Hai Zindagi Kitni Haseen by Rashida Riffat Novel20709
Hai Zindagi Kitni Haseen by Rashida Riffat
Cousin base | After Marriage | Digest Novel | Social Romantic novel | Complete Novel
“میں تاریخِ عالم کا پہلا دولہا ہوں جس کی سہاگ رات بیوی کا سر دباتے ہوئے گزری ہے۔” وہ مسکراتے ہوئے اسے چھیڑ رہا تھا۔
اگر وہ شہرام کی اصلیت سے آگاہ نہ ہوتی تو اس وقت دل میں اس کی اعلیٰ ظرفی کی قائل ہو چکی ہوتی۔ گزری رات اس نے شہرام کا انتظار تک نہ کیا تھا۔ مانا اس کی طبیعت خراب تھی لیکن جس طرح وہ کپڑے تبدیل کر کے لمبی تان کر سوئی تھی کوئی اور ہوتا تو زندگی کی حسین رات کو اس بے دردی سے ضائع کرنے پر خفگی کا اظہار تو کرتا، لیکن وہ ماتھا پچھ بنائے بہت سے مسکراتے اس کی مزاج پرسی کر رہا تھا۔
“چلو تم فریش ہو لو پھر سب کے ساتھ مل کر بیٹھتے ہیں۔” شہرام کے کہنے پر وہ اٹھ گئی تھی۔ اس کا اصل مسئلہ شہرام تھا۔ وہ گھر کے باقی لوگوں کو اپنے رویے سے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ پھر گھر میں ایک اور دلہن بھی موجود تھی، انابیہ جانتی تھی کہ اگر وہ سر جھکا منہ پہاڑے حلیے میں کمرے سے نکلی تو فوراً “اس کا تقابل انگی سنوری تہمین بھابھی سے کیا جائے گا۔” شفیق سی تائی جان کی رات والی مہربانی بھی بہت تھی وہ اب انہیں شکایت کا موقع نہ دینا چاہتی تھی۔ نہا دھو کر اس نے ہلکا فیروزی کا مدانی کا سوٹ پہنا تھا۔ کندن کی نازک سی جیولری اور لائٹ سا میک اپ۔ آئینہ گواہی دے رہا تھا کہ وہ بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔ اگر وہ کمرے میں موجود اپنے شوہر کی آنکھوں میں جھانک لیتی تو گواہی کے لیے آئینے کی ضرورت نہ پڑتی۔ شہرام بہت فرصت سے اس کے چہرے کے حسین نقوش تک رہا تھا، انابیہ اسے لاکھ نظر انداز کرنے کی کوشش کرتی مگر اس کی نگاہوں کی تپش سے اس کی ہتھیلیاں پسینہ پسینہ ہو رہی تھیں۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو۔” ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں اپنے پیچھے کھڑے شہرام کا عکس دیکھ کر وہ سٹپٹا اٹھی تھی۔
“معلوم ہے مجھے۔” اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے اس نے سرد مہرئی سے جواب دیا اور بیڈ پر بیٹھ کر سینڈل پہننے لگی۔
“اینی پرابلم انابیہ؟ تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا۔” شہرام اس کے سرد و سپاٹ رویے پر قدرے الجھا تھا۔ یہ دلہنوں والی روایتی شرم نہ تھی، اس کا رویہ نا قابلِ فہم سا تھا۔
“میں نے کہا ناں ٹھیک ہے میری طبیعت۔ آئیں چلیں ناشتے پر سب انتظار کر رہے ہوں گے۔” انابیہ نے اسی سپاٹ سے لہجے میں شہرام کو مخاطب کیا۔
“چلتے ہیں، پہلے اپنا رونمائی کا تحفہ تو لے لو۔” شہرام نے مسکراتے ہوئے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر دھری مخملی ڈبیا اٹھائی تھی پھر اس کے قریب بیٹھا تھا۔ انابیہ نڈھال انداز میں دونوں ہاتھ گود میں دھرے بیٹھی رہی۔ شہرام نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے نازک سی ڈائمنڈ رنگ اس کی انگلی میں پہنائی تھی۔ انگوٹھی پہن لینے کے بعد انابیہ نے یک لخت اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا تھا۔
“تم مجھے کسی بات پر خفا ہو انابیہ۔” شہرام اس کے انداز پر ششدر رہ گیا تھا۔ انابیہ نے ایک کٹیلی نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی۔
“مجھے بھوک لگی ہے میں ناشتہ کرنے جا رہی ہوں۔” شہرام کی بات کا جواب دیے بنا وہ اٹھ گئی تھی۔ شہرام نے ایک گہری سانس اندر کھینچی۔ وہ پہیلیاں بوجھنے کا ہمیشہ سے ہی بہت شوقین تھا لیکن جو پہیلی اسے اپنی شادی شدہ زندگی کی اولین صبح بوجھنی پڑ رہی تھی اس کے دور دور تک اس کا کوئی ممکن جواب موجود نہ تھا۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕