Ab Mere Ho Ke Raho by Durr e Suman Saleem 

After Marriage base | Digest Novel  |  Forced Marriage | Kidnapping Base | Romantic Urdu Novel  

“یہ۔۔۔ یہاں کیا کر رہا ہے؟” عمائمہ نے حیرت سے سلیپنگ سوٹ میں ملبوس درید بخت کو دیکھا۔ جو گہری نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔
“تو کیا یہ ساری رات میرے قریب اس بستر پر سوتا رہا ہے؟” ذہن میں حیرت دبے پاؤں سی جاگی۔
“جھوٹ رگ رگ میں بسا ہے اس شخص کے۔۔۔ جب یہ طے ہوا تھا کہ۔۔۔” غصے، نفرت سے اس کے دماغ کی نسیں پھولنے لگیں۔ عمائمہ نے اشتعال میں گہری نیند سوئے درید کو جھنجھوڑا۔
“جلدی اٹھو یہاں سے۔۔۔”
“یار کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟ خواب میں تو اپنے ساتھ ہنی مون منا لینے دو مجھے” خمار میں ڈوبا ہوا جواب ملا۔
“مسئلہ تو تم نے میری زندگی کو بنا دیا ہے۔” عمائمہ کے چلانے پر اس نے آنکھیں کھول کر عمائمہ کے جلالی انداز پر غور کیا۔
“میں کچھ سمجھا نہیں ڈارلنگ صبح ہی صبح اتنی شدید گولہ باری کی وجہ؟”
“سب سے بڑی وجہ تو تم ہو جس نے مجھے ایک عذاب میں دھکیل دیا ہے۔”
“اب کون سی آفت آگئی ہے میری جان؟” اس نے تکیے سے ٹیک لگائی۔
“تم یہاں اس بستر پر کیا کر رہے تھے؟” لہجے میں بے پناہ غصہ تھا۔
“قسم سے سو رہا تھا۔ اور بہت اچھا خواب بھی دیکھ رہا تھا کہ تمہارے اس طبل نے جگا دیا۔”
“شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔” عمائمہ نے سر تھاما۔۔۔ وہ بھی چند ثانیے چپ ہوا۔
“جب ہمارے درمیان ایک بات طے ہوئی تھی تو یہ فاؤل کیوں۔۔۔؟”
“کیسا فاؤل؟ کسی اسٹیمپ پیپر پر سائن نہیں کیے تھے میں نے؟ خوش قسمتی سے شوہر ہوں تمہارا۔۔۔ کوئی ڈاکو یا لٹیرا نہیں تمام حقوق رکھتا ہوں میں تم پر اور جب چاہوں اپنے حقوق استعمال کر سکتا ہوں۔ مجھے تم سمیت کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں تم۔” وہ بھی اب اسی کے انداز میں بولا تو اس کے الفاظ عمائمہ کے تن بدن میں آگ لگا گئے۔
“تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟ جو چاہو گے وہی ہوتا چلا جائے گا؟ اپنے دن اپنی شامیں، شراب و عیاشی میں گزار کر رات کو میرے پاس آؤ گے تو میں ایسا کبھی ہونے نہیں دوں گی۔” وہ بھری شیرنی کی طرح غضبناک ہو رہی تھی۔
“میں رات نشے میں نہیں تھا انورات جاگ رہی تھیں میں تھکا ہوا تھا اس لیے یہیں سو گیا۔”
“بکواس کرتے ہو تم۔۔۔ جھوٹ بولتے ہو میں جتنا تم سے بھاگتی ہوں تم اتنا ہی مجھ سے ٹکراتے ہو۔”
“ہاں تو سمجھو تقدیر کے اس کھیل کو ہمیں ملانا چاہتی ہے اور تم ہو کہ۔۔۔” درید نے ہولے سے اس کے بالوں کو چھوا عمائمہ نے حسبِ سابق اس کا ہاتھ جھٹکا۔
“غصے میں اتنے غضب ڈھاتی ہو مجھ پے۔۔۔ کہیں تمہاری محبت کا مظاہرہ دیکھ کر ہارٹ فیل ہی نہ ہو جائے میرا۔۔۔ دھیان رکھنا اس بات کا۔” انداز ہنوز تھا۔
“میری بلا سے کل کی بجائے آج مر جاؤ جان چھوٹ جائے گی۔”
“اچھا چھوڑو ان فضول باتوں کو۔۔۔ رات میں تمہارے لیے کچھ چیزیں خرید کر لایا تھا۔۔ دیکھ کر بتاؤ کیسی ہیں؟” اس نے صلح جو انداز میں عمائمہ کا بازو پکڑا۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔ کچھ نہیں دیکھنا ہے مجھے۔۔۔ جاؤ یہاں سے۔”
“اتنی صبح اب اس سلیپنگ سوٹ میں کہاں جاؤں؟ کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے بیوی نے اتنی صبح ٹھنڈ میں کمر بدر کیوں کر دیا۔۔۔؟” انداز میں لاچارگی تھی۔
“بھاڑ میں جاؤ کوئی کچھ بھی کہے مجھے نہیں پتا۔” عمائمہ نے اسے پرے دھکیلا۔
“تم کہنا کیا چاہتی ہو؟” درید کی برداشت نے جواب دیا۔
“تم میرے قریب آتے ہو تو گھن آتی ہے مجھے۔ تم میرے بستر پر بیٹھتے ہو تو ناپاکی ہو جاتی ہے وہ جگہ۔۔۔ تم جب سے میری زندگی میں شامل ہوئے ہو مجھے اپنی زندگی سے نفرت ہو گئی ہے۔ میں نے تم جیسے گندگی کے لتھڑے شخص کی کبھی خواہش نہیں کی تھی مگر پھر بھی اللہ نے تمہیں میری تقدیر بنا کر ایک کالک کی طرح میری زندگی پر تھوپ دیا اور کیا سننا چاہتے ہو تم۔۔۔؟” وہ غصے میں روتی بول رہی تھی۔
“مانا کہ مجھ سے ایک غلطی ہوئی تھی۔ لیکن اتنی نفرت اتنا گھمنڈ اپنی نیک نامی پر؟ بہت اعلٰی چیز سمجھتی ہو نا تم خود کو تو میری بھی ایک بات کان کھول کر سن لو تم جیسی ہزاروں محض میرے ایک اشارے پر دوڑی چلی آتی ہیں۔ تمہیں دل سے قبول کیا تھا میں نے لیکن تمہیں شاید یہ عزت راس ہی نہیں تب ہی۔۔” اس نے بات ادھوری چھوڑی۔
“تم اب اسے میری ضد سمجھو یا کھلا چیلنج اپنی محبت میں تمہیں نہ تڑپا دیا تو میرا نام بھی سید درید بخت نہیں۔” اس نے تکیہ بیڈ پر پھینکا اور باہر نکل گیا۔
صبح وہ ناشتا کیے بغیر ہی نکل گیا تھا، ناشتے پر اس کا انتظار کرتی رہیں ہمزہ نے آکر بار بار عمائمہ سے اس کے متعلق پوچھا لیکن اور وہ انہیں “آتے ہی ہوں گے، ابھی آجائیں گے” جیسے فقروں سے تسلیاں دیتی رہی۔
“بیٹا مجھے ہول اٹھ رہے ہیں۔۔۔ نہ جانے منشی اور شیدے کے ساتھ کہاں اتنی ٹھنڈ میں نکل گیا ہے۔ تم اس کے موبائل پر فون تو کرو۔” انور کے اصرار پر ابھی لاشش و پش میں تھی کہ اس کے موبائل کی بیپ ہوئی گھر کا نمبر دیکھ کر اس کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے۔
“السلام علیکم بابا۔۔۔ کیسے ہیں آپ؟ میڈیسن تو ٹائم پر لے رہے ہیں نا؟” صادق صاحب اس کے جذباتی سے انداز پر مسکرائے۔
“الحمدللہ بیٹا میں ٹھیک ہوں اور تمہارے ڈر سے میڈیسن بھی لے رہا ہوں پہلے مجھے یہ بتاؤ رات درید خیریت سے پہنچ گیا تھا نا۔۔۔؟ میں تو کہہ رہا تھا رات ہمارے ہاں گزار کر صبح نکل جانا پر مانا ہی نہیں۔”
“درید آپ کی طرف تھے؟” حیرت سے آواز مدم ہوئی۔
“ہاں بیٹا اس نے بتایا نہیں تمہیں؟ رات کا کھانا ہمارے ساتھ ہی کھایا تھا اس نے۔۔۔ تمہاری ماں نے تاکید بھی کی تھی پہنچ کر فون کر دینا، رات اچھی خاصی دھند ہو رہی تھی۔”
“جی وہ مجھے کہہ گئے تھے کہ میں آپ کو فون کر دوں۔ ابھی میں آپ کو فون کرنے ہی والی تھی۔” عمائمہ نے بات بنائی۔
“اور بیٹا خیریت ہے سب بہن جی کیسی ہیں؟”
“جی بابا سب ٹھیک ہیں امی فاطمہ، زینی اور آمنہ کیسی ہیں؟”
“بیٹا تمہیں بہت یاد کر رہی ہیں۔”
“بابا میں ایک دو دنوں میں آؤں گی۔”

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *