Ruswai By Muskan 

Revenge Base | Rude Hero | Forced Marriage | Romantic Urdu Novel | Complete Novel 

انت۔۔ تمہیں تو بہت تیز بخار ہے۔۔ ڈاکٹر کو بلاؤ۔۔” وہ خوف کے باوجود فکر مندی سے بولی تو وجدان عالم نے آنکھیں کھول اسے دیکھا۔ چھ دن ہوئے تھے اس لڑکی کو اغواء ہوئے۔ وہ چھ دن سے وجدان عالم کے نکاح میں تھی۔ بھاگنے کی کوشش میں تین بار سزا بھگت چکی تھی اور ہمدردی کا ناٹک کر رہی تھی۔ اچانک وجدان عالم نے اسے کھینچا اور ا اس پر حاوی ہوا۔ وہ سانس روک گئی۔” بیوقوف سمجھتی ہو مجھے ۔۔ ڈاکٹر کو بلا کر فرار چاہتی ہو۔۔ ” بخار کی حدت سے غنودگی کے باوجود وہ غرایا تو وہ معصوم نم نظروں سے نفی میں سر ہلانے لگی۔ وہ کیسے بتاتی وہ رحمدل تھی۔ جان تو تب نکلی جب وجدان عالم ہوش کھوتے اسی پر گرا۔ وجدان کے ہونٹ اس کی گردن پر تھے۔۔۔
“اٹھیں۔۔۔۔ آپ کو واقع ہی ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔” وہ اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسے معلوم ہو گیا تھا وہ ہوش میں نہیں تھا۔ بمشکل اسے سائیڈ پر لٹا کر وہ بیڈ سے اتری۔ جلدی سے باہر آئی، گھر میں اس وقت کوئی ملازم موجود نہیں تھا، سیکیورٹی گارڈ کو بلایا جو اسے دیکھتے ہی چوکنا ہوا تھا۔ صاحب نے اسے حکم دیا تھا کہ میرب بی بی گیٹ کے آس پاس بھی نہ بھٹکیں۔ ” چاچا آپ کسی ڈاکٹر کا انتظام کریں پلیز وجدان کو بہت تیز بخار ہے۔” ” نہ بی بی میں تو یہاں سے نہیں ہٹوں گا۔ پہلے بھی آپ کی وجی سے ڈانٹ پڑی ہے۔۔” وہ صاف انکار کرتے بولا۔۔
” چاچا اسے واقع ہی ضرورت ہے آپ چاہے آپ آکر دیکھ لیں۔” اس نے منت کی۔ جس پر چاچا نے نفی میں سر ہلا دیا۔ “میں آپ سے کہہ رہی ہوں آپ کو ایک مرتبہ کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی؟؟ ” اس گھر کی مالکن ہوں میں تمہارے صاحب کی بیوی، اور تم میرا کہنا نہیں مان رہے؟؟ اگلے پانچ منٹ میں مجھے ڈاکٹر یہاں چاہیے۔” اسکے سرد لہجے میں کچھ تھا جو چوکیدار چونکا، وہ واپس پلٹ گئی۔ چوکیدار نے ڈاکٹر کو فون کر کے بلایا۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر کمرے میں آیا تھا۔ وہ اس وقت ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کر رہی تھی۔ ڈاکٹر کے آتے ہی وہ بیڈ سے اٹھی۔ ” انہیں کب سے بخار ہے؟” ڈاکٹر نے پوچھا۔ ” آج شام میں ہی ہوا ہے پہلے تو بالکل ٹھیک تھے۔” وہ گھبرائی ہوئی بولی۔ “اٹس اوکے مسز وجدان انکو کسی چیز کا بہت سٹریس ہے خیال رکھیں اور یہ میڈیسنز منگوالیں۔” ڈاکٹر چیک اپ کے بعد بولا۔۔
اسنے پرچی چوکیدار کو دی کہ وہ میڈیسن لے آئے جسے اسنے گھبراتے ہوئے پکڑ لیا۔ اگر پیچھے سے میڈم بھاگ گئیں تو؟؟؟ مگر جن تاثرات سے وہ دیکھ رہی تھیں اسے جانا پڑا۔ میرب اسکے سرہانے بیٹھ کر اسکا سر دبانے لگی۔ سر دباتے ہوئے اسکے چہرے کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ اسکے ماتھے سے پہلی مرتبہ بل ہٹے تھے بال اس نے سر دبانے کے لیے پیچھے کیے تھے، اسکی آنکھیں اس وقت بند تھیں، مگر وہ ان آنکھوں کے سحر سے نہیں نکل سکتی تھی اور وہ یہ بات جانتی تھی۔ اسکی ستواں ناک اسے مزید وجیہ بناتی تھی۔
میرب کی سوچیں کہیں اور پہنچ گئیں، یار آج ہم پیزا کھانے ” چلیں؟” اپنے دوستوں سے پوچھا۔ جس پر سب دوستیں مان بھی گئیں تھیں اور اس وجہ سے
مزید وہ گھر لیٹ پہنچی تھی۔ گھر پہنچتے اپنے گیٹ کے باہر گاڑی دیکھی۔ وہ انکی گاڑیوں میں سے نہیں تھی۔ “اوہ کوئی مہمان آیا ہے۔” وہ سوچتی اندر کی جانب بڑھنے لگی جب دروازے سے کوئی باہر نکلا، اسکی ٹکڑ ہوتے ہوتے بچی۔ منہ بنا کر اسنے خفگی سے اسے دیکھا۔ سامنے کوئی مرد تھا، سفید شلوار پہنے، کالی چادر کندھوں پہ رکھے وہ جھک کر ایسے ہی دیکھ رہا تھا۔ آنکھوں میں بے زاری واضح تھی۔ وجدان پیچھے ہوا اور وہ اندر داخل ہوئی۔ سامنے والے کی شخصیت ایسی تھی کہ چند پل کے لیے بندہ دیکھتا رہ جاتا تھا۔ وجدان نظر نیچی کیے باہر نکل گیا۔ اور وہ کئی پل اسے سوچتی رہی۔
اسے معلوم بھی نہ ہوا کہ اسکے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ اندر آ کر اسنے پوچھا ” بابا کوئی مہمان آیا تھا کیا؟” “جی، آپ آج اتنی لیٹ کیوں آئی ہیں؟” انہوں نے سوال کیا۔ جس پر وہ سارے دن کی روداد سنانے بیٹھ گئی۔ رات سونے کو لیٹتے ہی ان سحر انگیز آنکھوں نے اسے جکڑ لیا۔ میرب کا پہلا کرش اسی پر آیا تھا۔ اسنے اسے دوبارہ بھی دیکھا تھا کیفے میں وہ دوستوں کے ساتھ کافی پینے آئی تھی ابھی کافی کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگایا اور سامنے ہی سے وہ چلتا آرہا تھا۔ اسکے ساتھ دو اور لوگ تھے وہ جھنجھلا کر اپنی بات کہہ رہا تھا۔ میرب کی نظروں میں چمک در آئی۔ وجدان نے چلتے ہوئے سرسری سا دیکھا تھا، ماتھے پر بل آئے۔ وہ اسے کہیں دیکھ چکا تھا اور وہ اسے پبلک میں ایسے گھور رہی تھی؟؟؟ وہ سر جھٹکتا وہاں سے چلا گیا۔
میرب کے بابا اپنے علاقے کے سب سے بڑے زمیندار تھے اور پھر وہ گاؤں سے نکل کر شہر آئے بزنس کی دنیا میں قدم رکھا اور اب وہ ایک جانے مانے بزنس مین تھے۔ انکے تعلقات اچھے لوگوں کے ساتھ نہ تھے ڈرگز سپلائی کرنا بھی انکے بزنس میں شامل تھا جس کا گھر میں کسی کو علم نہ تھا۔ وجدان سے انکی دشمنی تب شروع ہوئی جب انہوں نے ال لیگل طریقے سے اسکی زمین پر قبضہ کیا، جب وجدان نے کورٹ جانے کی دھمکی دی تو فرحان شیخ نے اسکی اکلوتی بہن کو اٹھوایا تھا اور جن سے کہا تھا اسے کڈنیپ کرنے کا انہوں نے اس کے ساتھ زبردستی کی اور اسے بھاگتے دیکھ کر گولی مار دی۔۔۔۔
اس دن وجدان کو لگا قیامت آ گئی۔ وجدان سے دشمنی فرحان شیخ سے کیا نتیجہ لا سکتی تھی یہ بات کے
وہ جانتے تھے۔ ” پانی۔۔۔۔” وجدان کے کہنے پر میرب نے جلدی سے پانی کا گلاس اٹھا کر اسکے لبوں سے لگایا۔ وجدان بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھ چکا تھا۔ ” تم۔۔۔ ادھر کیا کر رہی ہو ؟” ناگواری سے بولا۔ ” آپ کی طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی۔” بولی تو آواز میں پریشانی برپا تھی ” جاؤ یہاں سے۔” نفرت سے کہتا منہ موڑ گیا۔ میرب نے بے بسی سے دیکھا۔ ” میں نہیں جا رہی جو کرنا ہے کر لو۔” وہ بھی ڈھیٹ بنی بولی۔ ” تمہیں۔۔۔ ‘ وہ کہہ کر اٹھنے لگا تھا جب وہ جلدی سے بیڈ سے اتری۔ وجدان کو نا چاہتے ہوئے بھی ہنسی آگئی بہت مشکل سے اسنے ضبط کی تھی مگر ہونٹوں پر ہلکی سی مسکرہٹ رینگی۔۔۔۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *