Maine Pyar Kiya By Haya Fatima Novel20717
Maine Pyar Kiya By Haya Fatima
Funny Novel | Romantic and Urdu Novel | Complete novel
“اوئے ہوئے۔۔۔تمہارے لالہ کی الماری میں زنانہ لپ اسٹک۔ہم کو تو پہلے ہی شک تھا تمہارا لالہ ہی ہے جو رات کو عورت بن کر گاؤں کی سڑک پر کھڑا ہوتا ہے۔ ” وہسرخ لپ اسٹک دیکھتے، وہ لوگ اہان خانزادہ کے الماری میں اپنی رپورٹ کارڈ تلاش کرنے آئے تھے کیونکہ فرصت ملتے اہان وہ پڑھتا تو دونوں کو فیل دیکھ ان کی شادی کر دی جاتی۔”اوئے ماڑا۔۔۔ یہاں تو جھمکی بھی ہے۔ہم کہہ رہا ہے گل اپنے لالہ کے لیے دلہن نہیں دولہا ڈھونڈنا۔” تجسس سے کہتی وہ پلٹی تھی پر اپنے پیچھے گل کی جگہ اہان کو دیکھ ہاتھ سے چیزیں نیچے گری تھی۔”اوہ۔۔۔ہم یہاں کیسے۔۔لالہ ہم کو نیند میں چلنے کا عادت ہے۔۔۔شاید جبھی تمہارا کمرے میں۔۔۔” وہ گڑبڑا کر کہتی نکلنے لگی جب اہان نے اسے سختی سے الماری کے ساتھ لگایا۔اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیسے خود کو بچائے تو اچانک بےہوش ہوتی نیچے گرنے لگی اس کی چالاکی پر اہان نے دانت پیستے۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیڑھیوں پر جھاڑو لگا رہی تھی ۔ گنگناتے مسکراتی بال جوڑے میں لپیٹے مکمل خود میں مگن تھی جب نیچے سے اوپر چڑھتے آہل نے اسے دیکھا ایک پل کو رکا ۔ تاکہ وہ اسے دیکھ کر جھاڑو مارنا روک دے اور وہ گزر سکے مگر وہ یوں ہی جھاڑو لگاتی مٹی گراتی رہی آہل اس کی بے دھیانی پر تاسف سے سر جھٹکتا ایک طرف ہوا ۔
“میڈم ! دکھائی دے رہا ہے کہ کوئی اوپر آرہا ہے ؟ ” وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ گڑبڑا کر رک گئی ۔
“ہاں لالہ ! ” وہ جھاڑو مارنا روک چکی تھی ۔
“تمہیں اس کام پر کس نے لگایا ہے ؟” وہ جو اس کے نکمے پن سے بخوبی واقف تھا حیرانی سے پوچھ رہا تھا ۔
“ہمارا امی نے ۔۔” وہ جلدی سے بولی ۔
“پیپر ختم ہوئے ہیں ناں ۔۔ اب چھٹیوں میں امی نے کہا ہے کام سیکھو گھر کے ۔۔ ”
“اور تم جھاڑو لگانا سیکھ رہی ہو ؟ یہاں دیکھو سیڑھی کے کونے میں ساری مٹی لگی ہے۔۔۔ ٹھیک سے جھاڑو لگاؤ ۔۔ ” وہ اسے حکم دیتا سیڑھیاں چڑھ کر وہاں سے چلا گیا ۔ جبکہ وہ لب کچلتی اس جگہ کو دیکھنے لگی جہاں مٹی لگی تھی ۔
“خدیجہ ۔۔۔ او خدیجہ ۔۔”
“جی !” تب ہی اوپر کی ریلنگ سے ملازمہ جھانکنے لگی۔
“آؤ اب تم لگادو میں تھک گئی ہوں۔۔”
“ابھی تو ایک زینہ کا آدھا حصہ بھی پورا نہیں ہوا جی۔۔”
“تو میں کیا کروں ۔۔ صفائی کا تنخواہ تم لیتی ہو یا میں۔ ۔ ” وہ بھڑک کر بولی اور جھاڑو پھینک کر تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اندر ہال میں غائب ہوگئی ۔ خدیجہ منہ بنائے اس کا چھوڑئ ادھوری جھاڑو مکمل کرنے لگی ۔
“گل تمہارا لالہ جو ہے ناں پورا کا پورا عورت ہے ۔۔ میں جھاڑو لگا رہی تھی اور کسی کٹر ساس کی طرح مجھے کہا وہاں مٹی ہے تم صحیح سے جھاڑو نہیں لگا رہی ۔۔ بھلا مردوں کو زیب دیتا ہے ایسے ساس جیسا حرکتیں کرے؟”
“زیادہ مت بولو ۔۔۔ ” گل نے اسے گھورا مگر وہ منہ چڑھاتی صوفے سے ٹیک لگا کر چہرے پر ماسک لگانے لگی ۔
” آج تم چہرے پر یہ کیوں لگا رہی ہو ۔۔ بقول تمہارے تمہارے قدرتی حسن کو تو کسی ٹوٹکے کی ضرورت نہیں ۔۔”
“اماں نے جھاڑو لگانے پر لگایا ناں مجھے ۔۔ میرے ماتھے پر پسینہ آگیا ۔۔ اب چہرے پر کوئی فرق نہ پڑے اس لیے یہ ماسک لگا رہی ہوں ۔۔ تمہیں نہیں پتا زیادہ پسینے سے چہرہ خراب ہوتا ہے ؟”
“نہیں میڈم جی ذرا یہ تو بتائیں آدھے زینے پر جھاڑو لگانے کے بعد آپ کو کتنا لیٹر پسینہ آیا تھا؟ اسی پل خدیجہ بھی وہاں آدھمکی ۔
“تم اپنا کام سے کام رکھو ۔۔گل مینا تم لوگوں نے اس کو زیادہ سر چڑھا رکھا ہے ۔۔ ” وہ دانت کچکچاتی وہاں سے اٹھنے لگی۔ چہرے پر بیسن اور ہلدی کا مکسچر لگائے وہ وہیں ہال میں چکر لگا رہی تھی اور اسی پل آہل دوبارہ وہاں آیا۔ اسے یوں دیکھ آنکھیں سکیڑیں
“اب پھر کچھ کہیں گا یہ عورت ۔۔ ” وہ بڑبڑائی۔
“کیا کہا تم نے ؟’
“کچھ نہیں کہا ۔۔” وہ یک دم گڑبڑائی ۔ اور غور سے اس کا چہرہ دیکھا جیسے اندازہ لگانا چاہ رہی ہو کہ کہیں اس نے بڑبڑاہٹ سن تو نہیں لی ۔
“پرسوں تمہارا رزلٹ ہے ۔۔ اگر نمبر 60 فیصد سے کم آئے ناں ؟ تو اپنا بوریا بستر سمیٹ کر کوئٹہ لوٹ جانا ۔۔ نانا سے کہہ دیا ہے ۔۔ وہ کہہ رہے ہیں ویسے بھی وہ تمہاری شادی کی تیاری کررہے ہیں ۔۔پڑھائی تمہارے بس کی بات نہیں ۔۔ ”
“ہاں پڑھ لکھ کر آپ کمشنر لگ گئے ہیں ناں ۔۔مبارک ہو ۔۔ ” اس کے لہجے پر وہ منمنا کر بولی تھی ۔
“خیر مبارک ! میں حقیقتاً کمشنر لگ چکا ہوں ۔۔” وہ اسے گھور کر کہتا وہاں سے آگے بڑھ گیا اور وہ منہ کھولے حیرت سے اسے جاتے دیکھتی رہی ۔
“تو میں کیا کروں۔۔ کمشنر صاحبہ کہیں کے ۔۔”
اونچا بڑبڑا کر وہ واپس اندر چلی گئی ۔
اس کا تعلق کوئٹہ سے تھا مگر وہ دو سال سے یہاں کالج میں پڑ رہی تھی اور اپنی پھپھو کے گھر رہ رہی تھی ۔ گل مینا اور آہل دونوں بہن بھائی تھے ۔ دونوں ذہین اور سمجھدار تھے مگر جب سے وہ یہاں آئی تھی گل مینا بھی کچھ کچھ اس کی طرح ہوگئی تھی ۔ یعنی سست، نخریلی,مغرور، منہ پھٹ اور کند ذہن ۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی تبھی وہاں پلکوں پر رہتے رہتے جب سے یہاں آئی اس کے رنگ ڈھنگ شروع شروع میں سب کے لیے ایک معمہ ہی تھے ۔ وہاں ماں باپ کی لاڈلی تھی اور یہاں اپنی پھپھو کی ۔ وہ دو سال سے یہاں رہ رہی تھی مگر چھٹیوں میں کوئٹہ جاتی تو گل کو بھی ساتھ لے کر جاتی ۔ جبکہ آہل ہمیشہ اپنی سخت روٹین کے ساتھ جڑا رہتا ہمیشہ مصروف اور سنجیدہ دکھائی دیتا تھا ۔ اور خود اکثر ہی آہل کی ڈانٹ اور تنقید کا نشانہ بنتی رہی تھی ۔ اس وقت بھی وہ اپنا منہ دھو کر فریش ہونے کے بعد اپنے کمرے میں آئی تو اس کی امی کی کال آگئی ۔
“جی اماں جان ۔۔ ”
“کیسی ہے میری بیٹی ۔۔”
“بہت تھک گئی ہوں ۔۔ پورے گھر کی صفائی کی ہے ۔۔ کھانا بھی بنایا ہے ۔۔ برتن بھی دھوئے ہیں ۔۔ ”
گیٹ پر کھڑی گل مینا حیرت سے منہ کھولے اس کی دیدہ دلیری پر حیران ہوئی اگلے ہی پل لپک کر اس کے قریب پہنچتے فون اس کے ہاتھ سے جھپٹا ۔
“یہ جھوٹ بول رہی ہے ممانی جان اس نے بس آدھے زینہ پر جھاڑو لگایا ہے ۔۔۔ ”
اس کی بات پر علوینا کی آنکھیں غصے سے لال ہوئیں اور اس کا فوراً ہی منہ بن گیا ۔
گل مینا نے فون اس کی طرف بڑھایا تو اس نے جھپٹ کر فون کھینچا ۔
“میں اپنی امی سے مذاق کررہی تھی تمہیں کیا ضرورت ہے بیچ میں ٹانگ اڑانے کی ؟”
کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ تم مذاق کررہی ہو وینا ۔۔”
“بس ٹھیک ہے ۔۔ اماں اس چڑیل کا باتوں پر دھیان ہی مت دو ۔۔ آپ کو تو پتا ہے آپ کی بیٹی ابھی چھوٹی ہے۔۔”
“اٹھارہ سال کی ہو ۔۔مجھ سے ایک سال بڑی ۔۔ ”
“اف ۔۔۔ دفع ہوجاؤ گل مجھے میری امی سے بات کرنے دو ۔۔ ”
دوسری طرف زکیہ ان کی نوک جھوک پر ہنستی جارہی تھیں
“اماں۔ کیا آپ کو پتا ہے ۔آہل صاحبہ کمشنر بن گئے ۔۔”
“صاحبہ؟ تم میرے بھائی کا مذاق کیوں اڑ رہی ہو ؟اور کمشنر نہیں ڈپٹی کمشنر ۔۔” وہ یک دم تپ کر اس پر جھپٹی تھی۔ علوینا نے ہنستے ہنستے اپنی ماں کو جلدی سے اللہ حافظ کہتے فون کاٹا ۔
“اچھا اچھا ۔۔۔ سیریسلی ۔۔ مجھے بتاؤ ! یہ تمہارا لالہ کمشنر کیسے بنا ؟”
“کیسے بنا کیا مطلب ؟ تمہیں نہیں پتا ۔۔”
“نہیں مطلب یہ کب ہوا کب سے کمشنر بن گئے ۔۔ ؟
“ابھی دو ہفتے پہلے ہی تو تم نے صبح صبح کیک کھایا تھا ! وہ بھی پورا کا پورا ؟ ”
“پورا کا پورا نہیں کھایا تھا وہ تو تھا ہی آدھا ۔۔”وہ منہ بنا کر بولی ۔
“کیوں میرے کھانے پر نظر رکھتی ہو ۔۔”
“ایک پاؤنڈ کا تو تھا ہی ۔۔”
“ایک پاؤنڈ تھا بس ۔۔۔ اچھا کیا وہ کیک اس کے کمشنر بننے کی خوشی میں تھا ؟ تبھی دوپہر کو مجھے موشن لگ گئے تھے ۔۔” وہ کہہ کر ہنسی اور اگلے ہی پل اسے گل کا تھپڑ کھانا پڑا ۔
“تمہیں میرے لالہ سے کیا مسئلہ ہے ۔۔ ؟”
“مسئلہ تو کوئی نہیں بس ذرا مغرور، غصیلا, ہر کام میں ٹانگ اڑانے والا ۔۔”
“بس بس ۔۔ ٹھیک ہے ۔۔ ” گل نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا ۔
٫مگر تم لوگوں نے اکیلے اکیلے کیک کاٹ کے سلیبریٹ کرلیا ۔۔ ”
“میں تمہیں اس رات اٹھانے آئی تھی مگر تم نے مجھے لات مار کر بھگا دیا تھا ۔۔” گل نے اسے گھورا تو وہ یک دم دانت دکھا کر ہنسنے لگی ۔
“پتا نہیں ۔۔ مجھے یاد نہیں ویسے بھی میں جاگ رہی ہوتی تب بھی نہ آتی ۔۔ کیک کاٹنے سے پہلے تمہارا لالہ مجھ سے پوچھتا ۔۔ نیوٹن کی تھیوری یاد ہے ؟ مادام کیوری کی نسلوں کے نام بتاؤ ۔۔ نیل آرمسٹرانگ کے دادا کی چار بیویوں میں سے کتنے کتنے بچ۔۔ ”
“نیل آرمسٹرانگ پٹھان نہیں تھا جو چار بیویوں سے درجن بھر بچے پیدا کرلیتا ۔۔ ” گل نے چڑ کر کہا تو وہ پھر کھلکھلا نے لگی ۔
“بہت زیادہ ہنستی ہو تم علوینا ۔۔ تمہارا منہ درد نہیں کرتا ۔۔”
“نظر لگا دو تم میری ہنسی کو ۔۔” وہ بگڑ کر کہتی پلنگ پر دھڑام سے گر گئی ۔ گل تاسف بھری نظروں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر اٹھ کر کمرے سے نکلنے لگی تب ہی اسے یاد آیا ۔
“ارے ہاں ۔۔ میں تو تمہیں کھانے کے لیے بلانے آئی تھی ۔۔۔”
“واہ بھئی واہ ۔۔ اور بلائے بغیر واپس جارہی ہو ؟ کیا بنا ہے کھانے میں ؟”
“نہاری ۔۔۔”
“واہ ؛ میں ابھی آئی ۔۔” وہ سونے کا ارادہ کینسل کرتی اس کے پیچھے ہی چل پڑی تھی ۔ تب تک اس کی ہنسی چھوٹ چکی تھی۔ آہل اسے گھورنے لگا ۔

Download Link
Support Novelistan ❤️
Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.
EasyPaisa / JazzCash
0309 1256788
Account name: Safia Bano
Bank Transfer (UBL)
United Bank Limited
Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131
Name: Sadia Hassan
IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131
Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕