Man o Salwa by Umera Ahmed 

Social fiction, romance, greed, materialism, spiritual trial, fate, and human desires.

”مجھے زہرہ بی بی نے بھجوایا ہے۔ آپ کی بچی کی طبیعت خراب ہے۔ انہوں نے گاڑی بھیجی ہے کہ آپ آکر اپنی بچی کو دیکھ جائیں۔” ڈرائیور نے بے حد مودب انداز میں کہا۔
”گاڑی۔۔۔۔” نعیم کو جیسے کرنٹ لگا۔ اس نے شاک کے عالم میں ماں کو دیکھا۔
”ارے پیچھے ہٹ… میں بھی تو دیکھوں، کس نے گاڑی بھیج دی؟” فہمیدہ نے اسے ایک طرف ہٹاتے ہوئے کہا اور پھر دروازے سے باہر جھانکنے لگی۔
”یہ گاڑی زہرہ نے بھیجی ہے؟” فہمیدہ باہر کھڑی نسان سنی کو دیکھ کر جیسے دنگ رہ گئی تھی۔
”جی۔” ڈرائیور نے مختصراً جواب دیا۔
”ارے زہرہ کے پاس یہ گاڑی کہاں سے آگئی؟” فہمیدہ نے ہکا بکا انداز میں پلٹ کر نعیم سے پوچھا۔
”یہی تو میں حیران ہو رہا ہوں۔ تم جاؤ،مجھے نہیں آنا۔” نعیم نے پہلا جملہ ماں سے اور دوسرا ڈرائیور سے کہا۔
”ارے کیوں نہیں جانا۔ جا کر دیکھتے تو ہیں کہ آخر ایسی گاڑی کہاں سے لے لی۔ سنا ہے زینی اپنے پاس لے گئی ہے سب گھر والوں کو۔ دیکھتے ہیں، کہاں لے گئی ہے۔” فہمیدہ نے بے حد تجسس کے عالم میں کہا۔
ایک گھنٹہ کے بعد گاڑی انہیں لے کر جس بنگلے میں داخل ہوئی تھی، اس کے سائز اور نقشے نے انہیں خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔ نعیم اور وہ منہ کھولے ہونقوں کی طرح گاڑی کو پورچ میں رکتے دیکھتے رہے پھر ڈرائیور نے دروازہ کھول دیا۔
گاڑی سے باہر نکل کر ان کی رہی سہی قوت گویائی بھی سلب ہو گئی تھی۔ پورچ میں کوئی ان کے استقبال کے لیے نہیں تھا مگر ڈرائیور لاؤنج کا دروازہ کھول کر انہیں اندر لے گیا۔
اور لاؤنج میں جاتے ہی نفیسہ سے ان کا سامنا ہو گیا جو ان دونوں کو دیکھ کر ہکّا بکّا رہ گئی تھیں۔
”ارے نعیم بیٹا… فہمیدہ آپا… آپ… آپ لوگ… آئیں… آئیں… بیٹھیں… بیٹھیں۔ زہرہ… زہرہ… دیکھو کون آیا ہے۔”
نفیسہ انہیں دیکھ کر بالکل ہی بوکھلا گئی تھیں اور ان کی بوکھلاہٹ نے نعیم اور فہمیدہ کے اوسان جیسے بحال کر دیے۔ انہیں یک دم یاد آگیا تھا کہ وہ ”کون” تھے۔
”آپ لوگ بیٹھیں، میں۔۔۔۔” نفیسہ کی بات مکمل نہیں ہو سکی۔ اس سے پہلے ہی زہرہ لاؤنج میں داخل ہوئی تھی اور نعیم اور فہمیدہ کو دیکھ کر ماں ہی کی طرح بد حواس ہو گئی تھی۔
”السلام علیکم پھوپھو۔۔۔۔” اس نے بمشکل فہمیدہ سے کہا۔
”ہمیں گاڑی بھجوائی تھی تم نے کہ بچی بیمار ہے، ہم آکر دیکھ جائیں۔” فہمیدہ نے اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ اس سے کہا۔ ڈیفنس میں آگئے تھے تو کیا، وہ دونوں اب بھی محلے کے اسی گھر کی طرح ان کے تلوے چاٹنے کو تیار نظر آرہی تھیں اور فہمیدہ یہ کام کروانے کا موقع کیسے ضائع کرتی۔
”میں نے…؟” زہرہ نے الجھ کر نعیم کو دیکھا۔ ”میں نے تو گاڑی نہیں۔”
”ارے دیکھو ربیعہ بھی آگئی۔ سلام کرو بہنوئی اور پھوپھو کو اور جا کر جلدی سے چائے پانی کا انتظام کرو۔” نفیسہ نے بیچ میں ہی ربیعہ کے آجانے پر زہرہ کی بات اچکی۔
وہ ان ہی قدموں پر انہیں سلام کر کے واپس پلٹ گئی۔
”آپ لوگ بیٹھیں تو سہی۔” نفیسہ نے ان دونوں سے کہا۔ نعیم اور فہمیدہ بظاہر بڑے کروفر کے عالم میں صوفہ پر بیٹھ گئے۔
”تم نے گاڑی نہیں بھیجی تو گاڑی بھیجی کس نے؟” فہمیدہ نے صوفے پر بیٹھتے ہی پوچھا۔
”میں نے۔” زینی اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر آگئی۔ اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھا اور وہ ایک جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھی۔ فہمیدہ اور نعیم ساکت وصامت اسے دیکھتے رہ گئے۔ ٹی وی یا اخباروں میں اسے دیکھنا اور بات تھی مگر اسے اپنی نظروں کے سامنے اس حلیے میں دیکھنا اور بات۔ وہ تو چوبیس گھنٹے دوپٹہ لپیٹے رکھنے والی زینی سے واقف تھے۔ اب جو آکر بالکل ان کے سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سگریٹ کے کش لے رہی تھی، اس سے وہ بالکل ناواقف تھے۔
”میں نے بلایا تھا انہیں۔ کچھ ضروری باتیں کرنی تھیں ان سے۔” زینی نے ماں سے کہا۔ ”آپ کھڑی کیوں ہیں زہرہ آپا! آرام سے بیٹھ جائیں۔”
زینی نے زہرہ سے کہا جو بالکل حواس باختہ انداز میں کھڑی تھی۔ زینی کو ایک لمحہ کے لیے لگا وہ آج بھی اس کے باپ کے گھر کے صحن میں کھڑی ہے۔ سولی پر لٹکتی انتظار کرتی کہ وہ اسے لے کر جاتا ہے یا نہیں۔
زہرہ کچھ ہچکچاتے ہوئے ایک صوفہ پر بیٹھ گئی لیکن زہرہ کی طرف اب کوئی متوجہ نہیں تھا۔
نعیم اور فہمیدہ زینی پر نظریں جمائے ہوئے تھے بلکہ زینی پر نہیں، اس کے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کے درمیان پھنسے سگریٹ پر جسے وہ بڑے اطمینان سے پی رہی تھی۔ ان کے محلے میں تو کوئی مرد بھی یوں بے دھڑک سگریٹ نہیں پیتا تھا جس طرح وہ پی رہی تھی۔
ملازم ایک ٹرے میں جوس کے دو گلاس رکھ کر لے آیا اور اس نے ٹرے فہمیدہ کے سامنے کی۔
”ہم پر تو اس گھر کا پانی تک حرام ہے اور۔۔۔۔” فہمیدہ نے ہمیشہ کی طرح وہی واویلا کرنا چاہا۔ زینی نے اس کی بات کاٹ کر ملازم سے کہا۔
”ایک گلاس مجھے دے دو اور دوسرا واپس لے جاؤ۔”
ملازم نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کی ہدایت پر عمل کیا، فہمیدہ اور نعیم نے ایک دوسرے کا منہ دیکھا۔ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا، منتیں ہوتی تھیں۔ انہیں بے حد برا لگا۔ اتنا ہی برا نفیسہ کو لگا۔ وہ واقعی جوس پلانے کے لیے منت و سماجت کے سلسلے کا آغاز کرنے لگی تھیں مگر زینی نے ان کے منصوبے پر پانی پھیر دیا تھا۔
ایک ہاتھ میں سگریٹ لے کر دوسرے ہاتھ میں جوس کے گلاس سے دو سپ لینے کے بعد زینی نے گلاس پاس پڑی میز پر رکھ دیا۔
”میں اب اس مسئلے کا حل چاہتی تھی اور آپ لوگوں سے ملے بغیر اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکتا تھا۔” زینی نے بات کا آغاز کیا اور فہمیدہ نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔
”حل ہم نکال چکے ہیں۔ میں نے اپنے بیٹے کا رشتہ کر دیا ہے۔ بس چند دنوں میں شادی کرنے والے ہیں ہم لوگ۔”
اس کی بات پر نفیسہ اور زہرہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے تھے مگر زینی اسی طرح بے تاثر چہرے کے ساتھ بیٹھی جوس کے سپ لیتی رہی۔
”لڑکی والوں نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ بڑی دھوم دھام سے شادی کریں گے۔ گھر بھر دیں گے جہیز سے۔ میرے بیٹے پر جان چھڑکتے ہیں وہ لوگ۔”
زینی نے فہمیدہ کو مزید بات نہیں کرنے دی۔
”بہت اچھا کرتے ہیں، اگر وہ یہ کرتے ہیں تو… ظاہر ہے اگر داماد کا کاروبار سرے سے ہو ہی نا… اس کی دکان کا سامان پھنکوا کر پولیس نے اسے بند کروا دیا ہو تو جہیز اور سسرال کے جان چھڑکنے کی تو بہت ضرورت پڑتی ہے۔”
زینی نے گلاس رکھتے ہوئے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔ نعیم اور فہمیدہ بے اختیار ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے تھے۔ وہ یہ سب کیسے جانتی تھی۔ خاندان میں سے کسی نے اسے یہ سب کچھ بتایا ہو گا۔ انہیں پہلا خیال یہی آیا تھا مگر خاندان میں سے کون بتا سکتا تھا۔ انہوں نے نعیم کی شادی وقتی طور پر ملتوی کی تھی مگر ہر ایک سے یہ بات چھپائی تھی کہ اسے دکان سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ نعیم آج کل صرف یہی دوڑ دھوپ کرنے میں مصروف تھا کہ کسی طرح اسے وہ دکان یا آس پاس کوئی اور دکان مل جاتی۔ شادی اس کے ذہن سے مکمل طور پر غائب ہو گئی تھی اور اب وہ سامنے بیٹھی بڑے اطمینان سے اُسے یوں یہ قصہ سنا رہی تھی، جیسے یہ سب کچھ اس کے سامنے ہوا تھا۔
”تم سے کس نے کہا؟” نعیم نے بے ساختہ اس سے پوچھا۔
”کیا فرق پڑتا ہے کہ کس نے کہا۔”
”جھوٹ ہے یہ سارا۔ پولیس کا کیا تعلق ہے اس سارے معاملے میں۔ وہ دکان میرے بیٹے ہی کے پاس ہے۔ وہ تو شادی کی تیاریوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لیے بند کر دی ہے۔” فہمیدہ نے مداخلت کی تھی۔
”اچھا، میری دکان ہے مگر مجھے پتہ ہی نہیں کہ میرے بہنوئی کی دوسری شادی کی تیاریوں کے لیے اسے بند کیا گیا ہے۔ حیرت ہے۔”
زینی کے جملے پر نعیم کو جیسے کرنٹ لگا تھا۔
”وہ دکان تم نے خریدی ہے؟”
”ہاں۔” زینی نے بڑے اطمینان سے کہا۔
”میرا سامان وہاں سے تم نے پھنکوایا؟”
”ہاں۔”
”تم نے جان بوجھ کر مجھے ذلیل کروایا؟” نعیم اب بھڑک اٹھا تھا۔
”ہاں۔” زینی کے اطمینان میں ذرا برابر فرق نہیں آیا تھا۔
”اب ساری عمر بہن کو گھر بٹھا کر رکھنا کیونکہ میں اسے طلاق دے دوں گا۔”
نعیم نے اس دھمکی کا استعمال کیا جو ہمیشہ کار گر ثابت ہوئی تھی۔
”اگر بات طلاق کی ہے تو پھر یہ کام ابھی اور اسی وقت ہوناچاہیے۔ کاغذ پین لے کر آؤ۔”
زینی نے چائے کی ٹرالی اندر لاتے ہوئے ملازم سے کہا۔ اس کے ساتھ اندر آتی ربیعہ نے زینی کو بے حد ملامت بھری نظروں سے دیکھا۔
چند لمحوں کے لیے نعیم کچھ نہیں کہہ سکا۔ یہی حال فہمیدہ کا ہوا تھا۔ زینی اس قدر دھڑلے سے طلاق کا مطالبہ کرے گی۔ اس کا انہیں اندازہ نہیں تھا۔ طلاق کے نام پر پہلے جو خوف اور سراسیمگی ضیاء کے خاندان کے ہر فرد کے چہرے پر نظر آنے لگتی تھی۔ اب وہ یک دم غائب ہو گئی تھی یا کم از کم زینی کے چہرے پر انہیں نظر نہیں آئی تھی اور یہ بات جاننے میں نعیم اور فہمیدہ کو دیر نہیں لگی کہ وہ ضیاء کی بیٹی تھی مگر ضیاء نہیں تھی۔
وہ ضیاء کے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوتے تو زہرہ کو طلاق دے کر ہی اٹھتے مگر یہ زینی کے ڈیڑھ کنال کے گھر کا کمرہ تھا۔ یہاں انہیں بات تول کر کرنی تھی۔ ترازو پہلے بھی برابر نہیں تھا۔ پلڑا ان کی طرف جھکا ہوا تھا۔ ترازو اب بھی برابر نہیں تھا۔ پلڑا زینی کی طرف جھکا ہوا تھا۔
”طلاق ہو گی تو پھر نعیم اپنی تینوں بچیاں لے جائے گا۔” فہمیدہ نے ایک اور حربہ استعمال کرنے کی کوشش کی۔ وہ زہرہ کو آزمانا چاہتے تھے۔
”تینوں بچیوں کو ساتھ لیتے آنا۔” زینی نے فہمیدہ کو بات مکمل بھی نہیں کرنے دی اور ٹرالی رکھ کر جاتے ہوئے ملازم سے کہا۔ ”آپ بڑی خوشی سے بچیاں اپنے ساتھ لے جا سکتی ہیں۔ نہ لے کر جائیں تو طلاق کے بعد ہم خود بھجوا دیں گے۔” زینی نے سابقہ انداز میں کہا۔
”ہم ساری عمر بچیوں کو ماں سے ملنے نہیں دیں گے۔” نعیم نے ایک اور دھمکی دی۔
”یہ اور بھی اچھا ہو گا۔ ویسے بھی طلاق کے بعد زہرہ آپا یہاں گھر تھوڑی بیٹھی رہیں گے۔ وہ بھی دوسری شادی کر کے چلی جائیں گی۔ ان کے اپنے بچے ہو جائیں گے۔ ساری عمر ان بچیوں کا سوگ تھوڑی منائیں گی وہ۔”
فہمیدہ اور نعیم کے چہرے پر پہلی بار ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔
”چائے تو یقینا آپ لوگ نہیں پیئں گے کیونکہ اس گھر کی ہر شے حرام ہے آپ پر۔”
زینی نے بڑے اطمینان سے ٹرالی کھینچتے ہوئے اپنے لیے چائے بنانی شروع کی۔ اس کی پوری توجہ اس طرح چائے پر لگی ہوئی تھی جیسے وہ اسی ایک کام کے لیے ان سب کے بیچ بیٹھی ہو۔ کمرے میں اس کے علاوہ بیٹھا ہوا ہر شخص مکمل طور پر ہکا بکا تھا۔ نفیسہ، زہرہ اور ربیعہ کو خوف تھا کہ نعیم، کہیں طلاق دے ہی نہ دے اور نعیم اور فہمیدہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب وہ طلاق کی دھمکی کیسے واپس لیں۔
”تم یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہو؟” نعیم نے بالآخر جیسے تھک کر کہا تھا۔
”اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں، آپ کے پاس ہے۔ اس شہر میں آپ کہیں کوئی کام کرنا چاہیں گے، میں کام نہیں کرنے دوں گی۔ جو کچھ اب کروایا ہے وہی پھر کرواؤں گی اور یہ تب تک ہوتا رہے گا جب تک میری بہن میرے گھر بیٹھی ہے۔” زینی نے اس بار دو ٹوک انداز میں جیسے اعلان کیا تھا۔
”تم مجھے دھمکی دے رہی ہو؟” نعیم نے بے یقینی سے کہا۔
”ہاں۔” چائے میں چینی ڈالتے ہوئے اس کا لہجہ اتنا ہی ٹھنڈا تھا۔
”نفیسہ! تم کچھ کیوں نہیں بولتیں یہ۔۔۔۔” فہمیدہ نے اس بار نفیسہ کو مخاطب کیا۔
”امی کچھ نہیں کہیں گی جو کہوں گی، میں کہوں گی۔ کاغذ اور پین آگیا۔ طلاق لکھ دیں۔”
زینی نے ملازم کو اندر آتے ہوئے دیکھ کر کہا۔ کمرے میں بیٹھے ہر شخص کی جان پر بن گئی تھی۔ ملازم نے کاغذ پین لا کر نعیم کے سامنے رکھ دیا۔ زینی کیک کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اپنی پلیٹ میں رکھ رہی تھی۔ وہ واقعی بہت مزے دار تھا۔ یہ اس کا فیورٹ کیک تھا۔ آلمنڈ کیک۔
”اگر کریم ہے تو تھوڑی کریم لا دو۔ میں کیک پر ڈالوں گی۔” اس نے ملازم سے کہا۔ ملازم سر ہلاتے ہوئے چلا گیا۔
”آپ لوگ چائے پیئں گے، بنا دوں؟”
زینی نے نفیسہ سے پوچھا انہیں لگا اس کا ذہنی توازن خراب ہو گیا ہے۔ نعیم ان کی بیٹی کو طلاق لکھ کر دینے والا تھا اور وہ کیک پر کریم ڈال کر کھاتے ہوئے ان سے چائے کا پوچھ رہی تھی۔ یوں جیسے وہ کوئی فلم یا اسٹیج پلے دیکھنے بیٹھے تھے۔ زینی نے ٹرالی کے نچلے حصے میں کوئی اور چیز بھی تلاش کرنی شروع کی ، بہت عرصے کے بعد اسے اپنے گھر میں بیٹھ کر اتنی بھوک لگ رہی تھی۔
ملازم تب تک کریم لے آیا تھا۔ زینی نے کریم کے دو چمچے کیک کے سلائس پر ڈالے اور ملازم کو اپنا سیل فون لانے کے لیے کہا۔
”بیگ بھی لے آنا۔ مجھے ذرا نکلنا ہے اور ڈرائیور سے کہنا، گاڑی نکال دے۔ بچیوں کا سامان بھی پیک کروا دینا۔” اس نے ملازم کو آخری ہدایت دی اور کانٹے سے کیک کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے نعیم کو دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ دونوں بہت دیر تک ایک دوسرے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے۔ زینی کی آنکھوں میں کتنی بے خوفی، دلیری اور اس کے لیے تضحیک تھی، یہ جاننے کے لیے نعیم کو بہت دیر نہیں لگی تھی۔ جس بلی کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا تھا، وہ شیر پر جھپٹ پڑنے کے لیے تیار تھی۔
نعیم نے آنکھیں چرا لیں اور ماں کو دیکھا پھر پین اور کاغذ ایک طرف کرتے ہوئے بے حد کمزور آواز میں کہا۔
”کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے؟”
زینی کیک کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ڈالتے رک گئی پھر اس نے ملازم سے کہا۔
”چائے سرو کریں ان لوگوں میں۔”

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *