Humsafar Humnasheen By CUM Novel20777

Teacher Student Romance | Forced Marriage | University Romance | Romantic Novels | Emotional Romance | Marriage of Convenience | Pakistani Novels |

Humsafar Humnasheen By CUM teacher student romance novel cover

Humsafar Humnasheen – A Beautiful Teacher Student Romance By CUM

“آپ نے جس لڑکی سے میرا نکاح کیا ہے وہ میری اسٹوڈینٹ ہے مام۔۔وہ بھی وہ جس کی وجہ سے مجھے یونی سے رسوا ہو کر نکلنا پڑا ہے۔ ” وہ اپنا موبائل زمین پر پھینکتے چلایا تو اس کی ماں نے گہری سانس لی۔”مجبوری تھی۔اس لڑکی کے بھائی نے تمہاری بہن سے شادی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ تم اس کی بہن سے نکاح کر لو۔ ” اپنی ماں کی بات پر وہ سر تا پیر سلگ اٹھا تھا تو کیا اب وہ بگڑی امیر زادی اس کی زندگی پر بھی حق جتانے والی تھی۔”ٹھیک ہے۔۔کر دیا نہ آپ نے نکاح۔۔اب وہ میری بیوی ہے جیسے چاہے سلوک کروں کوئی بیچ میں نہیں بولے گا۔ ” غصے سے کہتا وہ واپس کمرے گیا تو دلہن بنی سبین پریشانی سے کمرے میں ٹہل رہی تھی۔”دیکھیں پروفیسر پہلے بھی غلط فہمی ہوئی اور ابھی بھی میں نہیں جانتی تھی کہ میری شادی آپ سے۔۔۔” ابھی اس کا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے موسم بہت خوبصورت تھا یونیورسٹی کے کیفٹیریا میں بیٹھی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہی تھی تبھی اچانک سے پاس بیٹھی عروہ کی نظر سامنے سے گزرتے پروفیسر تیمور کی طرف گئی جو کلاس کی طرف بڑھ رہے تھے”او مائی گاڈ غضب ہو گیا ہم سے پہلے وہ کلاس روم میں جا رہے ہیں “اس نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تو سبین نے پیچھے مڑ کر دیکھا پروفیسر تیمور کی پشت اس کی طرف تھی “یہ اب کون سے نئے پروفیسر ہیں” سبین نے بے ساختہ سوال کیا” او مائی گاڈ تمہیں نہیں معلوم یہ اس یونیورسٹی کے سب سے زیادہ ہینڈسم اور خوب رو پروفیسر ہیں جو دو دن پہلے ہی آئے ہیں اور تم آج آیی ہو اس لیے تمہیں معلوم نہیں ،اگر ان کی کلاس میں کوئی موجود نہیں ہوتا تو یہ باہر نکال دیتے ہیں چلو چلو جلدی کرو ہمیں گولی کی سپیڈ سے جانا ہوگا” عروہ کے ساتھ ساتھ اسوہ بھی چیخ اٹھی تھی “او ہو تم لوگوں کو ہوا کیا ہے اتنی کیوں افراتفری مچارہی ہو” سبین سخت بیزار ہوئی تھی” پروفیسر ہی ہے کوئی ہٹلر تھوڑی نہ ہے” وہ بڑبڑاتے ہوئے ان کے ساتھ آگے بڑھی لیکن وہ لوگ تیزی سے بھاگتے ہوئے اندر کلاس کی طرف گئی تھی اور سبین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے ان کی بات پر ہونہہ کرتے ہوئے آگے بڑھی تھی چند سیکنڈ بعد وہ کلاس کے دروازے کے سامنے کھڑی تھی اور پروفیسر تیمور بورڈ پر کچھ لکھ رہے تھے “سر مے آئئ کم ان” اس نے نرم آواز سے پوچھا چہرے پر مسکراہٹ سجائی۔۔۔”نو” آواز سن کر اسے دھچکا سا لگا” سر میں پوچھ سکتی ہوں کیوں” پروفیسر تیمور نے ایک دم سے مارکر رکھ کر سینے پر بازو لپیٹے اور اسے غور سے دیکھا “میری کلاس میں اسٹوڈنٹس پورے وقت پر موجود ہونے چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو میں انہیں کلاس میں نہیں آنے دیتا یہ میری کلاس کا ڈے ون سے ایک رول ہے” یہ سنتے ہی سبین کے تن بدن میں آگ لگ گئی “لیکن سر میرا تو ڈے ون ہی آج ہے تو یہ رول مجھ پر اپلائی نہیں ہوتا مجھے آپ کے اس رول کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا “اس نے پروفیسر تیمور کے سامنے بغیر ڈرے بغیر جھجکے کہا تو وہ حیرت سے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھنے لگے” ویری گڈ زبان تو بہت اچھی چلتی ہے لیکن اگر دماغ چلایا ہوتا تو اور بات تھی “پروفیسر تیمور کی بات سن کر سبین کو ہتک کا احساس ہوا تھا اس کے چیگم چبانے کی روانی میں تیزی آئی تھی “آپ مجھ پر طنز کیوں کر رہے ہیں “پروفیسر صاحب اس سے بے نیاز ہو کر اب دوبارہ بورڈ پر کچھ لکھ رہے تھے “مس سبین میں آپ کو لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں ہماری اور کلاس کی ڈسٹربنس کا باعث مت بنے یہاں سے لوٹ جائیے میں آپ سے پھر بات کرتا ہوں” سبین کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ پروفیسر تیمور کی بات سنے بغیر اندر داخل ہوئی اور اپنی سیٹ پر جا بیٹھی ایک لمحے کے لیے پروفیسر تیمور شاکڈ ہو گئے تھے “تو آپ کو بات ایسے سمجھ نہیں آتی” وہ غصے میں جل رہا ہے سبین اس کی بات سنے بغیر بیگ سے کاپی نکال کر لکھنے لگی تھی پروفیسر تیمور سخت مزاج واقع ہوئے تھے،سبین کی ہٹ دھرمی دیکھ کر ان کا پارہ ہائی ہو گیا “ٹھیک ہے کلاس تو آپ خود ہی پڑھ لیجیے میں نے ڈے ون سے بتا دیا ہے جو میرے رول پر عمل درامد نہیں کرے گا چاہے وہ کلاس کا کوئی ایک فرد ہی کیوں نہ ہو میں اسے اپنی کلاس میں برداشت نہیں کروں گا “یہ کہہ کر وہ مار کر وہیں پھینک کر باہر کی طرف نکل پڑے” یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے یار آج کا ہمارا لیکچر ضائع کر دیا ہم تمہاری طرح امیر کبیر گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے اسکالرشپ پر یہاں پڑھنے آئے ہیں اور تم ہو کے ڈھیٹ بن کر بیٹھی ہو” ایک نہیں دو نہیں بلکہ آدھی کلاس اس کے پیچھے پڑ گئی تھی سبین کی آنکھوں میں آنسو آگئے بے شک وہ امیر زادی تھی اچھے خاصے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی لیکن اس کا بھی تو دل تھا نا جو نازک سا تھا اور بری طرح ٹوٹ کر بکھر گیا تھا “پر میری کوئی غلطی نہیں ہے” اس نے کہنا چاہا “جب ہم تمہیں کہہ رہے تھے کہ ہمارے ساتھ جلدی چلو تب تم نے بات کو ناک سے مکھی کی طرح اڑا دیا اور اب آنسو بہا رہی ہو” اسوہ نے کریلے چباتے ہوئے اسے جواب دیا تو وہ خاموشی سے اٹھ کر کیفٹیریا کے پاس آئی اور وہاں بیٹھ کر سنسان جگہ پر آنسو بہانے لگی “آخر میری غلطی کیا ہے اور یہ سر، انہیں تو اللہ پوچھے گا یہ مجھ سے اس قدر بدتمیزی سے بات کیسے کر سکتے ہیں” اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پروفیسر اکرم کے پاس جا کر ان کی شکایت کردے اور اس نے ایسا ہی کیا تھا ،آ نسو صاف کرتے ہی وہ وی سی کے افس جا کر وہاں انتظار کرنے لگی، پروفیسر اکرم راؤنڈ پر موجود تھے جیسے ہی انہوں نے سبین کو آفس کے اندر داخل ہو کر ان کے انتظار میں بیٹھے پایا تو مسکرائے” ارے میری بیٹی کیسی ہے” انہوں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا وہ اس کے والد صاحب حسین اکبر کے گہرے دوست تھے” میں بالکل ٹھیک ہوں لیکن آج میں آپ کے پاس ایک شکایت لے کر آیی ہوں” اس نے اپنی آنکھوں سے نکلتے ہیں آنسوؤں کو صاف کیا اور انہیں دیکھ کر کہا تو وہ حیران ہوئے “شکایت کس کی شکایت”…” جو نئے پروفیسر ائے ہیں پروفیسر تیمور” پروفیسر اکرم نے اپنی آنکھیں سکیڑیں۔۔ ” وہ ارے وہ تو بہت زیادہ بردبار اور سنجیدہ مزاج کے انتہائی اچھے انسان ہیں نوجوان بھی ہیں اور خوبرو بھی لیکن تمہیں ان سے کیا شکایت ہوئی ہے/” انہوں نے سبین سے پیار سے پوچھا “انہوں نے مجھے اپنی کلاس میں نہیں بیٹھنے دیا یہاں تک کہ میرے بیٹھنے پر خود کلاس چھوڑ کر چلے گئے غلطی صرف اتنی تھی کہ میں ان کی کلاس میں صرف چند سیکنڈ لیٹ پہنچی اور انہوں نے میری بےعزتی کر دی مجھے برا بھلا کہا “سبین نے شکایت لگائی تو پروفیسر اکرم سوچ میں پڑ گئے “اور تم لیٹ کیوں گئی بیٹا “انہوں نے محبت سے پوچھا “مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کا رول ہے اور مجھے تو اسی وقت پتہ چلا ” وہ روہانسی ہوگئی” ٹھیک ہے میں اسے بلاتا ہوں” انہوں نے فورا سے اپنی سیکرٹری کو کہہ کر پروفیسر تیمور کو اپنے آفس میں بلوایا جیسے ہی وہ شخص اندر داخل ہوا تو وہاں بیٹھی سبین کو دیکھ کر اس کی آنکھیں ابل پڑی اس نے ضبط سے کام لیا اور وہاں بیٹھ گیا “میں نے سنا ہے آج آپ نے کلاس نہیں لی” پروفیسر تیمور نے ہاں میں سر ہلایا” بالکل جب کوئی ایک طالب علم نافرمانی کرے تو اس کی سزا پوری کلاس کو بھگتنی پڑتی ہے اور یہ نظام قدرت بھی ہے” انہوں نے نپ تلے انداز میں جواب دیا۔۔۔”لیکن بچی کو علم نہیں تھا” پروفیسر تیمور مسکرائے “بچی کو علم تھا اور یہ آپ بچی سے خود ہی پوچھے جو کہ ہرگز بھی 18 سال کی ننھی منی بچی نہیں ہے پورے 22 برس کی ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ نئے پروفیسر کا یہ اصول ہے پھر بھی یہ اپنی دوستوں کے ساتھ بھاگ کر انے کے بجائے ٹھہر ٹھہر کر ا رہی تھی اسی غلطی پر انہیں سزا ملی ہے شاید انہوں نے اپ کو یہ بات نہیں بتائی” سبین ان جی بھر کر شرمندہ ہوئی” اٹس اوکے پروفیسر تیمور میں آپ دونوں کی دوستی کروا دیتا ہوں” پروفیسر اکرم ہنس پڑے تھے سبین ایک دم سے کھڑی ہو گئی” بہت شکریہ انکل “اس نے جتاتی ہوئی نگاہوں سے پروفیسر تیمور کو دیکھا اور باہر نکل گئے پروفیسر تیمور کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے اور پھر بہانہ بنا کر اٹھ گئے تھے البتہ اس حرکت نے سبین کو ان کی نظروں میں اور گرا دیا تھا۔۔۔اگلے دن یونیورسٹی میں کافی طالبات غیر حاضر تھے لیکن پروفیسر تیمور کی کلاس میں سب حاضر تھے جو اس بات کی دلیل تھا کہ پروفیسر تیمور کے غصے کے آگے سب ڈرتے تھے” سو کلاس آج ہم نے ایک اسئنمنٹ ڈے رکھا ہے اور سب کو اسسائنمنٹ وقت پر جمع کروانے کا کہا تھا کہ سب کی اسائنمنٹ کمپلیٹ ہے ؟”انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو ان کی نظر سبین کی طرف گئی جو اپنا اسائنمنٹ اخری وقت تک کمپلیٹ کرنے میں لگی ہوئی تھی” مس سبین “انہوں نے سبین کو پکارا “یس سر “وہ کھڑی ہو گئی چہرے پر مسکراہٹ سجائی” کیا آپ نے اسسائنمنٹ وقت پر کمپلیٹ نہیں کی جو آپ کو کلاس میں آکر کمپلیٹ کرنا پڑ رہی ہے” سبین مسکرائی اور نفی میں سر ہلایا “جی نہیں سر میں بھی وقت کی پابند ہوں بس ایک لائن میں کچھ گڑبڑ ہو گئی تھی وہی صحیح کر رہی تھی” اس نے کڑے لہجے میں جواب دیا “اوکے تو ائیے آن اپ نہ صرف پریزنٹیشن دیجئے بلکہ اپنی اسئنمنٹ بھی سبمٹ کروائییں” یہ سنتے ہی اس کے چہرے کا رنگ اڑا گیا ۔۔” کیا ہوا جاؤ نا جلدی جاؤ اور پریزنٹیشن دو ” اسوہ نے نہ جانے کیوں سبین پر طنز کیا اسے اس طرح پروفیسر تیمور کا التفات ملتا دیکھ کر وہ جل اٹھی تھی” سر پر میں پریزنٹیشن۔۔۔ائی مین میں پریزنٹیشن میں اٹکتی ہوں “اس نے کہا تو پروفیسر تیمور مسکرائے “دنیا کا کوئی کام ایسا نہیں ہے جو انسان نہ کر سکے اور آپ تو کافی ٹیلنٹڈ ہیں میں نے آپ کی اسئنمنٹ ایک نظر میں دیکھ کر فیصلہ کر لیا ہے پریزنٹیشن دے کر اپنی پرسنلٹی میں چار چاند لگا دیجیے” پروفیسر تیمور نے پہلی بار اسے نرمی سے بات کی توہ مسکراتے ہوئے سٹیج پر آئی تھی وہ اندر ہی اندر کپکپا رہی تھی ،لیکن پروفیسر تیمور نے مسکراتے ہوئے سر ہلا کر اس کی حوصلہ افزائی کی تھی “کم آن مس سبین آپ یہ کر سکتی ہیں”انہوں نے کلاس کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے اس کی ہمت بندھائی تو سبین نے گہرا سانس لیتے ہوئے پریزنٹیشن شروع کی اور بہترین انداز میں ختم کی تھی و”یری گڈ آپ واقعی ٹیلنٹڈ ہیں مجھے آپ پر فخر ہے امید ہے کہ آپ پچھلے اختلافات بلا کر ایک انتہائی برائٹ سٹوڈنٹ کی طرح میری کلاس میں شامل ہوا کریں گی پ”روفیسر تیمور نے پورے دل سے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ سر جھکا گئی تھی لیکن اسوہ نے یہ منظر بھرپور طریقے سے دیکھا تھا ۔۔۔۔کلاس ختم ہوتے ہی وہ کیفٹیریا میں بیٹھی تھی “تمہیں نہیں لگتا کہ تمہیں پروفیسر کو اتنی جلدی معاف نہیں کرنا چاہیے” اسوہ نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا” میں ہوتی کون ہوں معاف کرنے والی, وہ واقعی اچھے ہیں شروع کے چند دن ہمارے درمیان غلط فہمی ہو گئی تھی اب وہ مٹ گئی ہے اور ویسے بھی اسٹوڈنٹ بننے کے لیے اپنے دل کو بڑا کرنا پڑتا ہے “سبین نے مسکراتے ہوئے سینڈوچ کو کترا تھا لیکن اسوہ نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اپنے ذہن میں ایک پلان ترتیب دیا تھا” دیکھتے ہیں کہ تم دونوں کی یہ خوشحالی کب تک برقرار رہتی ہے”…” کیا مطلب ” عروہ نے ا سے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا “میرا مطلب ہے کہ پروفیسر تیمور پھر سے غصے میں آئیں گے اور ادھر سبین کو ڈانٹ دیں گے تب اسے پتہ چلے گا کہ وہ غصے کے کتنے تیز ہیں” لیکن سبین نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے تھے” اٹس اوکے جو بھی ہیں وہ میرے استاد ہیں اور میں ان کا احترام کرتی ہوں پہلے دن کی غلط فہمی والی بات پیچھے رہ گئی اب آگے بڑھ جانا چاہیے” یہ کہتے ہوئے وہ اٹھی اور ان دونوں کو خدا حافظ کہتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی”

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

 SUMMARY

Humsafar Humnasheen is a heart-touching teacher–student romance that begins with misunderstandings, pride, and strict classroom rules. Professor Taymoor, known for his discipline and strong principles, clashes with his bold and wealthy student Sabain. A small misunderstanding soon turns into respect, admiration, and an unexpected bond. But fate has different plans when circumstances force them into a marriage neither of them ever imagined. Can love bloom after resentment, or will the wounds of the past destroy everything?

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *