Sarmai Ankhoon Ka Jadoo By Readers Choice Novel20904
Sarmai Ankhoon Ka Jadoo By Readers Choice Novel20904
Childhood Engagement | Forced Destiny | Rich Hero | Orphan Heroine | Romantic Suspense | Mafia Vibes | Possessive Hero | Family Secrets | Action | Contemporary Urdu Novel
Short Description
An emotional romantic suspense novel where an orphaned girl and a mysterious masked man are brought together by fate, a forgotten childhood bond, and a precious ring. Filled with action, family secrets, possessive romance, and unexpected twists.

” پپ۔۔۔ پلیز یہ میری ماں کی آخری نشانی ہے اسے مت چھینیں میرال ڈر سے کانپتی سامنے کھڑے نقاب پوش کی دشت سے بھرپور سب9⁹ز آنکھوں کو دیکھتے بولی تھی وہ یتیم لڑکی اپنے چاچا اور چچی کے رحم و کرم پر اُن کی ٹھوکروں پر جی رہی تھی چچی کے کہنے پر ایک مال میں جاب کیلئے آئی تھی آج اُسکا پہلا دن تھا یہاں جب ڈاکوؤں نے وہاں حملہ کر دیا وجدان آفندی جو اس ڈری سہمی لڑکی کے ماتھے پر گن رکھے کھڑا تھا اُسکی انگلی میں پہنی انگھوٹی دیکھ اُسکی آنکھیں سرخ ہوئی تھی اس انگھوٹی کو وہ کیسے بھول سکتا تھا جسے اُسکی ماں اُسکے سامنے اپنی چھوٹی سی بہو کو پہنائی تھی کچھ ہی منٹوں میں اُسکا سارا ڈیٹا نکال کر وہ اگلے دن اُسکے گھر میں رشتہ لیکر پہنچ گیا تھا جبکہ اپنے سامنے ڈاکو کو دیکھ کر میرال کی جان ہتھیلی پر آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
شہر کے سب سے مہنگے اور معروف شاپنگ مال کا ٹاپ فلور چکا چوند روشنیوں سے نہایا ہوا تھا۔ گندمی رنگت، بڑی بڑی ہرنی جیسی آنکھیں، ہلکے آسمانی شلوار سوٹ اور بلیک چادر میں لپٹی میرال پاکیزگی، حیا اور دلکش خوبصورتی کا حسین امتزاج لگ رہی تھی۔۔ مخملی صوفے پر بیٹھی خود کو بہت اجنبی محسوس کر رہی تھی۔ اس کے اردگرد موجود لڑکیاں جدید فیشن کے ملبوسات، گہرے میک اپ اور فرفر انگلش بولتی ہوئی اس کے اعصاب پر سوار ہو رہی تھیں۔۔۔۔ میرال نے اپنے دوپٹے کو درست کیا اور نظریں جھکا لیں۔۔ “یا اللہ! بس یہ جاب دلوا دیں، چچی کے روز روز کے طعنوں سے میری جان چھوٹ جائے گی۔ میں بہت محنت کروں گی”۔ اس نے دل ہی دل میں التجا کی۔وہ جانتی تھی کہ یہ جاب اس کے لیے کتنی ضروری ہے۔ چچی کے طنز اور چچا کی بیزاری سے بچنے کا یہی ایک راستہ تھا۔۔اچانک اس کی نظر برابر میں بیٹھی ایک لڑکی پر پڑی جس کا لباس ضرورت سے زیادہ مختصر تھا۔ میرال نے فوراً جھٹکے سے رخ پھیرا اور زیرِ لب استغفار پڑھا۔ “ہائے اللہ! یہ کیا دیکھ لیا میں نے؟ میرال فضول باتیں مت سوچ، تجھے بس اپنے کام سے مطلب ہونا چاہیے”۔ ابھی وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ ایک اسمارٹ سی لڑکی کیبن سے باہر آئی اور پکارا۔۔ “مس میرال بخش! آپ اندر تشریف لے جائیں، سر آپ کا انتظار کر رہے ہیں”۔ میرال نے ایک لمبا سانس لیا، اپنا بیگ سنبھالا اور جیسے ہی کرسی سے اٹھی، پورے فلور پر ایک زور دار دھماکہ ہوا جس سے شیشے کے بھاری دروازے چکنا چور ہو گئے۔۔ “نیچے جھک جاؤ! کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا!”۔ مال میں افراتفری مچ گئی۔کالے لباس اور نقاب میں ملبوس پانچ چھ مسلح افراد اندر داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں جدید اسلحہ دیکھ کر وہاں موجود سیکیورٹی گارڈز کی بھی ہمت جواب دے گئی۔۔۔ “کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا! جو ہلا، وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گا!”۔ ایک گرج دار اور پاٹ دار آواز پورے ہال میں گونجی۔۔ نقاب پوش مسلح افراد ٹاپ فلور پر قابض ہو چکے تھے۔ فیشن ایبل لڑکیاں جو ابھی تک نخوت سے بیٹھی تھیں، چیختے ہوئے میزوں کے نیچے چھپنے لگیں۔۔۔ میرال کا دل حلق میں آ گیا۔ افراتفری اور چیخ و پکار کے بیچ میرال اپنی جان بچانے کے لیے اندھا دھند بھاگ رہی تھی۔ ایکدم سے میرال سخت چٹان نما وجود سے زور دار طریقے سے ٹکرائی۔ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور گرتے گرتے بچی۔ سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔ اس نقاب پوش نے گن کی ٹھنڈی نالی اس کی پیشانی پر رکھ دی۔ میرال کا پورا چہرہ خوف سے پیلا پڑا۔ سامنے کھڑے شخص کی سبز آنکھوں کی وحشت اور تپش اسے جھلسا رہی تھی۔۔ “کیوں؟ کیا کسی اولمپک میراتھون ریس میں حصہ لیا ہے تم نے؟ اتنی بے تابی سے کدھر بھاگ رہی تھی، ہرنی؟”۔ نقاب پوش کی آواز دھیمی لیکن کاٹ دار تھی، جیسے پگھلا ہوا سیسہ کانوں میں اتر رہا ہو۔۔ میرال کا حلق خشک ہو گیا، اس کے ہونٹ لرزنے لگے۔ خوف کی ایک لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔ “پ۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھے مت ماریں۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا، مجھے چھوڑ دیں، میں تو بس یہاں جاب کے لیے آئی تھی،”۔ میرال کی آواز لرز رہی تھی اور آنسو اس کے گالوں پر بہنے لگے۔ نقاب پوش نے گن آہستہ سے نیچے کی، فاصلہ ختم کرتے ہوئے اس کے قریب آیا۔۔۔ “تم۔۔۔ تم میرے پاس کیوں آ رہے ہو؟”۔ وہ ہکلائی، اس کا لہجہ مزید خوفزدہ ہو گیا۔ اس نے مزید پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔۔ نقاب پوش کے چہرے پر نقاب کے باوجود ایک طنزیہ مسکراہٹ کا گمان ہوا۔ وہ رکا نہیں، بلکہ ایک ایک قدم نپے تلے انداز میں اس کی طرف بڑھاتا رہا۔ “آؤں گا۔۔۔ بالکل آؤں گا۔ کیا کر لو گی تم؟”۔ اس کے لہجے میں چیلنج تھا۔۔ میرال پیچھے دیوار سے جا لگی۔ دیوار سے ٹکراتے ہی اس کی کمر میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی۔ چچی کے دئیے زخم ابھی تازہ تھے۔۔ وہ بے بسی سے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی۔”مجھے جانے دیں۔۔۔”۔ اس نے روہانسی آواز میں کہا، اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔۔ نقاب پوش نے اس کے چہرے پر تکلیف اور بے بسی کے رنگ دیکھے، مگر اس کا دل موم نہ ہوا۔ “کیوں؟ آخر تمہارا مجھ سے کیا تعلق ہے کہ میں تمہیں جانے دوں؟”۔ وہ دیوار پر اس کے سر کے دونوں طرف ہاتھ رکھ کر جھکا۔ اسے اپنے حصار میں لے لیا۔۔ “ب۔۔۔ بہن سمجھ لو مجھے”۔ میرال نے آخری حربے کے طور پر کہا۔ اسے امید تھی کہ شاید اس پتھر دل انسان پر اثر کر جائے۔۔ اسکی آنکھوں میں حیرت ابھری۔۔ “استغفر اللہ! مجھے بہنوں کی کمی نہیں ہے، الحمدللہ۔ البتہ۔۔۔”۔ اس نے جھک کر اپنی سبز آنکھیں اس کی خوفزدہ آنکھوں میں گاڑ دیں۔ “الببتہ مجھے ایک بیوی چاہیے، خوبصورت سی، بالکل تمہاری طرح”۔ اس نے ایک آنکھ دبا کر شرارتی انداز میں کہا۔۔ میرال کی روح جیسے فنا ہو گئی۔۔
…..
دیکھو! خبردار اگر تم نے ایسی بات دوبارہ کی۔ میں ویسی لڑکی نہیں ہوں، مجھ سے ‘فری’ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”۔ وہ بمشکل بولی تھی۔۔ وہ اپنی انگلی اٹھائے ہوئے اسے تنبیہ کر رہی تھی، جب اچانک نقاب پوش کا وجود ساکت ہو گیا۔ اس کی نظریں میرال کی انگلی میں پہنی انگوٹھی پر جم سی گئیں۔ اس کا سانس ایک لمحے کے لیے رک گیا۔۔ “اپنا ہاتھ دکھاؤ”۔ اس نے میرال کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔۔ میرال کی صبیح پیشانی پر شکنیں ابھری۔۔ “کیوں دکھاؤں؟ تم اب حد سے بڑھ رہے ہو، ڈاکو”۔ وہ غصے سے انگلی اٹھا کر گویا ہوئی۔۔” آئی سیڈ ہاتھ دکھاؤ مجھے اپنا”۔ اُسکی رواں انگریزی سن کر میرال چند لمحوں کیلئے حیران رہ گئی۔۔ “ہائے… ڈاکو انگریزی بھی جانتا ہے؟ بڑا پڑھا لکھا ڈاکو ہے بھئی”۔ وہ دل ہی دل میں عجیب سے تاثر سے اُسے دیکھنے لگی مگر اگلے ہی لمحے اُسے غصہ آیا۔۔ وجدان نے بنا کچھ کہے اچانک اُسکی کلائی پکڑ لی۔۔ میرال چونک اٹھی۔۔ “چھوڑو مجھے”۔ وہ اسکی کلائی چھڑوانے کو مچلی۔۔ وہ خاموشی سے اُسکی انگلی میں پہنی چاندی کی انگھوٹی کو بغور دیکھنے لگا۔۔ وہ اسے ہزاروں میں بھی پہچان سکتا تھا۔۔وہ اس انگوٹھی کو کیسے بھول سکتا تھا ؟۔اچانک اُسکے دماغ میں برسوں پرانا منظر ابھرا۔۔ اُسکی ماں مسکراتے ہوئے ایک چھوٹی سی بچی کے ہاتھ میں یہی انگھوٹی پہنا رہی تھیں۔۔ “یہ میری بہو ہے… وجدان کی امانت”۔ وجدان کی آنکھوں کا رنگ پل بھر میں بدلا۔ سبز رنگت میں خون اتر آیا۔۔ میرال خوفزدہ ہوکر مزید دیوار سے لگ گئی۔۔۔” یہ انگوٹھی کہاں سے آئی؟”۔ اس نے دھاڑ کر پوچھا۔ “پپ۔۔۔ پلیز یہ میری ماں کی آخری نشانی ہے، اسے مت چھینیں۔۔۔”۔ میرال ہچکیوں سے روتے ہوئے التجا کرنے لگی۔۔ وجدان نے بغور اسے دیکھا تھا۔ “چھوڑیں مجھے۔۔۔ میرا ہاتھ چھوڑیں! یہ انگوٹھی نہیں دوں گی میں”۔ وہ اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی۔۔۔ وجدان نے اسکی کلائی پکڑ کر اسے جھٹکا دیا۔۔ وہ اس کے کشادہ سینے کا حصہ بنی۔ “میں نے پوچھا کہاں سے آئی یہ انگوٹھی تمہارے پاس؟ بولو!”۔ وجدان نے اسے جھنجھوڑا۔۔ “م۔۔۔ میری ماں نے دی تھی۔۔۔ مرنے سے پہلے”۔ میرال اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔اس کے ہاتھ کی گرفت خود بخود ڈھیلی پڑ گئی۔ وجدان نے ایک پل کے لیے میرال کے چہرے کو دیکھا۔۔ “تمہارا نام کیا ہے؟”۔ وجدان نے دبی دبی آواز میں پوچھا۔ “م۔۔۔ میرال۔۔۔ میرال بخش”۔ اس نے ہچکی لیتے ہوئے جواب دیا۔۔ وہ اس نام پر پگھل کر موم کا ڈھیر ہوا۔۔ ‘بخش’۔۔۔ وہی نام جس کی تلاش میں اس نے برسوں خاک چھانی تھی۔ اس نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر گن اپنی بیلٹ میں اڑسی۔۔۔ “بھائی! کام ہو گیا، پولیس پہنچنے والی ہے، نکلیں یہاں سے؟”۔ ایک نقاب پوش نے اسے ٹوکا۔۔ “جاؤ تم یہاں سے… کوئی جاب کرنے کی ضرورت نہیں”۔ وجدان نے اس کے بھیگے چہرہ سے نظریں ہٹائے بغیر سرد لہجے میں کہا۔۔ میرال چند لمحے اُسے حیرت سے دیکھتی رہی پھر بےیقینی سے بولی۔ “س۔۔۔ سچ میں؟ جاؤں کیا؟”۔ وجدان نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا۔۔ میرال نے ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا۔ سر پٹ وہاں سے بھاگ گئی۔۔ وجدان اُسے جاتا دیکھتا رہا۔۔ “مجھے اس لڑکی کی ساری انفارمیشن چاہیے”۔ وہ دھیمی مگر رعب دار آواز میں بولا۔۔ دوسرے آدمی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Complete Summary
Sarmai Ankhoon Ka Jadoo by Readers Choice is a gripping romantic suspense novel that follows the life of Miral Bakhsh, an innocent orphan struggling under the cruelty of her relatives. On the first day of her job, she becomes trapped in a shopping mall robbery led by the mysterious Wijdan Afandi. A forgotten childhood promise, a silver ring, and a long-lost engagement unexpectedly connect their destinies. As secrets unfold, their journey becomes a powerful tale of love, destiny, danger, and redemption.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕