Social Romantic Novel
Adal Aur Jaza Complete by Nayab Jeelani Novel20847
عدل بچپن کے ایک بھولے بسرے نکاح کو محض ماضی کی بات سمجھ کر اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا، مگر جزا آج بھی اسی رشتے کو اپنی قسمت مان کر ہر ظلم سہہ رہی تھی۔ نانی کے انتقال کے بعد مامی کے مظالم اس کی زندگی کو جہنم بنا دیتے ہیں اور آخرکار وہ ایک رات سب کچھ چھوڑ کر عدل کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ وہ گھر جہاں عدل اب اپنی دوسری بیوی کے ساتھ نئی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ ایک ہی چھت تلے ماضی، حال، محبت، فرض اور انصاف آمنے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، اور یہی لمحہ اس کہانی کو ایک ایسے سفر پر لے جاتا ہے جہاں ہر فیصلہ کسی نہ کسی کی زندگی بدل دیتا ہے۔
Chalo Kuch Diye Jalaye by Durre Saman Saleem Novel20846
آذان شاہ کے ساتھ نکاح عینا کی مرضی سے نہیں بلکہ حالات کی مجبوری بن چکا تھا۔ رخصتی کے وقت وہ اپنے والد جمال دین کی بے بسی، مامی کی خاموش آنکھوں اور اپنے بکھرتے خوابوں کو دل میں دفن کیے اس گھر سے روانہ ہوئی جہاں اس نے صرف محبت ہی مانگی تھی۔ آذان اسے اپنے گھر لے آیا، مگر عینا کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت تھی۔ کمرے میں آذان نے نرمی سے بات کرنے کی کوشش کی تو عینا نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور قریب رکھا کرسٹل کا گلدان اٹھا لیا۔
"خبردار! مجھے ہاتھ مت لگانا۔ اگر تم میرے قریب آئے تو میں کچھ کر بیٹھوں گی۔ تم نے مجھے زندہ رہتے مار دیا ہے آذان شاہ۔ تم سمجھتے ہو مجھے رسوا کر کے مجھے حاصل کر لیا؟ نہیں، تم مجھے پا کر بھی کبھی نہیں پا سکو گے۔ تم نے میری ہر خوشی چھین لی، اب تم بھی زندگی بھر خوشی کو ترسو گے۔ مجھے تم سے ہمیشہ نفرت تھی، ہے اور رہے گی۔"
آذان حیرت اور بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ عینا کے دل میں اس کے لیے صرف غلط فہمیاں اور نفرت بھری ہوئی ہیں، مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ایک دن سچ ضرور سامنے آئے گا۔
Bas Ik Dagh e Nidamat By Umera Ahmed Novel20843
مومل کے لیے سب کچھ اس وقت بدل گیا جب اسفند حسن نے انتہائی سکون سے بتایا کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس نے مومل کو اختیار دیا کہ اگر وہ اجازت نہ دے تو وہ طلاق لے سکتی ہے، یہاں تک کہ گھر، حق مہر اور مالی تحفظ کا بھی بندوبست کر دیا۔ مگر مومل کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ دس سال کا رشتہ چند لفظوں میں ختم کیا جا رہا تھا۔ جب اس نے غصے میں فوراً طلاق کا مطالبہ کیا تو اسفند نے کہا کہ ابھی نہیں، پہلے بیٹی کی شادی ہو جائے، پھر وہ اسے طلاق دے دے گا۔ یہی لمحہ دونوں کی ازدواجی زندگی کا سب سے تلخ موڑ بن جاتا ہے، جہاں محبت سے زیادہ انا، خاموشی اور پچھتاوا بولنے لگتے ہیں۔
Mohabbat Hogai Aakhir By Yumna Talha Novel20842
"شیشے میں اچانک کسی اجنبی شخص کا عکس دیکھ کر لائبہ کے ہاتھ سے تولیہ گر گیا۔ وہ گھبرا کر پیچھے مڑی مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ پھر ایک مدھم سرگوشی اس کے کانوں میں گونجی، 'تم شادی کے بعد بال کھلے رکھنا... زیادہ خوبصورت لگتی ہو۔' لائبہ خوف، حیرت اور الجھن کے ملے جلے احساسات میں گم ہو کر بس شیشے کو دیکھتی رہ گئی۔
Sukhan Shanas By Humaira Ali Novel20841
"وقت تو گزر جاتا ہے، مگر ہر زخم وقت کے ساتھ نہیں بھرتا۔ ماں کی جدائی، باپ کی موت اور اپنوں کی بے حسی نے اس معصوم بچی کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ اب وہ اسی گھر میں رہتے ہوئے بھی ہر لمحہ خود کو اجنبی محسوس کرتی تھی، جہاں کبھی محبت اور خوشیوں کا راج تھا۔"
Dastoor e Wafa by Maryam Aziz Novel20840
"بدگمانی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، بہو! وہ معصوم بچی سارا وقت تمہارے ڈر سے ایک کمرے میں بند رہتی ہے۔ آخر تمہیں اس سے اتنی دشمنی کس بات کی ہے؟"
"کوئی کسی کا نصیب نہیں چھین سکتا۔ اپنی اولاد کی قسمت کا الزام اس بچی پر مت لگاؤ۔"
"وہ بچی میری ذمہ داری ہے، میں اس کا سرپرست ہوں۔ جس دن اس کے اپنے لوگ مل جائیں گے، وہ خود چلی جائے گی۔"
Wo Mera Naya Sawera By Maryam Aziz Novel20837
زندگی بھر کا رشتہ قبول تو کر لیا، مگر دل کے دروازے اب بھی بند تھے۔
"یہ شادی صرف میری بیٹی رمشا کے لیے کی ہے..." ایک جملہ جس نے دل کی ساری امیدیں خاموش کر دیں۔
خاموش دلہن کی پہلی آواز نے کمرے کی خاموشی توڑ دی، مگر دونوں کے درمیان موجود فاصلے ابھی بھی برقرار تھے۔
Olasyar by Binte & Mahi Novel20835
اولسیار نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا ہے ۔اولسیار ٭ بیوی ٭ قتلاس کا تھوڑا سا خون اب بھی کمرے میں موجود ہے ۔”لالا کو سزا دلوا دو۔۔”اس کے باپ نے بھی تو غیرت کے نام پر اپنی بیوی کو قتل کیا تھا۔۔ وہ کیسے نہیں کر سکتا تھا؟اولسیار نے اپنی نور کو قتل کر دیا تھا اور اب وہ بے حس تھا۔وہ جو سب کا دوست تھا اپنی بیوی کو دوست کیسے نہ رکھ سکا؟
Rait Ki Deewar by Misbah Khalid Novel20826
ریت کی دیوار ایک ایسی دردناک کہانی ہے جہاں حسد اور غلط فہمیوں کی وجہ سے ایک معصوم لڑکی برسوں ظلم سہتی رہتی ہے۔ جب آخرکار سچ سامنے آتا ہے تو نیاز کو احساس ہوتا ہے کہ جس پر وہ بھروسہ کرتا رہا، اصل قصوروار وہی تھی۔ ایک ہی لمحے میں رشتوں کی بنیادیں ہل جاتی ہیں، فیصلے بدل جاتے ہیں اور ہر کردار اپنے اعمال کے انجام سے روبرو ہوتا ہے۔
Dil Hi to Hai by Nadia Ahmed Novel20825
بارش کے شور میں سبرینہ نے صرف تین لفظ کہے، مگر وہ معید کی پوری دنیا ہلا گئے۔
"مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے..." ایک اعتراف جس نے دونوں کی زندگیاں بدل دیں۔
عمر کا فرق، معاشرے کا خوف اور دل کی ضد... اس رات تینوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔