Inteqam E Ishq By Zara Khan

Forced Marriage |  Rude Hero | Romantic and Urdu Novel | Complete novel

” اگر تم چاہتی ہو تم صرف میرے بستر کی زینت بنو تو نکاح کر لو۔ نہیں تو تم میرے دوستوں کو جانتی ہو وہ سب میرے ایک اشارے پر تم پر ٹوٹ پڑیں گے۔ فیصلہ تمہارا ہو گا مجھے خوش کرنا ہے یا سب کو؟؟ ” وہ سگریٹ سلگاتے ہوئے بولا ایمن کے آنسو ایک لمحے کو رک گئے وہ نکاح کے لیے راضی ہو گی۔ نکاح کے بعد حنان اس کی رگ رگ میں اپنی وحشتیں انڈیلنے لگا۔ ” مجھے گھر جانے دو حنان پلیز میں مزید تمہیں برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔” حنان کو ایک بار پھر اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر ایمن لرز گئی۔مگر حنان پہلی بار کسی عورت کے قریب گیا تھا یہ نشہ انوکھا تھا پندرہ دن تک۔۔۔۔۔
شاہ ولا کے وسیع و عریض لان میں دن کی روشنی بکھری ہوئی تھی آج شہاب شاہ کے بیٹے حنان شاہ کی مہندی کی تقریب سجائی گئی تھی۔ حنان شاہ کی شادی اس کی پسندیدہ لڑکی عائشہ سے ہونے جا رہی تھی وہ دونوں پہلی بار لندن میں ملے تھے جہاں عنان شاہ کی پر اعتماد اور نرم دل عائشہ سے دوستی پروان چڑھی اور اب وہ عنقریب زندگی بھر کے ساتھی بننے والے تھے وہ مسکراتے ہوئے اس کے کان میں کچھ کہہ رہا تھا کہ اس کی نگاہ اچانک سامنے پڑی اور پھر واپس پلٹنے کا نام نہ لینے لگی۔۔۔۔
حجاب میں لپیٹی وہ لڑکی سامنے آتی دکھائی دی تو وہ بے حرکت سا کھڑا رہ گیا اس نے ننھے سے بچے کا ہاتھ تھام رکھا تھا اور تنفز بھرے اطمینان سے بولی ” کیسے ہو حنان شاہ آخر کار تم پانچ برس بعد اپنے وطن واپس آہی گئے میں تو اسی دن کا انتظار کر رہی تھی دیکھو میں بھی وعدے کے مطابق آگئی ہوں تمہارے گھر والوں سے کہہ کر گئی تھی کہ تم آؤ گے تو میں ضرور آؤں گی اور دیکھو میں آگئی۔۔۔۔ تمہارے لیے وہ چیز بھی لے آئی جو انہوں نے مانگی تھی میرے پاس نکاح نامہ تو نہیں تھا لیکن قدرت نے مجھے تمہارے وجود کا پورا حصہ ہی دے دیا اور ہاں ڈی این اے بھی میں نے کروا رکھا ہے تم چاہو تو اپنی تسلی کر لینا۔۔۔ باقی اس کی شکل تو خود تم سے بہت ملتی ہے تمہارا بچپن تو میں نے نہیں دیکھا مگر جب بھی تمہارے بیٹے کو دیکھتی ہوں لگتا ہے جیسے تم بچپن میں بالکل ایسے ہی دکھتے ہوگے۔۔۔۔” وہ بچے کے گھنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے طنزیہ مسکرا کر بولی اور وہ سن سا اسے تکتا رہ گیا۔۔۔۔
” آپ سب نے چھ سال پہلے ثبوت مانگا تھا کہ میرے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں آپ کے بیٹے کی بیوی ہوں تب بھی میرے پاس کچھ نہیں تھا اور آج بھی میرے پاس یہ ثابت کرنے کو کچھ نہیں کہ میں حنان شاہ کی بیوی ہوں یا نہیں مگر یہ بچہ،،، اس بات کا ثبوت میرے پاس موجود ہے یہ جیتا جاگتا ثبوت آپ کی آنکھوں کے سامنے کھڑا ہے۔۔۔۔ یہ آپ کا ہی خون ہے چاہے آپ میرے ثبوت کو نہ مانیں آپ خود ڈی این اے کروا لیں اور اچھی طرح تسلی کر لیں کہ یہ آپ کے خاندان کا خون ہے یا نہیں؟؟؟ باقی فیصلہ آپ کا ہے اور ہاں یہ پورا معاشرہ دیکھ رہا ہے کہ شہاب شاہ جسے انصاف کا علمبردار سمجھا جاتا ہے کیا وہ اپنے پوتے کو اپنا نام دے گا؟؟؟ اسے انصاف دے گا؟؟ یا پھر پوری زندگی اسے ناجائز ہی کہلواتا رہے گا۔۔” وہ مٹھیاں بھینچ کر شہاب شاہ کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔۔
جبکہ حنان شاہ اسے یک ٹک دیکھتا رہ گیا وہ سب سمجھ رہا تھا کہ برسوں پہلے وہ اس لڑکی کا معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کر چکا ہے مگر آج وہ پھر پوری شدت سے اس کے سامنے کھڑی تھی اس نے جیسے ہی عائشہ کی طرف دیکھا تو غصے سے اسے گھورتے ہوئے اسٹیج سے نیچے اتر گئی۔۔۔ ” سو لیڈیز اینڈ جینٹل مین تقریب ختم ہو چکی ہے آپ سب حضرات اب اپنے گھروں کو تشریف لے جائیں یہاں بس مہندی تھی لیکن یوں لگ رہا ہے جیسے مہندی بارات رخصتی سب کچھ ہی ہو چکا ہو باقی رہا ولیمہ تو اس کا دعوت نامہ بھی جلد آپ تک پہنچ جائے گا اب آپ لوگ جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔” وہسرد اور بے رحم لہجے میں بولتے ہوئے کاٹ دار نظروں نگاہوں سے حنان شاہ کو دیکھنے لگی پوری محفل میں سرگوشیاں پھیل چکی تھیں۔۔۔۔۔
اور لوگ آہستہ آہستہ وہاں سے نکلنے لگے تھے۔۔” روحان بیٹا چلیں اندر جا کر دیکھتے ہیں آپ کون سا کمرہ لیں گے۔۔۔۔” وہ بچے سے نرمی سے بولی اور وہ اسکی بات سن کر ہاں میں سر ہلا کر اس کے ساتھ اندر چل دیا۔ شاہ ولا کے خوبصورت لائونچ میں بیٹھتے اس کی سیاہ آنکھوں میں نمی تیزی سے اترنے لگی وہ دن جس کا انتظار اس نے برسوں ضبط کرتے ہوئے کیا تھا، آج وہ اپنے بیٹے کا حق لینے اسی گھر میں موجود تھی اس سے یہ سب کرتے ہوئے بھی کےب تھا کیونکہ وہ اپنے شوہر سے شدید نفرت کرتی تھی مگر وہ اپنے بیٹے کو دنیا کی ٹھوکروں سے بچانا چاہتی تھی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد سب لوگ لاؤنج میں جمع ہو چکے تھے۔۔۔” لڑکی تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ایسی حرکت کرنے کی برسوں پہلے ہم نے تمہیں دھکے مار کر یہاں سے نکالا تھا اور تو پھر واپس آگئی؟؟؟ ” شہاب شاہ اندر آتے گرجے “پانچ سال پہلے میرے پاس اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں تھا۔ جس دن یہاں سے گئی نا اسی دن کے کچھ ہی دن بعد میں پریگننٹ ہو گئی شاید قدرت نے میرا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا میں نے دنیا کے بے شمار تعنے سنے سب نے کہا اس بچے کو ضائع کر دو لیکن میں نے انکار کیا میں نے کہا نہیں جس کا یہ بچہ ہے میں برسوں بعد اس کے سامنے اسے لے کر کھڑی ہوں گی ان لوگوں کے سامنے جنہوں نے مجھے ٹھکرایا جنہوں نے مجھے بدکردار کہا میں سب کو دکھاؤں گی کہ میں بدکردار نہیں تھی اور جنہوں نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی تھی میں انہیں یہی بچہ دکھا کر اپنے کردار کی سچائی ثابت کروں گی اور لیجئے آج میں آپ سب کے سامنے آپ کے پوتے کو لے کر کھڑی ہوں پہلے بھی میں نے کہا تھا کہ یہ آپ ہی کا پوتا ہے یہ رہی اس کی رپورٹس اگر آپ لوگ چاہیں تو کسی بھی ڈاکٹر سے دوبارہ ٹیسٹ کروالیں مگر ویسے تو ڈی این اے کی ضرورت ہی نہیں آپ کا پوتا تو اپنے باپ کی کاربن گاپی ہے۔۔۔۔” وہ فولادی لہجہ مین بولی۔۔۔۔
” اور اگر آپ لوگوں نے مجھے اور میرے بیٹے کو نہ اپنایا میڈیا میں جا کر پوری دنیا کو آپ کی حقیقت بتا دوں گی کہ آپ لوگ اپنی بہو کی عزت کرنا تو دور اس سے پہچانے تک کہ روادار نہیں ویسے ہی نکاح میری مرضی سے کبھی نہیں ہوا تھا آپ کے بیٹے نے مجھے اغوا کر کے زبردستی نکاح کیا تھا اس نے صرف انتقام لینے کے لیے شادی کی۔۔۔۔ اپنا بدلہ وہ مجھے توڑ کر لے چکا ہے اب مجھے اپنے لیے کچھ نہیں چاہیے میں صرف اپنے بیٹے کا حق لینے آئی ہوں اور میں یہ حق لے کر ہی رہوں گی۔۔۔” وہ گم سن حنان شاہ کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
اور پھر ایک نفرت بڑی سرد نگاہ اس پر ڈال دی۔۔” تمہیں اگر یہ وہم ہے کہ میں تمہیں اور تمہارے بچے کو قبول کر لوں گا تو یاد رکھو یہ کبھی ممکن نہیں ہو سکتا تم میرے لیے پہلے بھی نفرت کے لائق تھیں اور آج بھی ویسی ہی ہو اور سن لو ایک ماہ کے اندر میں تمہیں اس گھر سے نکال دوں گا اور سب کو یہ ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ میرا تمہارے ساتھ نکاح ہوا ہی نہیں ہے بچہ میرا نہیں میں تمہیں جانتا تک نہیں یہ سب کچھ میں کر کے دکھاؤں گا۔۔۔۔۔۔” حنان شاہ نے تلملاتے ہوئے کہا جس پر وہ اسی تلخی سے بولی۔۔
” ٹھیک ہے مجھے بھی اس دن کا انتظار رہے گا جب تم مجھے اس گھر سے باہر کرتے ہوئے یہ ثابت کرو گے کہ تم مجھے نہیں جانتے لیکن میں بھی تمہیں چند ہی دنوں میں ماننے پر مجبور کر دوں گی یہ تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو۔۔۔ ” اس کے جواب پر حنان غصے سے اسے گھورنے لگا تو شہاب شاہ نے بیچ میں آتے ہوئے کہا۔۔۔ “تمہیں پیسے چاہیے جو بھی چاہیے سیدھا بتاؤ میں دینے کے لیے تیار ہوں مگر بدلے میں تمہیں میرے بیٹے کی زندگی سے دور ہونا پڑے گا مانتا ہوں کہ میرے بیٹے سے غلطی ہوئی ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم کسی نیچ خاندان کی لڑکی کو اپنی بہو بنا دے ہمارے گھر کی بہو صرف عائشہ ہی ہوگی لہذا اپنی قیمت بتاؤ ہم تمہیں ہر طرح کی مدد دینے کو تیار ہیں۔۔۔” جس پر کلس کر بولی۔۔
” اگر واقعی مدد کرنا چاہتے ہیں تو مجھے میرے ماں باپ واپس لا دیں وہ ماں باپ جنہوں نے میرا دکھ اپنے دل میں دبا کر اسے روگ بنا لیا اور چند ہی دنوں میں شرمندگی اور بے بسی کے بوجھ تلے دنیا سے رخصت ہو گئے۔۔۔ لا سکتے ہیں آپ میرے والدین کو اور ان کے مان کو؟؟؟ عزت صرف امیروں کی نہیں ہوتی غریب کی عزت بھی اتنی ہی قیمتی ہوتی ہے بلکہ کہیں زیادہ کیونکہ آپ لوگ کو تو نہ کسی کی عزت کرنے کی تمیز ہے نہ ضرورت اگر آپ نے اپنے بیٹے کی تربیت ٹھیک کی ہوتی تو حنان شاہ کسی لڑکی کی زندگی یوں برباد نہ کرتا آپ کے بیٹے کی انا نے میرا سب کچھ خاک میں ملا دیا۔۔۔ میری دو بڑی بہنیں ہیں مگر ان کے شوہر مجھے ملنے تک نہیں دیتے میرے والدین دنیا سے اس دکھ کے ساتھ گئے کہ میں ان سے ناراض تھی اور میں اکیلی دنیا سے لڑتی ہوئی جگہ جگہ لوگوں کے چنگل میں پھنسنے سے بچتی ہوئی لمبے سفر کے بعد یہاں تک پہنچی ہوئی چھ سالوں نے میرے حصے میں صرف تھکن اور بے بسی ہی لی تھی اور اب میں چاہتی ہوں کہ یہی درد اور یہی تنہائی میں آپ کے بیٹے میں دیکھوں وہ جس لڑکی سے محبت کرتا ہے اسے کبھی نہ پا سکے تب ہی میرا انتقام پورا ہوگا مسٹر شہاب شاہ۔۔۔ ” اس کی باتوں سے واضح طور پر وہ پریشان گئے تھے۔۔۔

Download Link

Support Novelistan ❤️

Agar aap ko hamari free novels pasand aati hain aur aap hamari mehnat ki qadar karna chahte hain, to aap chhoti si support / donation kar sakte hain.

EasyPaisa / JazzCash

0309 1256788

Account name: Safia Bano

Bank Transfer (UBL)

United Bank Limited

Account no:
035101052131
ya
0112 0351 0105 2131

Name: Sadia Hassan

IBAN:
PK85 UNIL 0112 0351 0105 2131

Shukriya! Aapki support hamare liye bohot qeemti hai 💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *