Dil Mohabbat Ka Talib by Shazia Rafique

Police officer hero | After Marriage base | Cousin base| Joint Family | Tagic Past | Hate to Love story | Social Romantic Novel | Happy Ending

“جتنی جلدی ہوسکے ڈاکٹر کے پاس جاكر اس بچے سے جھٹکارا پالو،مجھے نہیں ضرورت اس کی۔۔۔۔”
”کیوں جاؤں میں، میں نے کوئی گناہ نہیں کیا کہ اپنی جائز اولاد کو مار ڈالوں، کیوں ظلم کرنا چاہتے ہو تم اور یہ تمہاری بھی بھول ہے کہ میں تمہیں اس ناپاک اور مذموم ارادہ میں کامیاب ہونے دوں گی۔“ وہ ہسٹریک ہونے لگی تھی، جواباً روحان کی استہزائیہ مسکراہٹ نے اس کا ڈھیروں خون جلا دیا، یا اللہ یہ کیسا نفسیاتی مریض اس کا نصیب بنا تھا کہ جس کی زندگی کا ہر نیا باب اک نئی الجھن لئے ہوا تھا اور وہ تھکنے لگی تھی اس ڈور کو سلجھاتے ہوئے۔
”میں کل ہی بابا جان کی طرف چلی جاؤں گی۔“
”جو میں نے کہا ہے اسے کرنے کے بعد جہاں مرضی چلی جانا، اس سے پہلے نہیں۔“ انگلی اٹھا کر وارننگ کے انداز میں بولا۔
”پھر مرغے کی ایک ٹانگ، مجھے اپنے اس حکم کی وجہ بتاؤ پہلے۔“ وہ جھنجھلا کر آپ جیسے القابات کو بھول گئی تھی اس سے، اس نے جانچتی نظروں سے اس کا جائزہ لیا اور وہ ان گہری نظروں پہ اپنے آپ میں سمٹ سی گئی، غیر محسوس انداز میں دوپٹہ اپنے گرد لپیٹ لیا، اس کے حجاب آلود جھینپے انداز پہ وہ باوجود ٹینشن سے مسکرا دیا، لیکن جلد ہی اپنے تاثرات نارمل کر کے اصل مسئلہ کی طرف آگیا۔
”وجہ بتانے کا میں پابند نہیں ہوں تمہیں۔“
صرف اس سے مطلب ہوتا ہے کہ تمہارے شوہر نے تمہیں جو کہا ہے اس پہ عمل کرو۔“ اور وہ دکھ سے اسے دیکھتی چلی گئی وہ اسے آج تک سمجھ نہیں پائی تھی، پرت در پرت اس کے اتنے روپ سامنے آ رہے تھے کہ وہ حیران اور پریشان ہی تھی، حالانکہ اس کا اور روحان کا ساتھ شادی کے بعد کا نہیں تھا صرف، وہ اسے بچپن سے دیکھتی آ رہی تھی، اس کے مزاج کی گرمی سردی سے بھی واقف تھی، اس کے تنہا بیزار اور خاموش رویہ کو وہ سب کزنز اس کی عادت خیال کر کے محتاط رہتے تھے مگر وہ اندر سے کتنا الجھا ہوا اور سائیکی کیس بن چکا تھا یہ جاننے کی کسی نے بھی ضرورت محسوس نہیں کی تھی، سامہ کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ دھاڑیں مار مار کر روئے، آخر اسے ہی ایسا شخص ملنا تھا، جس کی شاندار اور بارعب شخصیت کو دیکھ کر اس کی دوستیں کتنا رشک کر رہی تھیں شادی کے دن اور آج اگر اس کی اصلیت اور شخصیت کا اندرونی روپ کوئی دیکھ لے تو، اس سے آگے اس کی سوچ ٹھٹھر کر رہ گئی، کیا وہ کسی کو بتائے گی کہ وہ کیسا مطالبہ اس سے کر رہا ہے، کتنا مشکل اور کڑا وقت ہوتا ہے ایک شادی شدہ لڑکی پہ جب اس کے کندھوں پہ ایسا نادیدہ بوجھ آن پڑتا ہے، روحان بڑے غور سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہا تھا۔
”دیکھو اس میں کوئی نقصان نہیں ہو گا تمہارا، میں گارنٹی دیتا ہوں کہ کسی اچھے اور قابل اسپیشلسٹ سے مشورہ کر کے ہی اگلا قدم اٹھائیں گے۔“ وہ اس کے قریب بیٹھ کر قدرے نرمی سے سمجھانے لگا تھا۔
”روحان صاحب کوئی بھی باضمیر اور اچھا ڈاکٹر آپ کو ایسا مشورہ کبھی نہیں دے گا اور میں کیوں کیوں ایسا، کیوں ظلم کرنا چاہتے ہیں آپ،میں ماں بننا چاہتی ہوں، مجھ سے یہ ڈیمانڈ مت کریں پلیز۔“
پہلے سختی سے اور پھر ایکدم التجائیہ انداز سے اس کے ہاتھ تھام کر وہ تقریباً رو دی تھی، روحان نے اس کے ہاتھ جھٹکے اور مضطرب سا اٹھ کھڑا ہوا۔
”تم سمجھتی کیوں نہیں ہو سامہ، مجھے کسی بھی صورت زندگی میں کہیں بھی بچے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔“
”تو پھر شادی ہی نہ کرتے۔“ عام حالات میں وہ کبھی بھی اتنی کھلی گفتگو نہ کرتی مگر حالات اس موڑ پہ آ گئے تھے کہ اسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اپنا مقدمہ کس طرح لڑے۔
”شادی ہونی تھی ہو گئی، اس بات کو چھوڑو، میں آگے کی بات کر رہا ہوں تم اس مسئلہ کو نمٹاؤ۔“ وہ دانستہ یہ ذکر گول کر گیا کہ کتنی دعاؤں کے بعد وہ اسے پا سکا تھا، نجانے کب کی دل میں دبی ہوئی خواہش تھی جس کو زبان کا روپ دے کر بابا جان نے زندگی میں پہلی دفعہ اسے دلی خوشی عطا کی تھی، ورنہ تو وہ ہر اس معاملے اور خواہش کے برعکس فیصلہ کرتے تھے جس کی آرزو روحان کو ہوتی تھی، وہ آج تک نہیں سمجھ سکا تھا کہ وہ اتنے سخت گیر باپ کیوں تھے اور وہ بھی روحان کے لئے صرف، ورنہ رحمہ تو ان کی لاڈلی اور بے حد عزیز بیٹی تھی جس کی زبان سے نکلنے سے پہلے ہی اس کی ہر خواہش پوری کر دی جاتی تھی، اسی لئے اللہ کے کرم اور بابا کے فیصلے پہ وہ جتنا بھی شکر ادا کرتا کم تھا اور سامہ کہہ رہی تھی کہ ”شادی ہی نہ کرتے“ بے وقوف لڑکی اس کی شدتوں اور محبتوں سے واقف ہو جاتی تو کبھی نہ کہتی یہ سب۔
اس نے اپنا ماتھا رگڑا، وہ کیسے اسے بتائے کہ وہ اسے کھونا نہیں چاہتا، وہ نہیں چاہتا کہ ایک

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *