Wo Jo Dil Haar k Aye Thay by Nighat Abdullah Novel20806

Second Marriage Based | Childhood Nikah | Village Based | Domestic Abuse | Strong Heroine | Family Drama | Emotional Romance

Short Description

وہ جو دل ہار کے آئے تھے نگہت عبداللہ کا ایک جذباتی اور معاشرتی اردو ناول ہے جو بچپن کے نکاح، دوسری شادی، ازدواجی ناانصافی، عورت کی خودداری اور دیہی روایات کے درمیان پستی ایک مضبوط لڑکی کی دردناک زندگی بیان کرتا ہے۔

Woh Jo Dil Haar Ke Aaye The Novel by Nighat Abdullah Complete Urdu Novel

دوسری شادی، ٹوٹے اعتماد اور اپنی عزت کے لیے لڑتی ایک خوددار عورت کی دردناک داستان۔

کون ہے یہ۔۔اس نے بے چینی سے اپنے شوہر کو دیکھا جس کے چہرے پر زرا سی بھی ملامت نہیں تھی۔۔ “تیری سوکن ۔۔سیف کا انداز تماشائیوں جیسا تھا اور عورت خواہ کہیں کی بھی ہو، گاؤں کی یا شہر کی، اس کا تعلق اپر کلاس سے ہو یا مڈل کلاس سے، اپنی پوری زندگی میں یہ ایک ہی لفظ نہیں سننا چاہتی اور اگر سن لے تو پاگل ہو جاتی ہے۔ وہ بھی جیسے پاگل ہو گئی، اپنے حواس کھو بیٹھی، تیتر کی تیزی سے لپکی اور سیف کا گریبان پکڑ کر پوری قوت سے جھٹکے دیتے ہوئے چیخی۔ “کیوں کیا ہے تم نے ایسا؟ مجھے دھوکا دیا، تم کتنے فریبی ہو، کیا سمجھا ہے تم نے مجھے؟” چٹاخ! پھر وہی تھپڑ، وہ لڑکھڑاتی ہوئی دور جا گری۔ “چھوڑ دے اسے پاگل ہو گی یے یہ ۔سیف کی دوسری بیوی نے کہا۔ وہ شاید اس کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اس عورت کی سفارش پر رک گیا۔ اور پہلی بار اس کے تھپڑ پر وہ چلاتی ہوئی اس کے پیچھے بھاگی تھی اور اب بہت خاموشی سے اور کچھ وحشت زدہ سی ہو کر ان دونوں کو اندر جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ “مجھے چپ چاپ سسکنا اور مظلومیت کی تصویر بننا زہر لگتا ہے۔” یہ خود اس کا دعویٰ تھا اور کبھی کبھی تقدیر یوں بھی ستم ڈھاتی ہے کہ اپنے ہی دعوے کا بھرم توڑ دیتی ہے۔ اسے اب بھی نفرت تھی چپ چاپ سسکنے اور مظلومیت کی تصویر بننے سے، کیونکہ وہ کمزور نہیں تھی، اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکتی تھی، احتجاج کر سکتی تھا، لیکن المیہ یہ تھا کہ مقابل انتہائی اجڈ اور گنوار تھا جس نے تعلیم صرف اس لیے حاصل کی تھی کہ یہ اس کے باپ کی خواہش تھی، تعلیم اسے کیا سکھا رہی ہے یہ جاننے کی اس نے ضرورت ہی نہیں سمجھی۔ اس کی ذہنی پسماندگی گواہ تھی کہ اس پر ماحول کا رنگ گہرا ہے، تبھی تو اس جیسی نفیس اور ایجوکیٹڈ لڑکی نے اسے اٹریکٹ نہیں کیا تھا اور اس کے سامنے وہ کیا احتجاج کرتی۔ پہلے مرحلے پر ہی جان گئی کہ لاکھ گلا پھاڑ کے چیخنے چلانے سے کہیں شنوائی نہ ہوگی، یہی سوچ کر اپنی آواز دبا گئی، ہونٹوں کو سختی سے بھینچ لیا لیکن اندر جو گھاؤ لگا تھا، یہ اس کا مداوا نہیں تھا اور مداوے کی دوسری صورت آنسو تھے جو اس روانی سے بہہ نکلے کہ بند باندھنا مشکل ہو گیا، تب اس نے گھٹنوں پر سر رکھ لیا تو اپنی ذات کا سارا اعتماد آنسوؤں کے ساتھ مٹی میں ملتا گیا۔ وہ بیچ آنگن میں کچی زمین پر بیٹھی تھی اور اس ستمگر سے تو امید نہیں تھی ” وہ مسلسل اپنے آپ کو سمجھاتی رہی، لیکن آخر کب تک؟ ہر نیا دن اس کے لیے ایک نئی اذیت لے کر طلوع ہوتا اور ہر رات وہ اپنے بستر پر تنہا ہوتی، اپنا قصور کھوجتی۔ کب، کہاں، غلطی کس سے ہوئی؟ دادا دادی جنہوں نے بچپن میں اس کا نکاح کر دیا تھا؟ ڈیڈی جنہیں صرف بھائی کی ناراضگی کا خیال رہا، اس کی ذات کو یکسر نظر انداز کر دیا؟ ممی جو اس کی خاطر ڈیڈی سے لڑ نہ سکیں؟ غلطی کسی سے بھی ہوئی، خمیازہ وہ بھگت رہی تھی۔ اس روز اسکی دوسری بیوی غالباً اپنے میکے گئی ہوئی تھی، تبھی سیف اس کے کمرے میں چلا آیا۔ فوری طور پر وہ کچھ نہیں بول سکی، بس بے خیالی میں اسے دیکھنے لگی۔ “نظر لگاؤ گی کیا؟” وہ شوخ ہو کر بولا تو وہ ایک دم چونک گئی، پیشانی پر شکنیں ڈال کر بولی۔ “تمہیں کیا نظر لگے گی، ہر وقت تو نظر بٹو ساتھ ہوتی ہے۔” “اہاہاہا!” وہ اس کا اشارہ سمجھ کر بجائے خفا ہونے کی بجائے زور زور سے ہنسنے لگا تو وہ خفگی سے بولی۔ “میرے کمرے میں کیوں آئے ہو؟” “کیوں، کیا میں یہاں نہیں آ سکتا؟” “نہیں”، وہ سختی سے بولی۔ “میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں، چلے جاؤ یہاں سے۔” “تمہاری یہی باتیں مجھے طیش دلاتی ہیں، بھول جاتی ہو کہ کس سے مخاطب ہو۔” “نہیں، مجھے اچھی طرح یاد رہتا ہے کہ میرا مخاطب کون ہے۔” وہ بے حد چبا چبا کر بولی۔ “ایک انتہائی درجے کا بزدل مرد جو اپنی مردانگی کے زعم میں دوسری بیوی تو لے آیا ہے، لیکن اس میں اتنی جرات نہیں کہ اس کی موجودگی میں پہلی سے بات کر سکے۔” “تم نے مجھے بزدل کہا؟” شاید اسے بے حد توہین کا احساس ہوا تھا، چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا۔ اس کی طرف بڑھنا چاہتا تھا کہ وہ چیخ کر بولی۔ “ایک بار نہیں، ہزار بار کہوں گی، تم بزدل ہو۔ اگر میری بات غلط ثابت کر سکتے ہو تو زینو کی موجودگی میں میرے پاس آنا، تب تمہاری جرات مندی کا اعتراف کرتے ہوئے میں تمہیں اپنی غلامی میں لکھ دوں گی۔” “تو ایسے ہی میری غلام ہے۔” وہ دروازے کو پیر سے زوردار ٹھوکر مارتا ہوا کمرے سے نکل گیا تو وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر روتی ہوئی بیڈ پر ڈھ سی گئی۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Complete Summary

وہ جو دل ہار کے آئے تھے ایک جذباتی، معاشرتی اور خاندانی اردو ناول ہے جس میں عورت کی بے بسی، خودداری، بچپن میں طے کیے گئے رشتے، دوسری شادی اور مردانہ برتری کے تلخ رویوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

کہانی ایک تعلیم یافتہ، نفیس اور خوددار لڑکی کے گرد گھومتی ہے جس کا نکاح بچپن ہی میں خاندان کے ایک ایسے مرد سے کر دیا جاتا ہے جس کی سوچ پر دیہی ماحول، فرسودہ روایات اور مردانہ حاکمیت کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ وہ اپنے شوہر سیف کے ساتھ بہتر زندگی گزارنے کی امید لے کر اس کے گھر آتی ہے، مگر اسے محبت، احترام اور تحفظ کے بجائے تلخی، تشدد اور بے اعتنائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ اس وقت سامنے آتا ہے جب سیف بغیر کسی وضاحت اور احساسِ جرم کے دوسری شادی کر کے نئی بیوی کو گھر لے آتا ہے۔ اپنی سوکن کو سامنے دیکھ کر اس کی دنیا بکھر جاتی ہے۔ وہ اپنے شوہر سے سوال کرتی ہے، احتجاج کرتی ہے اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، مگر بدلے میں اسے تھپڑ، تذلیل اور خاموشی کی سزا ملتی ہے۔

وہ ہمیشہ مظلوم بن کر چپ چاپ رونے والی عورتوں کو کمزور سمجھتی تھی، مگر حالات اسے بھی اسی مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں آواز بلند کرنے کے باوجود کوئی سننے والا نہیں ہوتا۔ تعلیم یافتہ اور مضبوط ہونے کے باوجود اسے احساس ہوتا ہے کہ ایک ظالمانہ ماحول میں صرف دلیل اور احتجاج کافی نہیں ہوتے۔

ہر گزرتا دن اس کے لیے ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے۔ وہ کبھی اپنے دادا دادی کے فیصلے کو قصوروار ٹھہراتی ہے، کبھی والد کی خاندانی مصلحت کو اور کبھی اپنی ماں کی بے بسی کو۔ دوسروں کے کیے گئے فیصلوں کی قیمت صرف اسے چکانی پڑتی ہے۔

سیف کا رویہ بھی تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ دوسری بیوی کی موجودگی میں وہ پہلی بیوی سے دور رہتا ہے، لیکن تنہائی میں اس کے قریب آنے اور اپنا حق جتانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی پہلی بیوی اس دوغلے پن کو بزدلی قرار دیتی ہے اور پہلی مرتبہ اس کے غرور کو کھل کر للکارتی ہے۔

یہ ناول دوسری شادی، گھریلو تشدد، بچپن کے نکاح، دیہی معاشرے، مردانہ انا، عورت کی خودداری اور بے جوڑ رشتوں کے اثرات کو حقیقت کے قریب انداز میں پیش کرتا ہے۔ کیا سیف کبھی اپنی غلطیوں اور پہلی بیوی کی تکلیف کو سمجھ سکے گا؟ کیا اس مظلوم مگر خوددار عورت کو اپنے حق اور محبت کی منزل ملے گی؟ یہی سوال کہانی کو آخری صفحے تک جذباتی اور اثر انگیز بنائے رکھتے ہیں۔

Genre

Romance, Emotional, Family Drama, Social Issues, Village Fiction, Marriage Fiction

Woh Jo Dil Haar Ke Aaye The, Woh Jo Dil Haar Ke Aaye The Novel, Woh Jo Dil Haar Ke Aaye The by Nighat Abdullah, Nighat Abdullah, Complete Urdu Novel, Second Marriage, Childhood Nikah, Village Based Novel, Domestic Abuse, Strong Heroine, Emotional Romance, Family Drama, Forced Marriage, Cruel Husband, Rural Culture, Pakistani Urdu Novel, Online Urdu Novel, Novelistan

#WohJoDilHaarKeAayeThe #NighatAbdullah #UrduNovel #CompleteUrduNovel #SecondMarriage #ChildhoodNikah #StrongHeroine #VillageNovel #EmotionalNovel #Novelistan

FAQ

Woh Jo Dil Haar Ke Aaye The kis qisam ka novel hai?

Yeh aik emotional aur social Urdu novel hai jismein second marriage, childhood nikah, village culture, domestic abuse aur strong heroine ko markazi ahmiyat di gayi hai.

Woh Jo Dil Haar Ke Aaye The ki writer kaun hain?

Is novel ki writer Nighat Abdullah hain.

Kya Woh Jo Dil Haar Ke Aaye The complete novel hai?

Ji haan, yeh aik complete Urdu novel hai jise Novelistan website par online parha ja sakta hai.

Is novel ka main male character kaun hai?

Is kahani ka aham mard kirdar Saif hai, jo apni pehli biwi ki mojoodgi mein doosri shadi kar leta hai aur apne rawaiye se us ki zindagi ko mushkil bana deta hai.

Kya yeh second marriage based novel hai?

Ji haan, second marriage is novel ka aik bohat aham theme hai. Saif ki doosri shadi us ki pehli biwi ki zindagi, aitbaar aur khud-dari ko gehra sadma pohanchati hai.

Kya is novel mein childhood nikah dikhaya gaya hai?

Ji haan, heroine ka nikah bachpan mein khandani faislay ke tehat kar diya jata hai, jis ka khamyaza use bari ho kar bhugatna padta hai.

Kya heroine strong character hai?

Ji haan, heroine aik parhi likhi, khud-dar aur bebaak larki hai jo apne haq ke liye awaaz uthati hai, lekin pichhray hue mahol aur shohar ke sakht rawaiye ke sabab shadeed mushkilat ka samna karti hai.

Woh Jo Dil Haar Ke Aaye The online kahan parh sakte hain?

Aap Novelistan par Woh Jo Dil Haar Ke Aaye The complete Urdu novel online parh sakte hain.

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *