Aik khawab jo hamara tha novel by Sumaira Gul Novel 20796
Second Marriage based | Emergency Nikah | Forced Marriage | Family Drama | Love Triangle | Emotional Romance | Motherhood

محبت، قربانی اور ممتا کی دل چھو لینے والی داستان۔
“میں اس گھر کی مالکن ہوں اور اس کی ہر چیز میری ملکیت ہے، اس لیے میں تمہاری اجازت کی محتاج نہیں۔” اس کے تنفر بھرے انداز پر جگنو استہزائیہ مسکرائی۔
“جس حیثیت کا تم حق جتا رہی ہو، اس کا سرٹیفکیٹ میرے پاس بھی موجود ہے۔”
“کیا ہو رہا ہے یہاں؟” ماں جی دونوں کی آواز سن کر ہی آ گئی تھیں۔
“ماں جی! میں اس لڑکی کو مزید اس گھر میں برداشت نہیں کر سکتی۔ اس کا کام ختم ہو چکا ہے، اب چلتا کریں اسے۔” شہرام کو اس کی گود سے جھپٹ کر اس نے مہرین کو جیسے آخری فیصلہ سنایا تھا۔
“بیٹا! تم فکر نہ کرو۔ آج عارفین آتا ہے تو اس قصے کو بھی نمٹاتے ہیں۔” ماں جی مہرین کو پچکارتے ہوئے بولیں، جس پر جگنو نے پھٹی پھٹی نظروں سے انہیں دیکھا، مگر وہ اس کی جانب متوجہ ہی نہیں تھیں۔
“ماں جی! یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟” گھٹنوں کے بل ان کے قریب بیٹھتے ہوئے اس نے ماں جی کو جھنجھوڑ ڈالا۔ صدمے کے باعث اس کی آواز پھٹ چکی تھی۔
“ماں جی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ جھونپڑ پٹی میں رہنے والی آج میرے مقابل آنے کی جرات کرنے لگی ہے۔ تم بھی اس قابل نہ تھیں کہ اتنے بڑے گھر کی بہو بنتیں۔ یہ تو میں ماں نہیں بن سکتی تھی، اس لیے تمہیں لانا پڑا۔ لڑکیاں تو ہمارے سرکل میں بھی بہت تھیں، مگر نہیں! کسی کو اس حویلی کی بہو اور عارفین کی بیوی نہیں بنانا تھا، محض ایک بچہ پیدا کروانا تھا، جو تم کر چکی ہو۔”
“ماں جی!” جگنو نے ان کے دونوں گھٹنے تھام لیے، مگر وہ اس کے ہاتھ جھٹک کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“مہرین نے میری خاطر تمہیں برداشت کیا، اب میں مزید اس کا ضبط نہیں آزما سکتی۔”
“عارفین! میں نے کبھی تم پر اپنا حق نہیں جتایا، کبھی تم سے کچھ طلب نہیں کیا اور وعدہ کرتی ہوں زندگی بھر پھر بھی تم سے کچھ نہیں مانگوں گی، بس مجھ سے اپنا نام مت چھینو۔ مجھ سے میرے شہرام کو مت جدا کرو۔” عارفین کا گریبان دونوں ہاتھوں میں جکڑے وہ سسک پڑی تھی۔
مہرین نے قہر بار نظروں سے عارفین کو دیکھا۔ اماں جی کا بھی اصرار تھا کہ وہ اسے فوراً طلاق دے کر گھر سے چھوڑ آئے۔
“جگنو!” عارفین نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
“مجھے اپنے دل میں نہیں، محض اس گھر میں تھوڑی سی جگہ دے دو۔ میں فالتو سامان کی طرح عمر بھر ایک کونے میں پڑی رہوں گی۔ اپنے بیٹے کی آیا سمجھ کر رکھ لو۔ عارفین! میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپنی ممتا کی بھیک مانگتی ہوں۔” روتے ہوئے وہ اس کے قدموں میں ڈھیر ہو گئی۔
عارفین کا دل پگھلنے لگا تھا۔ جگنو کے ساتھ گزرا ہر لمحہ اس کی نظروں سے گزرنے لگا۔ محبت نہیں، مگر انس تو اس سے ہو ہی چکا تھا۔
“عارفین! تم نے اگر جگنو کو نہ چھوڑا تو میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔”
مہرین کی دھمکی بازگشت کی صورت اس کے گرد گونجنے لگی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کس قدر شدت پسند ہے، جو کہتی ہے وہ کر کے دکھاتی ہے اور وہ مہرین سے بے وفائی کا تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
“جگنو! میں نے تمہیں اذیتوں کے سوا دیا ہی کیا ہے۔ تم میرے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکو گی۔ مجھے اماں جی اور مہرین کے ارادوں کا پہلے سے علم تھا۔ اگر مجھے پتا ہوتا کہ انہوں نے تمہارا انتخاب کیا ہے تو میں کبھی تم سے شادی نہ کرتا، مگر مجھے زبردستی یہ رشتہ جوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا اور آج بھی میرے پاس تمہیں چھوڑنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔” وہ رک گیا۔
جگنو نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا
اور پھر..
1st Link
2nd Link
3rd Link
4th Link
Summary
ایک خواب جو ہمارا تھا ایک درد بھری رومانوی کہانی ہے جو جگنو، عارفین اور مہرین کی زندگیوں کے گرد گھومتی ہے۔ محبت، قربانی، مجبوری، خاندانی دباؤ اور رشتوں کی آزمائش اس ناول کا بنیادی موضوع ہیں۔ جگنو اپنی شادی، عزت اور بیٹے کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے، مگر حالات اسے ایسے فیصلوں کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں جو اس کی پوری زندگی بدل دیتے ہیں۔ ہر باب نئے راز، جذباتی موڑ اور دل کو چھو لینے والے لمحات سے بھرپور ہے۔
Aik Khawab Jo Hamara Tha by Sumaira Gul, Sumaira Gul Novels, Complete Urdu Novel, Romantic Urdu Novel, Family Drama Novel, Emotional Love Story, Forced Marriage Novel
FAQs
Aik Khawab Jo Hamara Tha kis qisam ka novel hai?
Yeh aik emotional romantic Urdu novel hai jismein family drama, qurbani aur mohabbat ki kahani bayan ki gayi hai.
Is novel ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Sumaira Gul hain.
Kya Aik Khawab Jo Hamara Tha complete novel hai?
Ji haan, Novelistan par yeh complete Urdu novel dastiyab hai.
Is novel mein kis qisam ki story hai?
Is novel mein forced marriage, family conflicts, motherhood, sacrifice aur emotional romance ko markazi ahmiyat di gayi hai.
Aik Khawab Jo Hamara Tha online kahan parh sakte hain?
Aap is novel ko Novelistan par online aur mukammal taur par parh sakte hain.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Post Views: 292