Tag Archives: Forced marriage
Spectra 17 By Juhaina Arwish Novel20971
"جب دل سے خالی لوگ کسی کو اپنا کہتے ہیں، تب وہ صرف ساتھ نہیں مانگتے، آزادی بھی چھین لیتے ہیں۔"
"وہ ہارتی رہی… مگر جھکی نہیں، اور وہ توڑتا رہا… مگر کبھی قریب نہیں آیا۔"
"وہ پتھر تھا، پگھلتا نہیں تھا، لیکن اس کے لیے وہ پتھر کی صورت ایک ایسا راز تھا جسے دریافت کرنے کی وہ قسم کھا چکی تھی۔"
"وہ مجھے قابو نہیں کر سکتی، کیونکہ میں وہ ہوں جو خود کو بھی کنٹرول نہیں کرتا۔"
"نہ چھوڑتا تھا، نہ اپناتا تھا… بس اسے تڑپتا دیکھ کر زندہ رہتا تھا۔"
Intiqam E Wafa By Sahre Qadir Novel20970
انتقام کی آگ بہت بری چیز ہوتی ہے، یہ انسان سے اس کا سکون تک چھین لیتی ہے۔
مہمل خان کے سر پر صرف ایک ہی دھن سوار تھی، انتقام۔
وہ کئی سالوں سے اس آگ کو ایندھن دیتی آئی تھی، اور اب یہ آگ بھڑکتے شعلوں کا روپ دھار چکی تھی۔
عورت جب انتقام لینے پر آجائے تو وہ نرم دل نہیں رہتی، ظالم اور سفاک بن جاتی ہے۔
انتقام سب سے پہلے منتقم کی آنکھوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔
مہمل خان کو صرف ایک چیز یاد تھی۔۔۔ صرف انتقام!
شاید انتقام لینے کے بعد عورت انسان نہیں رہتی، پتھر بن جاتی ہے۔
Jannan By Haiqa Naveed Novel20969
وہ نہیں آئے گا۔"
"مطلب یہ کہ وہ چلا گیا ہے، ہمیشہ کے لیے اپنی بزدلی کا اظہار کرتے ہوئے وہ اس نکاح سے دستبردار ہو چکا ہے۔"
"آپ جھوٹ بول رہے ہیں نا بھائی... آپ جھوٹے ہیں، مجھے پتا ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔"
"ضرور کسی نے اس کے ساتھ کچھ کیا ہے..."
"تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے، اس لیے تم نے اسے غائب کیا ہے نا؟"
"مانتا ہوں میں تم سے محبت کرتا ہوں، مگر اتنی گری ہوئی حرکت میں ہرگز نہیں کر سکتا۔"
"جہاں محبت ہوتی ہے وہاں عزت بھی ہوتی ہے۔"
"وہ مسکراہٹ اداسی، تڑپ، غصہ، بے بسی اور زخمی ہونے کی علامت تھی۔"
Umeed by Fatima Sehr Novel20967
"بابا ہم نے کب اپنی بہن بیٹیوں کو اتنی اجازت دی کہ وہ یوں تن تنہا سڑکوں پر چل نکلے؟"
"اگر میری جگہ وہاں کوئی اور ہوتا تو آج یہ یہاں بیٹھنے کی بجائے آپ کو تھانے میں ملتی۔"
"آج سب کے سامنے اسے ذلت کا احساس زیادہ ہوا تھا۔"
"کیا ہو گیا ہے آپ کو یوسف؟ کچھ خدا کا خوف کریں، جوان بیٹی پر ہاتھ اٹھائیں گے؟"
"کوئی انہیں دیکھ کر یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہ یہ گھٹیا الفاظ اپنی بیٹی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔"
"بچپن سے آج تک باپ کی طرف سے حسرت ہی رہی کہ وہ کبھی اسے پیار سے بلائے۔"
Sham e Ferozan by Arham Saleem Novel20965
"جہاں تمہارے باپ کی سوچ ختم ہوتی ہے، وہاں میری سوچ شروع ہوتی ہے۔"
"اب تم عرش جہانگیر کو ہلکا لینے کی غلطی مت کرنا۔"
"میں نے پوری کوشش کی تھی کہ تمہیں پتا نہ چلے کہ اس اغوا کے پیچھے میرا ہاتھ ہے۔"
"اب چونکہ تم جان گئی ہو کہ یہ سب میں نے کیا ہے، تو تمہیں زندہ چھوڑنے کا رسک اب میں نہیں لے سکتا۔"
"میرے ڈیڈ تمہیں چھوڑیں گے نہیں۔"
"تمہارے ڈیڈ مجھے تب چھوڑیں گے ناں جب وہ مجھے پکڑیں گے۔"
Pehla Pathar By Iqbal Bano Novel20960
"میں ایسی بات نہیں مان سکتا، جسے میرا ذہن و دل تسلیم نہیں کرتا۔"
"آخر کب تک بابا جان! آپ پرانی روایات کو گلے لگاتے رہیں گے؟"
"آپ غلط کو غلط تسلیم کیوں نہیں کرتے؟"
"کوئی تو ان روایات کے کھوکھلے بتوں کو توڑے۔"
"آخر ان روایات نے ہمیں کیا دیا ہے، سوائے دکھوں کے؟"
"ہمیں حق دیجئے کہ ہم اپنے سکھ خود تلاش کریں۔"
"ہمیں روایات کی زنگ آلود زنجیریں پہنا کر دکھوں کی دلدل میں مت اتاریے۔"
"یہ ہماری برسوں پرانی روایت ہے۔ ہمارے خاندان میں کسی چھوٹے نے کبھی اپنے بزرگ کے حکم کے خلاف اُف نہیں کی۔"
Khamosh Pukaar By Bint e Ahmed Shaikh Novel20951
کہانی میں شافع اور فاطمہ کی ملاقات ایک جذباتی اور طنزیہ مکالمے کے ذریعے دکھائی گئی ہے، جہاں فاطمہ شافع کی حرام کمائی اور ماضی کے رویے پر کھل کر تنقید کرتی ہے، جبکہ شافع ہر تلخ بات کو محبت اور نرمی سے برداشت کرتا ہے۔ دونوں کے درمیان موجود فاصلے، ناراضگیاں اور غلط فہمیاں ہر گفتگو میں نمایاں ہوتی ہیں، مگر اس کے باوجود شافع اپنی بیوی اور اس کے ہاتھ کے کھانے سے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ فاطمہ اپنی عزتِ نفس پر قائم رہتی ہے، جبکہ شافع اسے اپنی زندگی، اپنی عزت اور اپنی اولاد کی ماں قرار دے کر اس کے مقام کو بلند کرتا ہے۔ یہ اقتباس محبت، ندامت، معافی، اسلامی اقدار اور ازدواجی تعلق میں دوبارہ اعتماد پیدا ہونے کی خوبصورت جھلک پیش کرتا ہے۔
Tere Sadqe Sab Waar Diya By Aiman Razzaq Novel20949
کہانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب حالے، حورین اور ان کی والدہ کو اچانک پاکستان واپس بلایا جاتا ہے، مگر حالے اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتی ہے۔ دوسری جانب زرنش کی شہریار سے پہلی آمنے سامنے ملاقات شدید تلخی، غرور اور چیلنج سے بھرپور ہوتی ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ زرنش اپنی مضبوط شخصیت، خودداری اور بے باک انداز سے واضح کر دیتی ہے کہ وہ کسی کے دباؤ یا حکم کو قبول نہیں کرے گی، جبکہ شہریار ہر صورت اسے پاکستان لے جانے کا عزم رکھتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ہونے والی یہ لفظی جنگ خاندانی دشمنی، انتقام، طاقت اور انا کی کشمکش کو نمایاں کرتی ہے، جو آگے چل کر کہانی میں کئی دلچسپ اور سنسنی خیز موڑ آنے کا اشارہ دیتی ہے۔
Manzil E Yar By Saiqa Rind Novel20947
"عزت عورت کے کردار سے ہوتی ہے، قید سے نہیں۔"
"اگر میں تمہارے نام کا حصہ ہوں، تو یہ نام میری مرضی سے چلے گا، تمہارے حکم سے نہیں۔"
"میری خاموشی کو کمزوری مت سمجھنا۔"
"تم چاہو یا نہ چاہو، تم اس نام کا حصہ ہو جو میرا ہے۔"
"جب سب نے میرا یقین توڑا، میں چپ رہی… مگر اب نہیں۔"
Amanat E Ishq By Noor Malik Novel20945
"میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا... تم میری زندگی ہو، میری آخری دعا ہو۔"
"کچھ محبتیں جان مانگتی نہیں... خود جان بن جاتی ہیں۔"
"عشق جب امانت بن جائے، تو جدائی بھی اسے ختم نہیں کر سکتی۔"