Tere Ishaq Mai Pagal Romantic Novel 

Forced Marriage base | Rude Hero | Romantic Urdu Novel|  Emotional Drama base | Complete Novel 

“مجھے طلاق چاہیے ارمان خانزادہ۔۔۔ کوئی حق نہیں ہے کسی کا مجھ پر ” وہ بری طرح چلائی تھی جب اگلے لمحے ارمان خانزادہ کا ہاتھ گھوما تھا۔ سب دنگ رہ گئے تھے پہلی بار ارمان خانزادہ کو اتنے غصے میں دیکھا۔ارمان اسے کھینچتا ہوا کمرے میں لے گیا تھا۔جبکہ وہ غنودگی میں جانے لگی تھی۔وہ ارمان خانزادہ کے چچا کی بیٹی تھی بچپن میں ماں باپ کی طلاق کے بعد وہ ماں کے ساتھ شہر آگئی تھی ۔ساری عمر اس نے اپنی ماں کو مزدوری کرتے دیکھا تھا اس کے باپ نے پلٹ کر نہیں پوچھا تھا جب اس کی ماں مرتے وقت اسے خالہ کے حوالے کرگئی ۔اس کا نکاح خالہ کے بیٹے سے ہورہا تھا جب اس کا باپ اچانک وہاں آیا تھا اسے زبردستی ساتھ لے گیا تھا اور اس کا نکاح ارمان خانزادہ سے کیا تھا کہ وہ ارمان خانزادہ کی بچپن کی منگ تھی” تم سب ایک جیسے وہ۔۔سفاک ظالم گھٹیا۔”, وہ نیم بےہوشی میں ارمان خانزادہ کو ڈھکیلتی۔۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی کی رفتار کے ساتھ ساتھ فائقہ کے دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہو رہی تھیں۔ سڑک کے دونوں اطراف پھیلے ہوئے ہرے بھرے کھیت اسے بالکل بھی اچھے نہیں لگ رہے تھے۔ اس نے غصے سے برابر میں بیٹھے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو خاموشی سے سامنے دیکھ رہے تھے۔ “آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ میری زندگی کا فیصلہ کریں! میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی، مجھے واپس خالہ کے گھر چھوڑ کر آئیں” فائقہ نے اپنے دوپٹے کو سختی سے مسلتے ہوئے تیکھے لہجے میں کہا۔ ارشد خان نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بیٹی کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں نفرت نہیں، بلکہ ایک ایسی مصلحت تھی جسے فائقہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ “فائقہ بیٹی! تم ابھی نادان ہو، تم ان لوگوں کی حقیقت نہیں جانتی میں تمہیں وہاں مزید نہیں چھوڑ سکتا تھا”۔ ارشد خان نے دھیمے لیکن اٹل لہجے میں اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ “حفاظت؟ آپ اسے حفاظت کہتے ہیں؟ کسی اجنبی کے حوالے کر دینا حفاظت ہے؟ میں اپنی ماں کی دی ہوئی نسبت کو مانتی ہوں، میں نے عاقب سے وعدہ کیا ہے”۔ فائقہ نے چلاتے ہوئے کہا، اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اس کے گلابی گالوں پر گرے۔ “عاقب صرف تمہاری جائیداد سے محبت کرتا ہے فائقہ، تم سے نہیں۔ بس اب خاموش ہو جاؤ، ہم پہنچ چکے ہیں”۔ ارشد خان نے گاڑی ایک عظیم الشان حویلی کے سامنے روکتے ہوئے کہا۔فائقہ نے گاڑی سے باہر قدم رکھا تو حویلی کی ہیبت نے ایک پل کے لیے اس کے حوصلے پست کر دیے، لیکن اس کی انا نے اسے دوبارہ سر اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ سامنے ہی سفید رنگ کے کلف لگے سوٹ میں ملبوس ایک لمبا تڑنگا شخص کھڑا تھا۔ اس کی گہری بھوری آنکھیں کسی شکاری کی طرح فائقہ کے وجود کا احاطہ کر رہی تھیں۔ “خوش آمدید چچا جان! امید ہے سفر میں اس لڑکی نے آپ کو زیادہ تنگ نہیں کیا ہوگا”۔ ارمان نے فائقہ کو سر سے پاؤں تک ایک حقارت آمیز نظر سے دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کا لہجہ اتنا بھاری تھا کہ فائقہ کے کانوں میں گونجنے لگا۔ “تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ‘یہ لڑکی’ کہنے کی؟ میرا نام فائقہ ہے اور میں یہاں اپنی مرضی سے نہیں آئی!” فائقہ نے ارمان کے بالکل سامنے آ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ ارمان کے لبوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ ابھری۔ ارشد خان وہاں سے اندر کی طرف چلے گئے تو اس نے ایک قدم آگے بڑھایا، جس سے فائقہ کو پیچھے ہٹنا پڑا یہاں تک کہ وہ گاڑی کے ساتھ جا لگی۔ ارمان نے اپنا ایک ہاتھ گاڑی کی چھت پر رکھا، اس کی قربت سے فائقہ کو اپنے اعصاب شل ہوتے محسوس ہوئے۔ ارمان کے پرفیوم کی خوشبو فائقہ کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی۔ “نام میں کیا رکھا ہے؟ یہاں صرف وہی پہچان باقی رہتی ہے جو میں دیتا ہوں۔ اور رہی بات مرضی کی، تو خانزادوں کی حویلی میں قدم رکھنے کے بعد مرضی صرف ارمان خانزادہ کی چلتی ہے”۔ ارمان نے اس کے کان کے قریب جھک کر نہایت پست لیکن خطرناک لہجے میں کہا۔فائقہ کا سانس سینے میں اٹک گیا۔ ارمان کی آنکھوں میں اسے اپنے لیے ایک عجیب سی چمک نظر آئی، جو شاید غصہ تھا یا کچھ اور۔ اس نے جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیلنا چاہا لیکن ارمان کی گرفت اس کے بازو پر مضبوط ہو گئی۔ “چھوڑو میرا ہاتھ! تم ایک بدتمیز اور جاہل انسان ہو!” فائقہ نے تڑپ کر کہا۔ “بدتمیزی تو ابھی تم نے دیکھی ہی نہیں لڑکی۔ ابھی تو صرف تعارف ہوا ہے”۔ ارمان نے اس کا بازو چھوڑا اور اندر کی طرف مڑ گیا۔ رات کے سائے گہرے ہوئے تو فائقہ کو حویلی کے ایک بڑے سے کمرے میں ٹھہرا دیا گیا۔ کمرے کی سجاوٹ روایتی اور پروقار تھی، لیکن اسے وہاں گھٹن ہو رہی تھی۔ اس نے اپنے بال کھول دیے جو اس کی کمر تک لہرانے لگے۔ وہ کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی جہاں سے رات کی رانی کی خوشبو اندر آ رہی تھی۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو ارمان دروازے پر ٹیک لگائے کھڑا تھا، اس کی نظریں فائقہ کے بکھرے ہوئے بالوں پر جمی تھیں۔ “کیا یہاں لوگوں کے کمروں میں بنا اجازت گھسنا تمہارا مشغلہ ہے؟” فائقہ نے اپنے بالوں کو سمیٹنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے غصے سے پوچھا۔ارمان آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔ اس کی نظروں میں اس وقت وہ حاکمانہ سختی نہیں تھی بلکہ ایک بے نام سی تپش تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر فائقہ کے گال پر آنے والی ایک لٹ کو پیچھے کیا، فائقہ ساکت رہ گئی۔ اس کے لمس میں ایک عجیب سی تڑپ تھی جس نے فائقہ کے دل کی دھڑکن بے ترتیب کر دی۔ “تمہارے یہ بال تمہاری زبان کی طرح ہی لمبے ہیں”۔ ارمان نے دھیمی آواز میں کہا۔ فائقہ نے فورا خود کو پیچھے کھینچا۔ “اپنی حد میں رہو ارمان خانزادہ! میں وہ لڑکی نہیں ہوں جو تمہارے اس رعب میں آ جائے”۔ “حدود میں رہنا کمزوروں کا کام ہے فائقہ، اور میں کمزور نہیں ہوں۔ تم یہاں جس مقصد کے لیے لائی گئی ہو، بہتر ہے اسے سمجھ لو”۔ ارمان کا لہجہ پھر سے سرد ہو گیا۔ “مقصد؟ کیا مقصد؟ کیا میں کوئی سامان ہوں جو آپ دونوں نے مل کر سودا کر لیا؟” فائقہ کی آواز میں دکھ اور غصہ دونوں شامل تھے۔ “سودا تو بہت مہنگا ہوا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ تم اس کی قیمت ادا کر پاتی ہو یا نہیں”۔ ارمان نے ایک گہرا سانس لیا اور مڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا، لیکن جاتے جاتے فائقہ کے دل میں ایک انوکھا اضطراب چھوڑ گیا۔فائقہ وہیں فرش پر بیٹھ کر رونے لگی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ارمان سے نفرت کرے یا اس کے اس سحر سے ڈرے جو وہ اس پر طاری کر رہا تھا۔ اسے عاقب یاد آ رہا تھا، لیکن عجیب بات یہ تھی کہ عاقب کا چہرہ دھندلا رہا تھا اور ارمان کی وہ عقابی آنکھیں اس کے سامنے رقص کر رہی تھیں۔ اگلی صبح حویلی میں ناشتے کی میز پر ارمان کی چھوٹی بہن مایا کی شوخیاں بکھر رہی تھیں۔ مایا ایک نہایت پیاری اور زندہ دل لڑکی تھی جس نے فائقہ کو دیکھتے ہی اسے گلے لگا لیا۔ “بھائی! آپ نے بتایا ہی نہیں کہ ہماری بھابھی اتنی خوبصورت ہیں، میں تو ڈر رہی تھی کہ آپ جیسی ہی کوئی ہٹلر ہوں گی”۔ مایا نے شرارت سے ارمان کی طرف دیکھ کر کہا۔ ارمان نے چائے کا سپ لیا اور فائقہ کی طرف دیکھا جو خاموشی سے اپنی پلیٹ میں دیکھ رہی تھی۔ “خوبصورتی اگر زبان میں زہر گھول دے مایا، تو وہ کسی کام کی نہیں رہتی”۔ “زہر تو آپ کے لہجے میں ہے خانزادہ صاحب، میں تو صرف آئینہ دکھا رہی ہوں”۔ فائقہ نے پلٹ کر جواب دیا، جس پر مایا ہنس پڑی اور ارمان کی آنکھوں میں غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ناشتے کے بعد جب فائقہ برآمدے میں کھڑی تھی، ارشد خان اس کے پاس آگئے۔ “بیٹی! میں کام سے جا رہا ہوں۔ اپنا خیال رکھنا اور ارمان کی بات ماننا۔ وہ تمہارا دشمن نہیں ہے”۔ “آپ مجھے اس دوزخ میں اکیلا چھوڑ کر جا رہے ہیں بابا؟ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی”۔ فائقہ نے پتھرائے ہوئے لہجے میں کہا۔ ارشد خان نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے حویلی سے رخصت ہو گئے۔ فائقہ کو لگا جیسے اس کا آخری سہارا بھی چھن گیا ہو۔ وہ وہیں سیڑھیوں پر بیٹھ کر سسکیاں لینے لگی۔ تبھی ارمان وہاں سے گزرا۔ اس نے فائقہ کو اس حال میں دیکھا تو اس کے قدم رک گئے۔ اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی، وہ مرد جو کسی کے آنسوؤں سے متاثر نہیں ہوتا تھا، آج اس لڑکی کی بے بسی پر بے چین ہو رہا تھا۔
وہ اس کے پاس جھکا اور اپنا رومال اس کی طرف بڑھایا۔ “رونا بند کرو۔ خانزادوں کی عورتیں سر عام تماشہ نہیں بنتیں”۔ فائقہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ “میں تمہاری عورت نہیں ہوں! اور کبھی بنوں گی بھی نہیں”۔ ارمان نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ اس کا چہرہ فائقہ کے چہرے کے اتنا قریب تھا کہ دونوں کی سانسیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ فائقہ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں، اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ “یہ وقت بتائے گا فائقہ ارشد خان! کہ تم کس کی بنتی ہو۔ ابھی تو یہ صرف آغاز ہے، اور یاد رکھنا، میں جو کھیل شروع کرتا ہوں، اسے ختم بھی اپنی شرائط پر کرتا”۔ ارمان نے اس کے کان میں سرگوشی کی اور اسے چھوڑ کر تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ فائقہ وہیں کھڑی ہانپتی رہی۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ یہ زندگی اب اس کے لیے ایک مسلسل جنگ ہونے والی ہے، جہاں اسے نہ صرف ارمان سے بلکہ اپنے ہی بھٹکتے ہوئے جذبات سے بھی لڑنا ہوگا۔
حویلی کی خاموشی فائقہ کے اعصاب پر ہتھوڑے برسا رہی تھی۔ رات کے دو بج رہے تھے لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ پیاس کی شدت محسوس ہوئی تو اس نے اپنا دوپٹہ کندھوں پر ڈالا اور دبے قدموں کمرے سے باہر نکل آئی۔ پوری حویلی میں مدھم سی روشنی تھی جو راہداریوں کو مزید پرسرار بنا رہی تھی۔ وہ کچن میں پہنچی اور فریج سے پانی کی بوتل نکال کر پینے لگی۔ اچانک اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ ایک جانی پہچانی خوشبو فضا میں مہکی تو اس کے ہاتھ سے بوتل چھوٹتے چھوٹتے بچی۔ اس نے مڑ کر دیکھا، اندھیرے میں ارمان خانزادہ ایک دیوار سے ٹیک لگائے، آستینیں چڑھا کر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“رات کے اس پہر یہاں کیا چوری کرنے آئی ہو؟” ارمان کی بھاری آواز کچن کی خاموشی میں گونجی۔ فائقہ نے سنبھلنے کی کوشش کی اور ہمت جمع کر کے جواب دیا۔ “پانی پینا چوری نہیں ہوتا۔ اور ویسے بھی، اس قید خانے میں اب یہی کچھ باقی رہ گیا ہے”۔ ارمان نے کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کے قدموں کی چاپ فائقہ کے دل کی دھڑکنوں سے تال میل کھا رہی تھی۔ وہ اس کے اتنا قریب آ گیا کہ فائقہ کو فریج کی ٹھنڈک اور ارمان کے وجود کی تپش بیک وقت محسوس ہونے لگی۔ ارمان نے اپنا ایک ہاتھ فائقہ کے سر کے برابر دیوار پر ٹکا دیا، اس کا گھیرا تنگ ہو چکا تھا۔
“یہ قید خانہ ہے تو پھر اس قیدی کی زبان اتنی لمبی کیوں ہے؟” ارمان نے جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس کی سانسیں فائقہ کے گالوں کو چھو رہی تھیں۔ فائقہ نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔ “کیونکہ زبان پر پہرہ بٹھانا تمہارے بس کی بات نہیں۔ تم میرا جسم قید کر سکتے ہو، میری سوچ نہیں”۔ ارمان کی نظریں اس کے لرزتے ہوئے گلابی لبوں پر ٹھہر گئیں۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی اپنی انا اس لڑکی کی قربت میں پگھل رہی ہے۔ اس نے اپنا دوسرا ہاتھ بڑھا کر فائقہ کے ماتھے پر آنے والی ایک آوارہ لٹ کو چھوا۔ اس کے لمس سے فائقہ کے پورے وجود میں ایک بجلی سی دوڑ گئی۔”تمہیں لگتا ہے کہ میں صرف جسم قید کرنا جانتا ہوں؟” ارمان کا لہجہ اب شرارتی نہیں بلکہ بے حد گہرا اور سنجیدہ تھا۔ “فائقہ ارشد خان! میں اگر چاہوں تو تمہاری روح تک رسائی حاصل کر سکتا ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم خود ہار مانو”۔ “خواب دیکھنا چھوڑ دو ارمان! میں مر جاؤں گی لیکن تمہارے سامنے کبھی سر نہیں جھکاؤں گی”۔ فائقہ نے اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی لیکن ارمان نے اسے مزید سختی سے دیوار کے ساتھ بھینچ دیا۔ “تمہاری یہی ضد مجھے تمہاری طرف کھینچتی ہے اور یہی مجھے غصہ بھی دلاتی”۔ ارمان نے اسے چھوڑا اور ایک دم پیچھے ہٹ گیا جیسے اسے خود کو اس کشش سے بچانا ہو۔ “جاؤ یہاں سے، اس سے پہلے کہ میرا صبر جواب دے جائے”۔فائقہ وہاں سے تیزی سے بھاگی، لیکن اپنے پیچھے ارمان کی تڑپتی ہوئی نظریں چھوڑ گئی۔ وہ اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پر گر گئی تھی اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ خود سے سوال کر رہی تھی کہ ارمان کے لمس میں ایسا کیا تھا کہ وہ چاہ کر بھی اسے دھکا نہیں دے سکی؟ اگلے دن حویلی کی لائبریری میں فائقہ کچھ ڈھونڈ رہی تھی کہ ارمان وہاں داخل ہوا۔ اس نے سفید کُرتے کے ساتھ گہرے بھورے رنگ کی واسکٹ پہن رکھی تھی، وہ ہمیشہ کی طرح ایک مکمل سنجیدہ مرد لگ رہا تھا۔ فائقہ ایک اونچی شیلف سے کتاب نکالنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کا ہاتھ وہاں تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ارمان خاموشی سے اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا۔ اس نے اپنا لمبا بازو بڑھایا اور وہ کتاب نکال کر فائقہ کے سامنے کر دی۔ فائقہ مڑی تو وہ ارمان کے حصار میں تھی۔ ان کے درمیان محض چند انچ کا فاصلہ تھا۔ “مدد مانگنا سیکھ لو، ہر جگہ ضد کام نہیں آتی”۔ ارمان نے کتاب اسے تھماتے ہوئے کہا۔ “میں تمہاری مدد کے بغیر بھی کر سکتی تھی”۔ فائقہ نے کتاب لی اور جانے لگی، لیکن ارمان نے اس کا رستہ روک لیا۔ “تم مجھ سے اتنی دور کیوں بھاگتی ہو؟ کیا تمہیں ڈر ہے کہ اگر قریب آئی تو مجھ سے محبت کر بیٹھو گی؟” ارمان کے اس سوال پر فائقہ کے قدم جم گئے۔اس نے پلٹ کر ارمان کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں غصہ اور چیلنج تھا۔ “محبت؟ تم جیسے سنگدل انسان سے؟ ارمان خانزادہ، تم وہ مرد ہو جس سے میں محبت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی”۔ ارمان قہقہہ لگا کر ہنسا، ایک ایسا قہقہہ جس میں فتح کا یقین تھا۔ “جتنا انکار کرو گی، اتنی ہی گہری چوٹ کھاؤ گی۔ تمہاری آنکھیں تمہاری زبان کا ساتھ نہیں دے رہیں فائقہ”۔ پھر وہ وہاں سے چلا گیا، لیکن فائقہ وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ ارمان کی باتیں اس کے گرد ایک ایسا جال بن رہی ہیں جس سے نکلنا اس کے لیے نامکن ہوتا جا رہا تھا۔شام کے وقت مایا نے لان میں بیڈمنٹن کھیلنے کا پروگرام بنایا۔ فائقہ نے مایا کے اصرار پر کھیلنا شروع کر دیا تھا۔ اس نے آسمانی رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا اور اس کے بال ایک اونچی پونی میں بندھے ہوئے تھے۔ ارمان برآمدے میں بیٹھا چائے پی رہا تھا لیکن اس کی نظریں مسلسل فائقہ کے وجود پر جمی تھیں۔ کھیلتے کھیلتے فائقہ کا پاؤں ایک گیلی جگہ پر پھسلا۔ “آہ!” اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔ اس سے پہلے کہ وہ زمین پر گرتی، ارمان کسی چیتے کی طرح جھپٹا اور اسے اپنی مضبوط بانہوں میں بھر لیا۔فائقہ کی آنکھیں بند تھیں اور اس کا سر ارمان کے چوڑے سینے پر تھا۔ اسے ارمان کے دل کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی، جو بالکل اس کے دل کی طرح تیز تھی۔ ارمان نے اسے اتنی سختی سے تھام رکھا تھا جیسے وہ اسے کبھی گرنے نہیں دے گا۔ “تم ٹھیک ہو؟” ارمان کی آواز میں پہلی بار فائقہ نے حقیقی فکر دیکھی۔ فائقہ نے آنکھیں کھولیں تو ارمان کا چہرہ اس کے بالکل سامنے تھا۔ مایا وہاں کھڑی مسکرا رہی تھی، لیکن ان دونوں کو اس وقت کسی کا ہوش نہیں تھا۔ ارمان کی نظریں فائقہ کے چہرے کے نقوش کا طواف کر رہی تھیں۔ اس نے لاشعوری طور پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی۔ “مجھے چھوڑو ارمان۔۔۔ میں ٹھیک ہوں”۔ فائقہ نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا۔ارمان نے اسے آہستہ سے زمین پر کھڑا کیا، لیکن اس کا ہاتھ اب بھی فائقہ کی کمر پر تھا تاکہ اسے سہارا دے سکے۔ “دیکھ کر چلا کرو، ہر بار میں تمہیں بچانے کے لیے وہاں موجود نہیں ہوں گا”۔ “میں نے تمہیں بلایا نہیں تھا”۔ فائقہ نے اپنی انا کو ڈھال بناتے ہوئے کہا، حالانکہ اس کا پورا وجود اب بھی ارمان کے لمس سے کانپ رہا تھا۔ “تمہاری زبان اور تمہاری انا تمہاری دشمن بن جائیں گی ایک دن”۔ ارمان نے سرد لہجے میں کہا اور وہاں سے مڑ گیا۔ مایا ان دونوں کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی، اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ برف پگھل رہی ہے۔ رات کو ارمان اپنے کمرے میں کھڑا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں فائقہ کا وہ چہرہ بار بار آ رہا تھا جب وہ اس کی بانہوں میں تھی۔ “میں کیوں اس لڑکی کے بارے میں اتنا سوچ رہا ہوں؟ وہ صرف ایک ذمہ داری ہے، چچا کی بیٹی ہے بس”۔ اس نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن اس کے دل سے ایک آواز آئی۔ “وہ تمہاری ضد ہے ارمان، اور تم اپنی ضد کبھی نہیں ہارتے”۔ دوسری طرف فائقہ بھی بے چین تھی۔ اسے ارمان کا وہ فکرمند چہرہ یاد آ رہا تھا۔ “وہ اتنا برا بھی نہیں ہے۔۔۔ نہیں فائقہ! وہ ویسا ہی ہے جیسے اس حویلی کے لوگ ہیں۔ وہ ظالم ہے، اس نے تمہیں یہاں قید کر رکھا ہے”۔ وہ اپنے خیالات کو جھٹکنے لگی تھی لیکن ارمان کا سحر اس کے اعصاب پر حاوی ہوتا جا رہا تھا۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *