Dareecha khol do Sajan by Rahat Jabeen Novel20349 | Complete Urdu Novel
Rate this novel
دریچہ کھول دو ساجن ایک ایسی رومانوی داستان ہے جہاں زین اپنی معذوری اور ماضی کی تلخیوں کے باعث ہر تعلق سے دور بھاگتا ہے، جبکہ ماہین اپنی بے لوث محبت، صبر اور وفا کے ذریعے اس کے دل کے بند دریچے کھولنے کی کوشش کرتی ہے۔ نفرت، غلط فہمیاں، جذباتی کشمکش اور محبت کی طاقت اس ناول کو ابتدا سے اختتام تک انتہائی دلکش اور یادگار بنا دیتی ہے۔
Dareecha khol do Sajan by Rahat Jabeen Novel20349 | Complete Urdu Novel
Forced Marriage | Disability Romance | Family Drama | Emotional Romance | Enemies to Lovers
صبر، محبت اور غلط فہمیوں کے درمیان دل کو چھو لینے والی رومانوی داستان۔
وہ اسے بازو سے پکڑ کر ، گھسیٹتا ہوا اپنے کمرے میں لے گیا اور ایک جھٹکے سے چھوڑ کر غرایا:
“یہ کیا تماشا ہے؟”
“تو بہ ہے زین! میرا بازو توڑ ڈالا، ایسی بھی کیا بے تابی ہے، شادی کی ڈیٹ فکس ہو تو گئی ہے۔” بکواس کرنے میں ماہین کا ثانی کوئی نہ تھا، بے سوچے سمجھے بولتی۔
“شٹ اپ!” وہ حلق کے بل دھاڑا۔
“تم تو ابھی سے شوہر بننے کی پریکٹس کرنے لگے۔”
زین کے جارحانہ انداز میں آگے بڑھنے پر ماہین ڈر کر دیوار سے جا لگی، “مسئلہ کیا ہے؟”
“تم انکار کیوں نہیں کر رہیں؟”
“میں انکار کیوں کروں؟” سوال کے بدلے سوال حاضر تھا۔
زین آگے بڑھا۔ یہ دیوار میں سوراخ نہیں کر سکتی تھی، اس لیے چھپکلی کی طرح دیوار سے چپک گئی۔ زین نے ایک ہاتھ دیوار پر ٹکا لیا، معذور بازو اس کے پیٹ پر تھا۔
“غور سے دیکھو، اک معذور کے ساتھ ساری عمر گزارو گی؟”
ماہین نے ذرا سا نظروں کا زاویہ بدل کر اس کا بازو دیکھا، پھر آہستگی سے اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، “خود کو معذور مت کہا کرو، مجھے دکھ ہوتا ہے۔”
“انتہائی ڈھیٹ مٹی کی بنی ہو۔ کچھ نہیں ملے گا تمہیں، سسک سسک کر مرو گی، میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔” اسے اعتبار نہ آتا تھا۔
“یہ سب اپنے باپ سے کہو یا اپنی ماں سے۔ اعتراض تمہیں ہے، اس لیے انکار بھی خود ہی کرنے جاؤ۔ میرے کندھے پر بندوق رکھنے کی ضرورت نہیں۔” اس نے موندھی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے!” وہ پیچھے ہٹ کر دھاڑا۔
“یہاں سے تو دفع ہو جاؤں گی، مگر تمہاری زندگی سے ہرگز نہیں۔ رخصتی کا سفر نیچے سے اوپر کے کمرے تک کا تھا۔ ساری رات جنید اور اس کے دوستوں نے گلاب کی لڑیوں سے کمرے کی سجاوٹ کی تھی، پھر نئے فرنیچر کی وجہ سے کمرہ یوں بھی چمک اٹھا تھا۔ تازہ گلابوں کی مہک اور ایئر فریشنر کی خوشبو نے اعصاب پر کچھ اچھا اثر ڈالا، وہ تھوڑا پرسکون ہو کر بیٹھ گئی، “ٹھیک ہی تو ہے، جانے سے پہلے کون سا میرے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا جو آج رکھتے۔” وہ خود کو پرسکون کرتی زین کے بارے میں سوچنے لگی، ابھی نہ جانے اس کا کون سا رویہ سامنے آنا تھا، آج وہ سارا دن ایک پل کے لیے بھی نظر نہ آیا تھا۔
بند کھڑکی کی دراڑوں سے آتی نم ہوا نے بارش کا سندیسہ سنایا، اس نے اپنا دھیان بٹانا چاہا اور سنبھل کر کھسکی، تکیے پر سر رکھ کر نیم دراز ہو گئی۔ جسم کو ذرا آرام ملا تو پلکیں بوجھل ہونے لگیں، پتا نہیں آج وہ کمرے میں آئے گا بھی یا نہیں وہ بڑبڑا کر جاگی، کچھ لمحے خود پر جھکے زین کو دیکھتی رہی۔ نیم خوابیدہ آنکھوں میں سرخی کے ساتھ کچھ تو ایسا تھا جس نے زین کو رخ بدلنے پر مجبور کر دیا، وہ اس کی پشت کو دیکھتی سیدھی ہو بیٹھی۔ وہ سادہ سے شلوار قمیص میں ملبوس تھا۔
“ہو گئی تمہاری خواہش پوری؟” اس نے ہاتھ میں پکڑا تولیہ بیڈ پر پھینکا، سرخ نرم و نازک پتیوں پر وہ گیلا تولیہ کس قدر فضول لگ رہا تھا۔
“کون سی خواہش؟” ماہین نے تولیے سے نظریں ہٹا کر پھر سے زین کو دیکھا۔
“اس کمرے میں آنے کی خواہش، میری زندگی میں شامل ہونے کی خواہش۔” اس نے اضطراری انداز میں سائیڈ ٹیبل پر پڑا سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا، ایک ہی ہاتھ سے سگریٹ نکال کر پیکٹ دوبارہ ٹیبل پر پھینکا، پھر ٹھٹھک گیا۔ ماہین لائیٹر اٹھا چکی تھی، “کیا یہ بہت بری خواہش تھی؟” اس نے لائیٹر جلا کر ہاتھ اونچا کیا۔
زین نے اس کی کلائی یوں بھینچی، پھر غرایا:
“کچھ نہیں ملے گا تمہیں، نہ زمین، نہ زین کے دل میں جگہ۔” کینچ کی چوڑی ٹوٹ کر کلائی میں پیوست ہو گئی، ماہین کے لبوں سے سسکی ہی نکلی۔
“میں نے کہا تھا تم سے، تم اپنے سارے رحم اور ہمدردیاں سمیٹ کر یہاں سے چلی جاؤ، مگر تمہیں شوق تھا انسانیت کی علمبردار بننے کا، تو بنو!” اس نے کلائی کو جھٹکا دیا، ماہین نے سسکی روکنے کو لب بھینچ لیے، “اور معصوم و مظلوم بن کر دنیا کو بتایا کرنا کہ یہ معذور شخص میرے مقدر میں لکھا تھا تاکہ لوگ تم سے ہمدردی کریں۔ زین! کب تک یہ کھیل کھیلو گی، اکتا جاؤ گی۔” اس نے جھٹکے سے کلائی چھوڑی، وہ بیڈ کراؤن سے جا لگی۔ زین کمرے میں چکراتا، آگ برساتا رہا۔ بدگمانیوں کی کوئی حد بھی تھی، نجانے کس کس کا غصہ اس پر نکل رہا تھا۔ ماہین جانتی تھی ایسا ہوگا، اسے یقین تھا کہ وہ زین کے لبوں سے کوئی محبت بھری بات سننے کے بجائے کچھ ایسا ہی سنے گی، مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ برداشت نہ کر سکے گی۔
جل تو وہ پہلے ہی رہی تھی، اب تو لگتا تھا کسی الاؤ میں کھڑی ہے، کمرے میں تپش اور گھٹن ایک ساتھ بڑھ آئی تھی، اسے لگا دو منٹ بھی بیٹھی رہی تو سانس گھٹ جائے گا۔ وہ لہنگا سمیٹ کر اٹھی، چوڑی، کنگن، پازیب ایک ساتھ بج اٹھے۔ زین کچھ حیرت سے پلٹ کر دیکھنے لگا، ماہین کھڑکی کھول رہی تھی۔ نم ہوا، خوشبو، بارش کی آواز کمرے کے کونے کونے میں پھیل گئی اور گلابوں کی مہک سے ہم آغوش ہونے لگی، کچھ بوندیں اس کی جلتی پیشانی پر گریں۔ اس نے دونوں ہاتھ کھڑکی کی چوکھٹ پر رکھے اور ذرا سا آگے ہوئی، بارش اس کے چہرے پر برسی تو آنکھ کا کاجل بہہ نکلا۔
“ہاں، یوں ہی مظلومیت کا ڈھونگ رچانا، لیکن میں تمہارے جھانسے میں نہیں آؤں گا، تمہارا جب دل چاہے یہاں سے جا سکتی ہو، میری زندگی میں تمہاری کوئی گنجائش نہیں۔” اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ کس قدر کٹھور بن رہا تھا۔
Click the below link to download Novel
نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔
آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی
دریچہ کھول دو ساجن راحت جبین کا ایک دل کو چھو لینے والا رومانوی اردو ناول ہے جس میں محبت، قربانی، خودداری، غلط فہمیاں اور جذباتی زخموں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ کہانی زین اور ماہین کے گرد گھومتی ہے، جہاں ایک طرف زین اپنی جسمانی معذوری اور تلخ ماضی کی وجہ سے خود کو محبت کے لائق نہیں سمجھتا، جبکہ دوسری طرف ماہین ہر حال میں اس کا ساتھ نبھانے کا عزم رکھتی ہے۔ غلط فہمیاں، سخت رویے، صبر اور بے لوث محبت اس کہانی کو ایک منفرد اور یادگار سفر بنا دیتے ہیں۔
Dareecha Khol Do Sajan by Rahat Jabeen, Rahat Jabeen Novel, Complete Urdu Novel, Emotional Romance Novel, Forced Marriage Novel, Disability Romance, Family Drama Novel, Pakistani Urdu Novel
FAQs
Dareecha Khol Do Sajan kis qisam ka novel hai?
Yeh aik emotional romantic Urdu novel hai jismein family drama, disability, forced marriage aur healing romance ko markazi ahmiyat di gayi hai.
Dareecha Khol Do Sajan ki writer kaun hain?
Is novel ki writer Rahat Jabeen hain.
Kya Dareecha Khol Do Sajan complete novel hai?
Ji haan, yeh complete Urdu novel hai aur Novelistan par dastiyab hai.
Is novel ki kahani kis bare mein hai?
Yeh kahani Zain aur Maheen ke darmiyan paida hone wali ghalat fehmiyon, majbooriyon, mohabbat aur ek dusre ko qubool karne ke safar par mabni hai.
Dareecha Khol Do Sajan online kahan parh sakte hain?
Aap Novelistan par Dareecha Khol Do Sajan complete Urdu novel online parh sakte hain.
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain,
to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no: 035101052131 ya 0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕
Views:3,382
Read Novel Online
Frequently asked questions
What categories is this novel listed under?
This novel is listed under Childhood Nikah and Complete Novel.
Where can I read Dareecha khol do Sajan by Rahat Jabeen Novel20349 | Complete Urdu Novel?
The reading content is available in the Read online section of this page.
Share this Novel
Share this Novel QR
Share this QR image on WhatsApp, Facebook or any other app. Readers can scan it to open the novel.
سیرت کے لیے شادی کا دن اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہونا چاہیے تھا۔ وہ برسوں سے اپنے کزن شہزاد کو چاہتی تھی اور اب اسی کی دلہن بننے والی تھی۔ مگر نکاح سے چند لمحے پہلے شادی ہال میں اس سے منسوب نامناسب تصاویر اور ویڈیوز پھیل گئیں۔ کسی نے حقیقت جاننے کی کوشش نہ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے خوشیوں بھری تقریب الزام تراشی اور بدنامی کے خوف میں بدل گئی۔ شہزاد کے گھر والوں نے رشتہ توڑنے کا فیصلہ کیا تو احمر کاظمی اپنے محافظوں کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ اس نے سیرت سے نکاح کی پیشکش کی، مگر اس کے بدلے ایک بچے کی شرط رکھ دی۔ سیرت کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ اچانک اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ آخر اس کی شادی کے دن یہ سازش کس نے کی تھی اور احمر کاظمی کی پیشکش کے پیچھے کیا راز تھا؟
نو سالہ حورین کا نکاح دس سالہ زاویار شاہ سے دادا جان کی ضد پر کر دیا گیا تھا۔ دونوں اس فیصلے کے خلاف تھے، مگر ان کی کسی نے نہ سنی۔ زاویار نکاح کے بعد گھر چھوڑ کر چلا گیا اور حورین دس سال تک اس رشتے کا بوجھ اٹھاتی رہی۔ اس دوران اسے اپنی تائی نائلہ کے طعنوں اور سخت رویے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ دس سال بعد جب زاویار واپس آیا تو حورین نے سب کے سامنے اس سے طلاق مانگ لی۔ لیکن جس شخص سے وہ آزادی چاہتی تھی، اس نے اچانک اسی ہفتے رخصتی کا اعلان کر دیا۔ حورین کے لیے یہ فیصلہ کسی نئے امتحان سے کم نہیں تھا۔ آخر زاویار نے طلاق کے بجائے رخصتی کا فیصلہ کیوں کیا، اور کیا حورین اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کر سکے گی؟
مریم عالم شاہ کو اپنی دولت، حیثیت اور خاندانی شان پر بے حد غرور تھا۔ اسی حویلی میں رہنے والا اس کا یتیم کزن عارب اکبر اس کی نظروں میں ایک معمولی اور بے حیثیت شخص تھا۔ جب دادا جان نے دونوں کی شادی کا فیصلہ سنایا تو مریم کے لیے یہ بات ناقابلِ قبول تھی۔ اسے یقین تھا کہ عارب کبھی اس کے برابر نہیں ہو سکتا۔ مگر جائیداد کو خاندان میں رکھنے کی خواہش نے حالات کو بدل دیا اور دونوں نکاح کے رشتے میں بندھ گئے۔ مریم نے شادی کے بعد بھی عارب کی تذلیل جاری رکھی، لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ جس شخص کو وہ خاموش اور کمزور سمجھتی ہے، وہ اپنے دل میں برسوں کی تلخیوں کے ساتھ ایک خفیہ منصوبہ لیے بیٹھا ہے۔ جب مریم نے اس پر الزام لگا کر طلاق کا مطالبہ کیا تو عارب کا غیرمتوقع ردعمل سب کو حیران کر گیا۔ آخر اس کی خاموشی کے پیچھے کون سا راز چھپا تھا؟
شادی کے دن ایہام ملک کی دنیا اس وقت بکھر گئی جب اس کے منگیتر عامر فیروز نے اس سے محبت کا انکار کرتے ہوئے اس کی چچازاد بہن بسمہ کا انتخاب کر لیا۔ ایہام کے لیے یہ دھوکا صرف دل ٹوٹنے کا سبب نہیں تھا بلکہ اس کی کروڑوں کی جائیداد بھی خطرے میں پڑ چکی تھی۔ والد کی وصیت کے مطابق اسے اپنی بیسویں سالگرہ پر شادی کرنا ضروری تھا اور اب اس کے پاس صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔ اسی دوران ایک زخمی نوجوان ویٹر بینکوئٹ میں داخل ہوا۔ ایہام نے بے بسی سے اس سے شادی کی درخواست کی اور بدلے میں دولت اور گھر دینے کی پیشکش کر دی۔ مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ جسے وہ معمولی ویٹر سمجھ رہی ہے، وہ ایک ایسا خطرناک مافیا باس ہے جس کی اصل شناخت آج تک خفیہ اداروں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے۔ آخر یہ پراسرار اجنبی اس کی درخواست پر کیا فیصلہ کرے گا؟
بچپن میں طے ہونے والی منگنی شہروز خاکوانی اور نور الہدیٰ دونوں کے لیے ایک مسئلہ بن چکی تھی۔ شہروز اپنی مرضی کے بغیر شادی کرنے کو تیار نہیں تھا، جبکہ نور الہدیٰ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ والدین کے اصرار پر دونوں کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیا گیا، مگر نور الہدیٰ نے پہلے ہی ایک منصوبہ بنا لیا تھا۔ وہ اپنا حلیہ اس طرح بدل کر گاؤں پہنچی کہ شہروز اسے دیکھتے ہی شادی سے انکار کر دے۔ لیکن جب شہروز نے سب کے سامنے اسے پسند کرنے کا اعلان کیا تو نور الہدیٰ کے تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے۔ وہ حیران تھی کہ آخر اس نوجوان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے اور اس نے اچانک شادی کے لیے رضامندی کیوں ظاہر کر دی؟
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
ہاجرہ نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ طلحہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے یوں اجنبیت کا احساس ہوگا۔ جس شخص کے ایک جواب کی منتظر وہ بےچینی سے اس کے پاس پہنچی تھی، اسی کی سرد مہری نے اس کے دل میں موجود آخری امید بھی توڑ دی۔ حرا کے ساتھ نکاح کی بات پر طلحہ کی خاموشی ہاجرہ کے لیے کسی واضح جواب سے کم نہیں تھی۔ اس نے اپنے آنسو ضبط کیے، انگلی سے انگوٹھی اتاری اور میز پر رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ باہر سیڑھیوں پر بیٹھی ہاجرہ اپنے بکھرتے ہوئے خوابوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ اوپر کھڑکی کے پاس کھڑا طلحہ اسے دیکھتا رہا۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں ایسے سوال چھپے تھے جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں تھا۔
دو سال تک جس شخص کے ساتھ عرشیہ نے اپنی زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے تھے، اسی نے ایک لمحے میں اسے ٹھکرا کر اس کی محبت اور عزتِ نفس کو زخمی کر دیا تھا۔ مگر اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ابھی باقی تھا۔ جس زاویار سکندر کو وہ اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتی تھی، وہی شخص اب اس کا شریکِ حیات بننے کا خواہش مند تھا۔ عرشیہ کے نزدیک یہ رشتہ اس کی توہین تھا، جبکہ زاویار کے لیے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک اٹل فیصلہ بنتا جا رہا تھا۔ جب عرشیہ ہر دباؤ سے تنگ آ کر آدھی رات کو گھر چھوڑ نکلی تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس شخص سے وہ بھاگ رہی ہے، وہی اس کے راستے میں کھڑا ہوگا۔ مگر کیا ایک شخص کی ضد کسی دوسرے کے دل میں موجود نفرت کو بدل سکتی ہے؟
جس شخص نے شانزہ کو تنہائی کے اندھیروں سے نکال کر محبت کرنا سکھایا تھا، آج وہی اسے ایک بار پھر تنہا چھوڑنے جا رہا تھا۔ تین سال کی ازدواجی زندگی، بےشمار محبت بھرے لمحے اور ایک دوسرے کے ساتھ جینے کے خواب، سب ایک وارث کی خواہش کے سامنے بےمعنی ہوتے جا رہے تھے۔ ذولید حسن کی دوسری شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور شانزہ اپنے ٹوٹتے ہوئے دل کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر قسمت نے عین اسی لمحے اسے ماں بننے کی خوشخبری دی، جب اس کا شوہر کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہا تھا۔ جس خبر کے لیے وہ برسوں ترسی تھی، وہی خبر سن کر ذولید نے اس کی سچائی پر سوال اٹھا دیا۔ کیا محبت کے بعد اب شانزہ کو اپنے ہی شوہر کے سامنے اپنا یقین بھی ثابت کرنا ہوگا؟
نکاح میں صرف پندرہ دن باقی تھے اور حیدر خان نے ہانیہ کے سامنے ایسی شرط رکھ دی تھی جسے سن کر وہ غصے سے بھڑک اٹھی۔ سب کے سامنے اس شخص سے عشق کا اعلان کرنا جسے وہ برداشت تک نہیں کرتی تھی، اس کے لیے ناممکن تھا۔ مگر قسمت کو شاید ان دونوں کی ضد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ٹھیک پندرہ دن بعد نکاح بھی ہوگیا اور اچانک رخصتی نے دونوں کو ایک ہی رشتے میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ اب دلہن بنی ہانیہ آدھی رات تک حیدر کے کمرے میں بیٹھی اس شخص کا انتظار کر رہی تھی جسے وہ شادی سے پہلے ہی سکون سے نہ جینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ مگر کیا یہ رشتہ واقعی صرف نفرت اور ضد تک محدود رہنے والا تھا؟
شادی کو صرف چھ ماہ ہوئے تھے مگر ابراہیم کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی نئی نویلی بیوی عام لڑکیوں جیسی ہرگز نہیں۔ رات کے دو بجے اسے نیند سے جگا کر بارہ بچوں کا منصوبہ پیش کرنے والی ایشل کبھی اپنی معصوم منطق سے اسے لاجواب کر دیتی اور کبھی اپنی شرارتوں سے پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتی۔ سنجیدہ مزاج ابراہیم کے لیے اس کی ہر نئی حرکت ایک نئی مصیبت تھی، مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس چلتی پھرتی آفت سے ناراض ہونے کے بجائے اس کے عشق میں مزید گرفتار ہوتا جا رہا تھا۔ آخر ایشل کی شرارتیں ان کی شادی شدہ زندگی میں ابھی اور کتنے ہنگامے کھڑے کرنے والی تھیں؟
تین سال سے زین کے نکاح میں ہونے کے باوجود زینب اس کے غصے سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس کے کمرے میں قدم رکھنے کو بھی تیار نہ تھی۔ مگر مشال کے ایک چھوٹے سے جھوٹ نے اسے یہ یقین دلا دیا کہ زین شہر سے باہر ہے۔ وہ بےفکری سے اسی کے بستر پر سو گئی، اس حقیقت سے بالکل بےخبر کہ آدھی رات کو وہی شخص واپس لوٹنے والا ہے جس کے سامنے جانے سے بھی اس کی سانسیں الجھ جاتی تھیں۔ رات کی خاموشی میں جب زینب کو اچانک اپنے قریب کسی کی موجودگی اور گردن پر گرم سانسوں کا احساس ہوا تو اس کی آنکھیں خوف سے کھل گئیں۔ مگر سامنے کسی اجنبی کے بجائے زین تھا۔ آخر اس رات کے بعد تین سال سے فاصلے پر قائم یہ رشتہ کس سمت جانے والا تھا؟