Na Juno Raha Na Pari Rahi Complete Urdu Novel by Rukhsana Nigar Adnan
Betrayal, Complete Urdu Novel, Family Drama, Marriage Crisis, Motherhood, Second Marriage Based, Social Romantic Novel

Na Juno Raha Na Pari Rahi Novel By Rukhsana Nigar Adnan Novel20850

جب خولہ کو اپنے شوہر کی دوسری شادی کا علم ہوا تو اس کی پوری دنیا ایک لمحے میں اجڑ گئی۔ مگر اصل قیامت اس وقت ٹوٹی جب اسفندیار نے نہ صرف اسے طلاق کی دھمکی دی بلکہ اس کے دونوں معصوم بیٹوں کو بھی اس سے چھین لینے کا اعلان کر دیا۔ ایک بے بس ماں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے چیختی رہی، مگر اس کے شوہر کے دل میں ذرا سی نرمی نہ آئی۔ گھر کی دہلیز پر ماں کی ممتا، شوہر کی بے وفائی اور ایک عورت کی عزت ایک ساتھ روندی جا رہی تھی، جبکہ بارش میں بھیگتا صحن اس دردناک منظر کا خاموش گواہ بنا کھڑا تھا۔
Continue reading
Esaret-i Aşk Complete Urdu Novel featuring Watta Satta, Forced Marriage and Emotional Romance
Complete Urdu Novel, Divorce Based, Emotional Love Story, Forced Marriage Based, Marriage Issues, Second Marriage Based, Toxic Husband, Watta Satta Based

Esaret-i Ask Novel20848

شادی کی پہلی رات ہی ماہ زیب کو معلوم ہو گیا کہ اس کا شوہر کرار جعفر اس رشتے کو کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا۔ اس نے بے رحمی سے اعلان کیا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور جلد دوسری شادی کرے گا۔ پھر اس نے ماہ زیب کو بستر سے نیچے اترنے کا حکم دیا اور اس کی خاموشی پر اسے زبردستی گھسیٹ کر فرش پر پھینک دیا۔ اس رات ماہ زیب نے اپنے تمام خواب ٹوٹتے دیکھے، اپنے رب کے حضور سجدے میں آنسو بہائے اور صبر کی دعا مانگتی رہی، مگر آنے والے دن اس کے لیے اس سے بھی زیادہ کٹھن ثابت ہوئے۔
Continue reading
Hum Haar Gaye Complete Urdu Novel by Fozia Akbar Sana
Complete Urdu Novel, Forced Marriage Based, Hate to Love Story, Marriage of Convenience, Misunderstanding base, Revenge Based Novels

Hum Haar Gaye By Fozia Akbar Sana Novel20845

شادی کی پہلی رات درِ نجف نے سوچا تھا کہ شاید اب اس کی مشکلات ختم ہو جائیں گی، مگر شہیم احمد نے اسے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ دیا۔ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ یہ شادی صرف اس کی جان بچانے کے لیے کی گئی ہے، وہ اسے کبھی دل سے قبول نہیں کرے گا اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے وہ اس سے علیحدہ ہو جائے گا۔ درِ نجف خاموشی سے اس کی ہر تلخ بات سنتی رہی، مگر جب شہیم نے نفرت کی انتہا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر جوتوں کی سیاہ پالش مل دی تو اس کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہو گئی۔ وہ پہلی بار ٹوٹنے کے بجائے اس کے سامنے کھڑی ہوئی اور احتجاج کیا، مگر جواب میں اسے بے رحمانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی لمحہ اس کہانی کا سب سے دردناک موڑ بن جاتا ہے، جہاں ایک بے گناہ لڑکی کی آزمائش اور ایک سخت دل مرد کی نفرت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔
Continue reading