La Hasil by Umera Ahmad 

Social fiction base | Romance base | Greed base | Materialism base | Spiritual trial base | Fate base | Human desires base

”کیا آپ جانتے ہیں مریم کی ممی کون تھیں؟” اس نے ان سے پوچھا وہ حیران ہوئے۔
”میں کیسے جان سکتا ہوں؟”
”خدیجہ نور کو جانتے ہیں آپ؟” مظہر کو جیسے کرنٹ لگا، وہ گم صم ہو کر اس کا چہرہ دیکھنے لگے۔
”یقینا جانتے ہوں گے، خدیجہ نور میری ماں تھی… کل ان ہی کی ڈیتھ ہوئی ہے۔”
مظہر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ چند لمحے جیسے لفظ تلاش کرتے رہے پھر انھوں نے کہا۔
”مجھے کیوں بتا رہے ہو، تم یہ سب کچھ… اگر تم یہ جانتے ہو کہ تمہاری ماں کون ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔”
”میں واقعی یہ نہیں جانتا کہ میں آپ کو یہ سب کچھ کیوں بتا رہا ہوں… شاید میرے دل پر ایک بوجھ ہے جو میں اتارنا چاہتا ہوں… یا پھر…”
”اگر میں تمھیں تمہاری ماں کی اصلیت بتا دوں تو تم دوبارہ نام تک لینا پسند نہ کرو اس کا… میں نے ساری عمر اس کی حقیقت تم سے اور دوسروں سے صرف اسی لیے چھپائے رکھی تاکہ تم لوگوں کے سامنے سر اٹھا کر چل سکو۔ تمھیں اپنے آپ سے نفرت نہ ہو جائے۔” انہوں نے تیز لہجے میں کہا۔
”کون سی حقیقت بابا؟ یہ حقیقت کہ ماما جان ایک کال گرل تھیں۔” اس نے اتنے عام سے انداز میں یہ بات کہی کہ مظہر اس کا منہ دیکھتے رہ گئے۔
”ماما جان نے مجھ سے کوئی بات نہیں چھپائی، انھوں نے اپنے بارے میں مجھے سب کچھ بتا دیا تھا اور مجھے ان سے وابستگی پر فخر ہے۔ مجھے کوئی شرمندگی نہیں ہے، نہ ہی میں لوگوں کے سامنے سر جھکا کر پھروں گا۔ میری ماں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کوئی گناہ نہیں کیا۔ انھوں نے ویسی زندگی گزاری جیسی ایک مسلمان عورت گزارتی ہے۔ آپ نے میری ماں کو ایک ایسے گناہ کی سزا دی جو ان پر مسلط کیا گیا تھا۔”
”اس نے مجھ کو دھوکا دیا تھا۔ مجھ سے سب کچھ چھپایا تھا۔”
”کیا زندگی میں آپ نے کبھی کسی کو دھوکا نہیں دیا، آپ نے کبھی کسی سے جھوٹ نہیں بولا؟ آپ نے کبھی کسی سے کچھ نہیں چھپایا؟” وہ اب ان سے سوال کر رہا تھا۔
”آپ تو پیدائشی مسلمان ہیںپھر بھی کبھی نہ کبھی آپ نے یہ سب کچھ کیا ہوگا… اور بھی بہت سے گناہ کیے ہوں گے۔ کیوں نہ آپ کو بھی یہیں دنیا میں ہر اس شخص کے ہاتھوں سزا دی جائے جس کو آپ نے تکلیف پہنچائی ہو دھوکا دیا ہو، جھوٹ بولا ہو…”
”جس عورت میں پارسائی نہ ہو، اس کو اسی طرح تھوک دینا چاہیے۔” انھوں نے نفرت سے کہا۔
”اور جس مرد میں پارسائی نہ ہو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے۔ کیا قرآن مرد اور عورت کے لیے کوئی الگ قانون رکھتا ہے۔”
”تمہاری ماں زانی تھی۔” مظہر نے بلند آواز میں انگلی اٹھا کر کہا۔
ذالعید کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ ”کیا اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد زنا کیا تھا؟ کیا آپ سے شادی کے بعد وہ آپ کو دھوکا دیتی رہی… میری ماں آپ سے شادی کرنے نہیں آئی تھی۔ آپ گئے تھے اس کے پاس شادی کرنے۔ کیا اس وقت آپ کو یہ نہیں پتا تھا کہ آپ کس معاشرے کی عورت کے ساتھ شادی کرنے والے ہیں… اور یہ پارسائی کیا ہوتی ہے؟ میں جاننا چاہتا ہوں کون سی عورت پارسا ہوتی ہے اور کون سی پارسا نہیں ہوتی؟ آج اگر اس عورت کے ماضی کے بارے میں آپ کو کچھ پتا چلے جو آپ کی بیوی ہے تو کیا آپ اس کو چھوڑ دیں گے… میری ماں نے آپ کو شادی سے پہلے یہ بتا دیا تھا کہ اس کے بوائے فرینڈز رہے ہیں، آپ نے اس پر اعتراض نہیں کیا، تب آپ کو یہ یاد نہیں رہا کہ وہ پارسا نہیں ہے۔” مظہر کچھ بول نہیں سکے۔
”میں جاننا چاہتا ہوں، آپ کا وہ اسلام کہاں ہے جسے آپ میری ماں کو دکھاتے رہے۔ کہاں ہیں وہ نمازیں، روزے، رزق حلال وہ پردہ جس کی تلقین آپ میری ماں کو کرتے رہے۔ میں نے اپنی آج تک کی زندگی میں آپ کو کسی اسلامی اقدار پر عمل کرتے نہیں دیکھا… مگر میری ماں نے وہ تیس سال جو اسلام قبول کرنے کے بعد گزارے وہ ایک عملی مسلمان کے طور پر گزارے… ایک باحیا اور پرہیزگار مسلمان عورت کے طور پر… اس نے ساری زندگی ہر اس چیز پر عمل کیا جو اس نے آپ سے یا اپنے دوسرے شوہر سے سیکھی۔
دنیا میں کچھ لوگ آپ کی طرح ہوتے ہیں۔ جو ساری زندگی اپنے گلے میں مذہب کا ڈھول ڈالے اسے پیٹتے رہتے ہیں۔ کیونکہ انھیں دنیا کو اپنی نمازوں سے متاثر کرنا ہوتا ہے مگر جب بات ایثار، قربانی اور اعلیٰ ظرفی کی آتی ہے تو پھر وہ آپ کی طرح ہو جاتے ہیں… جو عورتوں کو یوں سزائیں دیتے پھرتے ہیں، جیسے انھیں دنیا پر خدا نے جزا اور سزا کے اختیار کے ساتھ بھیجا ہو۔ آپ جیسے مرد پاپا جو عورتوں کو طلاق دیتے ہیں اور ان سے دودھ پیتے ہوئے بچے چھین لیتے ہیں۔ ان کی کوئی نماز، کوئی عبادت انھیں اس عمل سے نہیں روکتی۔ انھوں نے عبادت عبادت سمجھ کر کہاں کی ہوتی ہے… عادت اور روایت سمجھ کر کرتے ہیں… آپ کے اندر کتنی منافقت ہے پاپا… کتنا دوغلا پن ہے… کیا آپ نے میری ماں کے بارے میں حقیقت بتانے والے اپنے اس ”عظیم” دوست سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا اس نے اپنی بیوی کو یہ بتایا ہے کہ وہ کال گرلز کے ساتھ راتیں گزارتا رہا ہے یا آپ نے اس کی بیوی اور خاندان کو یہ سب کچھ بتایا۔”
لاؤنج میں خاموشی تھی، مظہر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
”تیس سال میں کبھی آپ نے اس عورت کے بارے میں سوچا جو اپنے بچے کے لیے آپ کے پیچھے روتی ہوئی آئی تھی؟ کیا آپ نے اس بچے کے بارے میں سوچا جسے ستائیس سال آپ نے ماں سے محروم رکھا۔ آپ نے کبھی سوچا ہے، قیامت والے دن آپ خدیجہ نور کے سامنے کیسے جائیں گے، آپ ذالعید کے سامنے کیسے جائیں گے؟ ان ساری اقدار اور روایات کو آگ لگا دیجئے جو انسانوں کے دل سے رحم اور اعلیٰ ظرفی نکال دیتی ہیں۔ چاہے وہ کسی بھی خاندان کسی بھی قبیلے یا کسی بھی نسل کی ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میں خدیجہ نور کا بیٹا ہوں، اس خدیجہ نور کا جس کی وجہ سے قیامت کے دن میں پہچانا جاؤں گا اور اس دن میں آپ کو اس ظلم کے لیے معاف نہیں کروں گا جو آپ نے مجھ پر اور میری ماں پر کیا۔”
مظہر نے اسے اٹھ کر اندر جاتے ہوئے دیکھا۔ وہ بہت دیر تک وہیں لاؤنج میں خاموش بیٹھے رہے۔ ”کیا واقعی میرے اندر رحم کی صفت ختم ہو گئی تھی اور میری نمازیں صرف دکھاوے کی نمازیں تھیں؟ کیا واقعی میں نے خدیجہ نور اور ذالعید پر ظلم کیا یا پھر خود پر ظلم کیا؟ کیا میں واقعی جانتا ہوں گناہ کیا ہوتا ہے یا پھر میں ہر دوسرے شخص کے صرف اس فعل کو گناہ سمجھتا ہوں جس سے مجھے تکلیف پہنچتی ہے، مجھے نقصان ہوتا ہے؟ کیا دنیاوی قانون پڑھنے کے بعد میں نے دنیا کے ہر معاملے میں فیصلہ اور انصاف کرنے کی اہلیت حاصل کر لینے کا گمان کیا تھا؟ کیا مجھے واقعی اپنے پیدائشی مسلمان ہونے پر اس قدر فخر ہے کہ میں نے بیٹھے بٹھائے خود کو جنتی سمجھ لیا ہے؟ کیا میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ساری عمر خود فریبی اور گمان میں گزارتے ہیں؟
تیس سال میں پہلی بار وہ اپنا احتساب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر سامنے والا ہر سوال انھیں یہ بتا رہا تھا کہ بعض سوالوں کے جواب کسی بھی زبان میں نہیں دیے جا سکتے، اور وہ سوال ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو اس عمر اور زندگی کے اس مرحلے پر آ کر زیر کر دیتے ہیں۔ جب انسان خود کو صراط مستقیم کے دوسرے سرے پر پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے… اور تب پہلی بار یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ ساری عمر جس راستے کو صراط مستقیم سمجھ کر چلتے رہے ہیں وہ نہ راستہ تھا اور نہ سیدھا… وہ صرف آپ کا نفس تھا یا پھر آپ کا گمان۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *