Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo By Ambreen Abdaal, Novelistan Novel20795
Rate this novel
وہاج اچانک واثلہ اور شہوار کو آمنے سامنے دیکھ لیتا ہے اور ایک ایسا راز بے نقاب ہو جاتا ہے جو برسوں سے خاموشی کی چادر میں چھپا ہوا تھا۔ شہوار کی حقیقت جاننے کے بعد وہاج ایک ایسا فیصلہ کرتا ہے جو نہ صرف واثلہ کی زندگی بلکہ پورے میر خاندان کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ کیا یہ ایمرجنسی نکاح سب کچھ سنبھال لے گا یا نئے طوفان کو جنم دے گا؟ جاننے کے لیے پڑھیں شہرِ تمنا کی آخری آرزو
Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo By Ambreen Abdaal Novel20795
Second Marriage based | Emergency Nikah | Emotional Story |Social Romantic Novel | Happy Ending
Waaj ka achanak Emergency Nikah ka faisla Wasla ki zindagi ka naya mor ban jata hai.
کچن کے دردازے پر ایستادہ وجود، چہرے پر مسکراہٹ سجائے قدم اٹھاتا اس کے پاس آ کر رکا۔ “بہت چالاک ہو گئی ہو، اب مجھے ملتی ہی نہیں اور میں ہوں چکور کی مانند اپنے چاند کی تلاش میں ادھر ادھر گھومتا رہتا ہوں۔”
یہ کہہ کر اس نے واثلہ کے چہرے پر آئی لٹوں کو پیچھے کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ واثلہ وحشت سے پیچھے ہٹی، اس کا ہاتھ سیلف پر پڑی کیتلی سے ٹکرایا اور ایک زوردار آواز گونجی۔ اپنے کمرے سے نکل کر سیڑھیاں اترتا وہاج جو ابھی لاؤنج میں پہنچا ہی تھا، ٹھٹک کر رکا اور تیزی سے کچن کی سمت بڑھا۔ وہ پیاس کی شدت سے اٹھا تھا اور جگ لے کر نیچے آیا تھا۔
“اوں ہوں، شور نہیں کرو۔ تڑپ رہا ہوں تمہارے لیے مگر تمہیں تو جیسے ذرہ بھر بھی پردانہیں۔ پہلے اس گھامڑ زین کے ساتھ شادی کر کے چلی گئیں اور جب واپس آئیں تو اس کے سوگ میں بیٹھی رہیں۔ تمہیں میرا بھی خیال نہیں آیا۔”
وہ واثلہ کی جانب جھکا۔ واثلہ نے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دیا مگر وہ اپنی جگہ سے ذرا سا ہلا تھا۔
“بخش دیں مجھے، معاف کر دیں۔ اب تو معاف کر دیں۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے تب سے آپ میرے ساتھ ہی سب کرتے آئے ہیں۔ میری عزت کو، میری ذات کو گندا کر کے بھی آپ کا دل نہیں بھرا۔ میری خاموشی کو میرا جرم بنا دیا آپ نے۔ مگر ایک بات یاد رکھیے گا، میں صرف اپنی ماں کی وجہ سے خاموش تھی کہ وہ بے چاری اس صدمے سے مر جائیں گی کہ ان کے سگے بھتیجے نے ان کی بیٹی کے ساتھ وہ…” وہ بچوں کی طرح رونے لگی۔ چائے ابل ابل کر ابل رہی تھی۔
“کم آن یار! اب بس بھی کرو۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ اب تمہیں کچھ بھی نہیں کہوں گا مگر تمہیں دیکھتے ہی خود پر قابو نہیں رکھ سکا۔” چہرے پر مکروہ مسکراہٹ سجائے وہ آگے بڑھا۔
“شہوار بھائی! میں آپ کا گندا چہرہ اور ناپاک کردار سب کو دکھا دوں گی۔”
وہ اسے دھکا دے کر دردازے کی طرف بڑھی مگر وہاں وہاج کو کھڑا دیکھ کر واثلہ کا دل چاہا وہ ابھی اور اسی وقت مر جائے۔ وہ شرمندگی اور ندامت سے مرنے والی ہو رہی تھی۔ شہوار کی حالت بھی اس سے کم نہیں تھی۔ چھوٹے بھائی کو یوں سامنے دیکھ کر وہ بوکھلا گیا تھا۔
“ارے وہاج! میں تو اچانک آیا تھا، کچن میں واثلہ اپنے لیے چائے بنا رہی تھی۔” وہ گھمبیر سی ہنسی ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ شہوار اپنی بات مکمل کرتا، وہاج آگے بڑھا اور پوری قوت سے شہوار کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا۔ شہوار اس حملے کے لیے تیار کب تھا؟ وہ لڑکھڑا کر کچن کے فرش پر گرا۔
“آپ میرے بھائی ہیں! میرے بھائی! جنہیں میں آئیڈیلائز کرتا تھا۔ ہمیشہ آپ کی طرح بننے کی کوشش کی۔ مگر مجھے کیا معلوم تھا میرا یہ رشتہ اس قدر تعفن زدہ ہے، اس قدر گندا ہے۔”
وہاج شدید غصے میں تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ شہوار کا گلا گھونٹ دے۔ اس نے غصے سے مٹھیاں بھینچ رکھی تھیں۔ غصے کی شدت سے اس کی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھیں۔
واثلہ کی سسکیاں کچن کی خاموشی کو توڑ رہی تھیں۔ وہاج شدید طیش میں کھڑا تھا۔
“تم میری بات تو سنو۔” میر شہوار نے فرش سے اٹھتے ہوئے کہا۔
“دور رہیں مجھ سے۔ میرا کوئی تعلق نہیں ہے آپ سے۔ آج سے آپ میرے کچھ نہیں لگتے۔ رحم نہیں آیا آپ کو، اس پر ترس نہیں آیا آپ کو؟” اس نے روتی ہوئی واثلہ کا بازو پکڑ کر شہوار کے سامنے کیا۔ “یہ اس گھر کی مکین ہے، ہم اس کی عزت کے محافظ ہیں نہ کہ تیرے! سوچ بھی کیسے لیا آپ نے؟” اس نے غم و غصے سے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑا۔
“تم، واثلہ یہ جھوٹ بول رہی ہے۔ اصل معاملہ کچھ اور ہے۔” اس سے پہلے کہ شہوار کی بات مکمل ہوتی، وہاج نے کاٹ دار نگاہوں سے اسے دیکھا۔ وہ خاموش ہو گیا۔
“تم اپنے کمرے میں جاؤ۔” وہاج نے دھاڑ کر واثلہ سے کہا۔
واثلہ جو بت بنی کھڑی تھی، بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی۔ وہ اپنے کمرے میں پہنچ کر بیڈ پر اوندھے منہ گری اور زار و قطار رونے لگی۔ جو راز دو سالوں سے چھپائے بھی تھی، وہ وہاج پر عیاں ہو گیا تھا۔
آدھی رات میر ہاؤس کے مین راہداریوں پر چلتے ہوئے جاگ رہے تھے۔ واثلہ، وہاج اور شہوار۔ وہاج کیا کرے گا؟ وہ صبح سب کو بتا دے گا کیا؟ ماموں کا کیا ردعمل ہوگا؟ ممانی کا کیا ردعمل ہوگا؟ ردابھابھی… وہ سوچ سوچ کر تھک گئی تھی مگر کوئی سرا اس کے ہاتھ نہ آ رہا تھا۔
اگلے دن واثلہ اپنے کمرے سے باہر نہ نکلی تھی۔ سورج طلوع ہو کر اب ڈھلنے کے قریب تھا مگر وہ اپنے کمرے میں بے سدھ پڑی تھی۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے جب اس کے دردازے کو کسی نے کھٹکھٹایا۔ اس نے نیم وا ہو کر دیکھا، وہاج کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔ واثلہ وہاج کو دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ اپنے ہاتھوں کو مسل رہی تھی۔ وہاج آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔
“میں نہیں پوچھوں گا، کب کیوں، کیسے ہوا؟ بس میری التجا ہے اس بات کو یہیں دفن کر دو۔ بابا یہ صدمہ نہیں سہہ پائیں گے۔ ردابھابھی، گھر میں ایک طوفان برپا ہو جائے گا،” وہاج نے اس کی پلکوں پر چپکتے موتی دیکھے۔
واثلہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ گھر خراب نہ ہو، ماموں کو دکھ نہ ہو، بچے ڈسٹرب نہ ہوں۔ اعتبار نہ ٹوٹے، خاص کر اسے ایک اور ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑے، اسی لیے تو وہ خاموش تھی۔ اس لیے تو وہ اس گھر سے جانا چاہتی تھی اور کامیاب بھی رہی تھی، مگر قسمت کی ستم ظریفی وہ ایک بار پھر اس گھر میں آ گئی تھی۔
“میں نے ایک فیصلہ کیا ہے اور جلد ماما یا بابا کو اس سے آگاہ کر دوں گا۔ چاہے تم اعتراض کرو، اب میں کچھ نہ سنوں گا،” اس نے کہہ کر اس کی جانب دیکھا تو وہ نظریں جھکا گئی۔
“تمہاری زین سے شادی کے پیچھے بھی یہی وجہ تھی؟” وہاج نے پوچھا۔
واثلہ نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ بالوں میں انگلیاں جکڑ کر رہ گیا۔
“آپ پلیز مجھ پر ایک احسان کریں۔ مجھے گرلز ہاسٹل بھیج دیں۔” واثلہ نے التجا کی۔ “جن کے سر پر سایا نہ ہو وہ یونہی اور بدتر ہوتے ہیں۔ اس گھر کو بکھرنے سے بچانے کے لیے ہی میں نے یہ فیصلہ کیا ہے اور پہلے بھی خاموش رہی،” وہ اپنی بات مکمل کر کے وہاج کی جانب دیکھ رہی تھی۔
وہاج صوفے پر جا بیٹھا۔
“میں نے تم سے شادی کا فیصلہ کر لیا ہے اور تم لاکھ چیخو چلاؤ، میں تمہاری ایک نہ سنوں گا،” وہاج نے اطمینان سے کہا۔
“میں آپ سے کسی صورت شادی نہیں کروں گی،” اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتی، دردازہ کھلا اور میر آصف، مولوی صاحب کی معیت میں کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کے پیچھے فائزہ اور ردابھی تھیں۔ انہوں نے اس کے سر پر سری دوپٹا اوڑھایا۔
اس قسط میں واثلہ کی زندگی کا برسوں سے چھپا خوفناک راز وہاج کے سامنے آ جاتا ہے جب وہ شہوار کو اس کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے دیکھ لیتا ہے۔ وہاج شدید غصے میں شہوار کا سامنا کرتا ہے اور اس سے ہر تعلق ختم کر دیتا ہے۔ دوسری طرف واثلہ اپنے خاندان کو بکھرنے سے بچانے کے لیے خاموش رہنے کا فیصلہ کرتی ہے، مگر وہاج اس کی حفاظت اور عزت کے لیے اچانک ایک ایسا فیصلہ کرتا ہے جو سب کو حیران کر دیتا ہے۔ ایمرجنسی نکاح کا یہ فیصلہ کہانی کو ایک نئے اور انتہائی جذباتی موڑ پر لے جاتا ہے۔
Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo Novel, Ambreen Abdaal, Urdu Novel Episode 29, Emergency Nikah Novel, Second Marriage Based Novel, Family Drama Novel, Romantic Urdu Novel
FAQs
Q1. Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo mein kya hota hai?
اس میں وہاج کو شہوار کی حقیقت کا علم ہو جاتا ہے اور وہ واثلہ کی حفاظت کے لیے ایمرجنسی نکاح کا فیصلہ کرتا ہے۔
Q2. Kya Waaj aur Wasla ka nikah ho jata hai?
اس قسط کے اختتام پر ان کے نکاح کا فیصلہ سامنے آتا ہے جو کہانی کا سب سے بڑا موڑ بنتا ہے۔
Q3. Is novel ki writer kaun hain?
اس ناول کی مصنفہ امبرین ابدال ہیں۔
Q4. Is episode ka genre kya hai?
یہ قسط رومانس، فیملی ڈرامہ، جذباتی تنازع، فورسڈ میرج اور ایمرجنسی نکاح پر مبنی ہے۔
Q5. Ye novel kahan parh sakte hain?
آپ اس ناول کی تمام اقساط Novelistan پر پڑھ سکتے ہیں۔
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no: 035101052131 ya 0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Views:365
Frequently asked questions
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under After Marriage and Complete Novel.
Where can I read Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo By Ambreen Abdaal, Novelistan Novel20795?
The reading content is available in the Read online section of this page.
Share this Novel
Share this Novel QR
Share this QR image on WhatsApp, Facebook or any other app. Readers can scan it to open the novel.
وردہ صداقت اپنی سوتیلی بہن ماہم کی جگہ علوی خاندان میں جانے کے لیے تیار تھی۔ اس کا دل خوف اور بے یقینی سے بھرا ہوا تھا، کیونکہ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہاں اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ روانگی سے پہلے احسن نے اسے ماہم سمجھ کر اپنی بے وفائی کا اعتراف کر دیا، جس سے وردہ کی آخری امید بھی ٹوٹ گئی۔ علوی مینشن پہنچ کر اس کی ملاقات وائل علوی کی دادی سے ہوئی، جنہوں نے اس کے ساتھ شفقت سے پیش آ کر اسے کچھ تسلی دی۔ پھر وائل علوی سامنے آیا اور دونوں کا نکاح ہو گیا۔ دوسری طرف احسن کو وردہ کھونے کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوا، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔
سیرت کے لیے شادی کا دن اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہونا چاہیے تھا۔ وہ برسوں سے اپنے کزن شہزاد کو چاہتی تھی اور اب اسی کی دلہن بننے والی تھی۔ مگر نکاح سے چند لمحے پہلے شادی ہال میں اس سے منسوب نامناسب تصاویر اور ویڈیوز پھیل گئیں۔ کسی نے حقیقت جاننے کی کوشش نہ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے خوشیوں بھری تقریب الزام تراشی اور بدنامی کے خوف میں بدل گئی۔ شہزاد کے گھر والوں نے رشتہ توڑنے کا فیصلہ کیا تو احمر کاظمی اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ اس نے سیرت سے نکاح کی پیشکش کی، مگر اس کے بدلے ایک بچے کی شرط رکھ دی۔ سیرت کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ اچانک اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ آخر اس کی شادی کے دن یہ سازش کس نے کی تھی اور احمر کاظمی کی پیشکش کے پیچھے کیا راز تھا؟
نو سالہ حورین کا نکاح دس سالہ زاویار شاہ سے دادا جان کی ضد پر کر دیا گیا تھا۔ دونوں اس فیصلے کے خلاف تھے، مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔ زاویار نکاح کے بعد گھر چھوڑ کر چلا گیا اور حورین دس سال تک اس رشتے کا بوجھ اٹھاتی رہی۔ اس دوران اسے اپنی تائی نائلہ کے طعنوں اور سخت رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ دس سال بعد جب زاویار واپس آیا تو حورین نے سب کے سامنے اس سے طلاق مانگ لی۔ لیکن جس شخص سے وہ آزادی چاہتی تھی، اس نے اچانک اسی ہفتے رخصتی کا اعلان کر دیا۔ حورین کے لیے یہ فیصلہ کسی نئے امتحان سے کم نہیں تھا۔ آخر زاویار نے طلاق کے بجائے رخصتی کا فیصلہ کیوں کیا، اور کیا حورین اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کر سکے گی؟
مریم عالم شاہ کو اپنی دولت، حیثیت اور خاندانی شان پر بے حد غرور تھا۔ اسی حویلی میں رہنے والا اس کا یتیم کزن عارب اکبر اس کی نظروں میں ایک معمولی اور بے حیثیت شخص تھا۔ جب دادا جان نے دونوں کی شادی کا فیصلہ سنایا تو مریم کے لیے یہ بات ناقابلِ قبول تھی۔ اسے یقین تھا کہ عارب کبھی اس کے برابر نہیں ہو سکتا۔ مگر جائیداد کو خاندان میں رکھنے کی خواہش نے حالات کو بدل دیا اور دونوں نکاح کے رشتے میں بندھ گئے۔ مریم نے شادی کے بعد بھی عارب کی تذلیل جاری رکھی، لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس شخص کو وہ خاموش اور کمزور سمجھتی ہے، وہ اپنے دل میں برسوں کی تلخیوں کے ساتھ ایک خفیہ منصوبہ لیے بیٹھا ہے۔ جب مریم نے اس پر الزام لگا کر طلاق کا مطالبہ کیا تو عارب کا غیرمتوقع ردعمل سب کو حیران کر گیا۔ آخر اس کی خاموشی کے پیچھے کون سا راز چھپا تھا؟
شادی کے دن ایہام ملک کی دنیا اس وقت بکھر گئی جب اس کے منگیتر عامر فیروز نے اس سے محبت کا انکار کرتے ہوئے اس کی چچازاد بہن بسمہ کا انتخاب کر لیا۔ ایہام کے لیے یہ دھوکا صرف دل ٹوٹنے کا سبب نہیں تھا بلکہ اس کی کروڑوں کی جائیداد بھی خطرے میں پڑ چکی تھی۔ والد کی وصیت کے مطابق اسے اپنی بیسویں سالگرہ پر شادی کرنا ضروری تھا اور اب اس کے پاس صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔ اسی دوران ایک زخمی نوجوان ویٹر بینکوئٹ میں داخل ہوا۔ ایہام نے بے بسی سے اس سے شادی کی درخواست کی اور بدلے میں دولت اور گھر دینے کی پیشکش کر دی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ جسے وہ معمولی ویٹر سمجھ رہی ہے، وہ ایک ایسا خطرناک مافیا باس ہے جس کی اصل شناخت آج تک خفیہ اداروں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے۔ آخر یہ پراسرار اجنبی اس کی درخواست پر کیا فیصلہ کرے گا؟
بچپن میں طے ہونے والی منگنی شہروز خاکوانی اور نور الہدیٰ دونوں کے لیے ایک مسئلہ بن چکی تھی۔ شہروز اپنی مرضی کے بغیر شادی کرنے کو تیار نہیں تھا، جبکہ نور الہدیٰ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ والدین کے اصرار پر دونوں کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیا گیا، مگر نور الہدیٰ نے پہلے ہی ایک منصوبہ بنا لیا تھا۔ وہ اپنا حلیہ اس طرح بدل کر گاؤں پہنچی کہ شہروز اسے دیکھتے ہی شادی سے انکار کر دے۔ لیکن جب شہروز نے سب کے سامنے اسے پسند کرنے کا اعلان کیا تو نور الہدیٰ کے تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے۔ وہ حیران تھی کہ آخر اس نوجوان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور اس نے اچانک شادی کے لیے رضامندی کیوں ظاہر کر دی؟
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
دو سال تک جس شخص کے ساتھ عرشیہ نے اپنی زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے تھے، اسی نے ایک لمحے میں اسے ٹھکرا کر اس کی محبت اور عزتِ نفس کو زخمی کر دیا تھا۔ مگر اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا۔ جس زاویار سکندر کو وہ اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتی تھی، وہی شخص اب اس کا شریکِ حیات بننے کا خواہش مند تھا۔ عرشیہ کے نزدیک یہ رشتہ اس کی توہین تھا، جبکہ زاویار کے لیے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک اٹل فیصلہ بنتا جا رہا تھا۔ جب عرشیہ ہر دباؤ سے تنگ آ کر آدھی رات کو گھر چھوڑ نکلی تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس شخص سے وہ بھاگ رہی ہے، وہی اس کے راستے میں کھڑا ہوگا۔ مگر کیا ایک شخص کی ضد کسی دوسرے کے دل میں موجود نفرت کو بدل سکتی ہے؟
جس شخص نے شانزہ کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر محبت کرنا سکھایا تھا، آج وہی اسے ایک بار پھر تنہا چھوڑنے جا رہا تھا۔ تین سال کی ازدواجی زندگی، بےشمار محبت بھرے لمحے اور ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے خواب، سب ایک وارث کی خواہش کے سامنے بےمعنی ہوتے جا رہے تھے۔ ذولید حسن کی دوسری شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور شانزہ اپنے ٹوٹتے ہوئے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر قسمت نے عین اسی لمحے اسے ماں بننے کی خوشخبری دی، جب اس کا شوہر کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہا تھا۔ جس خبر کے لیے وہ برسوں ترسی تھی، وہی خبر سن کر ذولید نے اس کی سچائی پر سوال اٹھا دیا۔ کیا محبت کے بعد اب شانزہ کو اپنے ہی شوہر کے سامنے اپنا یقین بھی ثابت کرنا ہوگا؟
نکاح میں صرف پندرہ دن باقی تھے اور حیدر خان نے ہانیہ کے سامنے ایسی شرط رکھ دی تھی جسے سن کر وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ سب کے سامنے اس شخص سے عشق کا اعلان کرنا جسے وہ برداشت تک نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت کو شاید ان دونوں کی ضد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹھیک پندرہ دن بعد نکاح بھی ہوگیا اور اچانک رخصتی نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اب دلہن بنی ہانیہ آدھی رات تک حیدر کے کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جسے وہ شادی سے پہلے ہی سکون سے نہ جینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ مگر کیا یہ رشتہ واقعی صرف نفرت اور ضد تک محدود رہنے والا تھا؟
شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے تھے مگر ابراہیم کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی نئی نویلی بیوی عام لڑکیوں جیسی ہرگز نہیں۔ رات کے دو بجے اسے نیند سے جگا کر بارہ بچوں کا منصوبہ پیش کرنے والی ایشل کبھی اپنی معصوم منطق سے اسے لاجواب کر دیتی اور کبھی اپنی شرارتوں سے پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتی۔ سنجیدہ مزاج ابراہیم کے لیے اس کی ہر نئی حرکت ایک نئی مصیبت تھی، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس چلتی پھرتی آفت سے ناراض ہونے کے بجائے اس کے عشق میں مزید گرفتار ہوتا جا رہا تھا۔ آخر ایشل کی شرارتیں ان کی شادی شدہ زندگی میں ابھی اور کتنے ہنگامے کھڑے کرنے والی تھیں؟