Dil Nasheen by Naina Khan Novel20874
Dil Nasheen by Naina Khan Novel20874
Orphan Heroine | Age Gap Romance | Three Brothers Family | Protective Hero | Slow Burn Romance | Found Family | Emotional Romance | After Marriage Love Story | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel
Short Description
Dil Nasheen Naina Khan ka aik emotional aur heart-touching Urdu novel hai jismein orphan heroine, three brothers family bond, age gap romance, protective hero, slow burn love aur after-marriage emotions ko khoobsurti se pesh kiya gaya hai.
Dil Nasheen — Jab Teen Ajnabi Bhai Us Ka Poora Ghar Ban Gaye

Aik be-sahara larki, teen bhai aur sakht mizaj hero ki dil ko chhoo lene wali kahani.
” تمہارا دماغ خراب ہے۔ ہم تینوں بھائی گھر میں اکیلے رہتے ہیں۔ کیسے ایک جوان لڑکی کو گھر لے جائیں؟؟ ” ابرش کا دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ تو وہ اسے اپنی بہن بنا کر اپنے گھر لے آئے۔ “میں پیار کرنے لگی ہوں آپ سے۔” ” آپ ہوش میں ہیں؟ دس سال بڑا ہوں میں آپ سے۔” ” یہ سب دقیانوسی باتیں ہیں۔” ” بہت شوق تھا میری بیوی بننے کا؟؟؟ بیوی کے کیا حقوق ہوتے ہیں وہ تو پتا ہو گا نا؟۔۔” برش شرم سے سرخ ہوئی تھی۔ زوبان اسے بانہوں میں بھرتے کمرے میں داخل ہوا۔ ” چھوڑیں مجھے۔۔۔” ” ایسے کیسے بیوی؟؟ خود مری جارہی تھی۔ میرے انکار پر بخار چڑھا لیا۔ اب تو کہیں نہیں جانے دوں گا۔” اسلام آباد شہر پر رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے وہ تینوں باتیں کرتے اپنے دھیان میں بیٹھے تھے گاڑی شاویز چلا رہا تھا۔ زوہان اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا جبکہ شہروز پچھلی سیٹ پر اچانک ان کی گاڑی کے سامنے تھا۔ کالی چادر میں کوئی لڑکی سڑک کے درمیان میں آگئی۔ شاویز نے بریک لگانی چاہی مگر برا ہوا وہ اتنی اچانک آگے آئی کہ بریک لگاتے لگاتے وہ گاڑی سے ہٹ ہو چکی تھی۔ چڑڑ کی آواز کے ساتھ ٹائر چڑچڑاتے ہوئے سڑک پر رکے اور اندر بیٹھے تینوں نفوس کو جھٹکا لگا۔ ” اندھے ہو کیا؟؟ دکھائی نہیں دیتا؟؟ اتنی تیز گاڑی کیوں چلا رہے تھے؟۔۔۔۔” زوہان تو وہیں پر شروع ہوچکا تھا۔ “اچھا بھائی صبر تو کریں دیکھنے تو دیں کہ سامنے والی کو کتنی چوٹ لگی ہے۔” شہروز نے اپنے بھائی کو کول ڈاؤن کرنا چاہا اور پھر وہ تینوں ایک ساتھ گاڑی سے باہر نکلے ان کی گاڑی کے بالکل سامنے وہ لڑکی بے ہوش پڑی تھی۔ شاویز نے آگے بڑھتے اسے اٹھا کر سیدھا کیا تو وہ بے ہوش تھی۔۔۔ سارے بال اس کے چہرے کے ارد گرد بکھرے ہوئے تھے اس نے نرمی سے لڑکی کے بال چہرے سے سائیڈ پر کیسے تو اسے اندازہ ہوا لڑکی کی عمر بہت ہی کم تھی وہ بمشکل بیس سال کی تھی اور بے حد خوبصورت تھی مگر اس کے چہرے پر تو کوئی چوٹ کے نشان نہیں تھے اس نے اسی بے بسی سے زوبان کو دیکھا۔” نہیں چوٹ تو نہیں لگی پھر بھی بے ہوش ہو گئی ہے؟؟ خدا جانے کیا ہوا ہے مجھے لگتا ہے ہمیں اسے ہاسپٹل لے کر جانا چاہیے۔” زوہان نے بس اسبات میں سر ہلایا۔۔۔ ” گاڑی میں بٹھاؤ اور چلو ہاسپٹل۔۔۔۔ ” شہروز اور شاویز نے اسے سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا جبکہ اس بار زوہان نے خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور کچھ دیر بعد ہی وہ تینوں ہاسپٹل میں موجود تھے اور اندر پرائیویٹ روم میں وہ لڑکی ایڈمٹ تھی اور اب ڈاکٹر اس کا چیک اپ کر رہی تھی اور وہ تینوں باہر چکر لگا رہے تھے۔ تقریبا آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر آئی تو شاویز ڈاکٹر کی طرف بڑھا۔ ” ڈاکٹر وہ کیسی ہیں؟۔۔” اب وہ نام تو نہیں جانتا تھا اس لیے سمجھ نہ آئی کیا کہہ کر پکارے۔۔۔ ” آپ کا کیا رشتہ ہے ان سے؟ ” ڈاکٹر نے سنجیدگی سے شاویز سے پوچھا شاویز نے زوہان کو دیکھا جو اسے گھور رہا تھا۔ ” وہ میری بہن ہے۔ ” اسے سمجھ نہ آئی اب وہ کیا جواب دیتا اس لیے اسے اپنی بہن بنا لیا جبکہ شہروز نے بے حد حیرت سے شاویز کو دیکھا۔ ” بظاہر تو ان کو کوئی چوٹ نہیں آئی اور نہ ہی وہ چوٹ کی وجہ سے بے ہوش ہیں لیکن وہ کافی ویک ہیں اور یوں لگتا ہےجیسے دو دن سے کچھ بھی کھایا پیا نہیں تھا اس وجہ سے کمزوری کے باعث بے ہوش ہوئی ہیں ان کو میڈیسن دی ہے ڈرپ لگائی ہے کچھ دیر میں ڈرپ ختم ہو جائے گی وہ ہوش میں آئیں گی تو پھر انہیں ڈسچارج کر دیا جائے گا کم سے کم بھی انہیں ایک ہفتہ بیڈ ریسٹ کروائیں اور نرم غزا دیں بس۔” ڈاکٹر سنجیدگی سے ہدایت کرتی ہوئی راہداری میں آگے بڑھ گئی۔۔۔ شہروز اٹھ کر شاویز کے پاس آیا۔ ” کیا ضرورت تھی آپ کو یہ کہنے کی کہ بہن ہیں ہماری کہاں سے بہن آگئی؟؟ ” وہ جو بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا دونوں کا لاڈلا تھا اس سے کہاں برداشت ہو رہا تھا کہ اب اس کا بھائی اس کی محبت میں کوئی حصے دار لے آیا تھا۔ ” کیا ہو گیا ہے یار تم نے دیکھا نہیں اس بیچاری کی کیا حالت تھی اور اگر ہماری کوئی بہن ہوتی تو بالکل اس کے جیسی ہی ہوتی اس لیے میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ ہماری بہن ہے کیا میں نے کچھ غلط کیا؟ ” اس نے زوہان کو دیکھا۔ ” یہ بہن چارا تم دونوں کو ہی مبارک ہو مجھے تو ان سے دور رکھو۔” وہ سنجیدگی سے حکم سناتا ہوا اب اندر کمرے میں جا رہا تھا شاویز اور شہروز کی نگاہیں ٹکرائیں اور دونوں نے خاموشی اختیار کر لی وہ اندر داخل ہوا تو کچھ دیر بعد ہی لڑکی کو ہوش آگیا تھا وہ اس کے پاس سٹول پر آکر بیٹھا وہ حیرت سے آس پاس دیکھ رہی تھی۔ ” نام کیا ہے تمہارا؟ سنجیدہ اور بھاری آواز پر اس نے چہرہ موڑے زوہان کو دیکھا اور بے حد حیران ہوئی۔۔۔۔ اٹھائیس سے تیس سالہ خوبصورت نقوش کا مالک کثرتی وجود چھ فٹ سے نکلتا قد ماتھے پر بھرے کالے بال ہلکی پیرڈ تیکھے نقوش اور اس کی ہیزل آنکھیں بلا شبہ وہ بہترین اور حسین مرد تھا شاید اس نے ایسا خوبصورت مرد اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا وہ حیرانی اور بے یقین نگاہوں سے زوہان کو دیکھ رہی تھی۔ ” تم سے بات کر رہا ہوں مس کیا نام ہے تمہارا؟۔۔۔ “زوہان کے چہرے پر مسکراہٹ تو کیا نرمی تک کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔۔۔ اس نے ایک بار پھر سختی سے پوچھا تو وہ گڑبڑائی۔ “وہ میرا نام۔۔۔” وہ اٹک رہی تھی اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔ “وہ! وہ کرنے کے لیے نہیں پوچھا میں نے پوچھا نام کیا ہے تمہارا؟؟؟ سیدھے طریقے سے بتاؤ؟ ” اسے شدید کوفت ہو رہی تھی۔۔۔ “اب۔۔۔ ابر۔۔۔ ابرش! ” وہ اٹکتی سانسوں کے دوران بول سکی۔ اپنے گھر والوں کا پتہ یا پھر فون نمبر دو تاکہ انہیں کال کر کے یہاں بلا سگیں۔۔۔ ” تمہاری وجہ سے ہمارے پورے دو گھنٹے ضائع ہو چکے ہیں اور آئندہ سے روڈ کراس کرنا ہو تو احتیاط سے کراس کرنا خبردار اگر دوبارہ میری گاڑی کے سامنے آئی تو…” وہ اتنی سختی سے بات کر رہا تھا کہ ابرش نے چند لمحوں میں ہی اندازہ لگا لیا کہ وہ کافی سخت انسان ہے اور شاید اسے لڑکیوں سے نرمی سے بات کرنے کی عادت نہیں تھی۔۔۔۔ ” وہ میرا کوئی گھر نہیں ہے۔۔۔ ” وہ آنکھیں میچے بڑبڑائی زوہان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ” کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو ہر انسان کا گھر ہوتا ہے۔” اسے اب اس لڑکی پر شدید کوفت ہو رہی تھی۔ ” مگر میرا کوئی گھر نہیں ہے۔” اس نے آنکھیں کھولے زوبان کو دیکھا تو اس کی آنکھیں نم ہوئیں نہ چاہتے ہوئے بھی زوہان کی نگاہ اس کے چہرے پر ٹھہر سی گئی بلا شبہ وہ بہت حسین تھی۔۔۔ سفید ملائی جیسا دودھیا چہرہ اس کے گہرے بھورے بال جو اس کے شانوں تک بھرے ہوئے تھے اور اس کی کانچ جیسی گرے آنکھیں وہ چند پل اسےدیکھتا رہا پھر جلدی سے چہرہ موڑ گیا۔ ” اچھا اپنا گھر نہیں ہے تو اس شہر میں کوئی رشتہ دار تو ہوگا ہی اس کا بتا دو میں تمہیں وہاں چھوڑ دوں گا۔۔۔۔” اس کے لہجے میں اب پہلے سے کچھ سختی کم ہوئی تھی۔ ابرش کا دل چاہا وہ دھاڑے مار مار کر روئے۔۔۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Complete Summary
Dil Nasheen aik soft emotional aur family-based Urdu novel hai jis ki kahani masoom, be-sahara aur nihayat khoobsurat Abrish ke gird ghoomti hai. Zindagi mein apna kehne wala koi na hone ki wajah se woh tanhai, bhook aur kamzori ka shikar hoti hai. Aik raat Islamabad ki sunsaan sadak par woh achanak aik gaari ke samne aa kar behosh ho jati hai.
Gaari mein maujood teen bhai—Zohan, Shavez aur Shehroz—use foran hospital le jate hain. Doctor ko jawab dete hue Shavez use apni behen keh deta hai, jabke Zohan is faislay se mutmain nahi hota. Woh sakht mizaj, sanjeeda aur apni boundaries ko bohat ahmiyat dene wala mard hai. Us ka khayal hota hai ke teen jawan mardon ke ghar mein aik jawan larki ko le jana munasib nahi.
Lekin Abrish ki be-sahaaragi aur us ka yeh kehna ke duniya mein us ka koi ghar nahi, sab ke dil ko hila deta hai. Shavez aur Shehroz use apni behen bana kar ghar le aate hain, jabke Zohan khud ko us se door rakhne ki koshish karta hai. Magar waqt ke sath Abrish ki masoomiyat, khuloos aur ghar mein phailti hui us ki naram rooh Zohan ke sakht mizaj par asar dalne lagti hai.
Abrish bhi dheere dheere Zohan ki khamosh protection aur us ke andar chhupe naram dil ko mehsoos karne lagti hai. Umar ke farq aur rishte ki pecheedgi ke bawajood woh us se mohabbat ka izhar kar deti hai. Zohan use samjhata hai ke woh us se das saal bara hai, lekin Abrish ke liye mohabbat umar ki paband nahi hoti.
Yeh kahani sirf romance tak mehdood nahi balki family bonding, emotional healing, protection, trust aur aik be-sahara larki ko ghar aur apnayat milne ka khoobsurat safar bhi hai. Zohan aur Abrish ke darmiyan dheere dheere ubharti mohabbat, nok jhonk aur after-marriage chemistry novel ko dilchasp banati hai.
Dil Nasheen un readers ke liye behtareen intikhab hai jo mature hero, innocent heroine, found family aur slow burn emotional romance pasand karte hain.
Dil Nasheen Novel, Dil Nasheen by Naina Khan, Naina Khan novels, complete Urdu novel, orphan heroine novel, age gap romance, three brothers story, protective hero novel, found family romance, slow burn Urdu novel, emotional family drama, after marriage romance, Pakistani Urdu novel, Novelistan
#DilNasheen #NainaKhan #UrduNovel #CompleteNovel #OrphanHeroine #AgeGapRomance #ProtectiveHero #ThreeBrothers #FoundFamily #SlowBurnRomance #EmotionalRomance #AfterMarriageStory #Novelistan
FAQs
Dil Nasheen kis type ka novel hai?
Yeh orphan heroine, age gap romance, found family aur slow burn emotional love story based Urdu novel hai.
Is novel ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Naina Khan hain.
Heroine ka naam kya hai?
Novel ki heroine ka naam Abrish hai.
Hero ka naam kya hai?
Novel ka hero Zohan hai.
Hero aur heroine mein kitna age gap hai?
Zohan, Abrish se taqreeban das saal bara hai.
Abrish teen bhaiyon se kaise milti hai?
Abrish kamzori ki wajah se un ki gaari ke samne behosh ho jati hai aur woh use hospital le jate hain.
Kya teenon bhai Abrish ko apni behen banate hain?
Shavez aur Shehroz foran use apni behen maan lete hain, jabke Zohan shuru mein is faislay ke khilaf hota hai.
Kya yeh after-marriage romance hai?
Ji haan, kahani mein nikah ke baad ki romantic aur emotional chemistry bhi aham hissa hai.
Kya yeh complete Urdu novel hai?
Ji haan, Dil Nasheen aik complete Urdu novel hai.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕