Teri Preet Gali Harjai Piya By J Nikhat Novel20726
Teri Preet Gali Harjai Piya By J Nikhat
Forced Marriage | Second marriage | Revenge plots | Possessive Love | Romantic Urdu Novel
تت۔۔۔تم۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔؟آہ!”
اور اگلی ہی ساعت مترنم آواز میں مدہوش فضا میں دل دہلاتی ہوئی چیخ گونجی تھی،اسے یہاں دیکھ کر ناصرف حواسوں نے ساتھ چھوڑا تھا بلکہ محترمہ نے تھرماس کو بھی اپنے پیروں پر چھوڑ دیا تھا۔
ارے سنبهل کر۔۔”
جبران ایک جست میں اس تک پہنچا تھا جو ایک ٹانگ اٹھائے اسی جگہ دیدے پھاڑے کھڑی تھی۔
“ٹھیک ہو تم۔۔۔؟”
وه تشویش سے پوچھ رہا تھا۔
“مجھے گولی مارو،پہلے تم یہ بتاؤ تم یہاں کیا کر رہے ہو وه بھی میرے کمرے میں۔۔؟”
اس نے دانت کچکچا کر پوچھا تھا۔
“آنٹی نے ضد کی تو میں منع نہیں کرسکا۔۔”
تھرماس اٹھا کر سائیڈ پر رکھتے اس نے شرافت سے جواب دیا تھا۔
“آہا! ہا! ہا! اتنے ہی معصوم ہیں نا آپ جبران صاحب؟”
اس نے ہاتھ اٹھا کر چڑانے والے انداز میں تالی بجائی تھی۔اور اسی اثنا میں اس کے کمر کے گرد لپٹا پلو آزاد ہوا تھا۔لیکن محترمہ کو غصہ میں ہوش کہاں رہتا تھا۔
“بابا نے کہا تو بینکویٹ ہال تک ڈراپ کرنے چلے گئے،پھر دماغ میں سمائی تو لینے آگئے،لوگوں نے کہا تو اسٹیج پر چڑھ گئے،اور اب میری ممی نے کہا تو آپ یہاں رک بھی گئے،اتنے ہی فرمانبردار ہیں نا آپ؟ ایک کام کیوں نہیں کرتے آپ، فل ٹائم اداکار تو ہیں ہی، پارٹ ٹائم شرافت و سعادت مندی کا بزنس بھی چلا لیں۔یقین کریں بڑا پرافٹ ہوگا۔۔۔”
وه تپے تپے انداز میں ہاتھ نچا نچا کر اس پر اپنی کھولن نکال رہی تھی اور جبران سینے پر بازو باندھے اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔
سرخ جارجیٹ کی ساڑھی اس کے دراز ہوش ربا سراپے پر غضب ڈھا رہی تھی،سڈول بازوں کو آستین بس کہنیوں تک چھپانے میں کامیاب تھے،تضاد پشت پر گھنے گھٹاؤں کی طرح لہراتے اس کی آبشار زلفیں، جو اس کے ادھر ادھر گردن ہلانے پر ناگن کی طرح بل کھا رہے تھیں،صراحی دار شفاف گردن میں پینڈنٹ چمک رہا تھا،غصہ سے قند دھار تیکھے نقوش کو مٹے مٹے میک اپ نے قاتلانہ بنا دیا تھا،اس پر ستم تھا بڑی بڑی گھور سیاہ آنکھوں میں كاجل کی گہری دھار،اور مسكارے سے سنواری گئی پلکوں کی چلمن کا اٹھنا گرنا۔۔
اسیرِ شباب ہونا،
گرفتارِ طلسم ہونا،
مدہوش و مبہوت ہونا،
جبران عباسی کی گہری بھوری آنکھوں میں اتری استحاق بھری تراوٹ کی تشریح کے لیے مندرجہ بالا سارے شاعرانہ جملے پهیكے تھے،وه تو بےخود سا دونوں پنکھڑیوں کی تکرار میں ہی کھویا تھا آواز تو اس کی سماعت میں پڑ ہی نہیں رہی تھی۔
“ہیلو! مسٹر شرافت عباسی! میں آپ سے مخاطب ہوں۔۔۔”
جواب میں مکمل خاموشی محسوس کر زرناب نے اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی تھی۔
“میں اتنا بھی شریف نہیں ہوں۔۔”
اپنی بےخودی پر ہولے سے ہنستا ہوا وه بھاری آواز میں بولا تھا پر نگاہ اس کے صندل سراپے سے نہیں ہٹائی تھی۔
“وہاٹ۔۔۔؟”
زرناب اس کے انداز پر چونکی تھی۔
“میں نے کہا، میں اتنا بھی شریف نہیں ہوں کہ مجھے شرافت عباسی نام رکھنا پڑے۔۔۔”
اس کے مسکراتے ہوئے لہجے میں کچھ تو ایسی بات تھی جس نے زرناب کو سٹپٹانے پر مجبور کیا تھا۔
اس کا دھیان فوراً اپنے حلیہ پر گیا تھا، بلاؤز کافی بڑا تھا لیکن پنز نکال دینے کی وجہ سے اور کپڑا جارجیٹ ہونے کی وجہ سے جلد نظر آرہی تھی،تضاد کھلے بال اور پلو کا انداز۔۔مطلب وه ٹھیک ٹھاک بےتكلف حلیہ میں اس کے سامنے کھڑی بکواس کیے جارہی تھی۔
یکایک ہی فطری شرم و حیا نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔بوکھلاہٹ میں پلو کو چاروں طرف سے کھینچتے وه سخت مشکل میں پڑی تھی۔
“کیا ہوا؟ ہوگیا کوٹا فل یا اب بھی کچھ باقی ہے میں ہمہ تن گوش ہوں،کنٹنیو کرو تم۔۔۔”
اس کے پرحجاب انداز سے حظ اٹھاتے ہوئے جبران نے ایک قدم اس کی سمت اٹھایا تھا۔

More Novels Collection
More Novels Collection
Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕