Hoor by Rashida Riffat Novel20704
Hoor by Rashida Riffat
After Marriage Base | Cousin Marriage Base | Family Drama Base | Social Romantic Novel | Complete Novel
سہاگ رات جب وہ بیڈروم میں داخل ہوا تو ابا کے ایک نسبتاً جوان دوست کی زیرِ نگرانی تیار کی ہوئی سیج کی لڑیوں میں سے صرف دلہن کا جھلملاتا لباس نظر آرہا تھا۔ سیج کی لڑیاں ہٹا کر دلہن کا گھونگھٹ ہٹانے کا تکلف نہ کرتے ہوئے اس نے دور صوفے پر بیٹھ کر خشک لہجے میں نئی نویلی دلہن کو مخاطب کیا تھا۔
“یہ شادی صرف اور صرف میرے ابا کی زبردستی کی وجہ سے ممکن ہو پائی ہے۔ میں فی الحال اس رشتے کو ذہنی طور پر قبول نہیں کر پا رہا۔ آپ یہ بھاری بھرکم لباس بدل کر سکون سے سو جائیں۔”
اس نے سپاٹ انداز میں دلہن کو مخاطب کیا۔ دل کا ایک گوشہ ملامت بھی کر رہا تھا۔ جو کچھ ہوا، اس میں اس بے چاری لڑکی کا کیا قصور لیکن پھر اس نے دل کو خود ہی ڈانٹ دیا۔
“ابا کو ان کے کیے کی تھوڑی بہت سزا ملنی چاہیے۔ جب میری زندگی کی ناخوشگواری کا پتا چلے گا تو پھر اپنے انداز سے غلطی پر کیف افسوس ملیں گے۔”
وہ لڑکی جو پہلی ہی نگاہ میں اس کے دل میں کھب گئی تھی اور آج تک جس کے تصور سے وہ پیچھا نہ چھڑا پایا۔ ابا نے اس کا رشتہ مانگنے کی سرے سے کوئی کوشش ہی نہ کی اگر رشتہ مانگنے کے بعد وہاں سے انکار ہوتا تو معاذ اپنے دل کو سمجھا بھی لیتا۔ معاذ کیسے اس لڑکی کی ان دیکھی کزن کو جیون ساتھی کے روپ میں قبول کر لیتا۔ دماغ کبھی سمجھانے کی کوشش بھی کرتا تو دل سمجھنے سے انکار کر دیتا۔
اپنی ساری فرسٹریشن اس نے سپاٹ سے لہجے میں اس نئی نویلی دلہن کی طرف منتقل کر دی تھی۔ نکاح کے چند گھنٹوں بعد ہی جس کو یہ مژدہ سننے کو ملا کہ شادی اس کے شوہر کی مرضی سے نہیں ہوئی ہے۔ وہ کچھ لمحوں تک بے حس و حرکت بیٹھی رہی۔ معاذ نے جیب سے موبائل نکال کر کینڈی کرش کھیلنا شروع کر دیا تھا۔
وہ آہستہ روی سے اٹھی، پہلے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے زیورات اتارے تھے پھر اپنے ہیئر اسٹائل سے نبرد آزما ہوئی تھی۔ معاذ نے نظر اٹھا کر دیکھا تک نہیں، پھر وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئی تھی۔
جب وہ اپنا سادہ لباس پہن کر واپس آئی تو ڈریسنگ ٹیبل پر بکھری جیولری سمیٹنے لگی تھی اور تب معاذ کی غیر ارادی نگاہ ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پر پڑی تھی۔ اسے لگا، اس کی بصارت کو دھوکا ہوا ہے، لڑکی کا عکس نہیں معاذ کا الوژن ہے جو لڑکی اتنے دنوں سے بلا ناغہ اس کے خوابوں میں آ رہی تھی، وہ مجسم ہو کر اس کے سامنے کیسے موجود تھی۔
“تم…… میرا مطلب ہے آپ۔” وہ بے ساختگی سے بولے بنا نہ رہ پایا۔ حور نے مڑ کر اسے دیکھا۔ وہ تو وہی تھی، سو فیصد وہی۔ معاذ بنا پلکیں جھپکائے اسے تک رہا تھا۔
“آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟” خشک لہجے میں اس نے معاذ کو مخاطب کیا۔
“آپ تو ڈاکٹر تھیں۔ میرا مطلب ہے کہ……” معاذ نے بات ادھوری چھوڑی۔ اسے خود اندازہ ہو گیا کہ جملہ بے ربط سا ہے اس کی سمجھ میں ہی نہ آ رہا تھا کہ اپنا مافی الضمیر کیسے واضح کرے۔
“آپ ڈاکٹر ہیں نا۔” اس بار سوال مختلف انداز میں دہرایا۔ حور نے نفی میں گردن ہلا دی لیکن آنکھوں میں استعجاب آمیز تاثر تھا۔
“آپ کو یہ بتا کر شادی کی گئی ہے کہ میں ڈاکٹر ہوں۔” اس نے الجھ کر پوچھا۔ معاذ نے نفی میں گردن ہلا دی، اب وہ جملہ نئے ڈھب سے ترتیب دینا چاہ رہا تھا۔
“جب میں چند ماہ پہلے آپ لوگوں کے ہاں آیا تھا تو فاطمہ نانی نے بتایا تھا کہ آپ ڈاکٹر بن رہی ہیں۔” معاذ نے جملہ ترتیب دے ہی لیا تھا۔
“دادی جان نے میرے متعلق بتایا تھا کہ میں ڈاکٹر بن رہی ہوں۔” وہ بے یقینی سے پوچھنے لگی۔ معاذ نے یادداشت کو ٹٹولا۔ قابلِ رشک سماعت کی طرح اس کی یادداشت بھی قابلِ رشک تھی۔ اسے یاد آیا کہ فاطمہ بیگم نے پوتی کی غیر موجودگی میں بتایا تھا کہ میری پوتی بھی ڈاکٹر بن رہی ہے، وہ تو گویا یہ وہ والی پوتی نہ تھی۔ معاذ نے خود بخود یہ کیسے سوچ لیا کہ انہوں نے اسی پوتی کا ذکر کیا ہے۔ وہ تو چھ عدد پوتیوں کی دادی کے رتبے پر فائز تھیں اور اس روز ان کی پانچ پوتیاں غیر حاضر تھیں۔ یہ بات ان میں سے بھی تو کسی کے متعلق ہو سکتی تھی پھر اس نے کیوں سوچا کہ وہ ہی ڈاکٹر ہے۔ معاذ دل ہی دل میں خود کو کوستے ہوئے پوچھ رہا تھا پھر جیسے اسے کچھ اور یاد آیا۔
“لیکن آپ اپنی دادی کا بلڈ پریشر بھی تو چیک کر رہی تھیں۔” اس نے پوچھا۔
“بلڈ پریشر چیک کرنے کے لیے ایم بی بی ایس کی ڈگری لینا ضروری ہے کیا؟” حور العین نے تیکھے تیوروں سے پوچھا۔ معاذ گڑبڑا کر رہ گیا۔
“باقی داوے، دادی کا بلڈ پریشر تو میرے اظہار چاچو کی سب سے چھوٹی بیٹی بھی چیک کر لیتی ہے اور وہ ابھی نویں کلاس میں پڑھتی ہے۔” حور العین نے اسے جتانے والے انداز میں باور کروایا۔
معاذ سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا اسے سمجھ میں نہ آیا کہ وہ اب ایسا کون سا فقرہ بولے جو آدھے گھنٹے پہلے کہی گئی بات کا اثر زائل کر دے لیکن اب حور العین کے بولنے کی باری تھی۔
“آپ ذرا مجھے اپنا سیل فون دیں گے۔” اس نے قریب آ کر معاذ کو مخاطب کیا۔ معاذ نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔
“ایکوپہلی میرے سیل کی چارجنگ ختم ہوگئی ہے۔ شادی کی افراتفری میں چارجنگ پر لگانا یاد ہی نہیں رہا۔ مجھے دادی جان سے بات کرنی ہے۔” وہ سپاٹ سے انداز میں بولی اور معاذ جو ہاتھ بڑھاتے ہوئے اسے اپنا موبائل تھمانے ہی لگا تھا یک لخت اپنا ہاتھ پیچھے ہٹایا۔
“وہ دراصل چارجنگ تو میرے موبائل کی بھی ختم ہوگئی ہے۔” معاذ کو بروقت بہانا سوجھا تھا۔
“جس طرح آپ شادی پر زبردستی راضی ہوئے ہیں، بالکل ویسے ہی میں بھی اس شادی پر تیار نہ تھی۔ میں کسی ڈاکٹر سے شادی کرنا نہیں چاہتی تھی۔ دادی نے مجھے زبردستی اس رشتے پر راضی کیا۔” وہ بولی تھی۔
“آپ کسی ڈاکٹر سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی تھیں؟” معاذ نے کچھ خفا کچھ حیران ہو کر پوچھا۔
“دیکھیے میں جانتی ہوں، اسٹوڈنٹ لائف میں ہر ڈاکٹر دو، تین ناکام عشق بھگتا چکا ہوتا ہے۔ وہ عشق اس کے دماغ سے کبھی نہیں نکلتے اور اپنی بیوی میں وہ اپنی سابقہ محبوبہ کی پرچھائیں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ میں ایسی زندگی نہیں جینا چاہتی تھی اور دیکھ لیجیے، میرا خدشہ صحیح ثابت ہوا۔ آپ بھی پسند کسی اور کو کرتے ہوں گے اور شادی کسی اور سے کرنا پڑی۔ میں دادی جان کو بتاؤں گی، اپنے خدشے اور اندازے کی درستی کے بارے میں۔”
وہ روکھے پن سے بول رہی تھی۔ معاذ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح نئی نویلی دلہن کی غلط فہمی دور کرے لیکن نئی نویلی کچھ سننے کے موڈ میں نہ لگ رہی تھی۔ وہ اپنی ہی دھن میں بولے جا رہی تھی۔
“پھر مجھے آپ کی شخصیت بھی متاثر کن نہ لگی تھی۔ جب چند مہینے پہلے آپ ہمارے ہاں آئے تھے تو میں نے ویسے تو آپ پر ایک سرسری نگاہ ہی ڈالی تھی لیکن جب بعد میں دادی نے بتایا کہ آپ ڈاکٹر ہیں تو مجھے یقین نہ آیا۔ شکل سے تو آپ مجھے واجبی سے پڑھے لکھے کوئی دکان دار لگے تھے۔”
حور نے انکشاف کیا۔ معاذ کو ایک دم طیش آ گیا۔ اسٹوڈنٹ لائف اور پھر پروفیشنل لائف میں لڑکیاں اس پر ہمہ وقت نثار ہونے کو تیار رہتی تھیں۔ کوئی اس کی وجاہت پر فریفتہ تھی تو کوئی اس کی شان دار شخصیت کے گن گاتی تھی اور موصوفہ فرما رہی تھیں کہ وہ اسے کوئی واجبی سا پڑھا لکھا دکان دار سمجھی تھیں۔
“دادی نے بہت سمجھا بجھا کر مجھے اس رشتے…”

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕