Meri Nain By RM Novel20975
Meri Nain By RM Novel20975
Forced Marriage | Vani Based | Second Marriage | One-Sided Love | Emotional Drama | Family Conflict | Betrayal | Pregnancy Based | Social Issues | Toxic Relationship
Short Description
Meri Nain is an intense emotional story about Nain, a woman trapped in a forced marriage who has spent her life being denied love, respect, and the rights of a wife. When she discovers she is pregnant while her husband Arbaz is preparing to marry another woman, she is forced to confront years of pain, rejection, and injustice.

” نین تم لالہ کے بچے کی ماں بننے والی ہو اور ادھر لالہ وارث کے لیے دوسری شادی کر رہے ہیں” نین نے کوئی جواب نہیں دیا نین ونی میں آئی ہوئی لڑکی تھی جسے کبھی ارباز نے بیوی کا حق نہیں دیا تھا خاندان والے چاہتے تھے وہی ار باز کا وارث پیدا کرے مگر ارباز دوسری شادی کرنا چاہتا تھا ایک ماہ پہلے نشے کی حالت میں وہ اپنے حق تو لے چکا تھا لیکن ساتھ میں اسے دوائی بھی دی تھی تاکے وہ اسکے بچے کی ماں نہ بن سگے مگر اب وارث کے لیے اپنی محبوبہ سے دوسری شادی کر رہا تھا اریبہ نے نین کو جھنجھوڑا کے شادی رک سکتی ہے نین کو نہ جانے کیا ہو اوہ ننگے پاؤں باہر کی طرف بھاگی جہاں ارباز کے پہلو میں خوبصورت دلہن بیٹھی ہوئی تھی” یہ نکاح مت کریں!! ارباز نے نکاح جاری رکھنے کا کہا میں نے اچانک اپنی کنپٹی پے۔۔۔۔۔” نین! تم ماں بننے والی ہو۔۔۔۔۔ اور ادھر ار باز وارث کے لیے دوسری شادی کر رہا ہے۔۔۔”
” اریبہ کی آواز میں گھبراہٹ اور بے چینی کا طوفان امڈ رہا تھا، اریبہ کی اس بات پر نین کے پیروں تلے زمین نکل گئی اس کا دل چاہا کہ وقت یہیں تھم جائے یا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے اس نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا جہاں اس کی کوکھ میں ایک نئی زندگی پل رہی تھی ایک معصوم جان جو ابھی دنیا میں آئی بھی نہیں تھی اور اپنے ہی باپ کی بے اعتنائی کا شکار ہونے جارہی تھی اس نے نم آنکھوں سے اریبہ کو دیکھا جن میں خوف کے ہزاروں سائے ناچ رہے تھے۔۔۔۔ اس کا گلا رندھ گیا تھا اور لفظ حلق میں اٹک کر رہ گئے تھے، ” پھر۔۔۔۔پھر میں کیا کروں اریبہ؟؟؟ کیسے بتاؤں اسے وہ تمہارا بھائی ہے سنگدل اور انا پرست۔۔۔۔” نین کی سسکیاں اب ہچکیوں میں بدل رہی تھیں۔
” اگر اس نے کہہ دیا کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے؟؟؟ اگر اس نے میری عزت پر کیچڑ اچھال دیا اور اسے اپنانے سے انکار کر دیا تو میں کہاں جاؤں گی؟؟؟ اس معاشرے میں میرا کیا ٹھکانہ ہوگا ایک ماہ پہلے جو کچھ اس نے نشے کی حالت میں کیا تھا وہ تو اس کا حق تھا جو اس نے زبردستی چھین لیا لیکن اب وہ مجھے اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں رکھے گا وہ تو مہوش کی محبت میں اندھا ہو چکا ہے پھر تم ہی بتاؤ میں کیا کروں گ؟؟؟ ” نین کے آنسو تڑپتے ہوئے گالوں پر بہہ رہے تھے۔۔۔۔ اس کے چہرے پر بےبسی اور خوف کی ایسی تصویر تھی جسے دیکھ کر پتھر بھی موم ہو جائیں وہ خود کو اس دنیا میں بالکل تنہا محسوس کر رہی تھی، ” نہیں میں بھی اسے یہ نہیں بتاؤں گی۔۔۔۔ قسم ہے مجھے میں اس کے سامنے کبھی نہیں جاؤں گی۔۔۔۔” وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی بولی اس کا پورا وجود اس خیال سے کانپ رہا تھا کہ ارباز اس کے بچے کو جھٹلا دے گا، لیکن اریبہ نے اس کا کندھا جھنجھوڑتے ہوئے سختی سے کہا
” پاگل ہوگئی ہو نین کیوں نہیں جاؤ گی اس کے پاس جاؤ ابھی جاؤ اور اسے بتاؤ کہ وہ یہ شادی مت کرے تم ماں بننے والی ہو اپنے حق کے لیے کھڑی ہو جاؤ تم پاگل ہوگئی ہو نین؟؟ ” اربیہ نے اس کا شانہ جھنجھوڑتے ہوئے غصے اور محبت کی ملی جلی کیفیت میں کہا اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔۔۔” تم یہ کیسے سوچ سکتی ہو کہ تم خاموشی سے برداشت کر لوگی تم اس سے محبت کرتی ہو نین جانتی ہو تم ہار نہیں مان سکتی مت جاؤ اس طرح پیچھے۔۔۔۔ ہمت کر و اٹھو اور جاکر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتاؤ کہ تم اس کے بچے کی ماں بننے والی ہو وہ تمہارا شوہر ہے اسے حق ہے یہ جاننے کا۔۔۔” اریبہ کے ان الفاظ نے نین کے اندر جیسے آگ لگا دی ہو اس کا دل ایک دھماکے کے ساتھ بیٹھا اور پھر پچھلے مہینے کی وہ ہولناک رات اس کی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگی، اسے صاف یاد تھا وہ دن۔۔۔۔یا یوں کہیں کہ وہ سیاہ رات جب ارباز حویلی کے بڑے کمرے میں داخل ہوا تھا اس کی آنکھیں نشے سے سرخ تھیں جسم لڑ کھڑارہا تھا اور اندر غصے اور بے بسی کا ایک سمندر طلاطم خیز تھا اس نے آتے ہی نین کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا
اس کی التجائیں اس کی سسکیوں کو روندتے ہوئے اس نے وہ سارے حقوق زبردستی وصول کیے تھے جو ونی کی اس بے نام رشتے میں کبھی اسے نہیں ملے تھے نین کو وہ ایک ایک لمحہ یاد تھا جب وہ خود کو بچانے کے لیے گڑ گڑائی تھی۔۔۔۔ جب اس کی روح تک کو زخم ملے تھے اور پھر صبح کی روشنی پھیلنے سے پہلے جب ارباز ہوش میں آیا تھا اس کے چہرے پر پشیمانی نہیں بلکہ ایک سرد نفرت تھی اس نے نین کے پاس بیڈ پر ایک لفافہ پھینکا تھا اور انتہائی سنگدل لہجے میں کہا تھا، ” یہ لو کچھ میڈیسن۔۔۔۔ اسے وقت پر لے لینا تاکہ اس رات کی اس گھناؤنی غلطی کا کوئی نتیجہ نہ نکلے میں اپنی زندگی میں اس گند یا اس رشتے کا کوئی داغ نہیں چاہتا۔۔۔۔” وہ جملہ ارباز کا وہ پتھر دل حکم نین کے کانوں میں ہتھوڑے کی طرح گونجنے لگا۔۔۔نین کے گلے میں جیسے آنسوؤں کا ایک پھند اسا اٹک گیا ہو سانس لینا محال ہو رہا تھا دل کی دھڑکنیں اس قدر تیز تھیں کہ اسے لگا اب اس کا سینہ پھٹ جائے گا وہ سوچتی تھی کہ اس مرد نے اسے کیا دیا ہے ذلت بے توجہی اور ایک ایسا زخم جو کبھی نہیں بھر سکتا اس نے تو اس ظالم کو دل سے چاہا تھا اپنی روح تک اسکے نام کی تھی بدلے میں اس نے کیا پایا تھا؟؟ صرف دھمکیاں اور گولی جیسی سر مهری، مگر۔۔۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Summary
Nain enters Arbaz’s life through the cruel tradition of Vani, but instead of receiving acceptance as his wife, she is treated as an unwanted burden. Arbaz plans to marry the woman he loves, completely ignoring Nain and the complicated bond between them. Everything changes when Nain discovers that she is pregnant.
Terrified that Arbaz will reject the child and accuse her of dishonor, Nain feels completely helpless. Her friend Areba encourages her to stand up for herself and tell Arbaz the truth before his second marriage takes place. As painful memories of the past return, Nain must decide whether to remain silent or finally fight for her dignity and her unborn child.
The story explores forced relationships, betrayal, emotional trauma, societal pressure, unrequited love, and a woman’s struggle to reclaim her voice and dignity.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕