Mohabbat Ki Onchi Deewarein By FJ  

Police Base | Rude Hero | Romantic Urdu Novel | Complete Novel   

“میری مدد کرو” سیاہ چادر میں لپٹی وہ تیز بارش میں بھیگ رہی تھی جبھی کسی مرد کے کراہنے پر کانپ اٹھی۔ اسکو تو سوتیلی ماں نے رات کے اس پہر گھر سے باہر کردیا تھا۔ ” مجھے تو خود مدد کی ضرورت ہے” وہ بے بسی سے اسکا زخمی وجود دیکھنے لگی۔ ” مجھے ہوسپٹل لے کر چلو ابھی” اسکے یوں آرڈر دینے پر شہیرہ نے کمر پر ہاتھ رکھے پہلے تو اسے گھورا۔ پھر ہمدرد طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے مشکل سے کھینچتی ہسپتال لے گئی۔ مگر وہاں تو اس شخص کا چہرہ پہچان میں آتے ہی سب اسے ہاتھوں ہاتھ لینے لگے تھے۔ “کدھر جارہی ہیں محترمہ؟ ایس پی صاحب کو پتا چلا ناکہ میں نے انکی محسنہ کو یوں ہی جانے دیا تو جان لے لیں گے میری” ” ایس پی۔۔۔۔؟” شہیرہ کی سانس اٹکی اس کا رتبہ جان کر اور وہ گالیاں سوچ کر جو وہ اسے یہاں تک کھینچتے ہوئے دیتی رہی۔۔۔۔۔
” تمہاری زبان بہت چلنے لگی ہے شہیر ہ اب تم یہیں سڑو گی جب تک تم پاگل خانے جانے کے کاغذات پر دستخط نہیں کرتیں” شبانہ بیگم کی زہریلی آواز کمرے کی خاموشی کو چیرتی ہوئی گونجی اور اس کے چہرے پر ایک بھیانک طنز تھا شہیرہ کے ہاتھ پاؤں موٹی رسیوں سے بندھے تھے اور وہ سرد فرش پر بے بسی سے پڑی تھی ” میں کبھی تمہاری اس سازش کا حصہ نہیں بنوں گی شبانہ بیگم تم میرے والد کی جائیداد پر قبضہ نہیں کر سکتیں” شہیرہ نے اپنی طاقت جمع کرتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں جواب دیا اور اس کی نظریں شبانہ کی آنکھوں میں گڑی تھیں۔۔۔
شبانہ نے آگے بڑھ کر ایک زور دار تھپڑ شہیرہ کے چہرے پر رسید کیا اس وار سے شہیرہ کا چہرہ مڑ گیا اور گال پر جلن ہونے لگی ” تمہاری یہ اکڑ بہت جلد نکل جائے گی جب تم زنجیروں میں جکڑی جاؤ گی اور دنیا تمہیں ذہنی مریضہ مانے گی۔۔۔” شبانہ نے حقارت سے اسے دیکھا اور مڑ کر کمرے کا بھاری دروازہ باہر سے مقفل کر دیا کمرے میں اندھیرا چھا گیا شہیرہ نے اپنے اندر کی ساری بچی کچھی طاقت جمع کی۔۔۔۔
” مجھے آج رات ہی یہاں سے نکلنا ہو گا ورنہ یہ ظالم عورت مجھے تباہ کر دے گی۔۔۔ ” اس نے فرش پر پڑی ٹوٹی ہوئی شیشے کی چوڑی کی طرف کھسکنا شروع کیا چوڑی کے تیز کنارے سے اس نے اپنے ہاتھ کی رسیاں کاٹنا شروع کیں شیشے کی رگڑ سے کلائیوں پر نشان پڑ رہے تھے لیکن وہ رکی نہیں درد برداشت کرنا ہوگا شہیرہ یہی تمہاری آزادی اور والد کے انصاف کی قیمت ہے اس نے دانت پیستے ہوئے خود کو ہمت دلائی۔۔۔۔۔
یہاں تک کہ رسی کے ریشے ٹوٹنے لگے رسی کٹتے ہی اس نے پیروں کی بندش کھولی دیوار کا سہارا لیا اور بھاری کرسی اٹھا کر پوری طاقت سے کھڑکی کے شیشے پر دےماری شیشہ چھنا کے سے ٹوٹ کر بکھر گیا اس نے پچھلے دروازے کا راستہ لیا اور اندھیرے میں غائب ہو گئی۔۔۔۔
ایس پی حیدر عباس اپنے آفس میں بیٹھا ایک پرانی فائل بغور دیکھ رہا تھا یہ فائل شہیرہ کے والد جمال احمد کے مقدمے کی تھی جسے محکمے نے داخل دفتر کر دیا تھا ” مجھے یقین ہے کہ اس موت کو خود کشی کا رنگ دے کر اصل حقائق چھپائے گئے ہیں۔۔۔۔” حید ر نے فائل کے اوراق پلٹتے ہوئے کہا اور اس کے ماتھے پر تفشیش کی لکیریں نمایاں ہو گئیں میز پر رکھے فون کی گھنٹی بجی اس نے رسیور اٹھا لیا ” ایس پی حیدر عباس بات کر رہا ہوں۔۔۔” اس کا لہجہ ہمیشہ کی طرح انتہائی سخت اور پیشہ ورانہ تھا۔۔۔۔
” صاحب شہر کے مضافات میں پرانی فیکٹری کے پاس آپ کو جمال احمد کیس کا اہم ثبوت مل سکتا ہے۔۔۔” مخبر کی دبی ہوئی اور خوفزدہ آواز آئی ” میں ابھی پہنچ رہا ہوں لیکن اگر یہ دھو کہ ہوا تو تم میرے غصے سے بیچ نہیں پاؤ گے۔۔۔” حیدر نے کڑے الفاظ میں تنبیہ کی اور اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اس نے حفاظتی سامان لیا اور محکمے کو بتائے بغیر اکیلا ہی گاڑی کی طرف روانہ ہو گیا اسے اندازہ نہیں تھا کہ اندھیرے میں جال بچھایا گیا ہے ویران سڑک پر سناٹا تھا حیدر کی گاڑی تیزی سے رواں تھی کہ سڑک پر بچھے نوکیلے جال سے ٹکرا کر ٹائر زور دار آواز کے ساتھ پھٹ گئے۔۔۔۔۔
گاڑی بے قابو ہو کر کچے کنارے پر جا رکی ” یہ کیا مصیبت ہے؟؟ لگتا ہے مخبر نے مجھے جال میں پھنسا دیا ہے۔۔۔” حیدر نے غصے سے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دروازہ کھولا باہر نکلتے ہی چاروں طرف سے اس پر اچانک حملہ ہو گیا نامعلوم افراد نے اسے گھیر لیا حیدر نے پیشہ ورانہ مہارت دکھاتے ہوئے بے جگری سے مقابلہ شروع کیا اس نے اپنے دفاع میں ٹھڈے برسانے شروع کیے اور دو حملہ آوروں کو زمین پر پچھاڑ دیا۔۔۔ ” تم لوگ مجھ جیسے افسر کو اتنی آسانی سے نہیں روک سکتے۔۔۔” حیدر نے دھاڑتے ہوئے ایک حملہ آور کو پیچھے دھکیلا اسی دوران ایک حملہ آور نے پیچھے سے دھوکے سے وار کیا اور ایک بھاری چیز
حیدر کے کندھے میں پیوست کر دی۔۔۔۔
نا قابل برداشت درد کی لہر جسم میں دوڑ گئی اور قدم لڑکھڑا گئے وہ شدید زخمی حالت میں ایک تنگ تاریک گلی کی طرف پیچھے ہٹتے ہوئے زمین پر گر گیا حملہ آور اسے بےحس و حرکت پڑا دیکھ کر فرار ہو گئے گلی کا گھپ اندھیرا اب اس کے زخمی وجود کے لیے عارضی پناہ گاہ تھا سیاہ چادر میں لپٹی شہیرہ تیز بارش میں سڑکوں پر بے مقصد چل رہی تھی سردی کے باعث وہ بری طرح کانپ رہی تھی ایک تنگ گلی سے کسی مرد کے کراہنے کی تکلیف دہ آواز ابھری جس پر شہیرہ ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گئی۔۔۔۔
” کون ہے وہاں سامنے آؤ۔۔۔” اس نے اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کی اور دفاع کے لیے ارد گرد چیز تلاش کرنے لگی گلی کے کونے میں ایک شخص شدید زخمی حالت میں زمین پر پڑا تھا ” تم میری مدد کرو۔۔۔” حیدر نے بمشکل خشک ہونٹوں سے الفاظ ادا کیے اور اس کا کانپتا ہوا ہاتھ ہوا میں معلق ہو گیا شہیرہ نے زخمی شخص کو دیکھا اور قدم وہیں جم گئے۔۔۔ ” مجھے تو خود اس وقت سخت مدد کی ضرورت ہے میں تمہاری کیا مدد کروں؟؟ ” بے بسی سے اس کا زخمی وجود دیکھنے لگی اور آواز میں جھنجھلاہٹ تھی۔۔۔۔
” مجھے ہسپتال لے کر چلو ابھی اسی وقت۔۔۔” حیدر نے زخمی ہونے کے باوجود سخت لہجے میں آرڈر دیا شہیرہ نے کمر پر ہاتھ رکھے اور انتہائی غصے سے گھورا۔۔” عجیب مغرور شخص ہو اس حالت میں زمین پر پڑے ہو اور پھر بھی حکم چلا رہے ہو؟؟ ” اس نے بڑبڑاتے ہوئے طنز کیا لیکن ہمدرد طبیعت اسے مرنے کے لیے چھوڑنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کر بمشکل حیدر کا بازو اپنے کندھے پر رکھا اور پوری طاقت سے سہارا دے کر اٹھایا ” چلیں جلدی کریں اس سے پہلے کہ آپ کی جان نکل جائے۔۔” شہیرہ نے اسے کھینچتے ہوئے قریبی سڑک کی طرف قدم بڑھائے ہسپتال کا ایمر جنسی وارڈ روشنیوں سے جگمگا رہا تھا شہیرہ نے حیدر کو اندر پہنچایا اور خود ہانپنے لگی۔۔۔ ” ڈاکٹر جلدی آئیں یہ شخص بہت زخمی ہے
اسے فوری امداد کی ضرورت ہے۔ ” اس نے اونچی آواز میں پکارا اور حیدر کو اسٹریچر پر لٹا دیا عملے نے جیسے ہی زخمی شخص کا چہرہ پہچانا وارڈ میں کھل بلی مچ گئی سب لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے لگے اور سینئر ڈاکٹرز پہنچ گئے۔۔۔۔
شہیرہ یہ پروٹوکول دیکھ کر حیران کھڑی تھی کہ آخر یہ شخص ہے کون؟؟ اس نے چپکے سے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔۔ ” کدھر جارہی ہیں محترمہ آپ یہیں رکیں گی۔۔۔ “ایک پولیس کانسٹیبل نے راستہ روکتے ہوئے درشتی سے پوچھا۔۔۔ ” مجھے اپنے گھر جانا ہے میرا کام اس شخص کو یہاں لانا تھا اب مجھے جانے دیں۔۔۔” شہیرہ نے الجھتے ہوئے جواب دیا اور زبر دستی آگے بڑھنے کی کوشش کی۔۔ ” ایس پی صاحب کو پتا چلانا کہ میں نے ان کی محسنہ کو جانے دیا تو میری نوکری کھا جائیں گے۔۔” کانسٹیبل نے سختی سے وہیں کھڑے رہنے کا اشارہ کیا ” ایس پی۔۔۔” شہیرہ کی سانس اٹک گئی اور آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اس مغرور کا سرکاری رتبہ جان کر اسے گالیاں یاد آنے لگیں جو وہ اسے دیتی آئی تھی۔۔۔
” یہ میں نے کس بڑی مصیبت کو گلے لگا لیا اب یہ پولیس والا مجھے نہیں چھوڑے گا۔۔۔” اس نے دل میں خود کو کوسا اور بے بسی سے کرسی پر بیٹھ گئی ہسپتال کے وی آئی پی روم میں حیدر کو ہوش آیا کندھے پر پٹی بندھی تھی اور وہ درد کے باوجود اٹھ کر بیٹھ گیا ” وہ لڑکی کہاں ہے جو مجھے اندھیری گلی سے اٹھا کر یہاں لائی تھی؟؟ ” حید ر نے پاس کھڑے کا نسٹیبل سے تیز لہجے میں پوچھا ” وہ باہر انتظار گاہ میں بیٹھی ہے سر۔۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *