کی وجہ سے اس کے والدین آج قبر کی مٹی تلے سو رہے ہیں۔” اف اللہ بی جان آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئیں؟ ہم لیٹ ہو جائیں گے “۔ عشال نے منہ بسورا۔
ایکدم سے عشال کی زبان کو بریک لگی۔ زوہان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔اس نے ایک نگاہ عشال کے سر سے پاؤں تک ڈالی۔ سرخ لباس میں وہ قیامت ڈھا رہی تھی اور یہی بات زوہان کے غضب کو مزید بھڑکا گئی۔ وہ چلتا ہوا ٹھیک اس کے سامنے آیا۔ اتنا قریب کہ اُس کے قیمتی کولون کی مسحور کن مہک عشال کے حواس پر چھا گئی۔” کہیں نہیں جاؤ گی تم”۔ وہ دانت پیستے ہوئے دھاڑا۔ عشال نے خوف سے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں سکیڑ کر اس بدتمیز اجنبی کو دیکھا۔” بی جان! یہ۔۔۔ یہ ہٹلر کون ہیں ؟ اور یہ ہم پر کیوں چلا رہے ہیں؟”۔ اس نے اپنی چھوٹی سی ناک چڑھا کر پوچھا۔ بی جان اپنی امڈ آتی مسکراہٹ لبوں میں دبا گئیں۔” ہٹلر؟ میں تمہارا شوہر ہوں”۔ زوہان کا پارہ ہائی ہو گیا۔ “تو ہوں گے اپنے گھر کے شوہر ہماری بی جان نے ہمیں آج تک کبھی اس طرح سے نہیں ڈانٹا، تو آپ کون ہوتے ہیں ہم پر حکم چلانے والے؟”۔ عشال نے کمر پر ہاتھ رکھا اور تڑخ کر بولی۔
زوہان کا پارہ ایک دم سے آسمان کو چھونے لگا۔ اسے کسی نے آج تک اس طرح مخاطب نہیں کیا تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے عشال کی کلائی پکڑی اور اسے اپنی طرف کھینچا۔ ” تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اس لہجے میں بات کرنے کی؟ ، تمہاری زبان بہت چلتی ہے ناں؟ اسے کاٹ کر تمہاری ہتھیلی پر رکھ دوں گا اگر دوبارہ بد تمیزی کی”۔ زوبان نے انتہائی سفاکی سے اسے دھمکایا۔
“زوہان شیرازی عشال کا ہاتھ چھوڑیں، آپ کس حق سے ہماری پوتی کا ہاتھ پکڑ رہے ہیں؟ “۔ بی جان اپنی جگہ سے اٹھیں۔ زوہان نے ابرو اچکا کر اُنہیں دیکھا۔ جیسے کہہ رہا ہو، واقعی؟ بیوی ہے یہ میری۔” ہائے اللہ اگر زبان کاٹ دیں گے تو پھر ہم چاکلیٹ کیسے کھائیں گے ؟”۔ وہ آنکھیں پٹپٹا کر نہایت معصومیت سے بولی۔ زوہان کا دل چاہا اس معصوم آفت کا گلا دبا دے۔
” تمہاری زبان بہت چلتی ہے نا ؟ بہت شوق ہے بولنے کا مسز زوہان شیرازی ، ویٹ اینڈ واچ، میری دسترس میں آ کر تو تم بھولنا ہی بھول جاؤ گی”۔ اس کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ صرف عشال ہی اسے سن سکتی تھی۔ اس نے میز سے فائل اٹھائی اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کا غذات کے ٹکڑے کر دیے۔ “میں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے، بی جان، آپ نے صحیح کہا تھا۔ طلاق دے کر میں کسی اور کو اسکی قدر کرنے کا موقع کیوں دوں؟ جس آگ میں میں جل رہا ہوں، اس میں اب یہ لڑکی بھی جلے گی”۔ وہ اپنے کوٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے نہایت سفاک لہجے میں کہا۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕