Complete Novel
Meri Rah Ka Roshan Sitara Ho Tum By Sana Zafar Novel20808
حرام رشتے کے بجائے اس نے کانپتی آواز میں صرف ایک درخواست کی، "چند گھنٹوں کے لیے ہی سہی... مجھ سے نکاح کر لو۔"
اپنی عزت اور ایمان بچانے کے لیے وہ ہر رسوائی قبول کرنے کو تیار تھی، مگر گناہ کا بوجھ نہیں۔
اس کی ایک شرط نے لمحوں میں پوری فضا بدل دی، اور وہ شخص بھی حیرت سے خاموش رہ گیا۔
Tujh Pe Dil Hara By Nazia Jamal Novel20807
وہ اس کی عزت بچانے کے لیے سب کے سامنے نہیں، خاموشی سے اس کے سر پر دوپٹہ رکھ کر اسے محفوظ راستہ دکھا گیا۔
"یہ ملازمہ نہیں ہے..." شاہنواز کے ایک جملے نے واضح کر دیا کہ وہ ہر قیمت پر اس کی حفاظت کرے گا۔
غلط فہمی، سازش اور بےعزتی کے بیچ شاہنواز کی خاموش حفاظت نے اس لڑکی کے دل میں ایک نئی امید جگا دی۔
The Evil Lady By Mahi Shah Novel20803 | Complete Urdu Novel
مہندی کی خوشبو سے مہکتا کمرہ اچانک اندھیرے میں ڈوب گیا۔ دلہن کے چہرے پر خوشی کی جگہ خوف نے لے لی۔ خاموشی کو ایک پراسرار آواز نے چیر دیا۔
"گمنام ہے کوئی... بدنام ہے کوئی... کس کو خبر کون ہے وہ..."
لڑکی کے ہونٹوں سے بے اختیار ایک نام نکلا... "ایول!"
فل بلیک سوٹ، چہرے پر مکمل ماسک، اور صرف بھوری آنکھیں... سامنے کھڑی وہ پراسرار لڑکی کسی انسان سے زیادہ موت کا روپ لگ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں چمکتا ہوا چاقو تھا، جس پر نمایاں لفظ "ایول" ہر دیکھنے والے کے دل میں خوف اتار دیتا تھا۔
"تمہیں میرے عشق سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی..."
یہ جملہ سن کر دلہن کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی، مگر ایول کے فیصلے کے سامنے ہر دلیل بے معنی تھی۔ اگلے ہی لمحے کمرہ چیخوں، خون اور خاموشی کے خوفناک امتزاج میں بدل گیا، جہاں ہر لمحہ زندگی اور موت کے درمیان ایک نئی جنگ لکھ رہا تھا۔
کیا ایول صرف ایک بے رحم قاتل ہے، یا اس کے انتقام کے پیچھے کوئی ایسا راز چھپا ہے جس سے سب بے خبر ہیں؟
The Toxic Professor by Mahreen Novel 20801 | Complete Urdu Novel
شادی کی تقریب خوشیوں سے سجی ہوئی تھی کہ اچانک ایک غیر متوقع شخص کی آمد نے پورا ماحول بدل دیا۔
"اگر چاہتے ہیں کہ آپ کا بیٹا سلامت رہے، تو مہرین کا نکاح مجھ سے کروا دیں۔"
وجدان علی خان کی پُراعتماد آواز نے ہر شخص کو ساکت کر دیا۔ چند ہی لمحوں میں اس کے آدمیوں نے پورے ہال کا کنٹرول سنبھال لیا، جبکہ بندوقوں کے سائے تلے ہر چہرہ خوف سے زرد پڑ چکا تھا۔
شہرام ملک کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر اپنے بیٹے کی جان بچانے کے لیے اسے وہ قدم اٹھانا پڑا جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف شاہزیب بے بسی سے سب کچھ دیکھتا رہا، لیکن وجدان کی ایک دھمکی نے اس کی آواز بھی خاموش کر دی۔
نکاح کی رسم شروع ہوئی، اور ہر "قبول ہے" کے ساتھ ایک نئی قسمت لکھی جانے لگی۔ یہ نکاح محبت کا نہیں، بلکہ طاقت، ضد اور اختیار کا اعلان تھا۔
کیا مہرین اس زبردستی کے رشتے کو کبھی دل سے قبول کر پائے گی، یا یہی نکاح آنے والے طوفان کی ابتدا ثابت ہوگا؟
Shehar E Tamana Ki Aakhri Aarzoo By Ambreen Abdaal, Novelistan Novel20795
وہاج اچانک واثلہ اور شہوار کو آمنے سامنے دیکھ لیتا ہے اور ایک ایسا راز بے نقاب ہو جاتا ہے جو برسوں سے خاموشی کی چادر میں چھپا ہوا تھا۔ شہوار کی حقیقت جاننے کے بعد وہاج ایک ایسا فیصلہ کرتا ہے جو نہ صرف واثلہ کی زندگی بلکہ پورے میر خاندان کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ کیا یہ ایمرجنسی نکاح سب کچھ سنبھال لے گا یا نئے طوفان کو جنم دے گا؟ جاننے کے لیے پڑھیں شہرِ تمنا کی آخری آرزو
Jan De Jan Le By Mehwish Mughal Novel2792
کبھی کبھی زندگی میں کوئی اجنبی صرف چند لمحوں کے لیے ملتا ہے، مگر اس کی یاد پوری عمر کا سفر بن جاتی ہے۔
عباد منصور کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ایک مختصر ملاقات نے اس کے دل میں ایسا طوفان برپا کر دیا کہ وقت گزرنے کے باوجود وہ اس سے باہر نہ نکل سکا۔
"کہاں ڈھونڈوں میں تمہیں، عزیز و رحمن؟ اپنا کوئی ایک نشان تو چھوڑ جاتی۔"
وہ خود پر حیران تھا کہ ایک بے پروا اور جذبات سے دور رہنے والا انسان کسی انجان لڑکی کی یاد میں اس قدر بے چین ہو جائے گا۔ اس کے ذہن میں بار بار وہی نم آنکھیں، وہی اداس مسکراہٹ اور وہی آخری ملاقات گردش کر رہی تھی۔
اسے افسوس تھا کہ وہ اس اجنبی لڑکی سے اس کا پتہ، کوئی رابطہ یا کوئی ایسی نشانی بھی نہ لے سکا جس کی مدد سے دوبارہ اسے تلاش کر پاتا۔ اب پورا شہر اس کے لیے ایک معمہ بن چکا تھا، جہاں وہ صرف ایک نام کے سہارے اپنی گمشدہ محبت کو ڈھونڈنے نکلا تھا۔
کیا عباد منصور اپنی اس نامعلوم محبت تک دوبارہ پہنچ پائے گا، یا یہ ملاقات ہمیشہ ایک ادھوری داستان بن کر رہ جائے گی؟
Khugar E Sitam By Sajal Saeed Novel20791
کبھی ایک غلط فہمی صرف ایک رشتہ نہیں توڑتی، بلکہ پوری زندگی بدل دیتی ہے۔
"مجھے معاف کر دیں، ابراہیم... خدا کے لیے مجھے طلاق مت دیجیے۔"
اس کی التجائیں، آنسو اور کانپتی ہوئی آواز بھی ابراہیم کے دل کی برف نہ پگھلا سکیں۔ جس عورت نے کبھی اس کی دنیا بسائی تھی، آج وہی اس کے سامنے معافی کی بھیک مانگ رہی تھی، مگر ابراہیم کے دل میں صرف تلخ یادیں اور ٹوٹا ہوا اعتماد باقی رہ گیا تھا۔
دو سال گزر چکے تھے، مگر وہ ایک حادثہ آج بھی اس کے وجود پر سایہ کیے ہوئے تھا۔ باہر سے کامیاب، باوقار اور مضبوط نظر آنے والا ابراہیم اندر ہی اندر اپنی ماضی کی یادوں سے لڑ رہا تھا۔ دفتر کی مصروفیات بھی اس کے دل کی بے چینی کم نہ کر سکیں، کیونکہ کچھ زخم وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور بھی گہرے ہو جاتے ہیں۔
کیا ابراہیم کبھی اپنی غلط فہمی کی حقیقت جان پائے گا، یا ایک فیصلہ ہمیشہ کے لیے دو محبت کرنے والے دلوں کو جدا کر دے گا؟
Main Ne Dil Tere Naam Kiya Novel20788 Novelistan.pk
ایک کروڑ روپے... ایک مجبور بیٹی... اور ایسی شادی جس میں محبت نہیں، صرف ایک معاہدہ تھا۔
"تمہاری ماں کے علاج کے لیے ایک کروڑ روپے جمع ہو چکے ہیں، اب بدلے میں تمہیں ساری عمر میرے بیٹے کی غلامی کرنی ہوگی۔"
یہ الفاظ سن کر میا کی دنیا ایک لمحے میں بدل گئی۔ اپنی ماں کی جان بچانے کے لیے اسے وہ فیصلہ قبول کرنا پڑا جس نے اس کی اپنی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
شادی کے بعد جب وہ پہلی بار شازم سلطان کے کمرے میں داخل ہوئی تو اسے لگا جیسے وہ گہری نیند میں ہے۔ وہ بے اختیار اس کے قریب جا کر اپنے دل کی بات کہنے لگی، مگر اگلے ہی لمحے ایک سرد، گونج دار آواز نے اس کے وجود میں سنسنی دوڑا دی۔
"تو پھر کیا تم مجھ سے محبت کر بیٹھتیں؟"
میا خوف سے پیچھے ہٹ گئی۔ اس نے دروازے کی طرف بھاگنے کی کوشش کی، مگر شازم سلطان اس کے راستے میں آ کھڑا ہوا۔ اس کی سرمئی آنکھوں میں چھپا غرور، ہاتھ میں گھومتا چاقو اور پراسرار مسکراہٹ میا کے دل میں خوف کی نئی لہر دوڑا رہے تھے۔
کیا یہ جبری شادی کبھی محبت میں بدل سکے گی، یا شازم سلطان کی سخت مزاجی میا کی زندگی کو مزید اذیت میں دھکیل دے گی؟
Ishq Ki Aag Novel20787 Novelistan.pk
زندگی کبھی کبھی ایسے فیصلے سامنے لے آتی ہے جہاں دل، خاندان اور قسمت ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں۔
"آپ لوگ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟ تین مہینے بعد میری شادی ہے، اور آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنی بہن کے شوہر سے شادی کر لوں؟"
اپنی بہن کی وفات کے بعد وہ صرف اس کے معصوم بچے کا سہارا بنی ہوئی تھی، مگر اب اچانک اس کے سامنے ایک ایسا رشتہ رکھ دیا گیا جسے قبول کرنا اس کے لیے ناممکن تھا۔
دوسری طرف فرحان خانزادہ، دولت، طاقت اور اثر و رسوخ رکھنے والا شخص، خاموشی سے ایک ایسا کھیل کھیل رہا تھا جس کا راز کسی کو معلوم نہ تھا۔ وہ صرف ایک رشتہ نہیں چاہتا تھا، بلکہ اپنی برسوں پرانی محبت کو ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتا تھا۔
جب اس کی اپنی شادی کا دن آیا تو سب کچھ معمول کے مطابق لگ رہا تھا، مگر عین وقت پر دلہے نے بارات لانے سے انکار کر دیا۔ ہر کوئی حیران تھا، لیکن اس فیصلے کے پیچھے ایک ایسا راز چھپا تھا جس نے سب کی تقدیر بدل دی۔
کیا یہ صرف ایک اتفاق تھا، یا فرحان خانزادہ نے اپنی پہلی محبت کو پانے کے لیے پوری بازی پہلے ہی جیت لی تھی؟
Mohabbat Ki Qaid By HS Novel20786
شاہ حویلی کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے صرف شان و شوکت ہی نہیں، بلکہ ظلم، خاموشی اور بے بسی کی ایک دردناک داستان بھی چھپی ہوئی تھی۔
ہر صبح کی طرح حبا کو پھر ایک نیا حکم ملا۔ وہ ناشتے کی ٹرے لے کر حاشر کے کمرے میں پہنچی، مگر چند لمحوں بعد وہ آنکھوں میں آنسو اور دل میں خوف لیے واپس بھاگ رہی تھی۔ حاشر کی بدتمیزی اور ہراسانی اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی، لیکن ہر بار اس کی خاموشی مزید گہری ہوتی جا رہی تھی۔
اس گھر میں کسی کو اس کی تکلیف دکھائی نہیں دیتی تھی، سوائے قاسم شاہ کے، جو ہمیشہ اس کی عزت کرتا اور خاموشی سے اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ مگر قسمت کو شاید یہ بھی منظور نہ تھا۔
جب قاسم کے زخمی ہاتھ پر حبا نے صرف پٹی باندھنے کی کوشش کی تو ایک معمولی سا منظر بھی اس کے لیے نئی آزمائش بن گیا۔ تائی امی نے بغیر حقیقت جانے اس پر سنگین الزام لگا دیا اور غصے میں جلتے ہوئے کانٹے سے اس کے ہاتھ اور گلے کو داغ دیا۔
چیخیں پوری حویلی میں گونجتی رہیں، مگر کسی نے اس کی حفاظت کے لیے قدم نہ بڑھایا۔
کیا حبا کی یہ خاموش اذیت کبھی ختم ہوگی، یا محبت اسے اسی قید سے آزادی دلائے گی جس میں وہ برسوں سے جکڑی ہوئی ہے؟