Utro Kisi Shaam Mere Aangan Mein by Shumaila Hassan

Forced Marriage |   Rude Hero | Revenge base | Complete Novel | Romantic Novel 
“میں نے تو پاپا کو یہی بتایا کہ تم جہیز نہ لانے پر مجھے طعنہ دے رہے ہو۔۔۔ اب وہ شام تک میرا بیڈ روم سیٹ یہاں پہنچا دیں گے تو پھر اپنا بندوبست کہیں کر لینا۔۔۔” ٹانگ پر ٹانگ رکھے جھلاتے وہ چہرے پر ایک کمینی سی مسکراہٹ سجائے بیٹھی تھی۔۔۔۔ شہرام نے چند لمحے اسے بغور دیکھا۔۔ اس کا موڈ کچھ دیر پہلے والے موڈ سے قطعی مختلف تھا۔۔ رات وہ جتنے شدید غصے میں تھی اس کے مقابلے میں اس وقت وہ بہت پرسکون لگ رہی تھی۔۔ شاید اب وہ اسے اورنگزیب صاحب کی نظروں میں ذلیل کر کے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتی تھی۔۔
“ایک بات اچھی طرح سے ذہن میں بٹھا لو۔۔ تمہارے یہ گھٹیا سازشی ڈراموں سے مجھ پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ہے۔۔ دوسری بات۔۔۔ تمہیں یہاں اسی حال میں رہنا ہو گا، جس میں میں رکھوں گا یہ بات میں نے اچھی طرح انکل کو بھی باور کروا دی ہے۔۔۔ تمہارا کوئی فرنیچر ہرگز یہاں نہیں آئے گا۔۔۔۔ اور یہ بات بھی تم بھول جاؤ کہ ان چھچھوری حرکتوں سے تم اس گھر سے یا مجھ سے چھٹکارا پا سکتی ہو ڈئیر وائف۔۔۔ اب شاباش جلدی سے تیار ہو جاؤ۔۔ باہر سب ہمارا ویٹ کر رہے ہیں۔۔” اس کے گال تھپتھپاتا وہ یوں مخاطب ہوا جیسے وہ کوئی چھوٹی بچی ہو جسے بہلانا مقصود ہو۔۔ زرشہ کا دماغ ایک مرتبہ پھر گھوما تھا۔۔۔ اسے تو لگا تھا کہ اتنی بے عزتی پر وہ ضرور ہنگامہ کھڑا کرے گا۔۔۔اور یہی تو وہ چاہتی تھی۔۔۔ تاکہ یہاں سے نکلنے کے اس کے رستے آسان ہوں۔۔ مگر شہرام آفندی اس کی سوچ سے بہت اوپر کی چیز نکلا تھا۔۔۔
“آئندہ مجھے چھونے کی کوشش مت کرنا۔۔۔” اس کے مقابل کھڑا ہو کر انگلی اٹھاتی وہ درشتی سے گویا ہوئی۔۔ ایک تو اس کی باتیں دوسرا استحقاق سے اسے چھونا زرشہ کو مزید آگ لگا گیا تھا۔۔۔
“یہ تم پر منحصر ہے۔۔ اگر چاہتی ہو کہ یہ سب نہ ہو تو اپنی حرکتیں سدھار لو۔۔۔” لاپرواہی سے کندھے اچکاتا وہ پلٹ گیا۔۔۔ زرشہ نے زیر لب اسے ایک بار پھر بددعا سے نوازا تھا۔۔۔
“میں بھی دیکھتی ہوں آخر کب تک تم مجھے برداشت کرو گے، شہرام آفندی۔۔۔” دل ہی دل میں وہ اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی جو اب ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں کھڑا بالوں میں برش پھیر رہا تھا۔۔
“زرشہ اورنگزیب۔۔۔ یہ ایک مرد کی انا اور عزت کا سوال ہے۔۔۔۔ نہ تمہیں خود سے محبت کرنے پر مجبور کیا تو میرا نام شہرام آفندی نہیں۔۔۔۔” دوسری جانب آئینے میں نظر آتے زرشہ کے عکس کو دیکھتے شہرام بھی خودکلامی میں مگن تھا۔۔۔ دونوں جانب ہی ارادے بہت مضبوط تھے اب دیکھنا یہ تھا کہ وقت گزرتے یہ بازی کس کے حق میں پلٹتی تھی۔۔۔
“میں باہر نہیں جاؤں گی۔” زرشہ کی آواز پر کرتے کی آستینیں موڑتے شہرام کا ہاتھ ایک پل کو ٹھٹھکا۔۔۔ وہ یقیناً اسے اب اس کے گھر والوں کے سامنے شرمندہ کروانا چاہتی تھی۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔ مجھے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔ ہم پورا دن آج سکون سے کمرے میں ساتھ گزارتے ہیں۔ ویسے ہی رات میں ڈھنگ سے نہیں سو پایا۔۔۔۔ امی کو کال کر کے بتا دیتا ہوں کہ وہ لوگ ناشتہ کر لیں جب ہماری تھکن اتر جائے گی تو باہر آ جائیں گے۔۔۔” اطمینان سے سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھاتا وہ زرشہ کو حیرت اور صدمے سے دوچار کر گیا تھا۔۔ اس کی ہر چال کا توڑ شہرام آفندی کے پاس موجود تھا
“مرجاؤ تم شہرام آفندی۔۔” اب کی بار دل کی آرزو کو با آواز بلند ظاہر کرتے وہ جھلاتے ہوئے بیڈ سے اتری۔۔۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ سر پھرا انسان واقعی باہر کال نہ ملا دے۔۔۔ اور پھر اس کے ساتھ پورا وقت اسی دڑبے میں اس کے سر پر سوار رہے۔۔۔ اسے مسلسل کوسنوں سے نوازتی وہ الماری سے کپڑے نکال کر واش روم کی جانب بڑھی تو شہرام کے ہونٹوں پر ایک گہری مسکراہٹ رینگی تھی۔۔۔
“اتنی بھی بری نہیں ہے یہ۔۔۔” واش روم کے بند دروازے کو دیکھتے وہ دھیمے سے مسکراتا ہوا بیڈ پر براجمان ہو گیا۔۔

Download link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Share this Novel

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *