Dil Tera Hamrahi Novel by Qurasa Razi Novel20875
Dil Tera Hamrahi Novel by Qurasa Razi Novel20875
Childhood Nikah | Cousin Romance | Enemies to Lovers | Romantic Comedy | Family Drama | Forced Rukhsati | Emotional Romance | Complete Urdu Novel
Short Description
Dil Tera Hamrahi Qurasa Razi ka aik entertaining aur emotional Urdu novel hai jismein bachpan ka chhupa hua nikah, shararti heroine, strict hero, family comedy aur enemies-to-lovers romance ko khoobsurat andaaz mein pesh kiya gaya hai.

Bachpan ke nikah se shuru hone wali ek shararti aur dilchasp mohabbat.
” اونچی آواز میں پڑھو۔۔۔۔” وہ غصہ سے دھاڑا ” میری انگلش کمزور ہے۔۔۔” وہ ممنائی۔ ہاشم کا غصہ سے برا حال ہو گیا۔ ” یہ لولیٹر میں آ لو یو لکھتے وقت طاقتور تھی۔۔۔” وہ اپنی پیلٹ زور سے ٹیبل پے مار گیا کہ فضا ایکدم چیخی۔ ” چپ ڈرامے بند کرو۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟؟؟ ” ” اچانک داجی کے آنے پے فضا کو حوصلہ ہوا۔ یہ دیکھیں داجی۔ آپ کا پوتا مجھے لو یو لو یو کر رہا ہے۔۔۔۔” وہ سارا الزام ہاشم کے سر پر لگا گئی۔ ” بیٹا تم دونوں ایک دوسرے کے نکاح میں ہو۔ اس میں کوئی بڑی بات نہیں۔” داجی نے دونوں کے سروں پے بم پھوڑا۔ ” اگر ایسی بات ہے داجی تو مجھے آج ہی رخصتی چاہیے۔” وہ روم میں آیا تو دروازہ لاک تھا۔ ” اگر اپنی خیر چاہتی ہو تو دروازہ کھول دو۔۔۔” اگلے پل دروازہ کھلا سامنے۔ ” فضا ” !!! وہ شیر کی مانند دھاڑتا ہوا مشتعل انداز میں حویلی میں داخل ہوا ۔ اسکی اس دھاڑ پر لاؤنچ کے صوفوں پر براجمان حویلی کے مکین خوف سے اُچھل پڑے ۔ ” کی۔۔ کیا ہوا ہاشم؟ ” صفیہ بیگم نے متفکرانہ سوال کیا۔ ہاشم کی سرخ رنگت اور اُسے فضا کا نام پکارتے دیکھ اُنھیں اندازہ ہو چلا تھا کہ اُن کی اکلوتی ضرور کوئی معرکہ سرانجام دے چکی ہے ۔ ” فضا کہاں ہے چاچی!! مجھے اس سے تفصیلاً بات کرنی ہے ” فضا کی تلاش میں نظریں اطراف میں گھماتے وہ اُنکا سوال نظر انداز کرتے اپنے مخصوص لب و لہجے میں گویا ہوا۔۔ ” فضا اپنے کمرے میں ہیں لالہ ” پلوشہ نے بغیر موقع کی نزاکت دیکھ تابعداری سے جواب دیتے ہر ایک نفوس کی گھورتی نظروں کا مرکز خود کی ذات کو بنایا۔ پلوشہ سب کی نظریں خود پر محسوس کرتے گھگھیاسی گئی جبکہ ہاشم نے سر کو اثبات میں ہلاتے تیزی سے سیڑھیاں پار کیں۔۔ ” اللہ جانے اب کیا کر بیٹھی ہے یہ لڑکی!! ضرور ہاشم کا کوئی کام بگاڑتے وہ اُسکے طیش کو دعوت دے گئی ہے” صفیہ بیگم فکرمند ہو چلی تھیں۔ ” بچی ہے صفیہ سدھر جائے گی۔۔” آرمین بیگم اپنے بیٹے کےطیش سے واقف خود پریشان تھیں لیکن صفیہ بیگم کو تسلی دے بیٹھیں۔ جبکہ پاس موجود پلوشہ اور مراد میں نظروں کا تبادلہ ہوا تھا۔ گو کہ وہ جانتے تھے ہاشم کے طیش کی وجہ۔۔ وہ بھپرا بادل بنا فضا کے کمرے تک آیا تھا کہ کمرے کی دہلیز پر ہی اُسکے قدم منجمند ہوئے اور نظریں تحیر سے پھیلیں۔۔ سامنے نظر آتا منظر تھا ہی اس قدر غیر متوقع ۔ اُسکی نگاہوں کے عین سامنے ایک بیسں سالہ دوشیزہ اُسکے لباس میں ملبوس آئینے کے سامنے کھڑی کمال مہارت سے اُسکی اداکاری کرنے میں مگن تھیں۔۔۔ سیاہ گھٹنوں کو چھوتے ریشمی بال محترمہ نے جوڑے کی شکل میں باندھ رکھے تھے سفید شرٹ گھٹنوں تک رسائی حاصل کرتے کاندھوں سے پھسل رہی تھی جبکہ پینٹ کے پائنچے فرش کو نذرانہ پیش کر رہے تھے۔ وہ جو متحیر تھا ایک طائرانہ نگاہ مقابل پر ڈالنے کے بعد مبہوت ہوا تھا۔۔” کیا حرکت ہے یہ فضا!! کتنی بار کہا ہے یوں حلق پھاڑے مت ہنسا کرو باغ کی سیر کرنے مت جایا کرو نہ ہی حویلی میں یوں اچھل کود کرتی پھرووو۔۔۔” ” آپ کی طرح خود کو زندگی سے بیزار تو نہیں کر سکتی نا میں ” واللہ وہ دو دو کردار نبھا رہی تھی اپنے کردار میں آتے منمنائی۔ ہاشم کی بھنویں داد دینے والے انداز میں ریز ہوئیں۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے فرصت سے اُسے دیکھے گیا۔۔ ” مجھے زہر لگتی ہیں جواب دینے والی لڑکیاں” !! کڑے تیوروں سے خود کو تکتے ہاشم کے لفظ ادا کیے جو وہ بارہا سن چکی تھی۔۔ ” اور مجھے آپ ” ۔ سر جھکائے بڑبڑاتے فضا کا کردار ادا کیا۔ کوئی اور اُسے یوں دیکھتا تو پاگل کا گمان کرتا لیکن ہاشم وہ واقف تھا اس شرارت کی پڑیا کی فطرت سے انداز سے۔ وہ جو اُسے ٹکٹکی باندھے تک رہا تھا فوراً ہوش میں آتے سر جھٹکتے خود کو لعن طعن پیش کر گیا۔ وہ اُسکی چچا زاد کزن تھی جسے یوں دیکھنا معقول نہ تھا لیکن پھر مقابل کی حرکت یاد آئی محترمہ نے خود کہا اس رشتے کی لاج رکھی تھی وہ تن فن کرتا اندر داخل ہوتا اُسکا بازو اپنی آہنی گرفت میں جکڑے اُسکا رخ اپنی جانب کر گیا۔۔۔ ” ہا۔۔۔۔ ہاشم لالہ ” ۔ وہ اس اچانک افتاد پر چیخنے کے واسطے لب واں کر چکی تھی ہاشم کو روبرو دیکھتے لٹھے کی مانند سفید پڑی۔۔ ” ہاں میں اور مجھے دیکھتے تمھاری روح یوں پرواز کیوں کر جاتی ہے کیا اس قدر ڈراؤنا ہوں میں۔” ہاشم اسکی سفید رنگت پر چوٹ کر گیا۔ فضا نے فوراً سر کو اثبات میں ہلایا لیکن اُسکی گھورتی نگاہیں دیکھ نفی میں سر ہلاتے معصومیت سے مسکرا گئی۔ اُسکی اس مسکراہٹ کے ساتھ عارض پر دو گڑھوں نے اپنی چھپ دکھلائی۔ ہاشم موم ہوا اس مسکان کے سبب لیکن ظاہر نہ کیا۔ ” یہ میرا لباس زیب تن کرتے میرے لفظ دہراتے تم ثابت کیا کرنا چاہتی تھی؟؟ ” لہجے کو سخت بنائے دریافت کیا۔ ” وہ ۔۔وہ میں ۔۔وہ میں ” ۔ فضا کی زبان لڑکھڑائی اور لفظوں نے ہمیشہ کی طرح ساتھ چھوڑا۔ ” یا اللہ مجھے صبر دے میرے پیٹ پیچھے زبان قینچی کی مانند چلتی ہے لیکن میری موجودگی میں یوں دھکے کھاتی ہے خیر تمھارے اس انجام کردہ کارنامے کی سنوائی بعد میں کی جائے گی فلحال تم یہ پڑھو ” وہ دانت پے دانت جمائے کہتا جیب میں رکھا کاغذ اُسکی نگاہوں کے سامنے کر گیا۔۔۔ فضا نے تھوک نگلتے اس کاغذ کی جانب دیکھا۔ ” یہ۔۔ یہ کیا ہے لالہ؟؟ “خاصی اچھی طرح واقفیت رکھنے کے باوجود سوال کیا۔ ” ناٹک ختم کرو فضا اور اس پر لکھی تحریر اونچی آواز میں پڑھو”وہ مزید مشتعل ہو اٹھا تھا اُسکے انجان پن پر۔ اُسکے بازو پر گرفت مضبوط کرتے دھاڑا۔ فضا کا سانس سینے میں اٹک گیا وہ باقاعدہ لرز سی گئی مقابل کی دھاڑ پر ۔ ” میں ۔۔ میری انگریزی کم۔۔ کمزور ہے لالہ ۔۔ مجھ۔۔ مجھے انگریزی پڑھنے میں دکت ہوتی ہے لفظ اُلٹے سیدھے دکھتے ہیں ” بچاؤ کے لیے کوئی نا کوئی بہانہ تو تشکیل دینا ہی تھا تو یہی سہی۔ ہاشم کا مارے طیش برا حال ہوا وہ اُسکا بازو اپنی گرفت سے آزاد کرگیا۔ اس ایک کاغذ کی بدولت اُسے کس قدر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا محترمہ یہ کاغذ اسکی فائل میں رکھ چکی تھی اور وہ فائل میٹنگ روم میں سب کے سامنے کھلتے اس کاغذ کو عیاں کرگئی تھی۔ فضا نے فوراً دوری بناتے اپنا بچاؤ کیا۔۔” یہ لو لیٹر میں آئی لو یو باشم لکھتے وقت تمھاری انگریزی خاصی طاقتور تھی نہ دکت محسوس ہوئی نہ لفظ اُلٹے سیدھے دکھائی دیے ” وہ طیش کے عالم میں ہاتھ ڈریسنگ ٹیبل پر مار گیا۔۔ فضا کے لبوں سے بے ساختہ چیخ برآمد ہوئی وہ خوف سے اچھلی جبکہ نگاہوں میں ہلکی سی نمی بھی آچھلکی۔۔۔ ” چپ!! ایک دم خاموش ڈرامے بازیاں بند کرو اور اپنے اس اقدام کی وضاحت دو ” وہ اُسکے یوں چیخنے پر ناگواری سے ٹوکتا قدم اُسکی جانب بڑھا گیا۔ قبل از فضا کچھ کہتی قدموں کی آہٹ سنائی دی اور پھر داجی کی کرخت آواز ۔ ” کیا ہو رہا ہے یہ سب؟؟ ” داجی جو صفیہ بیگم کے آگاہ کرنے پر اپنے کمرے سے نکلتے یہاں تک آن پہنچے تھے سامنے نظر آتا منظر دیکھ مستفسر ہوئے۔ فضا کی جان میں جان آئی داجی کو دیکھتے وہیں ہاشم ضبط کے باعث مٹھیاں بھینچ گیا۔۔۔ ” داجی آپ کا یہ شریف النفس پوتا مجھے لو یو لو یو کہہ رہا ہے اور جوابا مجھ سے بھی لو یو سننے کا متمنی ہے” ۔ وہ بھرائی آواز میں کہتی سارا الزام ہاشم پر ڈال گئی ۔ ہاشم ہونق بنا اس چھٹانک پھٹانک بھر لڑکی کی چال بازی دیکھے گیا۔۔۔ داجی نے فضا سے نظریں پھیرتے ہاشم پر مرکوز کیں اور ہاشم گڑ بڑایا۔۔ ” دا ۔۔ داجی یہ جھوٹ کہہ رہی ہے ” فوراً نفی کی۔۔” داجی میں آخر آپ سے جھوٹ کیون کر بولو گی آخر اس حویلی میں ایک آپ ہی تو میرے خیر خواں ہیں ” نگاہوں میں موٹے موٹے آنسو لیے وہ داجی کے سینے سےآن لگی اور ہاشم نے ہذیانی انداز میں نفی میں سر ہلایا۔۔ ” یہ اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں اگر وہ تم سے جواباً محبت کا اظہار سُننا چاہتا ہے تو کر دو بیٹا ” داجی نے محبت و نرمی سے فضا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ایک ایسا جواب دیا جو دونوں کو دھچکا دے گیا۔۔۔۔ ” مطلب ” !! دونوں بیک وقت یک زبان بولے۔ ” مطلب یہ کہ محبت کا اظہار اور جواباً محبت کے اقرار میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ تم دونوں کزن ہونے کے ساتھ ساتھ میاں بیوی بھی ہو بچپن میں نکاح ہو چکا ہے تم دونوں کا ” ۔ یہ دلدوز انکشاف تھا ایک ایسا انکشاف جو اُن دونوں کو صدمے میں مبتلا کر گیا تھا۔۔ ادراک کی خاموشی نے پر پھیلائے اور وہ دونوں تادیر اس خاموشی کی زد میں رہے۔۔” اگر ایسی بات ہے داجی تو مجھے آج ابھی فضا کی رخصتی چاہیے ” ۔ خاموشی کو توڑنے والا ہاشم تھا جو پل بھر میں فیصلہ لے چکا تھا فضا کو اپنی سنگت میں لیتے سدھارنے کا گوکہ اُسکے پاس یہ واحد راستہ بچا تھا فضا کے کس کے بل نکالتے اُسے شرارتوں سے باز رکھنے کا۔ فضا ایک صدمے سے نہ نکل پائی تھی کہ مقابل اسے دوسرے صدمے میں غرق کر گیا تھا۔۔۔
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے
1st Link
Download link
2nd Link
Download Link
3rd Link
Download Link
4th Link
Download Link
Summary
Dil Tera Hamrahi ek refreshing romantic Urdu novel hai jo Hashim aur Fiza ki pyari, shararti aur dilchasp kahani bayan karta hai. Fiza ek masoom, zindadil aur hadd se zyada shararti larki hai jo har waqt Hashim ko tang karne ka koi na koi naya tareeqa dhoond leti hai. Dusri taraf Hashim aik sanjeeda, disciplined aur sakht mizaj insaan hai jo Fiza ki har shararat se tang aa chuka hota hai.
Ek din Fiza mazaak mazaak mein Hashim ke office ki file mein us ke naam ka “I Love You” letter rakh deti hai, jis ki wajah se Hashim ko sab ke saamne sharmindagi uthani padti hai. Gusse mein woh Fiza se jawab talab karta hai, magar Fiza hamesha ki tarah saari zimmedari usi ke sar daal deti hai.
Maamla us waqt hairan kun mod leta hai jab Daji dono ko batate hain ke un dono ka bachpan hi mein nikah ho chuka tha aur woh sirf cousin hi nahi balki miyaan biwi bhi hain. Yeh sach jaan kar dono ki duniya ulat jati hai. Jahan Fiza is achanak khulne wale raaz se pareshan hoti hai, wahin Hashim foran faisla karta hai ke ab Fiza ki rukhsati us ke ghar hogi.
Nikah ke baad Fiza ki shararatein aur Hashim ka sakht mizaj ek hi chhat ke neeche zabardast comedy aur emotional moments paida karte hain. Hashim har haal mein Fiza ko zimmedar aur samajhdar banana chahta hai, jabke Fiza apni masoomiyat aur shararaton se us ki zindagi ko uljha kar rakh deti hai.
Mohabbat, nok jhok, misunderstandings, family emotions aur dheere dheere ubharti hui feelings is novel ko shuru se aakhir tak dilchasp banaye rakhti hain.
Dil Tera Hamrahi, Qurasa Razi, Childhood Nikah, Cousin Romance, Romantic Comedy, Funny Love Story, After Marriage Romance, Family Drama, Urdu Novel, Complete Novel
#DilTeraHamrahi #QurasaRazi #UrduNovel #ChildhoodNikah #CousinRomance #RomanticComedy #EnemiesToLovers #AfterMarriage #FamilyDrama #CompleteNovel #Novelistan #UrduReaders
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕