Tag Archives: social romantic novel
Sab Ko Sab Nahi Milta By Sana Parvez Novel20882
"سب کو سب نہیں ملتا" کے نام پر مبنی یہ کہانی
ایک رومینٹک کہانی ہے - "سب کو سب نہیں ملتا" ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے ہم انسان قبول
کرنے سے کتراتے ہیں – ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کو ہرچیز نہیں ملتی - ہم خود سے سب کچھ حاصل کرنےکی کوشش کرتے ہیں اور ہر بار ناکام ہو جاتے ہیں - اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر کسی نہ کسی چیز کی کمی ضرور رکھی ہے - کسی میں قد کی، کسی میں رنگ کی، کسی میں اولاد کی، کسی میں عقل کی، کسی میں دولت کی - ہم وہ کمی خود سے پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر نہیں کر پاتے - اِس کہانی
میں بھی ہر کردار خود سے اپنے اندر موجودکمی کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا مگر اللہ کی مرضی کے آگے ہار مان لے گا - جو چیزآپ کی قسمت میں نہیں ہوتی پھر چاہے توآپ اسے جائز طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کریں یا ناجائز طریقے سے وہ نہیں ملتی - کچھ خواہشوں کی قسمت میں ادھورا
رہنا لکھا ہوتا ہے - پسند اور ناپسندکرنا ہماری مرضی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہر کردار اہم ہوتا ہے -
Mohabbat Tamam Uss pe Hoi by Biya Noor Novel20871
**چند سطریں پڑھتے ہی ثوبان کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا۔ اس نے رقعہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے نشا کے چہرے پر پھینک دیا اور سخت لہجے میں بولا، "اپنی عمر دیکھی ہے اور اپنی حرکتیں؟" ذلت، آنسو اور ٹوٹتی ہوئی خوداعتمادی کے درمیان جب نشا بےاختیار اس کے بازو کا سہارا لینے لگی تو اس نے بےرحمی سے اپنا ہاتھ جھٹک دیا۔ یہی لمحہ کہانی کے سب سے دردناک اور فیصلہ کن موڑ کی بنیاد بنتا ہے
Shab e Hijar Ki Barish by Umme Iman Fatima Novel20864
**"مجھے معلوم ہے تمہاری کوئی بیٹی نہیں، اس لیے اب تم اپنا پوتا ونی کے طور پر دو گے۔ وہ میرے گھر میں نوکر بن کر رہے گا۔" یہ سفاک فیصلہ سنتے ہی پنچایت میں سناٹا چھا گیا، مگر چودھری اعظم غصے سے گرج اٹھے، "میں برسوں پہلے بھی ونی کی اس ظالمانہ رسم کے خلاف تھا، اور آج بھی ہوں۔ میں اپنے پوتے کو ہرگز ونی میں نہیں دوں گا!" یہی لمحہ کہانی کا سب سے طاقتور اور دل دہلا دینے والا موڑ بن جاتا ہے۔
Jab Dil Miley By Guray Nayyab & Perishah Malik Novel20857
"مصطفیٰ نے گن اپنے ہی سر پر رکھ لی اور زونی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، 'میں آخری بار پوچھ رہا ہوں... ہاں یا ناں؟' ٹریگر پر اس کی انگلی دیکھ کر زونی کی سانسیں رک گئیں۔ نم آنکھوں سے وہ چیخ اٹھی، 'ہاں... کروں گی نکاح!' یہ سن کر سب نے سکون کا سانس لیا، مگر زونی کا لرزتا وجود اس لمحے کے خوف کی گواہی دے رہا تھا۔"
Poojan By Aanakham Novel20855
"جس ہاتھ کو تھامنے کی خواہش برسوں سے دل میں بسی تھی، آج وہی ہاتھ اسے کسی اور کے ہاتھ میں دینا پڑا۔ آنکھوں میں محبت، دل میں درد اور لبوں پر صرف ایک وعدہ تھا... 'ہمیشہ میری دوست کو خوش رکھنا۔' اس لمحے اس نے ثابت کر دیا کہ سچی محبت کبھی کبھی اپنے محبوب کو پانے میں نہیں، بلکہ اس کی خوشی کے لیے خود کو قربان کر دینے میں ہوتی ہے۔"
Hareer E Hayat By Aanakham Novel20854
"آپ وہ تلاش ہیں جس کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی تھی، مگر جب آپ میری زندگی میں آئیں تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے بس آپ ہی چاہیے تھیں۔"
"ان ری ایکشنز کا تو زیادہ نہیں پتا، لیکن آپ کو دیکھتے وقت میرے چہرے پر جو ری ایکشن آتا ہے، وہ یہ ناچیز ضرور بتا سکتا ہے۔"
ذادن کی یہ بات سن کر وہ شرما کر نظریں جھکا گئی، جبکہ دونوں کی خاموش مسکراہٹ نے اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔
Dastan E ishq By Parisha Malik Novel20853
"ڈائری کے پہلے صفحے پر اپنی تصویر دیکھتے ہی سجیلہ کے ہوش اُڑ گئے۔ ہر لفظ وابصہ کی برسوں پرانی، خاموش اور پاکیزہ محبت کی گواہی دے رہا تھا۔ 'میری چاہت تیرے نام، میری وفا تیرے نام... بس تو ایک بار کہہ دے، تیری محبت میرے نام۔' یہ الفاظ پڑھ کر سجیلہ ٹوٹ کر رو پڑی اور پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وابصہ کی محبت کتنی سچی اور بے لوث تھی۔"
Mohabbat Hogai Aakhir By Yumna Talha Novel20842
"شیشے میں اچانک کسی اجنبی شخص کا عکس دیکھ کر لائبہ کے ہاتھ سے تولیہ گر گیا۔ وہ گھبرا کر پیچھے مڑی مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ پھر ایک مدھم سرگوشی اس کے کانوں میں گونجی، 'تم شادی کے بعد بال کھلے رکھنا... زیادہ خوبصورت لگتی ہو۔' لائبہ خوف، حیرت اور الجھن کے ملے جلے احساسات میں گم ہو کر بس شیشے کو دیکھتی رہ گئی۔
Sukhan Shanas By Humaira Ali Novel20841
"وقت تو گزر جاتا ہے، مگر ہر زخم وقت کے ساتھ نہیں بھرتا۔ ماں کی جدائی، باپ کی موت اور اپنوں کی بے حسی نے اس معصوم بچی کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ اب وہ اسی گھر میں رہتے ہوئے بھی ہر لمحہ خود کو اجنبی محسوس کرتی تھی، جہاں کبھی محبت اور خوشیوں کا راج تھا۔"
Dastoor e Wafa by Maryam Aziz Novel20840
"بدگمانی کی بھی ایک حد ہوتی ہے، بہو! وہ معصوم بچی سارا وقت تمہارے ڈر سے ایک کمرے میں بند رہتی ہے۔ آخر تمہیں اس سے اتنی دشمنی کس بات کی ہے؟"
"کوئی کسی کا نصیب نہیں چھین سکتا۔ اپنی اولاد کی قسمت کا الزام اس بچی پر مت لگاؤ۔"
"وہ بچی میری ذمہ داری ہے، میں اس کا سرپرست ہوں۔ جس دن اس کے اپنے لوگ مل جائیں گے، وہ خود چلی جائے گی۔"