Dil Saat Samandar Novel by Eesha Hussain Novel 20798
Forced Marriage | Marriage Issues | Family Drama | Emotional Romance | Strong Hero | Contemporary Fiction

خودداری، محبت اور مجبوری کے درمیان ایک دل ہلا دینے والی داستان۔
برے شوہر کو کیسے ڈیفائن کرو گی؟” وہ بے تکلفی سے سوال پوچھ رہا تھا۔ اس نے جواباً بس شاک اور حیرت سے اس کا وجیہہ چہرہ دیکھا تھا، جو اپنی ساری خوبصورتی کھو چکا تھا۔
“برا شوہر وہ ہوتا ہے جو ہاتھ اٹھائے؟ گھر سے باہر دوسری عورتوں سے غلط تعلقات رکھے؟ شراب وغیرہ پیے؟ رائٹ؟”
آذر نے اس کا گال تھپتھپا کر تائیدی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
اور وہ جیسے ہوش میں آئی تھی۔ اس کا لمس اپنے جسم پر ناگوار لگا تھا۔ وہ پہلے چند قدم پیچھے ہٹی اور جھک کر اس کے قدموں سے اپنا دوپٹہ اٹھا کر، پھیلا کر سر اور شانوں پر پھیلایا اور ماؤف ہوتے دماغ سے غیر ارادی طور پر جہاں آذر نے چھوا تھا، وہاں سے گال کو دوپٹے سے رگڑا تھا۔
“یہ ساری خامیاں ہیں میرے اندر صفیہ جمال۔ میں ایک برا مرد ہوں۔ میں یہ سب کچھ کرتا ہوں اور تم بس ایک سیاسی بیوی ہو۔ نام کی بیوی۔ ایک بڑے عہدے دار ڈی آئی جی آزر درانی کی بیوی ۔میرے نام کے بغیر تم کچھ بھی نہیں ہو۔ میں نے تمہیں پناہ دی ہے، گھر دیا ہے، کھانا دیا ہے، پیسے دیے ہیں۔ بدلے میں تم میری زندگی میں کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں کرو گی۔ تمہارا کام مجھے بس ایک نارمل فیملی کا کور اپ دینا، میرا گھر سنبھالنا اور میرے ساتھ فنکشنز پر جا کر مسکرا کر تصویریں کھنچوانا ہے۔ اوکے؟”
وہ مسخرانہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ جواب نہ ملنے پر ایک غلط نظر اس پر ڈال کر وہ آگے بڑھ گیا تھا۔ وہ وہیں بت بنی کھڑی رہی تھی۔ پیچھے ملازم سیڑھیوں پر کھڑا وضاحتیں دے رہا تھا۔ رات کی سیاہی جیسے صفیہ کے نصیب میں گھل رہی تھی۔
“بس ایک کام ہی تھا تمہارا نوازخان۔” آذر کی برہم آواز آئی تھی۔
“صاحب جی! میں نے روکا تھا، پر بی بی جی نے بات ہی نہیں سنی۔” وہ منمنایا تھا۔
اسے برا بھلا کہتا آذر آگے بڑھ گیا تھا اور پھر خاموشی چھا گئی تھی۔ چچا کی موت، سی ایس ایس میں تیسری بار ناکامی اور آذر سے شادی! اس پر آسمان جیسے ٹکڑوں میں ٹوٹ کے گرا تھا۔ اس نے دوپٹے سے آنکھیں صاف کیں اور سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔ تیز تیز چلتی اپنے کمرے میں داخل ہوئی، شکر کہ کسی سے سامنا نہیں ہوا تھا۔ وہ شیشے کے سامنے کھڑا کف بند کر رہا تھا۔ اس نے صفیہ کی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھی تھیں اور طے نہیں کر پایا تھا کہ وہ غصے سے سرخ تھیں یا تکلیف سے۔ پتا نہیں کیوں صفیہ پر اسے ترس آیا تھا لیکن پھر یاد آیا کہ وہ فاروق درانی کا انتخاب تھی۔۔
“چلیں؟” آذر نے ابرو اچکائے اور صفیہ کو اس کی سب سے بڑی خوبی کا اندازہ ہوا تھا۔ وہ توہین کرنے میں ماہر تھا۔
“سیاسی بیوی مائی فٹ!” آئینے میں اسے دیکھتے ہوئے، وہ اندھے غصے کے ساتھ پھنکاری تھی اور زیورات نوچ کر اتارے تھے۔ آذر نے آنکھوں میں استہزا لیے اسے دیکھا اور مونچھوں سے جھلکتے اس کے ہونٹوں پر مسخرانہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔
“تمہاری مرضی!” وہ قریب سے گزر کر باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ اس کے جاتے ہی صفیہ نے بالوں کو گول مول جوڑے میں باندھا اور بیڈ کے نیچے سے سوٹ کیس باہر نکالا۔ پھر الماری سے کپڑے نکال کر اس میں پھینکتے ہوئے وہ ساتھ ساتھ بے آواز روئے جا رہی تھی۔ اسے بس صبح ہونے کا انتظار کرنا تھا۔ وہ ایک درمیانے درجے کے گھر کے لاؤنج میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔ قریب ہی سوٹ کیس رکھا تھا اور خاموش لاؤنج میں اس کی سسکیوں کی آواز گونج رہی تھی۔
“تم اسے نہیں چھوڑ سکتیں اور نہ ہی تم یہاں رک سکتی ہو۔” اس کی ساری روداد سن کر انہوں نے بس اتنا کہا تھا۔
“جس طرح آئی ہو، ایسے ہی واپس چلی جاؤ صفیہ۔” وہ سرد لہجے میں بولی تھیں۔
“پر چچی! میں اتنی ذلت کے ساتھ کیسے؟” اس نے روئی روئی آنکھوں سے ان کو دیکھتے ہوئے لب کاٹے تھے۔
“زندگی ذلت ہی ہے صفیہ۔” وہ زچ ہو کر بولی تھیں۔ “میں نے اور تمہارے چچا نے تمہیں اپنی بیٹی کی طرح پالا ہے، کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔ اپنی بیٹی سے پہلے تمہاری شادی کی، لیکن اب میں اور کیا کروں تمہارے لیے؟ ایک بات لکھ کر رکھ لو، تمہارے چچا مر چکے ہیں۔ وہ پرانی زندگی اب ختم ہو چکی ہے۔ میرے ہاتھ دیکھو۔”
انہوں نے ہاتھ جوڑ کر اسے دکھائے تھے اور وہ بے بسی سے ان کو دیکھے گئی تھی۔
“مجھے نیہا کی شادی کرنی ہے۔ تم طلاق لے کے گھر بیٹھو گی تو اس کی شادی متاثر ہوگی۔ اور چلو بالفرض تم نے طلاق لے لی، آگے کیا کرو گی؟ میں نیہا کے ساتھ رہوں گی، تم یہاں اکیلی کیسے رہو گی؟ حالات دیکھتی ہو؟ اور میں اب تمہاری ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی۔ سکت نہیں ہے اب مجھ میں۔” وہ رونی صورت بنی ہوئی تھیں۔
“وہ جیسا بھی ہے، عزت، روٹی اور چھت تو دے رہا ہے نا۔ اس کا باپ تمہارے باپ اور چچا کا دور کا رشتہ دار اور دوست تھا۔ وہ تمہارے ساتھ کچھ الٹا سیدھا نہیں کریں گے۔ اور ہو سکتا ہے وہ بدل جائے۔” اس کی چچی کا لہجہ اب سمجھانے والا ہو گیا تھا۔
“فطرت نہیں بدلتی۔” اس نے سر نفی میں ہلایا تھا۔
“وہ ایک برا مرد معاشرے کے باقی برے مردوں سے بچا لے گا صفیہ! تو تم اب فیصلہ کر لو، اس ایک برے مرد کے ساتھ رہنا ہے یا معاشرے کے سارے برے مردوں کو برداشت کرنا ہے، کیونکہ حقیقت یہی ہے۔” وہ سخت لہجے میں بولی تھیں۔
“مما آپ…” نیہا نے صفیہ کا اترا چہرہ دیکھ کر مداخلت کی کوشش کرنا چاہی تھی لیکن اس کی ماں نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا اور جواب طلب نظروں سے صفیہ کو دیکھا تھا۔
سامنے صوفے پر بیٹھی صفیہ نے ایک نظر نیہا کو دیکھا پھر اس کے عقب میں دیوار پر لگی فیملی فوٹو کو جس میں وہ چاروں تھے۔ چچا اور چچی صوفے پر بیٹھے تھے اور ان کے قدموں میں بیٹھی ہوئی نیہا اور صفیہ تھیں۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا، وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور واش روم میں آئی۔ نل کھول کر اس نے موبائل تھامے ہاتھ کو سنگ مرمر کے سنک پر رکھا تھا اور دوسرا ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنے رونے کی آواز کو دبایا تھا۔ وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔
آتے ہوئے رقیہ بھابھی نے اسے روکا تھا، وہ آذر کے کزن کی بیوی تھیں۔ ان کے الفاظ پانی کی دھار کے ساتھ فضا میں گونجتے تھے۔
“تم اپنے آپ کو مزید ہلکا کرو گی صفیہ، اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” آنسو مزید روانی سے بہے تھے۔
“میری سمجھ میں نہیں آتا کہ عورتیں کیسے ایسے مردوں کے ساتھ رہ رہی ہیں؟ چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟ سوچو، میں تو کبھی ایسے مرد کو برداشت نہیں کروں گی، لعنت بھیجوں گی اور آگے کا سوچوں گی۔”
کئی سال پہلے کہے اس کے اپنے الفاظ ہنٹر کی طرح لگے تھے۔ موبائل سامنے شیلف پر رکھ کر اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور نل بند کیا تھا۔ پھر موبائل اٹھا کر آذر کا نمبر ملایا تھا۔
کال ملا کر اس نے آئینے میں اپنے پرمردہ چہرے کو دیکھا، بیل جا رہی تھی۔ عزت نفس، وقار، خواب، خواہشیں، امیدیں اور بڑے بڑے دعوے اسی نل کے پانی کے ساتھ گٹر میں بہہ گئے تھے۔ کال نہیں اٹھائی گئی تھی۔ اس نے موبائل کان سے ہٹایا اور پھر سے کال ملائی تھی، ہاتھوں میں لرزش تھی۔
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Summary
دل سات سمندر ایشا حسین کا ایک انتہائی جذباتی اور حقیقت کے قریب اردو ناول ہے جو صفیہ اور آذر درانی کی پیچیدہ ازدواجی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔ طاقت، انا، مجبوری، عزتِ نفس، سماجی دباؤ اور رشتوں کی تلخ حقیقتیں اس کہانی کا مرکزی موضوع ہیں۔ صفیہ اپنی خواہشات، خوابوں اور خودداری کے درمیان ایسی آزمائش سے گزرتی ہے جہاں ہر فیصلہ اس کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ محبت، نفرت، برداشت اور تبدیلی کا یہ سفر قاری کو ابتدا سے اختتام تک اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔
Dil Saat Samandar by Eesha Hussain, Eesha Hussain Novel, Complete Urdu Novel, Forced Marriage Novel, Emotional Urdu Novel, Family Drama, Pakistani Urdu Novel
FAQs
Dil Saat Samandar kis qisam ka novel hai?
Yeh aik emotional romantic Urdu novel hai jismein marriage issues, family drama aur self-respect ko markazi ahmiyat di gayi hai.
Dil Saat Samandar ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Eesha Hussain hain.
Kya Dil Saat Samandar complete novel hai?
Ji haan, yeh complete Urdu novel hai aur Novelistan par dastiyab hai.
Is novel ki kahani kis bare mein hai?
Yeh kahani Safiya aur Azar Durrani ki shadi, majbooriyon, emotional conflicts aur badalte rishton ke gird ghoomti hai.
Dil Saat Samandar online kahan parh sakte hain?
Aap Novelistan par Dil Saat Samandar complete Urdu novel online parh sakte hain.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Post Views: 228