Boss Employee Based, Complete Novel, Emotional Drama, Forced Marriage Based, Love Triangle, Romantic Urdu Novel, Rude Hero Based

Ek Thi Heer Novel By Aiman Akmal Novel20856

وہ پہلی لڑکی تھی جو گئی تو جاب انٹرویو کے لیے تھی مگر کمپنی کے مالک کو ہی بیٹھی دھمکا رہی تھی کہ اگر اس نے اسے جاب پر نا رکھا تو اسکے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔
Continue reading
Khugar E Sitam by Sajal Saeed mein Ibrahim aur uski toot'ti hui shaadi ka emotional manzar
Complete Novel, Cousin Marriage Based, Family Story, Misunderstanding base, Romantic Urdu Novel

Khugar E Sitam By Sajal Saeed Novel20791

کبھی ایک غلط فہمی صرف ایک رشتہ نہیں توڑتی، بلکہ پوری زندگی بدل دیتی ہے۔ "مجھے معاف کر دیں، ابراہیم... خدا کے لیے مجھے طلاق مت دیجیے۔" اس کی التجائیں، آنسو اور کانپتی ہوئی آواز بھی ابراہیم کے دل کی برف نہ پگھلا سکیں۔ جس عورت نے کبھی اس کی دنیا بسائی تھی، آج وہی اس کے سامنے معافی کی بھیک مانگ رہی تھی، مگر ابراہیم کے دل میں صرف تلخ یادیں اور ٹوٹا ہوا اعتماد باقی رہ گیا تھا۔ دو سال گزر چکے تھے، مگر وہ ایک حادثہ آج بھی اس کے وجود پر سایہ کیے ہوئے تھا۔ باہر سے کامیاب، باوقار اور مضبوط نظر آنے والا ابراہیم اندر ہی اندر اپنی ماضی کی یادوں سے لڑ رہا تھا۔ دفتر کی مصروفیات بھی اس کے دل کی بے چینی کم نہ کر سکیں، کیونکہ کچھ زخم وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور بھی گہرے ہو جاتے ہیں۔ کیا ابراہیم کبھی اپنی غلط فہمی کی حقیقت جان پائے گا، یا ایک فیصلہ ہمیشہ کے لیے دو محبت کرنے والے دلوں کو جدا کر دے گا؟
Continue reading
Waris Ki Tarap mein Abira aur Shahab Sadozai ki dard bhari kahani ka manzar
Complete Novel, Forced Marriage Based, Romantic Urdu Novel, Rude Hero Based

Waris Ki Tarap By Zaryva Novel20766 -Novelistan.pk

ایک سال کی شادی... اولاد نہ ہونے کا الزام... اور ایک ایسا فیصلہ جس نے عبیرہ کی پوری دنیا اجاڑ دی۔ سدوزئی حویلی میں عبیرہ کی آنکھوں کے سامنے اس کے شوہر شہاب کی دوسری شادی کا اعلان کر دیا گیا۔ خاندان کا مؤقف تھا کہ حویلی کو وارث چاہیے، اور اگر پہلی بیوی اولاد نہ دے سکے تو دوسری شادی کوئی گناہ نہیں۔ عبیرہ نے آنسوؤں میں ڈوبی آواز کے ساتھ صرف ایک گزارش کی۔ "میں اپنا شوہر کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتی..." مگر اس کی فریاد، محبت اور بے بسی سب خاندانی رسموں کے سامنے بے معنی ثابت ہوئے۔ امیر سائیں نے اسے حکم دیا کہ نئی دلہن کے لیے کمرہ خالی کر دے، جبکہ شہاب خاموش کھڑا سب کچھ دیکھتا رہا۔ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ عبیرہ نے اپنے چند کپڑے سمیٹے اور رات کی تاریکی میں حویلی چھوڑ دی، اس حقیقت سے بے خبر کہ وہ اپنے شوہر کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ پانچ سال بعد قسمت نے ایک بار پھر انہیں آمنے سامنے لا کھڑا کیا، لیکن اب حالات، رشتے اور سچائیاں سب بدل چکی تھیں۔ کیا شہاب اپنی سب سے بڑی غلطی کا ازالہ کر پائے گا، یا بہت دیر ہو چکی ہوگی؟
Continue reading