Sabqa Afat By Hafiza Ayesha Novel20700
Sabqa Afat By Hafiza Ayesha
Revenge Base| Rude Hero| Forced Marriage | Romantic Urdu Novel| Complete Novel
محترمہ آپ کو ڈلیوری کے لیے کتنے پیسے چاہیے ؟” اس نے طنزیہ انداز میں پوچھا کیونکہ اسے لگا تھا کہ شاید کوئی ضرورت مند مدد مانگنے آیا ہے۔ سوہا (ایشل) نے سکستے ہوئے جب وہ معمولی سی رقم بتائی تو رومان کی ہنسی نکل گئی، “اتنے میں تو آج کل پیزا بھی نہیں آتا، آپ ڈیلیوری کیسے کروائیں گی؟” اس نے طنزیہ ہنستے ہوئے جیسے ہی سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو اس کے ہاتھ سے پین گر گیا۔ سامنے اس کی اپنی سابقہ آفت کھڑی تھی، جو اب ایک بڑے پیٹ کے ساتھ کسی کے نہیں بلکہ اسی کے جنون کا بوجھ اٹھائے ہوئے مدد مانگ رہی تھی۔
رومان کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا، اسے اس نے اپنے ہاتھوں سے رخصت کیا تھا پھر وہ یہاں ایسے؟؟؟ اس کی آنکھوں میں وحشت اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے فوراً اپنے سیکرٹری اور گارڈز کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور روم لاک کر دیا۔ رومان تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور اسے میز سے لگا کر اس کے چہرے کے قریب سر گوشی کی، ” پیسے چھوڑو، پہلے یہ بتاؤ اس چھوٹے گینگسٹر کا باپ کہاں ہے؟” اس نے جھک کر ایشل کے بڑھے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھا، اس ننھی سی جان کو محسوس کرتے ہوئے رومان کے اندر ایک طوفان اٹھ رہا تھا۔
ایشل کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر رومان کے ہاتھ پر گرے، اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، صرف خاموش سسکیاں تھیں۔ اس نے چھک کر اس کے وجود کو محسوس کیا جہاں حازق کی نشانی پل رہی تھی، رومان کی آواز میں غصہ اور اذیت کی ایک ایسی لہر تھی جس نے ایشل کے پورے وجود کو لرزا کر رکھ دیا، “بولو ایشل
! کہاں گیا تمہارا وہ ‘ دوست؟؟ کہاں گئی تمہاری وہ آزادی جس کے لیے تم نے مجھے بیچ چوراہے پر نیلام کر دیا تھا؟” ایشل کے پاس جواب میں صرف بہتے ہوئے آنسو تھے جو اس کی چادر پر گر گر گرکر جذب ہو رہے تھے۔
رومان کے لہجے میں چھپی نفرت اور حقارت نے ایشل کے اندر جمی برف کو پیگھلا دیا، اس نے لرزتی ہوئی نظروں سے رومان کے اس سخت اور بے رحم چہرے کو دیکھا۔ اسے یاد آیا وہ وقت جب رومان اس کے گرد ایک ایسی دیوار بن کر کھڑا رہتا تھا جسے کوئی چھو بھی نہیں سکتا تھا۔ جب تک رومان اس کا محافظ تھا، اسے کبھی کسی نظر، کسی دکھ یا کسی حازق کا خوف نہیں ہوا تھا۔
ایک سال کی اس طویل اذیت میں، جہاں اسے روز مرنا پڑتا تھا، وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں روئی تھی، اس نے اپنے آنسو پیتے ہوئے خود کو پتھر بنا لیا تھا۔ مگر آج اپنے سامنے وہی محافظ دیکھ کر اس کے صبر کا بندھن ریزہ ریزہ ہو گیا۔ ایشل کی سسکیاں ایک دم چیخوں میں بدل گئیں، وہ تمام تر تکلیفات اور ماضی کی تلخیوں کو بھول کر بالکل اسی طرح رومان کے سینے سے جالگی جیسے بچپن میں ذرا سی چوٹ لگنے پر اس کے حصار میں پناہ لیتی تھی۔۔۔۔
” لالا ! ” اس نے تڑپ کر پکارا اور اپنی مٹھیوں میں رومان کی مہنگی شرٹ کو ایسے جکڑ لیا جیسے کوئی ڈوبتے ہوے سہارے کو پکڑتا ہے۔ رومان، جو ابھی تک اسے تلخ باتیں سنا رہا تھا، ایشل کے اس اچانک لمس اور اس کی ہچکیوں سے بلکل ساکت ہو گیا۔ اس کا وہ غصہ جو پہاڑ کی طرح کھڑا تھا، ایشل کی ایک آہ سے مٹی کا ڈھیر بننے لگا۔ ایشل اس کے سینے سے چمٹی زار و قطار رو رہی تھی۔۔۔
اس کا بڑھا ہوا پیٹ ان دونوں کے درمیان اس تلخ حقیقت کی طرح حائل تھا جسے رومان جھٹلا نہیں سکتا تھا، مگر وقت اس کی بے بسی نے رومان کے اندر کے تمام گلے شکوے مٹا دیے۔ رومان کے ہاتھ جو پہلے اسے خود سے دور کرنے کے لیے اٹھے تھے، اب خود بخود ایشل کی کمر کے گرد سنبھالنے کے لیے مڑ گئے۔ اس نے محسوس کیا کہ ایشل کا وجود کتنا نحیف ہو چکا تھا، وہ اس کی باہوں میں کانپ رہی تھی۔۔۔
” ایشل۔۔۔” رومان کی آواز اب وہ سرد نہیں رہی تھی بلکہ اس میں ایک ایسی اذیت تھی جو صرف اپنوں کو ٹوٹتا دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔ ایشل نے اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپائے ہوئے ہانپتے ہوئے کہا، “لالا، میں مر جاؤں گی، مجھے بچالیں، میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں، مما بھی چلی گئیں اور میں ۔۔۔” وہ اپنی بات مکمل نہ کر سکی اور اس کی ہچکیاں دوبارہ بندھ گئیں۔ رومان نے اسے مزید خود سے بھینچ لیا، اسے اپنی آنکھوں میں اترتے آنسوؤں پر غصہ آرہا تھا مگر وہ ایشل کی اس حالت پر خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔
رومان کے سینے سے لگی ایشل کی سسکیاں ابھی تھمی نہ تھیں کہ اچانک اس کا وجود رومان کے ہاتھوں میں جھولنے لگا، اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں اور درد کی ایک شدید لہر نے اسے بے حال کر دیا۔ رومان نے گھبرا کر اسے سنبھالا، اس کا دل پاش پاش ہو رہا تھا جب اس نے ایشل کو تکلیف سے تڑپتے دیکھا۔ وہ پاگلوں کی طرح اسے اپنی گود میں اٹھا کر ہسپتال کی طرف بھاگا، راستے بھر وہ اسے حوصلہ دیتا رہا مگر اس کے اپنے ہاتھ کانپ رہے۔
ہسپتال پہنچتے ہی اسے آپریشن تھیڑ لے جایا گیا۔ گھنٹوں کی اذیت ناک انتظار کے بعد جونہی نرس باہر آئی تو اس کے ہاتھوں میں ایک گلابی کپڑے میں لپٹی ننھی سی جان تھی۔ ” مبارک ہو، بیٹی ہوئی ہے،” نرس نے مسکرا کر کہا۔ رومان نے کانپتے ہاتھوں سے اس ننھی سی پری کو تھاما، وہ بالکل ایشل جیسی تھی وہی معصومیت، وہی نقوش۔ رومان کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اس بچی کے گال پر گرے۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ خوش ہو یا اس درد پر ماتم کرے جو ایشل نے تنہا سہا تھا۔ کچھ دیر بعد جب ایشل کو ہوش آیا تو رومان اس کے سرہانے بیٹھا اس ننھی جان کو گود میں لیے اسے پیار کر رہا تھا۔ ایشل نے بوجھل پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا تو رومان کی نظریں اس کے مرجھائے ہوئے چہرے پر جم گئیں۔ اس نے بچی کو سائیڈ پر رکھا اور ایشل کا ہاتھ تھام کر بہت ضبط کے ساتھ پوچھا۔۔
“ایشل ! اب تو بتا دو، حازق کہاں ہے؟ وہ تمہارے ساتھ کیوں نہیں ہے؟ ” ایشل نے دکھ سے اپنی آنکھیں بند کر لیں، ایک گہرا آنسو اس کی کنپٹی سے ہوتا ہوا تکیے میں جذب ہو گیا۔”حازق! یہ آپ کو کیا ہوا ہے؟ آپ نے شراب پی رکھی ہے؟ ” حازق نے زور دار قہقہہ لگایا، ” شراب؟ ایشل پیاری! یہ تو ابھی شروعات ہے، تمہیں کیا لگا تھا میں تم سے محبت کرتا ہوں؟ میں تو صرف اس مغرور رومان کی وہ چیز چھیننا چاہتا تھا جس پر اسے ناز تھا، اور دیکھو میں نے اسے ہرا دیا، اب تم میرے پاس ہو اور وہ کہیں کونا پکڑے رو رہا ہوگا! ” ایشل کو لگا جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو۔۔۔۔
حازق کا وہ اصلی اور غلیظ روپ اس کے سامنے تھا جس کا رومان اسے بار بار انتباہ دیتا تھا۔ “آب نے مجھ سے جھوٹ بولا؟ آپ نے صرف لالا سے بدلہ لینے کے لیے میری زندگی برباد کر دی؟” ایشل نے روتے ہوئے اسے دھکا دینا چاہا مگر حازق نے اسے مضبوطی سے بالوں سے جکڑ لیا، ” لالا لالا کرنا بند کرو! اب تم میری بیوی ہو، اور تمہاری اس معصومیت کا تماشہ میں اب روز بناؤں گا ” حازق کی ہنسی کمرے میں گونج رہی تھی اور ایشل کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ کس جہنم میں قدم رکھ چکی ہے، جہاں سے واپسی کا اب کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ پہلی رات ہی ایشل پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی۔ حازق نے اپنی نفرت اور رومان سے بدلہ لینے کی آگ میں ایشل کے نازک وجود کو بری طرح جھلسایا۔ وہ کوئی شوہر نہیں بلکہ ایک درندہ تھا جو اسے رومان کی پسند ہونے کی سزا دے رہا تھا۔
پوری رات ایشل کی سسکیاں کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑتی رہیں، مگر حازق کے دل میں رحم کا ایک قطرہ تک نہ آیا۔ وہ اسے اذیت دے کر جیسے رومان سے جیت کا بدلہ لے رہا تھا۔ اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی تو ایشل فرش پر ایک ٹوٹی ہوئی گڑیا کی طرح پڑی تھی اور اسے روز اذیت سے نوازتے تب تک نا چھوڑا جب تک وہ اسکے بچے کی ماں نہ بنی۔۔۔۔
“اس نے مجھے طلاق دے دی ہے لالا، ” اس کی آواز اتنی نحیف تھی کہ رومان کو لگا اس کے کان بج رہے ہیں۔ “اس نے کہا کہ اس کا مقصد صرف آپ کو نیچا دکھانا تھا، اور جب وہ پورا ہو گیا تو اس نے مجھے حاملہ حالت میں ہی گھر سے نکال دیا ، ” ایشل نے ہچکیاں لیتے ہوئے بتایا۔
رومان کا خون ایک دم کھولنے لگا، اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں اور آنکھوں میں وہی پرانی وحشت لوٹ آئی۔ اسے اپنی اس محبت پر افسوس ہو رہا تھا جسے اس نے ایک درندے کے حوالے کر دیا تھا، مگر اب اس کی نظروں میں ایک عزم تھا۔۔۔۔

Download link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕