Dareecha khol do Sajan by Rahat Jabeen Novel20349 | Complete Urdu Novel

Forced Marriage | Disability Romance | Family Drama | Emotional Romance | Enemies to Lovers

Dareecha Khol Do Sajan Novel by Rahat Jabeen Complete Urdu Novel

صبر، محبت اور غلط فہمیوں کے درمیان دل کو چھو لینے والی رومانوی داستان۔

وہ اسے بازو سے پکڑ کر ، گھسیٹتا ہوا اپنے کمرے میں لے گیا اور ایک جھٹکے سے چھوڑ کر غرایا:
“یہ کیا تماشا ہے؟”
“تو بہ ہے زین! میرا بازو توڑ ڈالا، ایسی بھی کیا بے تابی ہے، شادی کی ڈیٹ فکس ہو تو گئی ہے۔” بکواس کرنے میں ماہین کا ثانی کوئی نہ تھا، بے سوچے سمجھے بولتی۔
“شٹ اپ!” وہ حلق کے بل دھاڑا۔
“تم تو ابھی سے شوہر بننے کی پریکٹس کرنے لگے۔”
زین کے جارحانہ انداز میں آگے بڑھنے پر ماہین ڈر کر دیوار سے جا لگی، “مسئلہ کیا ہے؟”
“تم انکار کیوں نہیں کر رہیں؟”
“میں انکار کیوں کروں؟” سوال کے بدلے سوال حاضر تھا۔
زین آگے بڑھا۔ یہ دیوار میں سوراخ نہیں کر سکتی تھی، اس لیے چھپکلی کی طرح دیوار سے چپک گئی۔ زین نے ایک ہاتھ دیوار پر ٹکا لیا، معذور بازو اس کے پیٹ پر تھا۔
“غور سے دیکھو، اک معذور کے ساتھ ساری عمر گزارو گی؟”
ماہین نے ذرا سا نظروں کا زاویہ بدل کر اس کا بازو دیکھا، پھر آہستگی سے اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، “خود کو معذور مت کہا کرو، مجھے دکھ ہوتا ہے۔”
“انتہائی ڈھیٹ مٹی کی بنی ہو۔ کچھ نہیں ملے گا تمہیں، سسک سسک کر مرو گی، میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔” اسے اعتبار نہ آتا تھا۔
“یہ سب اپنے باپ سے کہو یا اپنی ماں سے۔ اعتراض تمہیں ہے، اس لیے انکار بھی خود ہی کرنے جاؤ۔ میرے کندھے پر بندوق رکھنے کی ضرورت نہیں۔” اس نے موندھی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔
“دفع ہو جاؤ یہاں سے!” وہ پیچھے ہٹ کر دھاڑا۔
“یہاں سے تو دفع ہو جاؤں گی، مگر تمہاری زندگی سے ہرگز نہیں۔ رخصتی کا سفر نیچے سے اوپر کے کمرے تک کا تھا۔ ساری رات جنید اور اس کے دوستوں نے گلاب کی لڑیوں سے کمرے کی سجاوٹ کی تھی، پھر نئے فرنیچر کی وجہ سے کمرہ یوں بھی چمک اٹھا تھا۔ تازہ گلابوں کی مہک اور ایئر فریشنر کی خوشبو نے اعصاب پر کچھ اچھا اثر ڈالا، وہ تھوڑا پرسکون ہو کر بیٹھ گئی، “ٹھیک ہی تو ہے، جانے سے پہلے کون سا میرے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا جو آج رکھتے۔” وہ خود کو پرسکون کرتی زین کے بارے میں سوچنے لگی، ابھی نہ جانے اس کا کون سا رویہ سامنے آنا تھا، آج وہ سارا دن ایک پل کے لیے بھی نظر نہ آیا تھا۔
بند کھڑکی کی دراڑوں سے آتی نم ہوا نے بارش کا سندیسہ سنایا، اس نے اپنا دھیان بٹانا چاہا اور سنبھل کر کھسکی، تکیے پر سر رکھ کر نیم دراز ہو گئی۔ جسم کو ذرا آرام ملا تو پلکیں بوجھل ہونے لگیں، پتا نہیں آج وہ کمرے میں آئے گا بھی یا نہیں وہ بڑبڑا کر جاگی، کچھ لمحے خود پر جھکے زین کو دیکھتی رہی۔ نیم خوابیدہ آنکھوں میں سرخی کے ساتھ کچھ تو ایسا تھا جس نے زین کو رخ بدلنے پر مجبور کر دیا، وہ اس کی پشت کو دیکھتی سیدھی ہو بیٹھی۔ وہ سادہ سے شلوار قمیص میں ملبوس تھا۔
“ہو گئی تمہاری خواہش پوری؟” اس نے ہاتھ میں پکڑا تولیہ بیڈ پر پھینکا، سرخ نرم و نازک پتیوں پر وہ گیلا تولیہ کس قدر فضول لگ رہا تھا۔
“کون سی خواہش؟” ماہین نے تولیے سے نظریں ہٹا کر پھر سے زین کو دیکھا۔
“اس کمرے میں آنے کی خواہش، میری زندگی میں شامل ہونے کی خواہش۔” اس نے اضطراری انداز میں سائیڈ ٹیبل پر پڑا سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا، ایک ہی ہاتھ سے سگریٹ نکال کر پیکٹ دوبارہ ٹیبل پر پھینکا، پھر ٹھٹھک گیا۔ ماہین لائیٹر اٹھا چکی تھی، “کیا یہ بہت بری خواہش تھی؟” اس نے لائیٹر جلا کر ہاتھ اونچا کیا۔
زین نے اس کی کلائی یوں بھینچی، پھر غرایا:
“کچھ نہیں ملے گا تمہیں، نہ زمین، نہ زین کے دل میں جگہ۔” کینچ کی چوڑی ٹوٹ کر کلائی میں پیوست ہو گئی، ماہین کے لبوں سے سسکی ہی نکلی۔
“میں نے کہا تھا تم سے، تم اپنے سارے رحم اور ہمدردیاں سمیٹ کر یہاں سے چلی جاؤ، مگر تمہیں شوق تھا انسانیت کی علمبردار بننے کا، تو بنو!” اس نے کلائی کو جھٹکا دیا، ماہین نے سسکی روکنے کو لب بھینچ لیے، “اور معصوم و مظلوم بن کر دنیا کو بتایا کرنا کہ یہ معذور شخص میرے مقدر میں لکھا تھا تاکہ لوگ تم سے ہمدردی کریں۔ زین! کب تک یہ کھیل کھیلو گی، اکتا جاؤ گی۔” اس نے جھٹکے سے کلائی چھوڑی، وہ بیڈ کراؤن سے جا لگی۔ زین کمرے میں چکراتا، آگ برساتا رہا۔ بدگمانیوں کی کوئی حد بھی تھی، نجانے کس کس کا غصہ اس پر نکل رہا تھا۔ ماہین جانتی تھی ایسا ہوگا، اسے یقین تھا کہ وہ زین کے لبوں سے کوئی محبت بھری بات سننے کے بجائے کچھ ایسا ہی سنے گی، مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ برداشت نہ کر سکے گی۔
جل تو وہ پہلے ہی رہی تھی، اب تو لگتا تھا کسی الاؤ میں کھڑی ہے، کمرے میں تپش اور گھٹن ایک ساتھ بڑھ آئی تھی، اسے لگا دو منٹ بھی بیٹھی رہی تو سانس گھٹ جائے گا۔ وہ لہنگا سمیٹ کر اٹھی، چوڑی، کنگن، پازیب ایک ساتھ بج اٹھے۔ زین کچھ حیرت سے پلٹ کر دیکھنے لگا، ماہین کھڑکی کھول رہی تھی۔ نم ہوا، خوشبو، بارش کی آواز کمرے کے کونے کونے میں پھیل گئی اور گلابوں کی مہک سے ہم آغوش ہونے لگی، کچھ بوندیں اس کی جلتی پیشانی پر گریں۔ اس نے دونوں ہاتھ کھڑکی کی چوکھٹ پر رکھے اور ذرا سا آگے ہوئی، بارش اس کے چہرے پر برسی تو آنکھ کا کاجل بہہ نکلا۔
“ہاں، یوں ہی مظلومیت کا ڈھونگ رچانا، لیکن میں تمہارے جھانسے میں نہیں آؤں گا، تمہارا جب دل چاہے یہاں سے جا سکتی ہو، میری زندگی میں تمہاری کوئی گنجائش نہیں۔” اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ کس قدر کٹھور بن رہا تھا۔

Click the below link to download Novel

نیچے دیے گئے 4 ڈاؤن لوڈ لنکس میں سے 3 لنکس پر اشتہار آ سکتا ہے، جبکہ 1 لنک اصل ڈاؤن لوڈ لنک ہے۔

ہماری درخواست ہے کہ کسی بھی لنک کو بند کیے بغیر تھوڑا صبر سے استعمال کریں۔

آپ کی یہی چھوٹی سی سپورٹ ہمیں مزید ناول آپ تک پہنچانے میں مدد دیتی

Download Link

2nd Link

Download Link

3rd Link

Download Link

4th Link

Direct Download

Summary

دریچہ کھول دو ساجن راحت جبین کا ایک دل کو چھو لینے والا رومانوی اردو ناول ہے جس میں محبت، قربانی، خودداری، غلط فہمیاں اور جذباتی زخموں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ کہانی زین اور ماہین کے گرد گھومتی ہے، جہاں ایک طرف زین اپنی جسمانی معذوری اور تلخ ماضی کی وجہ سے خود کو محبت کے لائق نہیں سمجھتا، جبکہ دوسری طرف ماہین ہر حال میں اس کا ساتھ نبھانے کا عزم رکھتی ہے۔ غلط فہمیاں، سخت رویے، صبر اور بے لوث محبت اس کہانی کو ایک منفرد اور یادگار سفر بنا دیتے ہیں۔

Dareecha Khol Do Sajan by Rahat Jabeen, Rahat Jabeen Novel, Complete Urdu Novel, Emotional Romance Novel, Forced Marriage Novel, Disability Romance, Family Drama Novel, Pakistani Urdu Novel

FAQs

Dareecha Khol Do Sajan kis qisam ka novel hai?

Yeh aik emotional romantic Urdu novel hai jismein family drama, disability, forced marriage aur healing romance ko markazi ahmiyat di gayi hai.

Dareecha Khol Do Sajan ki writer kaun hain?

Is novel ki writer Rahat Jabeen hain.

Kya Dareecha Khol Do Sajan complete novel hai?

Ji haan, yeh complete Urdu novel hai aur Novelistan par dastiyab hai.

Is novel ki kahani kis bare mein hai?

Yeh kahani Zain aur Maheen ke darmiyan paida hone wali ghalat fehmiyon, majbooriyon, mohabbat aur ek dusre ko qubool karne ke safar par mabni hai.

Dareecha Khol Do Sajan online kahan parh sakte hain?

Aap Novelistan par Dareecha Khol Do Sajan complete Urdu novel online parh sakte hain.

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *