Saza Ye Pyar Ki Novel by Hania Novels Novel20876

Broken Wedding | Emergency Nikah | Age Gap Marriage | Cousin Marriage | Strict Husband | Emotional After Marriage Romance | Pregnancy Tragedy | Family Honour | Social Romantic Urdu Novel | Complete Novel

Short Description

Saza Ye Pyar Ki Hania Novels ka aik intense emotional Urdu novel hai jismein shadi ke din tootne wali barat, kirdar kashi, emergency nikah, fifteen years age gap, strict husband, pregnancy tragedy aur after-marriage emotional conflict ko dil hila dene wale andaaz mein pesh kiya gaya hai.

Saza Ye Pyar Ki Complete Urdu Novel by Hania Novels

Tooti barat, emergency nikah aur aik masoom dulhan ki dard bhari zindagi ki kahani.

” دوبارہ تمہاری چیخ نکلی تو تین لفظ بول کر باپ کے گھر بھیج دوں گا سمجھی۔” جنید خان بے دردی سے اسکی روح میں سمایا تو وہ معصوم درد کی شدت سے بیڈ کی چادر ہاتھوں میں جکڑتی اپنی چیخوں کا گلہ گھونٹ گئی۔ عین بارات والے دن لڑکے والوں نے سہانا کو بد چلن کہہ کر شادی سے انکار کیا توسب کے مشترکہ فیصلے کے بعد اسے پھپھو کے بڑے بیٹے کے نکاح میں دیا گیا جو عمر میں اس سے پندرہ سال بڑا اور بلا کا سخت مزاج تھا۔ سہانا جو پہلے ہی اپنی شادی ٹوٹنے کے غم سے نڈھال تھی، جنید کی بے رخی اسکی روح کو کچل گئی۔ وہ خاموشی سے ہر رات اسکی شدتیں سہتی اور دن بھر گھر کے کام کرتی۔ ایک رات وہ اچانک بیہوش ہوئی تھی۔ ” آپکی وائف پریگننٹ تھیں لیکن سٹریس کی وجہ سے۔۔ ” یہ کیا کیا تم نے سہانا ۔۔؟؟” صدف کی صدمے میں ڈوبی آواز پر سہانہ نے مڑ کر اسے دیکھا وہ دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی تھی ۔ اور اب حیران نظروں سے وہ سہانا کو دیکھ رہی تھی۔ سہانہ نے بغیر کچھ کہے رخ موڑا اور ہاتھ میں پکڑا آویزہ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔” اپنی جیولری اتار رہی ہوں دیکھ نہیں رہی شادی ٹوٹ گئی ہے میری۔۔۔” کان سے دوسرا آویزہ اتارتے سہانہ نے بڑی مشکل سے اپنے لہجے سے چھلکتا کرب چھپایا تھا صدف چند قدم چل کر اس کے نزدیک آئی۔۔۔ ” ایسا مت کرو ابھی رک جاؤ پلیز۔۔۔” صدف نے جھجکتے ہوئے اسے روکا سہانہ کے لبوں پر بڑی تلخ مسکراہٹ پھیل گئی بڑی بے دردی سے اس نے آنکھ میں آیا انسو رگڑا۔۔ ” اب کس کے لیے یہاں بیٹھی رہوں جس کے لیے دلہن بنی تھی، یہ بھاری عروسی جوڑا پہنا تھا، بیوٹیشن نے مجھے تیار کیا تھا، گھونگٹ نکال کر نکاح نامے پر سائن کرنے کے لیے تیار بیٹھی تھی،،، میں لیکن۔۔۔۔ اب۔۔۔۔اب کس کے لیے انتظار کروں میں؟؟” وہ جیسے پھٹ پڑی تھی صدف نے آگے بڑھ کر بے اختیار اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔ سہانہ نے بےدردی سے اپنے لب کچلے۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر ذلت کا احساس ایسا جا گھسا تھا کہ آنسو مسلسل آنکھوں سے بہے چلے جا رہے تھے صدف نے آہستگی سے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور اسے اپنے سے الگ کیا سہانہ اس کے چچا کی بیٹی تھی اور دونوں کی بچپن سے دوستی تھی۔ صدف نے بے بس نگاہوں سے اس کا جائزہ لیا وہ اسی آتشیں گلابی رنگ کے لہنگے میں ملبوس تھی جو اس نے بڑے چاؤ سے اپنی رخصتی کے لیے خریدا تھا۔۔۔ بھاری کامدار دوپٹہ نیچے زمین پر گرا پڑا تھا جوڑا بےترتیب ہو کر کھل کر بکھر گیا تھا جوڑے کے ارد گرد لیپٹی کلیاں اس وقت اس کے لباس میں جا بجا اٹکی ہوئی تھیں اس کی ایک آنکھ کا کاجل ہلکا سا پھیل گیا تھا بیوٹیشن نے اسے بے حد مہارت سے دلہن کا روپ دیا تھا دونوں کانوں کے اویزے وہ اتار چکی تھی ہاں البتہ ماتھے پر ٹکا وہ ننھا سا ٹکا اور گلے کا گلو بند ابھی اپنی جگہ پر تھا۔۔۔ ” یہاں بیٹھو سکون سے نیچے سارے گھر والے جمع ہیں۔۔۔ انہوں نے مجھے کہا ہے کہ میں تمہیں چینج نہیں کرنے دوں۔۔۔” صدف نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس صوفے پر بٹھا دیا سہانہ نے بے یقین نگاہوں سے اسے دیکھا۔ ” کیوں چینج نہ کروں؟؟ آخر تم کہنا کیا چاہتی ہو کیا فیصلہ کر رہے ہیں نیچے گھر والے بیٹھ کر؟؟؟ میری بارات جا چکی ہے،، میرے ہونے والے شوہر نے مجھے بد چلن کہہ کر مجھ سے شادی سے انکار کر دیا ہے اور اب میں خاندان بھر میں کسی کی نظروں کا سامنا کرنے کے لائق نہیں رہی میں کیا کروں گی؟؟؟ ” اب وہ ایک دم سے سسک اٹھی تھی۔۔۔ صدف نے بے بسی سے اسے دیکھا وہ اسے کچھ بتانا چاہتی تھی کہ سہانا کے والد اعظم لودھی نے اسے اوپر بھیجا ہی اسی لیے تھا لیکن وہ کیسے بتاتی؟؟ مگر خدا نے اس کی مشکل آسان کر دی تھی دروازہ ایک دفعہ پھر کھلا اس دفعہ مہتاب بیگم اندر داخل ہوئیں ۔ “سہانہ کا دوپٹہ اس کے اوپر اڑھاؤ اور اسے لے کر نیچے آئو دیر مت کرنا جنید کو کسی کام سے بھی جانا ہے۔۔” نظریں چراتے ہوئے وہ بس اتنا ہی کہہ سکیں۔ سہانہ نے بی یقینی سے ماں کو دیکھا جو اپنا جملہ مکمل کرتے ہی پلٹ گئی تھیں ” میں نیچے نہیں جاؤں گی مجھے نہیں چاہیے کسی کی تسلی اور جنید بھائی؟؟ جنید بھائی کا ذکر کیوں کیا ہے امی نے؟؟ ” وہ بری طرح جھنجھلائی تھی صدف نے گھبرا کر جلدی سے دوپٹہ اس کے سر پر ٹکایا۔ ” میرے ساتھ چلو نیچے سہانا تمہیں سب کچھ پتہ چل جائے گا۔۔ “صدف کی آواز میں غیر معمولی سنجیدگی تھی سہانہ کے اندر خطرے کی گھنٹیاں سی بچنے لگیں۔ اس کے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے صدف نے ٹشو سےاس کی دائیں آنکھ کا پھیلا ہوا کا جل صاف کیا باقی وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ صدف کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہ پڑی اس کا ہاتھ تھام کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل آئی نیچے ہال کمرے میں پورے خاندان کے افراد جمع تھے ۔۔صدف نے سرخ رنگ کا گھونگٹ سہانا کے چہرے کے آگے تک گرا دیا تھا۔۔۔۔ مہین گھونگٹ کی اوٹ میں سہانہ نے دیکھا اس کے والدین صدف کے والدین جو اس کے چاچی تھے لاونج میں موجود تھے۔ خاندان بھر کے دیگر افراد بھی تھے جن کی آنکھوں میں تجسس تھا اور چہرے پر اشتیاق پھیلا ہوا تھا سہانہ نے بے بسی سے اپنی پلکیں میچی کچھ دیر پہلے یہاں تماشہ لگا تھا جب اس کے سسرال والوں نے یہاں تماشہ لگایا تھا،، جب اس کے سسرال والوں نے لودی پیلس جہیز میں مانگا تھا اور انکار کی صورت میں انہوں نے سہانہ کو بد چلن کہہ کر رشتہ ہی ختم کر دیا تھا۔۔۔ ” میری صرف بارات واپس نہیں گئی بلکہ میری عزت بھی دو کوڑی کی ہو گئی ہے،، ان سب کی نظروں میں اپنے لیے ذلت دیکھ کر میں کیسے جیوں گی؟؟ ” اس کی آنکھ سے دو آنسو ٹپکے صدف نے اسے آہستگی سے صوفے پر بٹھا دیا تھا۔ “نکاح شروع کروائیے مولوی صاحب دیر ہو رہی ہے سارے مہمانوں نے اپنے گھر کو جانا ہے۔۔” اعظم صاحب کی سنجیدہ آواز لاؤنج میں گونجی تو سہانا کو ایک زوردار جھٹکا لگا تھا بے اختیار اس نے چہرےکے آگے گرایا گھونگٹ پلٹ دیا۔۔۔ مولوی اپنا رجسٹر سنبھالے اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا تھا ۔۔ ” کس کا نکاح ہو رہا ہے۔۔” اس کے لب بے آواز ہلے ” جنید تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا میری بیٹی نے پہلے ہی بہت صدمہ بھگتا ہے میں نہیں چاہتا اسے مزید کوئی تکلیف ملے۔۔۔۔” یہ بابا انکی آواز تھی اور ان کا رخ جس شخص کی جانب تھا سہانہ نے بے یقین نظروں سے اسے دیکھا وہ جنید شاہ تھا اس کی پھوپھو کا بڑا بیٹا۔۔۔ اس سے عمر میں پندرہ سال بڑا سہانا کی رنگت زرد پڑی وہ آج یہاں کیا کر رہا تھا؟؟؟ وہ تو کسی شادی کسی تقریب میں شرکت ہی نہیں کرتا تھا۔ خاندان میں اسے کم کم ہی دیکھا جاتا تھا اور وجہ وہی اس کا رویہ ۔۔۔ تین برس پہلے ہونے والے اس حادثے نے جنید شاہ کو ہر کسی سے بے غرض کر دیا تھا لیکن آج وہ یہاں کیا کر رہا ہے؟؟ سہانہ کے وجود میں دراڑیں سی پڑنے لگیں۔ “ارے جنید کو کیوں اعتراض ہو گا بھائی صاحب سہانہ میری ہی بہو بنے گی بس ذرا عمر کا فرق ہے سہانہ بیس سال کی ہے اور جنید پینتس سال کا لیکن اب جو کچھ ہو گیا ہے اس کے بعد اس نکاح میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے۔۔۔” بڑی پھپو کی آواز لاونج میں گونجی سہانہ نے بے اختیار صوفے کا سہارا لیا۔۔ “تو پھر دیر کس بات کی مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔۔” بابا جان نے مولوی صاحب کو حکم دیا سہانہ کی آنکھوں کی سطح گیلی ہوئی اس نے انہیں بھیگی پلکوں سے جنید شاہ کی طرف دیکھا وہ بیزار انداز میں صوفے پر بیٹھا تھا وہ ڈھیلے سے ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا اس کی آنکھوں کا گلابی پن بتا رہا تھا کہ وہ سوتے میں سے اٹھایا گیا ہے شاید پھوپھو نے کال کر کے اسے بلایا تھا۔۔۔۔۔

 

Saza Ye Pyar Ki — Jab Tooti Barat Ke Baad Usi Din Doosra Nikah Kar Diya Gaya

Broken wedding, emergency nikah, age gap marriage, strict husband, pregnancy tragedy aur emotional family drama par mabni complete Urdu novel.

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤنلوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے

1st Link

Download link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Download Link

Complete Summary

Saza Ye Pyar Ki aik emotional, family-based aur after-marriage Urdu novel hai jis ki kahani masoom aur nazuk mizaj Suhana ke gird ghoomti hai. Woh apni rukhsati ke din khoobsurat armaan sajaye dulhan bani baithi hoti hai, lekin us ki zindagi us waqt pal bhar mein bikhar jati hai jab larke walay jahez mein Lodhi Palace ka mutalba karte hain. Inkar milne par woh Suhana par badkirdari ka ghaleez ilzam laga kar barat wapas le jate hain.

Suhana ke liye yeh sirf shadi tootne ka sadma nahi hota, balki poore khandan ke samne us ki izzat aur kirdar ko nishana banaya jata hai. Woh dulhan ke libas mein apne kamre mein toot kar reh jati hai aur apne zevar utarte hue sochti hai ke ab kis ke liye tayyar baithi rahe. Lekin neeche ghar ke buzurg us ki zindagi ka aik aur faisla us ki raza ke baghair kar chuke hote hain.

Khandani badnami ko rokne aur Suhana ki izzat bachane ke liye us ka nikah us ki phupho ke baray bete Junaid Shah se tay kar diya jata hai. Junaid Suhana se taqreeban pandrah saal bara, sakht mizaj, kam-go aur aik purane haadse ke baad jazbati taur par duniya se kat chuka hota hai. Woh is nikah ko khushi se nahi, sirf khandani dabao aur zimmedari ke taur par qabool karta hai.

Suhana pehle hi apni barat tootne, kirdar kashi aur samaji ruswai ke sadme mein hoti hai. Junaid ki be-rukhi aur sakhti us ke liye aik naya azaab ban jati hai. Woh din bhar ghar ke kaam karti, raat ko us ke sakht rawaiye ko seh kar chup rehti aur apne dil ka har dard andar hi andar dafan karti chali jati hai.

Waqt ke sath Suhana apne shohar ki aulaad ki maa banne wali hoti hai, magar musalsal stress, emotional trauma aur khauf us ki sehat ko buri tarah mutasir kar dete hain. Aik raat us ka achanak behosh ho jana kahani ko intehai dardnaak mor par le aata hai. Doctor ki baat se Junaid ke samne us ki sangdili ke natayij khulne lagte hain.

Yeh novel aik aisi larki ki kahani hai jise pehle samaj ne saza di, phir rishton ne aur phir usi shadi ne jisay us ki izzat bachane ka zariya samjha gaya tha. Kahani mein age-gap marriage, emergency nikah, emotional neglect, family honour, pregnancy loss, guilt, healing aur after-marriage love ko gehrai se pesh kiya gaya hai.

Saza Ye Pyar Ki yeh sawal uthata hai ke kya izzat bachane ke naam par kiya gaya nikah waqai kisi larki ko nayi zindagi de sakta hai, ya kabhi kabhi wahi rishta us ke liye aik aur saza ban jata hai.

Saza Ye Pyar Ki by Hania Novels, complete Urdu novel, broken wedding novel, emergency nikah novel, age gap marriage novel, cousin marriage novel, strict husband novel, emotional after marriage story

#SazaYePyarKi #HaniaNovels #UrduNovel #CompleteNovel #BrokenWedding #EmergencyNikah #AgeGapMarriage #CousinMarriage #StrictHusband #PregnancyTragedy #EmotionalRomance #FamilyDrama #AfterMarriageStory #Novelistan

FAQs

Saza Ye Pyar Ki kis type ka novel hai?

Yeh broken wedding, emergency nikah, age gap marriage aur after-marriage emotional drama based Urdu novel hai.

Is novel ki writer kaun hain?

Is novel ki writer Hania Novels hain.

Heroine ka naam kya hai?

Novel ki heroine ka naam Suhana hai.

Hero ka naam kya hai?

Novel ka hero Junaid Shah hai.

Hero aur heroine mein kitna age gap hai?

Junaid Shah, Suhana se taqreeban pandrah saal bara hai.

Suhana ki pehli shadi kyun toot jati hai?

Larke walay jahez mein Lodhi Palace ka mutalba karte hain aur inkar hone par Suhana par badkirdari ka jhoota ilzam laga kar barat wapas le jate hain.

Suhana ka nikah Junaid se kyun hota hai?

Khandan Suhana ki izzat aur family honour bachane ke liye us ka emergency nikah Junaid Shah se kar deta hai.

Kya novel mein pregnancy tragedy hai?

Ji haan, emotional stress aur marital trauma ki wajah se pregnancy se mutaliq aik dardnaak mor kahani ka aham hissa banta hai.

Kya yeh complete Urdu novel hai?

Ji haan, Saza Ye Pyar Ki aik complete Urdu novel hai.

 

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *