Mere Uzar Haye Mohabbat By Saira Naz Novel20682
Mere Uzar Haye Mohabbat By Saira Naz
Forced Marriage | Rude Hero | Revenge base | Complete Novel | Romantic Novel
”آمن تو بچہ ہے لیکن آپ کو تو سمجھنا چاہیے تھا۔“ سفانہ نے بنا لگی لپٹی رکھے اسے بھی گھرک دیا۔۔۔ دل تو چاہا کہ اسے مزید سخت سست سنا دے مگر آمن کے ذہن پر برا اثر پڑنے کا خیال اسے کچھ بھی کہنے سے روکے ہوئے تھا۔
”مس! آمن یہ سب بہت شوق سے لے کر آیا ہے اور مجھے اس کی دل آزاری ہرگز مقصود نہیں۔“ اتصاف نے پہلے کے برعکس انگریزی کی بجائے اردو میں یہ جملہ ادا کیا تھا کہ آمن کو برا محسوس نہ ہو۔۔۔ وہ آج کل کے اعلی طبقے کے بچوں کی طرح پوری طرح اردو سے نابلد تو نہ تھا لیکن اتنی مشکل اردو سے ابھی اس کا پالا نہ پڑا تھا۔
”آمن! میں یہ صرف آپ کیلیے رکھ رہی ہوں۔۔۔ آپ تشریف رکھیں۔“ سفانہ کے اپنے کچھ تحفظات تھے لیکن اس نے صرف اس بچے کی خوشی کی خاطر اس کے ہاتھ سے وہ دونوں چیزیں تھام کر ایک جانب رکھتے، اتصاف کو نشست سنبھالنے کا اشارہ کیا۔۔۔ اس نے بظاہر مسکرا کر آمن کو جواب دیا تھا لیکن اس کے چہرے کے تنے ہوئے تاثرات اس کے اندرونی خلفشار کا پتا دے رہے تھے۔۔۔۔ وہ کوئی مزید وضاحت کرتا لیکن اس سے پہلے ہی ایک اور بچے کے والدین کمرے میں آ گئے تو اس نے اس بات کو جانے دیا تھا۔۔۔ سفانہ بھی بنا مزید کسی بحث کے اس سے آمن کی تعلیمی کارکردگی پر بات کر رہی تھی لیکن اس کے انداز میں ایک محسوس کی جانے والی بےچینی تھی۔۔۔ وہ چاکلیٹ والا لفافہ تو اپنے سامنے دھرے میز کی دراز میں رکھ چکی تھی لیکن اس پر پڑے پھولوں کے گلدستے پر پڑنے والی سوالیہ نظریں اس کے ذہنی انتشار کو ہوا دے رہی تھیں۔
”آمن کو لگا تھا کہ اس کا دوست پہلے نمبر پر آیا ہے لیکن ان دونوں بچوں کے بیچ بہت ہی معمولی سا فاصلہ تھا جو ان بچوں کیلیے ماپنا اتنا آسان نہیں۔“ وہ دونوں اب آمن کی غیرنصابی سرگرمیوں کو لے کر کوئی بات کر رہے تھے جب عکرمہ جیلانی اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر کمرہ جماعت میں داخل ہوا تھا۔۔۔ اتصاف نے ایک سرسری نظر اس پر ڈال کر نگاہوں کا زاویہ موڑ لیا جبکہ عکرمہ کی بےباک نگاہیں بڑی دیدہ دلیری سے سفانہ کے سراپے کا جائزہ لے رہی تھیں۔
”بہت پیارے پھول ہیں۔“ اپنی نشست سنبھالنے تک وہ آنکھیں تو قابو میں کر چکا تھا لیکن اس کی زبان ضرور جال بننے لگی۔۔۔۔ اس کے لہجے کی شائستگی کسی بھی مہذب انسان کی خصوصیات کو مات دیتی تھی۔
”میں لایا ہوں ٹیچر کیلیے!“ کسی اور کے کچھ کہنے سے پہلے ہی آمن نے بڑے تفاخر سے انکشاف کیا تو عکرمہ کے ساتھ وہاں موجود ایک اور والدین کی آنکھوں میں بھی استعجاب ابھرا تھا۔
”جہاں تک میری ناقص معلومات ہیں، اس اسکول میں اساتذہ کو تحفے کی مد میں کچھ بھی دینا قانون شکنی گردانا جاتا ہے۔“ عکرمہ نے سب کے ذہنوں میں پنپتے سوالوں کو زبان دی تھی۔
”مجھے اچھے سے علم ہے ان قوانین کا اور یہ انھیں واپس لے کر ہی جانے ہیں۔“ سفانہ کی بات پر اتصاف نے ایک گہرا سانس بھرا جبکہ آمن کا روشن چہرہ بھی تاریک ہوا تھا۔
”عجیب بات ہے کہ یہ ادھر تک آ کیسے گئے؟“ عکرمہ جیلانی کی ابھی بھی تشفی نہ ہوئی تھی۔
”یہ بات آپ انتظامیہ سے پوچھیں تو بہتر ہے۔“ سفانہ نے اس بار اپنے لہجے کی ناگواریت کو چھپانے کی ضرورت ہرگز محسوس نہ کی تھی۔۔۔۔ اتصاف نے بمشکل خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا کہ وہ اپنے کاروباری حریف کو کم از کم اپنے بھتیجے کے اسکول میں کوئی تماشا کھڑا نہیں کرنے دینا چاہتا تھا۔
”چلیں آپ سے ملاقات کر لیں تو پھر انتظامیہ سے بھی دو دو ہاتھ کر لیں گے۔۔۔ ہم یوں کسی کو بھی قوانین کی روگردانی ہرگز نہیں کرنے دیں گے۔۔۔ آپ ایک بچے کا تحفہ قبول کریں گی تو پھر باقی بچوں کے دل میں بھی کوئی غلط خیال آ سکتا ہے۔“ عکرمہ نے اپنے لہجے کو بظاہر نرم ہی رکھا لیکن اس کا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ اس خوبصورت قیامت کے سامنے براجمان اتصاف کادوانی کو اٹھا کر کہیں دور پھینک دے۔۔۔۔ دوسری جانب اتصاف کو یہی لگ رہا تھا کہ وہ یہاں اس کی موجودگی کے باعث کوئی ہنگامہ کرنا چاہ رہا ہے۔۔۔ اسکے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ یہاں آیا ہی سفانہ کو دیکھنے کیلئے تھا اور اب وہ دل و جان سے پوری طرح اس پر فریفتہ ہو چکا تھا۔۔۔ عکرمہ کی بات پر وہاں پہلے سے موجود اور بعد میں آنے والے والدین کے سر بھی اثبات میں ہلے تو سفانہ کا دل چاہا کہ وہ ان پھولوں سمیت عکرمہ اور اتصاف کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دے۔۔۔ بیچارے بچے تو ہونقوں کی طرح ساری صورتحال ملاحظہ فرما رہے تھے۔۔۔ان کے ننھے ذہن اس معاملے کی نزاکت سے نابلد ہی تھے۔
”شکریہ مس حیدر!“ اتصاف، سفانہ کی سبکی کے خیال سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ اس کے اپنی جگہ چھوڑنے پر سفانہ نے ابرو اچکا کر پھولوں کی جانب اشارہ کیا تو وہ لب بھینچ کر گلدستہ تھام گیا۔۔۔ سفانہ کا دل چاہا کہ وہ چاکلیٹ والا لفافہ بھی نکال کر اس کے منہ پر دے مارے لیکن وہ مزید کوئی تماشہ کھڑا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
”انیہ کے والدین آپ سے پہلے آئے تھے۔“ اتصاف کے مڑنے پر عکرمہ نے اپنی نشست چھوڑ کر اس کے میز کے سامنے لگی کرسیوں پر آ کر بیٹھنا چاہا تو سفانہ نے شائستگی سے اسے ٹوک دیا تھا۔
”لگتا ہے پھول وہ بچہ نہیں بلکہ اتصاف کادوانی لے کر آیا تھا آپ کیلئے!“ سفانہ اسے ٹوکتی یا کوئی اور کچھ کہتا، اس سے پہلے ہی اتصاف نے ہاتھ میں پکڑا گلدستہ دروازے سے باہر رکھے درمیانے حجم کے کوڑے دان کی طرف پٹخنے کے انداز میں اچھالا تھا جس کے نتیجے میں ان پھولوں کے ساتھ ساتھ وہ بھی زمین بوس ہو گیا۔۔۔ صورتحال کی نزاکت سے نابلد آمن اپنے تحفے کی اس بےقدری پر رونے لگا تھا۔
”آپ نے کادوانی صاحب کا دل ہی توڑ دیا۔۔۔ کتنے پیارے پھول لائے۔۔۔“ سفانہ نے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی تھی۔
”مسٹر! آپ کو میری ذاتیات میں دخل اندازی کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔۔۔ پھول کون اور کس کیلئے لایا تھا، یہ یقیناً آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ وہ پھول میرے لئے تھے، میں نے نہیں لئے۔۔۔ کیوں نہیں لئے، اس کیلئے میں کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہوں۔۔۔ بہتر ہے کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ کر، اپنی باری کا انتظار کریں۔۔۔۔ آپ آ جائیں آگے۔“ سفانہ نے دوٹوک انداز میں اپنی بات مکمل کر کے انیہ کے والدین کو آگے آنے کا عندیہ دیا تھا لیکن عکرمہ جیلانی سے اتنی بےعزتی برداشت نہ ہوئی تھی۔
”مس حیدر! جواب تو آپ کو دینا ہی پڑے گا۔۔۔۔ اب آپ سے ملاقات انتظامیہ کے دفتر میں ہی ہوگی۔“ عکرمہ سرخ چہرے کے ساتھ کہتا، حق دق کھڑے اریب کا ہاتھ تھام کر، دروازے کی سمت بڑھ گیا تو سفانہ نے ‘مجھے کیا’ والے انداز میں کندھے اچکائے تھے۔۔۔ وہ اب اپنے سامنے والی کرسیوں پر براجمان والدین کی طرف متوجہ ہو چکی تھی۔
”مس حیدر! مسز آصف نے آپ کو اپنے دفتر میں طلب کیا ہے۔“ ان کے جانے کے بعد وہ ابھی بمشکل دو مزید والدین سے ملاقات کر سکی تھی کہ اسے پرنسپل صاحبہ کی جانب سے اپنے دفتر میں آنے کا بلاوا مل گیا تھا۔۔۔۔۔

Download link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕