Khazan Ki Sham Hon Mei By J.Nikhat 

Family Story | Emotional Drama | Complete Novel | Romantic Urdu Novel

 

“ماما! میں نے نہیں جانا ان کے سامنے۔۔۔۔”

پری کی ضد اٹل تھی۔۔

“بچے! یہ تو کوئی ضد نہیں ہوئی، شوہر ہے وه تمہارا، تین بار تمہیں بلاوا بھیج چکا ہے۔جاؤ، جاکر سن آو کیا کہنا ہے اسے۔۔۔”

حبہ بیگم نے سنجیدگی سے پچکارا۔لیکن بیڈ پر لحاف میں گھس کر بیٹھی پری ٹس سے مس تک نہ ہوئی تھی۔

ضارب بھی دوسری طرف مستقل مزاجی سے ہر پانچ منٹ بعد ایک الگ ملازم کو پیغام لیکر بھیج رہا تھا۔

“پری! اب تم میری بات نہیں مانو گی۔۔۔؟”

انھوں نے جذباتی حربہ آزمایا۔

“ماما! آپ میری پریشانی سمجھیں،ایک تو ویسے ہی ان کا سامنا میرے لیے کسی آگ کا دریا پار کرنے سے کم مشکل نہیں ہے، اور اب اس حالت میں تو میں۔۔ماما! کم از کم آپ تو میری حالت سمجھیں، ہمارے مابین بےشک پہلے والا تعلق نئے سرے سے استوار ہوا ہے،لیکن وه ابھی اس تیسرے وجود سے ناواقف ہیں۔۔۔”

جھجھک وه پریشانی سے بتاتی وه آخر تک روہانسی ہوگئی تھی۔

“بیٹا! تو آپ کیا چاہتی ہیں؟کیا کیا جائے اس کا،کیوں کہ ایک گھر میں رہتے تو آپ اس سے مستقل فرار نہیں حاصل کر سکتی،وه شوہر ہے آپ کا اور اب تو آپ یہ بھی جانتی ہیں کہ گزشتہ چار سال سے وه آپ کے تصور کو اپنی ذات کا حصہ مانے بیٹھا ہے۔۔۔؟”

سنجیدگی سے اس کی رائے پوچھتے انھوں نے ضارب کے دل کی حالت کھلے الفاظ میں گوش گزار کیا تو وه لمحے کو جھینپ گئی۔پھر قدرے پست لہجے میں گویا ہوئی۔

“ماما! اگلے ہفتے سے میرے یونی کے کلاسیز سٹارٹ ہونے لگے ہیں،آپ تب تک مجھے اپنے ساتھ یہی رکھیں،اس کے بعد مجھے کسی طرح میرے گھر بھیج دیں،وہاں نور جہاں آپا ہیں،وه میرا خیال رکھ لیں گی۔اور۔۔۔”

“دماغ خراب ہوگیا ہے پری تمہارا؟ حبہ بیگم بھڑک اٹھی تھی۔پہلے سے پیچیدہ چیزوں کو اور الجهانا چاہتی ہو؟ نہیں چلو تمہاری انوکھی منطق مان بھی لوں تو ضارب کو کیا جواز دوں گی،ارے! میں بھی کیا اناپ شناپ بول رہی ہوں،اس حالت میں تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو۔۔۔؟”

حبہ بیگم کو پہلی بار پری پر بہت غصہ آیا تھا جس کے اظہار میں انھوں نے بالکل رعایت سے کام نہیں لیا۔

“ماما! اس مسئلہ کا فل وقت کوئی حل نہیں ہے،آپ مجھے بھیج دیں،اور پیچھے ان سے کچھ بھی کہہ دیں،مثلاً۔۔۔۔”

“مثلاً۔۔۔؟”

پشت سے ابهری سرد آواز پر دونوں حواس باختہ سی اس جانب متوجہ ہوئیں، عین دہلیز پر وه چہرے اور آنکھوں میں سرد سی سنجیدگی لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

اس کی سرد نظروں نے پری کی ڑیڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دی تھی۔

“ماما! ایف یو ڈونٹ مائنڈ، کیا آپ تھوڑا ہمیں پرائیویسی فراہم کر سکتی ہیں،تاکہ میں آپ کی بیٹی کی ذہنی اختراع کا درست علاج کر سکوں۔۔۔”

اس کے تاثرات ہی نہیں لہجہ بھی ٹھٹھرا دینے والا تھا۔

“ضارب! تم باہر جاؤ، میں بات کرتی ہوں ناں۔۔۔”

“سوری ماما! بات نہیں کرنی تھی،آپ کو سمجھانا تھا اپنی لاڈلی کو کہ شوہر کو دوسرے الفاظ میں مجازی خدا کہا جاتا ہے،جس کے جائز احکام پر لبیک کہنا عین ثواب ہے، اور ان کو بات کرنے کیلئے طلب کرنا میری کوئی ناجائز ڈیمانڈ نہیں تھی جو آپ آرام سے ان کے یہاں سے غائب ہونے کی پلانگ سن رہی تھیں۔۔۔”

اس نے کتنا سنا تھا معلوم نہیں،لیکن اس کی حددرجہ سنجیدہ بلکہ استہزائیہ انداز پری کا ہی نہیں حبہ بیگم کا بھی دل ہولا گیا تھا۔

More Novels Collection

More Novels Collection

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *