Mohabbat Kar Chale By Muskan 

Cousin Marriage Base | Rude Hero | Romantic Urdu Novel | Complete Novel  

” آج کی رات مدیحہ شاہ تمہاری ہوئی۔ صبح تک یہ زاویار شاہ کے قابل نہیں رہنی چاہیے۔۔۔۔حویلی میں کوئی نہیں ہے اسے چاہو جتنی بار چاہو اس کو برباد کرو اس حد تک اس کی گہرائیوں میں اتر جاؤ کہ یہ کسی اور مرد کے قابل ہی نہ رہے۔ زاویار سے محبت کرنے کی سزا تو ملنی چاہیے۔ آخر کو ماہم شاہ کی محبت ہے زاویار جس پہ ہاتھ ڈالا ہے اس بے وقوف لڑکی نے۔۔۔” مدیحہ اور زاویار ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے لیکن ماہم کو ان کا پیار برداشت نہ تھا کیونکہ وہ خود زاویار کو چاہتی تھی اور اسی پیار کے خاطر اپنی جان سے پیاری دوست کو درندوں کے حوالے کر گئی تھی۔ وہ کسی بھوکے بھیڑیے کی طرح اس پر لپکا تھا۔۔۔۔مدیحہ کی چیخیں حویلی کی دیواروں۔۔۔۔۔۔
رات کا تیسرا پہر تھا اور شاہ حویلی جو ہمیشہ اپنی شان و شوکت روشنیوں اور چہل پہل کے لیے پورے علاقے میں جانی جاتی تھی آج ایک مہیب اور وحشت ناک سناٹے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ آسمان پر کالے بادلوں نے چاند کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا جس کی وجہ سے حویلی کے طویل راہداریوں میں اندھیرا اور بھی گہرا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
آج رات حویلی کا سارا عملہ گارڈز اور ملازمین کو کسی نہ کسی بہانے چھٹی دے دی گئی تھی۔ حویلی میں اس وقت موت جیسی خاموشی چھائی تھی اور اسی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو سائے مدیحہ کے کمرے کے باہر کھڑے تھے۔ ماہم شاہ کی آنکھوں میں انتقام کی وہ آگ بھڑک رہی تھی جس نے اس کی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں جلا کر راکھ کر دی۔ اس کے چہرے پر ایک سفاک مسکراہٹ تھی وہ مسکراہٹ جو کسی کی بربادی کا جشن منانے سے پہلے ابھرتی ہے۔۔۔
اس کے ساتھ کھڑا بوبی جس کی نظروں میں ایک درندے جیسی بھوک اور لالچ تھا بے صبری سے بند دروازے کو گھور رہا تھا۔ ماہم نے اپنا رخ بوبی کی طرف کیا اور انتہائی سرد زہریلے لہجے میں بولی “آج کی رات مدیحہ شاہ تمہاری ہوئی۔ میں نے راستہ صاف کر دیا ہے حویلی میں اس وقت ایک بھی شخص موجود نہیں ہے جو اس کی چیخیں سن سکے۔” اس نے بوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا
” یاد رہے بوبی۔۔۔ صبح تک یہ زاویار شاہ کے قابل نہیں رہنی چاہیے۔ جیسے چاہو جتنی بار چاہو اس کو برباد کرو۔ مجھے اس کی وہ حالت چاہیے کہ زاویار جب اسے دیکھے تو خون کے آنسو روئے۔ زاویار کا غرور بہت اونچا ہے نا؟ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی ہر چیز ہر رشتے کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ آج اس کا یہ غرور خاک میں ملے گا۔ زاویار کی سزا تو ملنی ہی چاہیے اسے… اور وہ سزا یہ لڑکی بھگتے گی۔”بوبی نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور ایک غلیظ مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔۔۔۔۔۔
“تم فکر مت کرو ماہم ڈارلنگ۔۔۔۔ تم نے مجھے جس کام کے لیے بلایا ہے وہ اتنی ہی صفائی سے ہوگا کہ زاویار شاہ تو کیا یہ لڑکی خود بھی ساری زندگی آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے سے خوف کھائے گی۔ بس تم یہ بتاؤ کہ زاویار واقعی صبح تک نہیں آئے گا نا؟ ” وہ کل دوپہر سے پہلے اس شہر میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ میں نے اس کی فلائٹ اور میٹنگز کا سارا انتظام اسی حساب سے بگاڑا ہے۔” ماہم نے حقارت سے دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔
” جاؤ تمہارا شکار اندر اکیلا ہے اور بے حد خوفزدہ بھی ہوگا۔ اس کی چیخوں کی آواز اس موٹے دروازے سے باہر نہیں آئے گی لیکن میں چاہتی ہوں کہ تم اسے اتنی اذیت دو کہ اس کی روح تک کانپ جائے۔ میں جا رہی ہوں صبح ہونے سے پہلے یہاں سے نکل جانا۔” یہ کہہ کر ماہم نے ایک آخری نظر اس بند دروازے پر ڈالی اور مڑ کر راہداری کےاندھیرے میں غائب ہو گئی۔ دروازے کے اس پار کمرے کے اندر کا ماحول بالکل مختلف تھا۔
مدیحہ بیڈ پر سمٹی بیٹھی تھی۔ اس کی بڑی بڑی معصوم آنکھوں میں ایک انجانا سا خوف تیر رہا تھا۔ آج حویلی کی یہ خاموشی اسے اندر تک ڈرا رہی تھی۔ زاویار دو دن کے لیے شہر سے باہر گیا ہوا تھا اور اس کے جانے کے بعد سے ہی ماہم کا رویہ کچھ عجیب سا ہو گیا تھا۔ آج شام ہی ماہم نے سارے ملازموں کو یہ کہہ کر چھٹی دے دی تھی کہ حویلی میں کچھ اسپرے ہونا ہے اور خود بھی اپنی کسی دوست کی طرف جانے کا کہہ کر نکل گئی تھی۔۔۔۔
مدیحہ نے زاویار کو کئی بار کال کی تھی ملانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔ کمرے میں جلنے والے نائٹ بلب کی مدھم پیلی روشنی نے عجیب سے سائے بنا رکھے تھے۔ سردی نہ ہونے کے باوجود مدیحہ نے خود کو شال میں لپیٹ رکھا تھا۔ “یا اللہ۔۔۔
زاویار جلدی واپس آجائیں مجھے یہاں بہت ڈر لگ رہا ہے” اس نے بے ساختہ کانپتے ہاتھوں سے اپنا فون دوبارہ اٹھایا لیکن سگنل غائب تھے۔۔۔۔
اچانک کمرے کے دروازے کے لاک میں چابی گھومنے کی آواز آئی۔۔۔ مدیحہ کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے رک گئی۔ اس نے تیزی سے دروازے کی طرف دیکھا۔ “کون… کون ہے؟” اس کی آواز گلے میں ہی پھنس کر رہ گئی۔دروازہ دھیرے سے کھلا اور ایک لمبا چوڑا اجنبی شخص کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے اندر آتے ہی دروازہ بند کیا اور اسے اندر سے لاک کر دیا۔ بوبی کی درندہ صفت نظریں مدیحہ کے وجود کا طواف کر رہی تھیں۔ اس کے چہرے کی شیطانی مسکراہٹ اسکا حسن دیکھ خر اور پھیل گئی۔۔۔۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *