KHJM-001-SMM
Khumar E Janum By S Merwa Mirza
Genre : Emergency Nikah Based | First Sight Love | Professor & Student Based |
Rude & Possessive Hero | Multiple Couples | Siblings Based | Romantic Novel
Download Link

Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Post Views: 2,164
Related Posts
Cousin Marriage Based, Emotional Love Story, Romantic Urdu Novel, Rude Hero Based, secret Agent Based
Akhri Ishq By Miss Lana Novel20998
"دیکھا بڑی ماما! کیسے گھور رہے ہیں یہ مجھے؟"
"میں تمہیں غصے سے نہ گھوروں بلکہ پیار سے گھوروں تو مس ابرش سکندر، کیا آپ برداشت کر پائیں گی؟"
"پیار؟ ہاں!"
**"اگر ایک قدم اور آگے بڑھایا تو بڑی ماما کا بیٹا وہ کرے گا جس سے تم بنا اجازت کے جانے
After Marriage, Emotional Drama, Family Conflict, Family Drama, Forced Marriage Based, Revenge Based Novels, Romantic Urdu Novel, Rude Hero Based
Qurbat E Man By Huma Qureshi Novel20996
"یہ ماں بننے والی ہے!" بارات والے دن یہ خبر سب کے لیے ایک قیامت بن گئی۔
"کس کا بچہ ہے یہ؟" زرک کی دھاڑ نے پورے کمرے کی خاموشی توڑ دی۔
"میں نے بولا بھی تھا مجھے نہیں کرنا ان سے نکاح!" ہیزل کی معصوم سی شکایت پر سب ہنس پڑے۔
جس مرد سے وہ سب سے زیادہ چڑتی تھی، آج وہی اس کے نصیب میں لکھا جا چکا تھا۔
"مجھے طلاق دلوائیں!" ہیزل کی دہائیوں نے گھر میں ایک نیا ہنگامہ برپا کر دیا۔
کبھی نفرت سے شروع ہونے والے رشتے دل کی سب سے خوبصورت قربت بن جاتے ہیں۔
Dill Reza Reza By Saloni Novel20995
"یہ آفس ہے، کچھ تو خیال کریں!" جیا کی گھبرائی ہوئی آواز گونجی۔
"اپنی منکوحہ سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے مجھے کسی جگہ کی اجازت نہیں چاہیے۔"
شاہویر کی ایک نظر نے جیا کی پوری دنیا بدلنے کا آغاز کر دیا تھا۔
وہ خفیہ نکاح جس کا راز ایک دن سب کے سامنے آنے والا تھا۔
جیا کو کیا معلوم تھا کہ یہ نوکری اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ بن جائے گی۔
جب محبت کے ساتھ ایک ننھی سی زندگی نے ان کے درمیان جگہ بنائی، تو سب کچھ بدل گیا۔
Friendship Based, Funny Novel, Love Story Based, Romantic Comedy, Romantic Fiction, Romantic Urdu Novel
Ishq e zoyam by Fiza Noor Novel20992
"مسٹر کھڑوس! آپ کا گٹار چاہیے مجھے۔۔۔"
"میں نے آج تک اپنی کوئی چیز کسی سے شیئر نہیں کی، اور تم مجھ سے میرا گٹار مانگ رہی ہو؟"
"نہیں دینا تو یاد رکھنا!"
"ڈرتا نہیں ہوں میں کسی سے۔۔۔ دیکھتے ہیں پھر!"
Mohabbat Lazawal Novel20991
مہوش کے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، مگر ارہم کے چہرے پر سختی بدستور قائم تھی۔
"سر، میں بھیک نہیں مانگ رہی... میں کام کر کے آپ کا ایک ایک روپیہ واپس کر دوں گی، بس میرے بھائی کی جان بچا لیجیے۔"
مگر ارہم نے بے رحمی سے منہ پھیر لیا۔
مہوش نے کانپتے ہاتھوں سے استعفیٰ لکھا اور آنسو پونچھتے ہوئے کیبن سے باہر نکل گئی۔
اسے کیا معلوم تھا کہ اس ایک فیصلے کے بعد اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدلنے والی تھی۔
Arranged Marriage, Emotional Drama, Forced Attraction, Forced Marriage Based, Misunderstanding base, Possessive Hero, Romantic Urdu Novel, Rude Hero Based
Sard E Mohabbat By Umaima MukaramNovel20990
مجھے آپ کی بھیک کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں ضرور نوکری کروں گی!" نین تارا نے دوٹوک لہجے میں کہا تو دلاور اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔ "اگر بیوی کا غیر محرم سے بات کرنا اتنا برا لگتا ہے نا، تو میرے پاس تو آپشن نہیں تھا دلاور۔۔۔ پر آپ کے پاس تو آپشن ہے نا، طلاق کا۔۔۔ طلاق دے دیں مجھے!" اس کی بات پر دلاور کے غصے کی شدت بڑھ گئی، مگر حقیقت سامنے آنے کے بعد اس کے اپنے رویے پر شرمندگی حاوی ہونے لگی۔ بیک یارڈ میں گھٹنوں میں سر دیے روتی ہوئی نین تارا کو دیکھ کر اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے اپنی ہی بیوی کو کتنی تکلیف دی تھی۔ "غلطی اس نے کی تھی تو معافی مانگنا تو ضروری تھی!" وہ خود سے کہتے ہوئے آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا، مگر نین تارا نے اس کی موجودگی محسوس کرنے کے باوجود سر نہ اٹھایا۔
Ishq E Mehram By Yaman Eva Novel20987
"جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے، ہمیں ایسے ہی ملنا تھا، ہمیں ایسے ہی سنورنا تھا۔"
"ہمارے دل سے بڑا کوئی مفتی نہیں ہوتا، بس ہمیں اس مقام تک آنے کی ضرورت ہوتی ہے۔"
"اللہ کے قریب ہونے کی دیر ہے، پھر اللہ خود سنبھال لیتا ہے۔"
"اگر یہ دل مانے کہ ہاں یہ غلط ہے، تو پھر رک جائیں۔"
"دنیا کی باتیں نہیں، پوری ایمانداری سے اپنے دل کی سنا کریں۔"
Cheat Based, Divorce Based, Emotional Drama, Family Drama, Psychological, Rude Hero Based, Social issues Based, Social Romantic Novel
Dill E Mehram By Ayesha Majeed Novel20986
"دوسری شادی کرنی ہے تو کریں، پر مجھے طلاق دیں۔"
"میں نے تمہاری غربت میں تمہارا ساتھ دیا تھا، تمہاری امیری میں اپنا حق نہیں مانگا تھا۔"
"کیا عزت اور سچی محبت کا نعم البدل صرف روٹی کپڑا ہوتا ہے؟"
"تم نے مجھ سے طلاق مانگی ہے نا سنیناں؟ تو آج تمہیں وہی ملے گا جو تم نے مانگا ہے۔"
"کبھی کبھی عورت کو ٹوٹنے کے بعد ہی اپنی اصل طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔"
Emotional Love Story, Family Drama, Family Story, Forced Marriage Based, Romantic Urdu Novel, Rude Hero Based
Kuch Muhabatein Anjan Si By Umaima Mukarram Novel20984
ڈکیت۔"
"لیکن مجھے تو جان چاہیے۔"
"ہاں وہ بھی میرے شوہر کی لے لینا، وہ ابھی آتے ہوں گے۔"
"وہ مجھ سے زیادہ کمینے ہیں۔"
"نہیں مجھے تو کمینی عورتوں کی جان چاہیے۔"
"مر گئی کیا؟"
"نہیں، ایسی بلاؤں سے اتنی جلدی جان نہیں چھوٹتی۔"
Guzarish Hai Tujh Se By Ammara Khalid Novel20982
"سامنے والا جتنا بھی بڑا ہو، اگر وہ غلط ہے تو خاموش رہنا بھی غلطی ہے۔"
"غلطی تھی۔۔۔ جرم نہیں۔"
"آپ کو ان سے معافی مانگنی ہوگی۔"
"آپ انہیں ڈرا سکتے ہیں۔۔۔ مجھے نہیں۔"
"معافی مانگنے سے کسی کا قد چھوٹا نہیں ہوتا۔"
"پانچ دن میں ہی تم نے اپنے گیسٹ سے اس طرح بات کرنا سیکھ لیا؟"
"یہ لڑکی باقی سب سے مختلف ہے۔۔۔"
"انٹرِسٹنگ گرل۔۔۔"
Emotional Drama, Forced Marriage Based, Possessive Hero, Revenge Based, Romantic Urdu Novel, Rude Hero Based, Suspense Thriller
Junoon E Ghairat By PC Novel20980
"اس لڑکی کی قیمت بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔"
"میں آپ کے سارے کام کر دوں گی، بس میری عزت کا سودا نہ کریں۔"
"چیک پر اپنی مرضی کی رقم لکھ لو اور ہٹ جاؤ میرے سامنے سے۔"
"مجھے مار دیں لیکن میری عزت بخش دیں۔"
"وہ اس کے مرحوم دوست کی بہن تھی… اور اس کی عزت کی حفاظت اب ارقم کی غیرت بن چکی تھی۔"
"میرم کو یقین تھا کہ وہ خرید لی گئی ہے، مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ ارقم اسے خریدنے نہیں، بچانے آیا تھا۔۔
After Marriage, Cousin Marriage Based, Forced Marriage Based, Haveli based novels, Romantic Urdu Novel, Rude Hero Based
Dill Ki Pukar By Mahira Novel20981
ایڈیٹ۔۔ ۔چھوٹی بچی ہو کیا ۔ “وہ غصے سے پاگل ہوتا دلہن بنی عنایہ پر چلایا تھا جو آنکھیں پھیلائے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی پھر شرارت سے مسکرانے لگی۔”چھوٹی بچی ہی ہوں زاویار بھائی۔” وہ چیخ کر بولی جب زاویار کے گھورنے پر زبان دانتوں تلے دبائی۔ “سوری۔۔۔زاویار بھائی نہیں، زاویار شوہر۔۔۔ویسے زاویار شوہر آج آپ بہت اچھے لگ رہے تھے۔ ” وہ خوشی سے بولی تو زاویار کا دل کیا اپنا سر پھوڑ لے۔ وہ اس بچپن کے بےجوڑ رشتے پر کسی صورت راضی نہیں تھا جب وہ دس سال تھا تب عنایہ پیدا ہوئی تھی گھر والوں نے محبت میں ان کا رشتہ طے کر دیا تھا ۔