Tum Hotey Ho Mere Kon By Wardah Zohaib Novel20932

Cousin Marriage | Rude Hero | Romantic Novel | Family Drama | Emotional Truma

Short Description

Tum Hotey Ho Mere Kon by Wardah Zohaib is an emotional family drama centered on Rabail, a determined young woman who dreams of becoming a successful businesswoman despite family restrictions and societal expectations. As misunderstandings, painful childhood memories, and cousin Maaz’s possessive attitude create emotional conflicts, the story explores love, trust, family bonds, and a woman’s fight for independence.

” تمہاری رگوں میں بھی وہی خون دوڑ رہا ہے۔ ہمارے خاندان کے مردوں والا۔ عورت کی ترقی تم لوگوں سے برداشت نہیں ہوتی۔ ایک گرلز کالج کی تعلیم میں اور یونیورسٹی کی تعلیم میں بہت فرق ہے معاذ۔ گرلز کالج سے میں اسکول ٹیچر کے علاوہ کچھ نہیں بن سکتی۔ مجھے بزنس وومین بننا ہے۔ بہت ترقی کرنی ہے۔ “رابیل نے کہا تو ایک پل کو اسے لگا کہ رابیل کی ذہنیت بھی شہرین جیسی ہے۔ وہ غربت میں نہیں رہ سکتی۔ معاذ ریاض صدیقی کی گھڑی ہوئی کہانیوں پر یقین رکھتا تھا جو انہوں نے شہرین کے متعلق اسکو سنائیں تھیں۔
لیکن تم اس گھر میں نامحرم لڑکوں کے پیج کیسے رہ سکتی ہو۔۔ اور اپنے سوتیلے بھائی کے ساتھ بائیک پر آتی جاتی ہو ۔۔ یا پھر گاڑی پر آتی ہو۔۔ تمہاری نزدیک یہ سب صحیح ہے ؟ کم از کم میری غیرت اپنی چچا کی بیٹی کے بارے میں یہ سب برداشت نہیں کر پار ہی اب۔ تم جتنی وضاحتیں دے دورا بیل لیکن سچ یہی ہے اپنا گھر اپنا ہوتا ہے اپنا باپ اپنا ہوتا ہے۔ ” معاذ نے کہا۔
“میرے خیال سے آج عبد الہادی کو دیکھ کر تمہیں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ میں وہاں کیوں رہ رہی ہوں۔ وہ دونوں میری عزت کرتے ہیں۔ اور جہاں تک نامحرم کی بات ہے تو وہ تو تم بھی ہو میرے لیے۔ “رابیل نے کہا۔

” میری بات اور ہے میں تمہارا چازاد ہوں ہمارا خونی رشتہ ہے۔ اور ہمارے گھر میں تمہارے والد بھی ہیں. تم وہاں آرام سے رہ سکتی تھیں۔ ” معاذ نے کہا۔
” معاذ مینے کہا نا وقت گزر چکا ہے بارہ سال کی بچی کو جو صحیح لگا وہ اس نے کیا۔ تم کیوں نہیں گئے تھے اپنے نانانانی اور اپنے ماموں خالہ کے ساتھ جب وہ تم لینے آآئے تھے۔ تم نے کیوں ابو کا انتخاب کیا؟ صرف اس لیے کہ ان کے ساتھ تمہیں تحفظ کا احساس تھا۔ وہی تحفظ کا احساس مجھے آسیہ پھپھو کے ساتھ تھا۔ اور آج بھی ہے۔ خیر اس بحث کو ختم کرو۔ جو ہوا سو ہوا۔۔ اب گزر اوقت واپس نہیں آسکتا، یہ ہماری قسمت تھی۔ پھر بھی مجھے اپنے باپ سے محبت ہے۔ باپ جیسا بھی ہو بیٹی نفرت نہیں کر سکتی اپنے باپ سے۔۔۔۔ اب گھٹڑے مردے مت اکھڑوں میں بیزار ہوں ان باتوں سے۔ ابو نے میرا نہیں سوچا۔۔ مینے اُنکا نہیں سوچ۔۔ بات ختم ۔۔ حساب برابر۔ “رابیل کہہ کر اٹھی۔
تم بھی بچی کی طرح غربت سے نفرت کرتی ہو۔۔ ” معاذ نے پوچھا نہیں تھا۔۔ بس بتا یا اور بتایا تھا۔

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Summary

Rabail refuses to let family traditions or financial struggles define her future. Living away from her father due to painful circumstances, she chooses the people who give her respect and security over blood ties. Maaz, her cousin, misunderstands her decisions and questions her character, believing family honor comes before everything else. As old wounds, family conflicts, and hidden truths surface, both must confront their prejudices and emotions. The novel is a journey of healing, self-respect, and discovering whether love can overcome misunderstanding and emotional trauma.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *