Kali Churiyan by Nayab Jilani Novel20789

Forced Marriage | Romantic Novels | Feudal Romance | Family Drama | Revenge | Emotional Novels | Suspense

 

Kali Churiyan Novel by Nayab Jilani featuring a dark feudal romance, forced marriage, family honor, and emotional love story.

Kali Churiyan by Nayab Jilani – A powerful Urdu novel about obsession, forced marriage, revenge, and emotional love.

 

خدا کے لیے شاہ سائیں مجھے چھوڑ دیں میری عزت کو داغدار مت کریں میں آپ کے پاؤں پکڑتی ہوں مجھے حویلی چھوڑ آئیں.. وہ شاہ سائیں کے پاؤں پکڑے اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھی.
وہ اس کے قدموں میں پڑی التجا کر رہی تھی، جب اس نے احلاء کے سامنے رہائی کی کچھ شرائط رکھیں: “صرف میرے ساتھ نکاح کے لیے رضا مندی دے دو۔ تجھے باحفاظت گھر پہنچا دوں گا۔ بہت عزت اور مان سے دور لے جاؤں گا۔ ہم اچھی زندگی گزاریں گے۔”
“آپ کمینے، ذلیل اور بے غیرت ہو۔ آپ سے نکاح کرنے سے بہتر ہے خود کشی کر لی جائے۔”
“امید چھوڑ دو احلاء! ورنہ تمام عمر پچھتاؤ گی۔” مقتضیٰ شاہ اسے ہر صورت رضامند کرنا چاہتا تھا مگر سات راتیں گزر جانے کے بعد بھی وہ قطعاً نہ مانی۔ اب تم چاہتی ہوکہ تیرے ساتھ سختی سے پیش آؤں۔ مقتضیٰ شاہ کے ارادے خطرناک تھے۔
“آپ میری بوٹیاں بھی نوچ دو گے تب بھی آپ کے ساتھ نکاح کا بندھن نہیں جوڑوں گی۔” وہ زخمی شیرنی کی طرح دہاڑ کر بولی۔
“تجھ سے محبت کی ہے۔ تجھے دل میں بسایا ہے۔ گھر میں بسانے کی بھی خواہش تھی۔ سیدھے اور شفاف طریقے سے اپنانا چاہا تھا مگر تم خود ہی عزت اور احترام نہیں چاہتیں۔ مجھے اب دوسرا طریقہ اپنانا پڑے گا۔ ابھی کچھ دیر بعد مولوی صاحب آ رہے ہیں۔ ان کے سامنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ خاموشی سے نکاح کے لیے مان جاؤ۔ رخصتی پیر شاہ اور تمہارے بابا کی واپسی کے بعد دھوم دھام سے ہوگی۔” اس نے اپنا تمام پروگرام احلاء کے گوش گزار کیا۔
“یہ نکاح میری آخری سانس تک نہ ہوگا۔” احلاء چلائی۔
“آپ کے کسی بھی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔ آپ نے ذلت کی پاتال میں مجھے اتار دیا ہے۔ بھلے میرے گلے پر آری چلا دو۔ میں آپ کو کل بھی گدھ سمجھتی تھی، آج بھی چلا چلا کر کہتی ہوں کہ آپ گندے گدھ ہو۔ حرام کھانے والے، نفس کے پجاری۔ باہر نکلو، آپ کےایک اشارے پر دس قربان ہو کر آ جائیں گی، مگر میں احلاء درویش ہوں۔”
“دیکھ لوں گا تمہیں، کیسے نہیں مانتیں؟ تم رینگتی، ہانپتی اور میرے پیروں میں گڑگڑا کر ہاتھ جوڑو گی کہ تجھے تحفظ اور عزت بخش دوں۔ میں تمہیں کسی اور کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔” مقتضیٰ شاہ کے لہجے میں زخمی درندے کی سی دھاڑ تھی۔
ایک دن اور طلوع ہو کر اندھیروں میں ڈوب گیا تھا۔ آٹھ راتیں گزر چکی تھیں۔ احلاء جانتی تھی کہ یہ فارم ہاؤس شہر سے ساٹھ میل دور ہے۔ یہاں ٹیلی فون کی سہولت بھی نہیں تھی۔ ایک بوڑھی عورت اسے دن میں تین وقت خوراک پہنچاتی تھی۔ وہ عورت گونگی اور بہری تھی۔ نہ بول سکتی تھی نہ سن سکتی تھی۔ احلاء کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ ان اونچی دیواروں کو توڑ کر یہاں سے نکل بھاگے۔
“کیا میری واپسی کے بعد کوئی میری بات پر یقین کرے گا؟ مجھے چاچا نے نہیں، مقتضیٰ شاہ نے اغوا کیا تھا۔ نہیں، کبھی نہیں۔ کسی نے بھی میری بات پر یقین نہیں کرنا۔” وہ سر جھٹکتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“حدی شاہ! کہاں ہو تم؟ خبر نہیں ہے تمہیں کہ مجھ پر کون سی قیامت بیت رہی ہے۔”
احلاء کا وجود جھٹکے کھا رہا تھا۔ باہر ایک دم طوفانی بارش برسنے لگی تھی۔ آندھی کے جھکڑ چل رہے تھے اور درختوں کی شاخیں شائیں شائیں دلوں کو دہلا رہی تھیں۔ کہیں الو اور گیدڑ کی رونی، خوف ناک آوازیں اس کی سماعتوں میں اتر کر خوف و ہراس میں اضافہ کر رہی تھیں۔
تب ہی دروازہ کھلا اور بند ہوا۔ وہی بوڑھی عورت آتی دکھائی دی۔ اس کے ہاتھ میں ایک بھاری شاپر تھا اور وہ اشاروں کے ساتھ اسے سمجھا رہی تھی کہ اٹھ کر یہ کپڑے پہن لو۔ مائی نے زیورات کے ڈبے اور ایک عمدہ سرخ سوٹ نکال کر پلنگ پر رکھا۔ احلاء یوں بھڑک کر پیچھے ہٹی تھی گویا اس شاپر میں سے زہریلے سانپ برآمد ہو رہے تھے۔
“ہوش کے ناخن لو۔ میں نہیں کہہ رہی ہوں، اٹھاؤ یہ سب!”
آتے ہی وہ ایک دم چلائی۔
مائی اشارے کے ساتھ عجیب و غریب آوازیں منہ سے نکالتی اسے سمجھا رہی تھی کہ غصہ مت کرو اور کپڑے آرام سے پہن لو۔
“میں ساگ لگا دوں گی ہر شے کو!” اس نے بھاری کام سے بوجھل، نرم ملائم کپڑوں کے چیتھڑے اڑا دیے۔ زیورات کے ڈبوں کو توڑ پھوڑ کر کمرے میں اچھال دیا۔ مائی خوف زدہ ہو کر کمرے سے بھاگ گئی۔
“یہ کیا بدتہذیبی ہے؟ بے عقل، احمق لڑکی! خوش قسمتی روز روز دستک نہیں دیتی۔” تھوڑی دیر بعد مقتضیٰ بھناتا ہوا آ گیا۔
“میں بہت بدبخت ہوں۔ مجھے بدنصیب ہی رہنے دو۔” وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“مجھے گھر لے چلو، خدا کے لیے گھر لے چلو۔”
“کیا کرو گی اب وہاں جا کر؟ اتنی راتوں سے غائب ہو۔ وڈیری اماں تمہاری کسی بات پر یقین نہیں کریں گی۔ بہتر یہ ہے ابھی ہم نکاح کر لیتے ہیں۔ دیکھو! میں تمہاری آسانی کے لیے یہ سب کر رہا ہوں۔ کوئی بھی فرد تم سے سوال جواب نہیں کرے گا۔ کسی کی جرات نہیں مقتضیٰ کے مقابل آ کھڑا ہو۔ میں سارا معاملہ سنبھال لوں گا۔”
وہ ایک دم چلائی۔ آپ جہنم میں جاؤ! آپ کو بھی اک پل کو بھی سکون نہ ملے! وہ رو رہی تھی۔ پھر کسی زخمی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹ پڑی۔ شاید اتنے دنوں کی اعصابی جنگ نے اسے تھکا ڈالا تھا، جب ہی تو وہ سوچنے، سمجھنے اور غور کرنے کی تمام صلاحیتیں کھو چکی تھی ورنہ اک لمحے کے لیے یہ ضرور سوچتی کہ مقابل ایک مضبوط، توانا اور بھرپور مرد ہے جو لمحوں میں اسے بے بس کر سکتا ہے۔
اس نے مقتضیٰ کا چہرہ ناخنوں سے کھرچنے کی کوشش کی تھی اور وہ اسے بازوؤں میں بھینچے ایک پل میں ہی تمام معاملہ سمجھ کر قابو کر چکا تھا اور وہ کسی خوف زدہ سی چڑیا کی طرح اس کے فولادی بازوؤں میں پھڑپھڑاتی رہ گئی تھی۔ مقتضیٰ کا ہاتھ اس کی گداز کلائی پر پڑا تھا اور اس کی کلائیوں میں پڑی کالی چوڑیاں ٹوٹتی چلی گئیں۔ ڈھیروں ٹکڑے ارد گرد بکھر چکے تھے، احلاء درویش کی عزت کی طرح، اور وہ اس کے سحر انگیز نرم و نازک سراپے کی دلکشی میں کھوتا چلا گیا۔

Click the below link to download Novel

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

 

Short Summary

Kali Churiyan by Nayab Jilani is an emotional Urdu novel revolving around Ahla Darvesh, whose life changes after being kidnapped by Muqtaza Shah. The story explores forced marriage, obsession, family honor, sacrifice, emotional pain, and the struggle between love and power. With intense emotions, suspense, and unforgettable twists, this novel keeps readers engaged until the very end

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *