بدلی ہے رُت صرف ایک محبت کی کہانی نہیں بلکہ خاندانی رسم و رواج، وٹہ سٹہ، رشتوں کی سیاست اور جذباتی فیصلوں کی عکاسی بھی ہے۔ جب محبت ایک طرف اور خاندان کی خواہشات دوسری طرف کھڑی ہوں تو ہر فیصلہ کسی نہ کسی دل کو ضرور توڑتا ہے۔ کیا مانہ اپنے دل کی سنے گی یا خاندان کی روایات کے آگے جھک جائے گی؟ یہی سوال اس ناول کو ابتدا سے اختتام تک دلچسپ بنائے رکھتا ہے۔
Cousin Marriage | Family Drama | Wata Sata | Emotional Romance | Social Issues
محبت، خاندان اور روایات کے درمیان ایک دل کو چھو لینے والی داستان۔
Emotionalآپ ادھر ادھر رشتہ ڈھونڈ رہی ہیں تو ماموں کے گھر بات کریں۔” واپسی میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے راشد نے سرسری انداز میں کہا تھا۔
“وٹہ سٹہ ہو جائے گا، مجھے معلوم ہے بھائی کبھی نہیں مانیں گے۔ ویسے بھی مانہ ابھی چھوٹی ہے، پڑھ رہی ہے۔ میں تو تمہارے لیے کوئی ڈاکٹر لڑکی ڈھونڈوں گی۔” پھپھو نے فوری جواب دیتے ہوئے اسے بہلانا چاہا۔
“نہیں امی، مجھے شادی کرنی ہے، ہسپتال نہیں کھولنا۔ آپ بات تو کریں ماموں سے، میں مانہ سے ہی شادی کروں گا۔” اس کا سرسری لہجہ قطعی تھا، “وہ نہ مانے تو…” بھائی کا لہجہ عینی کو ڈرا گیا۔ الفاظ اس کی زبان سے سرسراتے ہوئے پھیلے تھے، “تو ہم ان سے سارے تعلق ختم کر لیں گے۔ اگر کوئی رکھنا چاہے تو وہ مجھ سے تعلق توڑ لے۔” راشد نے ایک نظر آئینے میں نظر آتے عینی کے خوفزدہ چہرے پر ڈالی اور کہتے ہوئے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔
مجھے ایسے ایک گھر میں دو رشتے پسند نہیں۔” ابو نے فوراً ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
“خاندان میں تو رشتے ہو جاتے ہیں بھائی صاحب، یہ کوئی نیا بندہ ہو تو آپ کہیں۔ مانہ میری بھتیجی نہیں، بیٹی ہے، سینے سے لگا کر رکھوں گی۔” پھپھو نے پورا زور لگایا۔ انہیں راشد نے سکھا کر بھیجا تھا، وہ ہر صورت مانہ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ پھپھو کے انداز پر ابو قائل تو نہ ہوئے مگر وقتی طور پر خاموش ہو گئے۔
“آپ نے صاف جواب کیوں نہیں دیا؟ مجھے وٹہ سٹہ نہیں کرنا ہے۔ آپ نے ضیا کا رشتہ تو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ابھی مانہ کی شادی نہیں کرنی مگر انہیں انکار نہ کیا۔” پھپھو کے جاتے ہی امی ابو سے الجھی تھیں۔ مانہ نے چائے کے برتن سمیٹتے ہوئے حیرت سے ان کی بات سنی۔ ضیا کا رشتہ آیا، منع ہو گیا اور اسے پتا بھی نہیں چلا؟ ایسا کیسے ممکن ہے! دل نجانے کیوں ڈوب کر ابھرا تھا۔ اس کا دھیان سارا باہر سے آنے والی آوازوں پر لگا۔
“منع تو انہیں بھی نہیں کیا، وقت ہی لیا ہے۔ ضیا اچھا بچہ ہے مگر برائی کوئی راشد میں بھی نہیں۔ پھر خاندان کا ہی ہے۔” ابو نے سبھاؤ سے کہا تھا۔ انہیں ضیا خود بہت پسند تھا، اس لیے ایک دم منع نہیں کر سکے لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اپنی ذات سے باہر رشتہ جوڑنا ان کی روایت نہیں تھا۔ مانہ کے ہاتھ سے شیشے کا پیالہ پھسل کر گرا اور زور دار آواز سے ٹوٹا۔ ایک چھناکا دل میں بھی ہوا تھا۔ “کیا ابو پھپھو کی بات ماننے والے ہیں؟” امی بے اختیار اٹھ کر پریشان سی کچن تک آگئیں، “کیا ہوا، کیا چوٹ تو نہیں لگی؟”
مانہ نے فرش سے کانچ چنتے ہوئے خوفزدہ نظروں سے انہیں دیکھا۔ “پھپھو کو منع کر دیں پلیز امی۔” اس نے لجاجت بھرے لہجے میں مدھم آواز میں کہا تھا۔ امی نے گہری نظر سے اسے دیکھا اور کچھ کہے بنا واپس لاؤنج میں چلی گئیں۔
“راشد سے ہزار گنا اچھا ہے ضیا۔ کاروبار، تعلیم، مزاج ہر چیز میں بہتر ہے۔ ایسے کون سے ہیرے جڑے ہیں ہماری ذات میں کہ باہر رشتہ کرتے ہوئے جڑ جائیں گے۔ ابھی لڑکی والے ہیں تو عینی کے ابا کا مزاج نہیں ملتا، لڑکے والے بن گئے تو اور آسمان پر چڑھیں گے۔” امی نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اب کی بار واشگاف الفاظ میں انکار کیا تھا، انہوں نے بیٹی کا ساتھ دیا تھا۔ اب بیٹی کا عندیہ جان لیا تھا تو اسے کیوں اکیلا چھوڑتیں۔ ابو کسی سوچ میں گم تھے۔ جس طرح کے ان کے تعلقات تھے، وٹہ سٹہ تو وہ بھی نہیں چاہتے تھے۔
یہی انکار پھپھو کے گھر پہنچا تو فہیم کی شادی خطرے میں پڑنے لگی۔ پھپھو اور پھوپھا کے لیے اکلوتے بیٹے سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔ “عینی! تم سمجھاتی کیوں نہیں ہو راشد کو؟” فہیم فون پر عینی سے الجھ رہا تھا۔
“میں اپنے بھائی کو دکھی نہیں کر سکتی۔ کوئی غلط خواہش تو نہیں کر رہا۔ شادی تو کرنی ہے تم لوگوں نے مانہ کی، تم اسے کیوں نہیں سمجھاتے؟ بہنوں کے لیے تو بھائی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا، کیسی بہن ہے تمہاری!” عینی نے اپنی جھنجھلاہٹ نکالی۔ سچ تو یہ تھا کہ وہ سب سمجھانے کی ناکام کوشش کر چکے تھے مگر راشد ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔
“مانہ کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔ ابھی تو امی ہی نہیں مان رہیں۔ بات بھی ٹھیک ہے، ہمارے رشتے کا مانہ سے کیا تعلق، انتہائی گھٹیا حرکت ہے یہ۔” فہیم نے ناگواری سے کہا۔
“مانہ کا واسطہ نہیں ہے تو ضیا کا رشتہ کیوں آیا ہے؟ ضیا کی وجہ سے ہی مامی منع کر رہی ہیں۔ ایسی بھی کیا طوفانی محبت کہ خاندان والوں کا لحاظ نہیں۔ تم مانہ سے بات کرو، وہ ضیا کے لیے منع کر دے۔ جب مانہ مان جائے گی، تو مامی خود ہی مان جائیں گی۔” عینی نے جل کر کہتے ہوئے فہیم کو راہ سجھائی تھی۔ فہیم کو مشورہ پسند آیا تھا۔ بچپن کی منگنیاں ہوں یا شادی سے پہلے کی محبتیں، یوں ہی عقل پر پٹی باندھ دیتی ہیں۔
بدلی ہے رُت ایشہ تنویر کا ایک جذباتی اور خاندانی اردو ناول ہے جو محبت، خاندانی روایات، وٹہ سٹہ، کزن میرج، قربانی اور رشتوں کی پیچیدگیوں کے گرد گھومتا ہے۔ مانہ، ضیا اور راشد کی زندگیوں میں آنے والے فیصلے نہ صرف ان کے مستقبل بلکہ پورے خاندان کے تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ محبت اور خاندان کی عزت کے درمیان ہونے والی کشمکش اس ناول کو ایک منفرد اور دل چھو لینے والی کہانی بناتی ہے۔
Badli Hai Rut by Ayesha Tanveer, Ayesha Tanveer Novel, Complete Urdu Novel, Family Drama Novel, Cousin Marriage Novel, Romantic Urdu Novel, Pakistani Urdu Novel
FAQs
Badli Hai Rut kis qisam ka novel hai?
Yeh aik romantic, emotional aur family drama Urdu novel hai jismein cousin marriage aur social issues ko bhi numayan kiya gaya hai.
Badli Hai Rut ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Ayesha Tanveer hain.
Kya Badli Hai Rut complete novel hai?
Ji haan, yeh complete Urdu novel hai jo Novelistan par dastiyab hai.
Is novel ki kahani kis bare mein hai?
Yeh kahani mohabbat, cousin marriage, wata sata, family traditions aur mushkil faislon ke gird ghoomti hai.
Badli Hai Rut online kahan parh sakte hain?
Aap Novelistan par Badli Hai Rut complete Urdu novel online parh sakte hain.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no: 035101052131 ya 0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Views:419
Frequently asked questions
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Cousin Marriage Based and Emotional Love Story.
Where can I read Badli hai rut By Ayesha Tanveer Novel 20799?
The reading content is available in the Read online section of this page.
Share this Novel
Share this Novel QR
Share this QR image on WhatsApp, Facebook or any other app. Readers can scan it to open the novel.
سیرت کے لیے شادی کا دن اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہونا چاہیے تھا۔ وہ برسوں سے اپنے کزن شہزاد کو چاہتی تھی اور اب اسی کی دلہن بننے والی تھی۔ مگر نکاح سے چند لمحے پہلے شادی ہال میں اس سے منسوب نامناسب تصاویر اور ویڈیوز پھیل گئیں۔ کسی نے حقیقت جاننے کی کوشش نہ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے خوشیوں بھری تقریب الزام تراشی اور بدنامی کے خوف میں بدل گئی۔ شہزاد کے گھر والوں نے رشتہ توڑنے کا فیصلہ کیا تو احمر کاظمی اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ اس نے سیرت سے نکاح کی پیشکش کی، مگر اس کے بدلے ایک بچے کی شرط رکھ دی۔ سیرت کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ اچانک اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ آخر اس کی شادی کے دن یہ سازش کس نے کی تھی اور احمر کاظمی کی پیشکش کے پیچھے کیا راز تھا؟
نو سالہ حورین کا نکاح دس سالہ زاویار شاہ سے دادا جان کی ضد پر کر دیا گیا تھا۔ دونوں اس فیصلے کے خلاف تھے، مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔ زاویار نکاح کے بعد گھر چھوڑ کر چلا گیا اور حورین دس سال تک اس رشتے کا بوجھ اٹھاتی رہی۔ اس دوران اسے اپنی تائی نائلہ کے طعنوں اور سخت رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ دس سال بعد جب زاویار واپس آیا تو حورین نے سب کے سامنے اس سے طلاق مانگ لی۔ لیکن جس شخص سے وہ آزادی چاہتی تھی، اس نے اچانک اسی ہفتے رخصتی کا اعلان کر دیا۔ حورین کے لیے یہ فیصلہ کسی نئے امتحان سے کم نہیں تھا۔ آخر زاویار نے طلاق کے بجائے رخصتی کا فیصلہ کیوں کیا، اور کیا حورین اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کر سکے گی؟
مریم عالم شاہ کو اپنی دولت، حیثیت اور خاندانی شان پر بے حد غرور تھا۔ اسی حویلی میں رہنے والا اس کا یتیم کزن عارب اکبر اس کی نظروں میں ایک معمولی اور بے حیثیت شخص تھا۔ جب دادا جان نے دونوں کی شادی کا فیصلہ سنایا تو مریم کے لیے یہ بات ناقابلِ قبول تھی۔ اسے یقین تھا کہ عارب کبھی اس کے برابر نہیں ہو سکتا۔ مگر جائیداد کو خاندان میں رکھنے کی خواہش نے حالات کو بدل دیا اور دونوں نکاح کے رشتے میں بندھ گئے۔ مریم نے شادی کے بعد بھی عارب کی تذلیل جاری رکھی، لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس شخص کو وہ خاموش اور کمزور سمجھتی ہے، وہ اپنے دل میں برسوں کی تلخیوں کے ساتھ ایک خفیہ منصوبہ لیے بیٹھا ہے۔ جب مریم نے اس پر الزام لگا کر طلاق کا مطالبہ کیا تو عارب کا غیرمتوقع ردعمل سب کو حیران کر گیا۔ آخر اس کی خاموشی کے پیچھے کون سا راز چھپا تھا؟
شادی کے دن ایہام ملک کی دنیا اس وقت بکھر گئی جب اس کے منگیتر عامر فیروز نے اس سے محبت کا انکار کرتے ہوئے اس کی چچازاد بہن بسمہ کا انتخاب کر لیا۔ ایہام کے لیے یہ دھوکا صرف دل ٹوٹنے کا سبب نہیں تھا بلکہ اس کی کروڑوں کی جائیداد بھی خطرے میں پڑ چکی تھی۔ والد کی وصیت کے مطابق اسے اپنی بیسویں سالگرہ پر شادی کرنا ضروری تھا اور اب اس کے پاس صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔ اسی دوران ایک زخمی نوجوان ویٹر بینکوئٹ میں داخل ہوا۔ ایہام نے بے بسی سے اس سے شادی کی درخواست کی اور بدلے میں دولت اور گھر دینے کی پیشکش کر دی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ جسے وہ معمولی ویٹر سمجھ رہی ہے، وہ ایک ایسا خطرناک مافیا باس ہے جس کی اصل شناخت آج تک خفیہ اداروں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے۔ آخر یہ پراسرار اجنبی اس کی درخواست پر کیا فیصلہ کرے گا؟
بچپن میں طے ہونے والی منگنی شہروز خاکوانی اور نور الہدیٰ دونوں کے لیے ایک مسئلہ بن چکی تھی۔ شہروز اپنی مرضی کے بغیر شادی کرنے کو تیار نہیں تھا، جبکہ نور الہدیٰ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ والدین کے اصرار پر دونوں کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیا گیا، مگر نور الہدیٰ نے پہلے ہی ایک منصوبہ بنا لیا تھا۔ وہ اپنا حلیہ اس طرح بدل کر گاؤں پہنچی کہ شہروز اسے دیکھتے ہی شادی سے انکار کر دے۔ لیکن جب شہروز نے سب کے سامنے اسے پسند کرنے کا اعلان کیا تو نور الہدیٰ کے تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے۔ وہ حیران تھی کہ آخر اس نوجوان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور اس نے اچانک شادی کے لیے رضامندی کیوں ظاہر کر دی؟
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
دو سال تک جس شخص کے ساتھ عرشیہ نے اپنی زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے تھے، اسی نے ایک لمحے میں اسے ٹھکرا کر اس کی محبت اور عزتِ نفس کو زخمی کر دیا تھا۔ مگر اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا۔ جس زاویار سکندر کو وہ اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتی تھی، وہی شخص اب اس کا شریکِ حیات بننے کا خواہش مند تھا۔ عرشیہ کے نزدیک یہ رشتہ اس کی توہین تھا، جبکہ زاویار کے لیے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک اٹل فیصلہ بنتا جا رہا تھا۔ جب عرشیہ ہر دباؤ سے تنگ آ کر آدھی رات کو گھر چھوڑ نکلی تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس شخص سے وہ بھاگ رہی ہے، وہی اس کے راستے میں کھڑا ہوگا۔ مگر کیا ایک شخص کی ضد کسی دوسرے کے دل میں موجود نفرت کو بدل سکتی ہے؟
جس شخص نے شانزہ کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر محبت کرنا سکھایا تھا، آج وہی اسے ایک بار پھر تنہا چھوڑنے جا رہا تھا۔ تین سال کی ازدواجی زندگی، بےشمار محبت بھرے لمحے اور ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے خواب، سب ایک وارث کی خواہش کے سامنے بےمعنی ہوتے جا رہے تھے۔ ذولید حسن کی دوسری شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور شانزہ اپنے ٹوٹتے ہوئے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر قسمت نے عین اسی لمحے اسے ماں بننے کی خوشخبری دی، جب اس کا شوہر کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہا تھا۔ جس خبر کے لیے وہ برسوں ترسی تھی، وہی خبر سن کر ذولید نے اس کی سچائی پر سوال اٹھا دیا۔ کیا محبت کے بعد اب شانزہ کو اپنے ہی شوہر کے سامنے اپنا یقین بھی ثابت کرنا ہوگا؟
نکاح میں صرف پندرہ دن باقی تھے اور حیدر خان نے ہانیہ کے سامنے ایسی شرط رکھ دی تھی جسے سن کر وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ سب کے سامنے اس شخص سے عشق کا اعلان کرنا جسے وہ برداشت تک نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت کو شاید ان دونوں کی ضد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹھیک پندرہ دن بعد نکاح بھی ہوگیا اور اچانک رخصتی نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اب دلہن بنی ہانیہ آدھی رات تک حیدر کے کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جسے وہ شادی سے پہلے ہی سکون سے نہ جینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ مگر کیا یہ رشتہ واقعی صرف نفرت اور ضد تک محدود رہنے والا تھا؟
شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے تھے مگر ابراہیم کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی نئی نویلی بیوی عام لڑکیوں جیسی ہرگز نہیں۔ رات کے دو بجے اسے نیند سے جگا کر بارہ بچوں کا منصوبہ پیش کرنے والی ایشل کبھی اپنی معصوم منطق سے اسے لاجواب کر دیتی اور کبھی اپنی شرارتوں سے پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتی۔ سنجیدہ مزاج ابراہیم کے لیے اس کی ہر نئی حرکت ایک نئی مصیبت تھی، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس چلتی پھرتی آفت سے ناراض ہونے کے بجائے اس کے عشق میں مزید گرفتار ہوتا جا رہا تھا۔ آخر ایشل کی شرارتیں ان کی شادی شدہ زندگی میں ابھی اور کتنے ہنگامے کھڑے کرنے والی تھیں؟
تین سال سے زین کے نکاح میں ہونے کے باوجود زینب اس کے غصے سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس کے کمرے میں قدم رکھنے کو بھی تیار نہ تھی۔ مگر مشال کے ایک چھوٹے سے جھوٹ نے اسے یہ یقین دلا دیا کہ زین شہر سے باہر ہے۔ وہ بےفکری سے اسی کے بستر پر سو گئی، اس حقیقت سے بالکل بےخبر کہ آدھی رات کو وہی شخص واپس لوٹنے والا ہے جس کے سامنے جانے سے بھی اس کی سانسیں الجھ جاتی تھیں۔ رات کی خاموشی میں جب زینب کو اچانک اپنے قریب کسی کی موجودگی اور گردن پر گرم سانسوں کا احساس ہوا تو اس کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں۔ مگر سامنے کسی اجنبی کے بجائے زین تھا۔ آخر اس رات کے بعد تین سال سے فاصلے پر قائم یہ رشتہ کس سمت جانے والا تھا؟